09/05/2026
*گرمی کے موسم یعنی اپریل-جولائی میں بچے نکالنے چاہیے یا نہیں؟*
*سیدھا جواب: نہیں، پرہیز کرو۔ 80% شوقین نقصان اٹھاتے ہیں۔*
*گرمی میں بچے نہ نکالنے کی 4 بڑی وجوہات:*
*1. ہیٹ اسٹروک سے چوزے مرتے ہیں*
38°C+ میں 1 دن کا چوزہ 2 گھنٹے میں ڈی ہائیڈریشن سے مر جاتا ہے۔ پنکھا لگاؤ تو ٹھنڈ لگ جاتی ہے، نہ لگاؤ تو گرمی۔
*2. بیماری کا اٹیک 5 گنا زیادہ*
گیلی جگہ + گرمی = کوکسیڈیوسس، رانی کھیت، کورائزا۔ 50 میں سے 40 چوزے مر جاتے ہیں۔
*3. گروتھ رک جاتی ہے*
گرمی میں چوزہ دانہ کم کھاتا ہے۔ 2 مہینے کا چوزہ 1 مہینے جتنا لگے گا۔ اصیل دیر سے تیار ہوگا۔
*4. بجلی کا خرچہ ڈبل*
انڈے ہیچ کرنے کے لیے انکیوبیٹر 24 گھنٹے چلانا پڑے گا۔ لوڈ شیڈنگ ہوئی تو سارے انڈے خراب۔
*تو پھر بچے کب نکالنے چاہیے؟*
*بیسٹ ٹائم: ستمبر سے فروری*
- موسم ٹھنڈا، بیماری کم
- چوزہ 6 مہینے میں فل جوان - اگلی گرمی سے پہلے تیار
- فیڈ کم لگتا ہے، گروتھ تیز
*اگر مجبوری میں ابھی نکالنے ہی ہیں تو:*
*1. مرغی کیسی چاہیے؟ - دیسی کُڑک بہترین*
- *عمر*: 1.5 سے 3 سال کی۔ زیادہ تجربہ کار
- *جسامت*: بڑی، بھاری، پر زیادہ ہوں۔ گرمی میں چوزوں کو سایہ دے سکے
- *نسل*: دیسی، مصری، یا اصیل کراس۔ ولایتی مرغی گرمی برداشت نہیں کرتی
- *صحت*: کلغی لال، آنکھ تیز، بیٹھنے کی شوقین ہو۔ بیمار مرغی انڈے خراب کر دے گی
*2. جگہ کا انتظام 100% لازمی*
- *مٹی کا کمرہ* سب سے ٹھنڈا۔ سیمنٹ کا فرش تپ جاتا ہے
- *پرالی + ریت* بچھا دو اور روز ہلکا پانی چھڑکو
- *پنکھا* چھت پر، ڈائریکٹ مرغی پر نہ ہو
- *پانی + دانہ* 24 گھنٹے پاس رکھو تاکہ مرغی اٹھے نہیں
*3. انڈے کتنے؟*
زیادہ سے زیادہ 8-10۔ گرمی میں مرغی 12-15 انڈے کور نہیں کر پاتی، آدھے خراب ہو جاتے ہیں۔
*اصیل شوقین کا تجربہ:*
جڑانوالہ کے پرانے استاد کہتے ہیں: _"جیٹھ-ہاڑ میں جو بچہ نکالے، وہ ساون میں روئے"_۔ مطلب گرمی کے بچے برسات میں بیماری سے مر جاتے ہیں۔
*خلاصہ*: اگر شوق پورا کرنا ہے تو 2-4 انڈے رکھ لو تجربے کے لیے۔ لیکن کاروبار یا نسل بڑھانی ہے تو *15 ستمبر کا انتظار کرو*۔ تب نکالے ہوئے بچے مارچ میں لڑنے لائق ہو جائیں گے۔