07/04/2026
ڈاکٹر احمد لطیف کا واقعہ محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں، بلکہ سوشل ڈسکنیکشن اور پروفیشنل برن آؤٹ کا ایک ہولناک امتزاج ہے۔ بطور کلینیکل سائیکالوجسٹ میں نے اس واقعے کو جس طرح دیکھا میں اسے ریسرچ کے کچھ پہلووں کے مطابق ہی بیان کروں گی۔
نفسیات میں ایک مشہور تحقیق ڈارلے اور لگانے 1968 کے مطابق، جب کسی جگہ لوگوں کا ہجوم زیادہ ہوتا ہے (جیسے لاہور کا مصروف چلڈرن ہسپتال) تو ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ کوئی دوسرا ذمہ داری لے لے گا۔پارکنگ میں کھڑی گاڑی کو سینکڑوں لوگوں نے دیکھا ہوگا، لیکن ہر ایک نے یہ سوچا ہوگا کہ شاید ڈاکٹر صاحب ڈیوٹی پر ہیں یا گاڑی یہاں معمول کے مطابق کھڑی ہے۔ اسے Diffusion of Responsibility کہتے ہیں، جہاں ہجوم جتنا بڑا ہوتا ہے، انفرادی احساسِ ذمہ داری اتنا ہی کم ہو جاتا ہے۔
تحقیق بتاتی ہے کہ میڈیکل پروفیشنلز میں ڈپریشن اور خودکشی کی شرح عام آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔ ڈاکٹرز کو معاشرے میں مسیحا اور مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے وہ اپنی کمزوری یا ذہنی اذیت ظاہر کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ لوگ انہیں نااہل سمجھیں گے۔ اسے ماسکڈ ڈپریشن کہا جاتا ہے، جہاں انسان باہر سے نارمل نظر آتا ہے مگر اندر سے دباؤ کا شکار ہوتا ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی 85 سالہ طویل ترین ریسرچ (The Harvard Study of Adult Development) یہ ثابت کرتی ہے کہ انسانی زندگی میں لمبی عمر اور خوشی کا واحد سب سے بڑا راز اچھے تعلقات ہیں۔
ڈاکٹر احمد کے واقعے میں چار دن تک کسی کا متوجہ نہ ہونا اور کراچی میں ملنے والی اداکارہ حمیرا اصغر کی طرف ایک سال کسی کی توجہ نہ دینا Functional Alienation کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ کام تو کر رہے ہیں، لیکن ہم ایک دوسرے کے حالات سے واقف نہیں ہیں۔ ہم تیز ترین سوشل کنکشن اور میڈیا کے دور میں ایک دوسرے سے دور ہیں۔
اگر ذرائع کے مطابق موت کی وجہ نشہ آور ادویات کی زیادتی ہے، تو اسے Self-Medication Hypothesis کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جب انسان شدید جذباتی درد یا تنہائی کا شکار ہوتا ہے اور وہ اپنی بات کسی سے کہہ نہیں پاتا (جیسا کہ کارل جنگ نے کہا) تو وہ ادویات کا سہارا لیتا ہے تاکہ اپنے دماغ کو سن کر سکے۔ یہ نشہ نہیں کہلاتا بلکہ "درد کشی" کی ناکام کوشش ہوتی ہے۔
اس المیے سے ہمیں کچھ سبق ملتے ہیں۔اپنے کولیگز یا دوستوں کے رویے میں چھوٹی سی تبدیلی (مثلاً غیر حاضری، خاموشی، یا گاڑی کا غیر معمولی جگہ کھڑا ہونا) کو نظر انداز نہ کریں۔ یہ تسلیم کریں کہ ڈاکٹر بھی انسان ہے، اسے بھی نفسیاتی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ طبی اداروں میں Peer Support Systems کا ہونا لازمی ہے جہاں ڈاکٹرز بلا خوفِ ملامت اپنی بات کر سکیں۔
صرف کسی کے ساتھ ہونا کافی نہیں، اس کے احساسات میں شامل ہونا ضروری ہے۔ مدر ٹریسا کے قول کے مطابق، "غیر ضروری محسوس ہونا" کینسر سے بڑی بیماری ہے۔
چونکہ میڈیکل سٹاف پر زمہ داری زیادہ ہوتی ہے۔ انکا وقتاً فوقتاً ایک فٹنس جائزہ ہونا ضروری ہے اور انکو کاونسلنگ بھی پرواءیڈ کی جائے یا لازمی بنایا جائے۔میں نے خود سالوں سے ڈیوٹی دیتے کلینیکل سائیکالوجسٹ، سائکاٹرسٹ اور دیگر میڈیکل سٹاف کو دیکھا ہے جنہیں خود کاونسلنگ کی ضرورت ہے لیکن وہ بدستور دوسروں کا علاج کر رہے ہوتے ہیں بغیر کسی ورکنگ بریک کے۔
ڈاکٹر احمد لطیف کی لاش سے اٹھنے والی بدبو دراصل ہمارے مرتے ہوئے سماجی احساس کی بدبو ہے۔ اگر ہم آج ایک دوسرے کی خبر نہیں رکھیں گے، تو کل ہماری باری پر بھی دنیا اتنی ہی بے خبر ہوگی۔ "آپ ٹھیک ہیں؟"یہ محض ایک جملہ نہیں، ایک لائف لائن ہے۔ اسے استعمال کرنے میں کنجوسی نہ کریں۔ اور اسکے نتیجے میں ملنے والا جواب بھی غور سے سنیں۔
عائشہ گیلانی