تبب حکی1

تبب حکی1 هاشمي دواكھانا گھےرلو علاج We are a well known sex clinic in India providing world class treatment solutions for all types of sex problems since 1929.

We have successfully treated millions of patients suffering from sex problems with our genuine herbal medicines and customized treatment. Visit before or after marriage and regain vigor and vitality

پیٹ کم کرنے کے ٹوٹکےدور جدید میں بڑھا ہوا پیٹ ایک المیہ ہے۔ جس نے ہر مردو عورت کو پریشان کر رکھا ہے۔ پیٹ کم کرنے کے لیے ...
29/08/2015

پیٹ کم کرنے کے ٹوٹکے

دور جدید میں بڑھا ہوا پیٹ ایک المیہ ہے۔ جس نے ہر مردو عورت کو پریشان کر رکھا ہے۔ پیٹ کم کرنے کے لیے بہت سے ٹوٹکے آزمائے جاتے ہیں۔
بڑھے ہوئے پیٹ کو کم کرنے کے ٹوٹکے درج زیل ہیں جن پر عمل کر کے آپ کو یقیناَ فرق محسوس ہو گا۔
ایک پاؤ انگور کے رس کو 3 پاؤ روغن زیتون میں شامل کر کے ایک ہفتے کے لیے دھوپ میں رکھ دیں۔ گاہے بگاہے ہلاتے رہیں۔ ایک ہفتے بعد ململ کے کپڑے میں چھان کر بوتل میں رکھ لیں۔ اس تیل سے مالش کرنے سے چند دنوں میں فرق محسوس ہو گا۔
صبح سویرے نہار منہ نیم گرم 4 گلاس پانی پیئیں پیٹ کم ہونے کے ساتھ ساتھ جلد بھی شفاف ہو جائے گی۔
نہار منہ بھنی ہوئی سونف کھانے سے پیٹ اور وزن دونوں کم ہو جاتے ہیں۔
کھڑے ہوئے اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ سیدھے کھڑے ہوں۔ پیٹ ڈھیلا نہ ہونے پائے۔
زیادہ سے زیادہ پانی پینے بھوک نہیں لگتی اس سے وزن اور پيٹ دونوں کم ہو جاتے ہیں۔
سبز چائے کا استعمال پیٹ کم کرنے میں بہت معاون ثابت ہوتا ہے۔ ہر کھانے کے بعد ایک کپ سبز چائے پیٹ کو کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
سیب اور کیلے کا استعمال پیٹ کی چربی کو ختم کرتا ہے۔
صبح بستر سے اٹھنے سے پہلے تکیے کو پیٹ کے نیچے دبا کے الٹا لیٹ جائیں کوشش کریں کہ دو سیکنڈ کے لیے سانس اندر کی جانب کھینچیں۔ پیٹ کم ہو جائے گا۔
کھانے میں نمک کا کم استعمال پیٹ کی زائد چربی کو زائل کرتا ہے۔
کھولتے گرم پانی میں ایک چمچ شہد ملا کر نہار منہ لیں۔ پیٹ چند دنوں میں کم ہو جائے گا۔
کھانے میں دارچینی اور ادھرک کا زیادہ استعمال کرنے سے پیٹ کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
سبزیوں کا کثرت سے استعمال اور چکن کا کم استعمال بھی معاون ہوتا ہے۔
ہر گھنٹے بعد ایک گلاس پانی پینے سے پیٹ نہیں بڑھتا۔
چاول سے زیادہ گندم کا استعمال کریں کیونکہ چاول وزن بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نیم گرم ایک گلاس پانی میں لیموں نچوڑیں اور ایک چمچ شہد ملا کر نہار منہ پی لیں ایک مہینے میں پیٹ کم ہو جائے گا اور چہرے کی رونق بھی بڑھ جائے گی۔
موٹاپا کیسے کم کیا جائے؟

موٹاپا آپ کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ آپ اپنے وزن کو قدرتی طریقے سے کم کرنے کی کوشش کیجیئے۔

وزن کم کرنے کے لیے چند گھریلو ٹوٹکے:

پھل اور ہری سبزیاں کم کیلوریز والی غذا ہیں۔ لہٰذا زیادہ وزن والے افراد کو ان زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیئے۔

زیادہ وزن والے افراد کو نمک زیادہ استعمال کرنے سے بچنا چاہیئے۔ نمک جسم کے وزن کو بڑھانے کے لئے ایک عنصر ہو سکتا ہے.
دودھ کی بنی مصنوعات،جیسا کہ پنیر،مکھن وغیرہ سے پرہیز کرنی چاہیئے کیونکہ ان میں چکنائی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ گوشت اور Non-Vegeterian (غیر-سبزیات) کھانوں سے بھی بچنا چاہیئے۔

مصالحہ جات جیسا کہ خشک ادرک،دارچینی،اور کالی مرچیں وغیرہ وزن کو کم کرنے کے لیے اچھی ہیں۔ اور مختلف طریقوں سے بڑی تعداد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کڑوی قسم کی سبزیاں مثلاً کریلا،تمبی وغیرہ وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں ۔

شہد کھانا موٹاپے کے لیے ایک بہترین گھریلو علاج ہے۔ یہ جسم میں جمع شدہ چربی کو متحرک کرکے گردش میں رکھتا ہے جو عام افعال کے لیے توانائی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کسی بھی موٹے شخص کو 10 گرام کی چھوٹی مقدار سے شہد کھانا شروع کرنا چاہیئے یا ایک ٹیبل چمچگرم پانی کے ساتھ لیا جائے۔ اسے صبح صبح کھانا ضحت کے لیے زیادہ اچھا ہے۔ اس میں تازہ لیموں کے رس کا ایک چائے کا چمچ بھرا ہوا شامل کیا جا سکتا ہے۔

بند گوبھی وزن کو کم کے لئے ایک مؤثر علاج سمجھا جاتا ہے۔ یہ سبزی چینی اور دوسرے کاربوہائیڈریٹس کو چربی میں تبدیل ہونے سے روکتی ہے۔ لہٰذا وزن کم کرنے میں یہ بہت اہمیت کی حامل ہے۔ یہ کچّی یا پکی ہوئی کھائی جا سکتی ہے۔

ورزش وزن میں کمی کی منصوبہ بندی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس سےچربی کے طور پر جسم میں محفوظ کیلوریز استعمال کرنے میں مدد ملتیہے۔ اس کے علاوہ،اس سے پریشانی سے نجات ملتی ہے۔ اور عضلات کی قوت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ پیدل چلنا ورزش کی ابتداء کے لیے ایک بہترین عمل ہے اور اس کے بعد دوڑنا،تیراکی اور روئنگ کی جا سکتی ہے۔

عرق لیموں وزن کم کرنے کے لیے بہترین ہے۔ لیموں کا رس اور شہد ملا کر ایک گلاس گرم پانی میں مکس کر کے روزانہ صبح خالی پیٹ لیا جا سکتا ہے۔

اپنے ہر کھانے کی غذا کی پیمائش کریں اور اس بات کا یقین کریں کہحصے چھوٹے ہیں۔ مثال کے طور پر چاول کے ایک حصہ کی مقدار، جواپنی مٹھی میں فٹ کر سکتے ہیں سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔ 4 سے 5گھنٹے کی ایک باقاعدہ وقفے میں کم کم کھانا آپ کے عمل تحول کو تیز رکھے گا اور جو غذا آپ کھاتے ہیں اس کو چربی میں تبدیل ہونے سے روکے گا۔ آپ کو وزن کو کم کرنے میں مدد دینے کے لیے باقاعدگی سے اپنی روٹین میں ورزش کو بھی شامل کرنا ہوگا۔

مہندی قدرتی تحفوں میں سے ایک ہے ۔ صرف رنگ ہی نہیں بلکہ تاثیر کے اعتبار سے بھی اس کے متعدد فائدے ہیں۔ اس سے بالوں کو کسی ...
05/03/2015

مہندی قدرتی تحفوں میں سے ایک ہے ۔ صرف رنگ ہی نہیں بلکہ تاثیر کے اعتبار سے بھی اس کے متعدد فائدے ہیں۔ اس سے بالوں کو کسی قسم کا نقصان نہی

ہوتا بلکہ یہ بالوں کی بیماریاں مثلاً بالچر،گنج،خشکی کو بھی ختم کرتی ہے۔مہندی میں تھوڑا سا سرکہ ملا لینے سے رنگ بھی آتا ہے اور بالوں میں بھی زیادہ چمک دمک بھی آجاتی ہے ۔

ادرک، بے شمار امراض کا علاج    ادرک (ginger) کا سائنسی نام زنگیبیر آفیسینالی (Zingiber officinale) ہے۔ جو سب سے پہلے چین...
05/03/2015

ادرک، بے شمار امراض کا علاج

ادرک (ginger) کا سائنسی نام زنگیبیر آفیسینالی (Zingiber officinale) ہے۔ جو سب سے پہلے چین میں کاشت ہوا تھا اور آج دنیا کے تمام حصوں میں پایا جاتا ہے۔ گوکہ ادرک ایک جڑی بوٹی (herb) ہے مگر اسے مصالحے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس کا تیز اور منفرد ذائقہ منہ میں رال پیدا کرتا ہے۔ ادرک کا مصالحے میں استعمال ہونے والا حصہ جڑ کہلاتا ہے۔ مغرب میں ادرک کی جڑ کو زیادہ تر میٹھی ڈشوں مثلاً جنجرایل، جنجربریڈ اور جنجرکیک وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ روم کے لوگ ادرک کو بہت استعمال کرتے تھے۔ اُس زمانے میں ادرک بہت قیمتی مصالحہ تصور کی جاتی تھی ایک پاونڈ ادرک کی قیمت ایک بھیڑ کے برابر تھی۔ جب رومن سلطنت کا زوال ہوا تو تاریخ سے ادرک کا نام بھی فراموش ہو گیا لیکن جب یورپ نے اس کو دوبارہ دریافت کیا تو اس کے بعد یہ پھر سے ہر دل عزیز ہو گیا۔

ادرک ایک ایسا قدیم ترین پودا ہے جو گزشتہ 5000 سال سے مختلف کھانوں میں اور طبی حوالوں سے استعمال ہو رہا ہے۔ 2000 سال سے چین اپنی دواؤں میں ادرک کے استعمال کا مشورہ دے رہا ہے تاکہ بہت سی بیماریوں کے علاج اور صحت کے مسائل میں ادرک اپنا کردار ادا کر سکے۔ ادرک سے طاقت بڑھتی، دورانِ خون صحیح رہتا ہے اور جسم کا نظام اچھی شرح سے کام کرتا ہے۔ آج بھی ادرک کو متلی، الٹی، بدہضمی اور کمزوری وغیرہ کے لئے بہترین علاج میں شمار کیا جاتا ہے۔ معدے کی گڑبڑ، کپکپی یا زُکام کی حالات میں ایک پیالی ادرک کی چائے یا ادرک کے کیپسول یا پھر ادرک کا ایک چھوٹا ٹکڑا چبا لینا ہی کافی ہوتا ہے۔ اگر آپ لمبی ڈرائیو پر جا رہے ہیں تو آپ کو چاہئے کہ گھر سے نکلنے سے 20 منٹ قبل ¼ چائے کے چمچ ادرک کا پاؤڈر یا ادرک کا چھوٹا سا ٹکڑا کھالیں، یہ آپ کو سفر کی بیماری سے محفوظ رکھے گا۔

ادرک میں موجود جنجرول اور شوگول کی تیز اور شدید خوشبو آنتوں میں کھنچاؤ اور ان میں قدرتی ہاضمے کے تیزاب کو متوازن کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ بہت سے ڈاکٹر متلی کی حالت میں ادرک کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ادرک غنودگی طاری نہیں کرتا۔ طبی ماہرین (expert) کے مطابق سردرد کے شروع ہوتے ہی 30 منٹ کے اندر اندر ½ چمچ ادرک کا پاؤڈر پھانک لیں تو یہ دماغ کی رگوں میں خون کے دباؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والی سوجن کو روک کر سر کے درد کو روکتا ہے۔ اسپرین کے مقابلے میں ادرک صرف اسی جگہ اثر کرتا ہے جہاں ضرورت ہوتی ہے۔

جو لوگ جوڑوں کے درد (arthritis) میں مبتلا ہیں ان کے لئے مشورہ ہے کہ کُٹا ہوا ادرک گھٹنے پر درد کی جگہ پر لگائیں۔ بار بار اس عمل کو دہرانے سے گھٹنے کی تکلیف میں کافی افاقہ ہوتا ہے۔

ادرک شریانوں میں خون کو منجمند ہونے اور جلد پر پھپھوندی (mildew) لگنے سے روکتی ہے۔ اس کے استعمال سے خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل رکتا ہے، یہ دوران خون کی روانی کو ہموار کرتی ہے، نظام ہضم درست کرتی ہے، کھانسی (cough)، تھکن اور بے چینی کو روکتی ہے۔ سانس کی بیماریوں میں شہد اور ادرک کے فوائد میں کسی اور دوا کا مقابلہ نہیں۔ اس کے استعمال سے آنکھوں میں موتیا اُترنے کا عمل سست پڑتا ہے، یہ دل کے امراض، ڈپریشن، بخار، بانجھ پن اور گردے کی پتھری سے بچاتی ہے۔

· اگر پٹھوں میں کھنچاؤ محسوس ہو رہا ہو تو ہلدی اور ادرک کو پیس کر ہلکا سا گرم کریں اور اسے دن میں دو مرتبہ متاثرہ حصوں پر لگائیں۔

· گلے کی سوزش (sore throat) کو دور کرنے کے لئے تھوڑے سے پانی میں ذرا سی دارچینی، ایک چھوٹا ٹکڑا ادرک اور ایک چائے کا چمچ شہد ڈال کر اُبالیں اور استعمال کریں۔

· متواتر کھانسی کے لئے ½ چمچ ادرک کا پاؤڈر، ایک چٹکی لونگ، ایک چٹکی پسی ہوئی دار چینی اور ایک چائے کا چمچ شہد ڈال کر اُبالیں اور استعمال کریں۔

· ایک چمچ تازہ ادرک کا جوس، ایک پیالی میتھی کے جوشاندے میں شہد کے ساتھ ملا کر پئیں، اس سے دَمے کے مرض میں آرام آتا ہے۔

· اگر سر کا شدید درد اُٹھتا ہو تو ½ چمچ پانی میں ادرک کا تھوڑا سا پاؤڈر گُھول کر آمیزہ بنالیں اور اسے متاثرہ جگہ پر لگائیں۔ اس سے فوری آرام مل جاتا ہے۔

· ادرک کی ٹکور یا سکائی خون کی روانی کو بہتر بنانے اور جسم کے سیّال مادے کو حرکت دینے میں مدد دیتا ہے اور فاسد مادوں کو گٹھلیوں میں سے گُھلا دیتا ہے۔ ایک مُٹھی کُٹا ہوا ادرک ایک کپڑے میں ڈال کر چار لیٹر گرم پانی میں نچوڑیں، پانی کو اُبالنا نہیں ہے۔ ادرک کے پانی میں ایک تولیہ ڈبو کراسی میں نچوڑ کر نکال لیں اور متاثرہ جگہوں پر گرم گرم تولئے سے ٹکور کریں۔

· پانی میں ادرک ڈال کر نہار منہ پئیں تو اس سے ذیابیطس کی شرح باقاعدہ رہے گی۔

27/02/2014
نگور کو پھلوں کی ملکہ اور جنت کا میوہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سردیوں میں ملنے والا ایک عام پھل ہے۔انگور میں بہت سے مفید غذائ...
27/02/2014

نگور کو پھلوں کی ملکہ اور جنت کا میوہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سردیوں میں ملنے والا ایک عام پھل ہے۔

انگور میں بہت سے مفید غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جیسے پولی فینالک انٹی آکسیڈنٹ ، وٹامنز اور معدن وغیرہ۔یہی وجہ ہے کہ متوازن غذا کھانے والے بہت سے افراد اپنی اس غذا میں انگور کو ضرور شامل کرتے ہیں خواہ یہ سالم کھائے جائیں یا جوس اور سلاد کے ساتھ لیے جائیں۔

انگور ایک ایسا پھل ہے جسے باغوں کے علاوہ گھروں میں بھی بیلوں پراگایا جاسکتا ہے۔انگور بنیادی طورپر یورپ اور بحیرہ روم کے خطے کا پھل ہے لیکن اب دنیا میں ہر جگہ پایا جاتاہے۔انگور کی کئی اقسام ہیں جن میں زرد و سبز ، سفید ، سرخ اور سیاہ انگور زیادہ مقبول ہیں۔انگور میں ایک پولی فینولک مادہ پایا جاتا ہے اور یہی مادہ ہے جو اسے مختلف رنگ دیتا ہے۔ انگوروں میں مختلف اقسام کے انٹی آکسیڈنٹ پائے جاتے ہیں جو کہ صحت کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔

انگور کی بنیادی طور پر تین نسلیں ہیں جن میں اول یورپی ، دوئم شمالی امریکی اور سوئم فرانسیسی ہائبرڈ قسم ہے۔یہ تو انگور کا کچھ تعارف ہوگیا ، اب آئیے صحت کے لیے اس کے فوائد کے بارے میں پڑھتے ہیں:

٭انگوروں میں ایک مادہ رزویراٹرول Resveratrol پایا جاتاہے جو کہ پولی فینولک فائیٹو کیمیکل پر مشتمل ہوتا ہے۔ رزویراٹرول ایک انتہائی طاقتور انٹی آکسیڈنٹ ہے جو کہ بڑی آنت اور غدودوں کے کینسر ، دل کی بیماریوں ، اعصابی بیماریوں ، الزائمر اور وائرل و فنگل انفیکشن کے خلاف بہت مفید ہوتا ہے۔

٭رزویرا ٹرول خون کی نالیوں میں مالیکیولر میکنزم میں تبدیلی لاکر فالج کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے۔یہ اس طرح سے کام کرتا ہے کہ پہلے خون کے دبائو کے باعث نالیوں کو ہونے والے نقصان کو کم کرتا ہے اوراس کے بعد نائیٹرک ایسڈ کی پیدوار کو بڑھا کر خون کی نالیوں کو نرم کرتا ہے اور یوں دونوں صورتوں میں بڑھتے ہوئے بلڈپریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔ پولی فینولک انٹی آکسیڈنٹ کی ایک اور قسم انتھو سائنز سرخ انگور میں بکثرت پائی جاتی ہے۔ یہ فائٹو کیمیکلز کی ایک قسم ہے جو انٹی الرجی ، انٹی ورم ، انٹی مائیکروبائل اور انٹی کینسر ہے یعنی یہ ان تمام طبی مسائل کے خدشے کو کم کرنے میں معاون ہے۔

٭اس طرح ایک اور انٹی آکسیڈنٹ کیچنز بھی سفید اور سبز انگور میں بکثرت ہوتا ہے اور یہ بھی صحت کے تحفظ کے لیے کئی قسم کے کردار ادا کرتا ہے ۔اس کے علاوہ انگور میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں یعنی سو گرام تازہ انگور میں صرف 69کیلوریز ہوتی ہیں جبکہ کولیسٹرول کا تناسب صفر ہوتا ہے۔

٭ اس کے علاوہ انگور میں دیگر معدن جیسے فولاد ، کاپر اور مینگنیز بھی بکثرت ہوتا ہے۔ کاپر اور مینگنیز جسم میں خون کی کمی کو دور کرنے میں معاون ہوتے ہیں جبکہ فولاد انگور میں اس وقت اور بھی بڑھ جاتا ہے جبکہ اس کی کشمش بنائی جاتی ہے۔ اس طرح سوگرام تازہ انگور میں لگ بھگ ایک سو اکیانوے ملی گرام الیکٹرولائٹ پوٹاشیم ہوتی ہے جو صحت کے لیے بہت مفید معدن ہے۔

٭اس کے علاوہ انگور وٹامن سی ، وٹامن اے ، وٹامن کے، کیروٹینز اور بی کمپلیکس وٹامنز جیسے پائری ڈوکسنز، رائبوفلاون اور تھائیامن کا بھی بہت اچھا ذریعہ ہیں۔

کہتے ہیں کہ سردی کا موسم جسم میں تازہ خون بنانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے اور سردیوں میں کھائے جانے والے خشک میوے اپن...
27/02/2014

کہتے ہیں کہ سردی کا موسم جسم میں تازہ خون بنانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے اور سردیوں میں کھائے جانے والے خشک میوے اپنے اندر وہ تمام ضروری غذائیت رکھتے ہیں جو جسم میں توانائی اور تازہ خون بنانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔

یہ میوے معدنیات اور حیاتین سے بھرپور ہوتے ہیں اور اسی غذائی اہمیت کے پیشِ نظر معالجین انہیں ’’قدرتی کیپسول‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اطباء بھی خشک میوہ جات کی غذائی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور اکثر کو مغزیات کا درجہ دیتے ہیں۔ معالجین کے مطابق سردیوں میں جو کچھ کھاؤ، وہ جسم کو لگتا ہے کیوں کہ اس موسم میں نظامِ ہضم کی کارکردگی تیز ہوجاتی ہے اور گرمیوں کے مقابلے میں زیادہ کام کرنے کو دل چاہتا ہے لیکن دن چھوٹے ہوجائیں اور راتیں لمبی تو پھر ان لمبی راتوں کو گزارنے کے لیے خشک میوے نہایت اچھے رفیق ثابت ہوتے ہیں۔ خشک میوہ جات قدرت کی جانب سے سردیوں کا انمول تحفہ ہیں جو خوش ذائقہ ہونے کے ساتھ ساتھ بے شمار طبی فوائد کے حامل بھی ہیں۔ خشک میوہ جات مختلف بیماریوں کے خلاف مضبوط ڈھال کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ڈرائی فرو ٹس جسم کے درجہ حرارت کو بڑھانے اور موسم سرما کے مضر اثرات سے بچائو میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اعتدال کے ساتھ ان کا استعمال انسانی جسم کو مضبوط اور توانا بناتا ہے۔ حکماء کہتے ہیں جب سردیاں جسم میں تازہ خون بنانے کا موقع فراہم کرتی ہیں تو ایسے میں خشک میوے وہ تمام ضروری غذائیت فراہم کرتے ہیں جو جسم میں توانائی اور تازہ خون بنانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ اسی غذائی اہمیت کے پیشِ نظر معالجین انہیں ’’قدرتی کیپسول‘‘ بھی کہتے ہیں اور اکثر کو مغزیات کا درجہ دیتے ہیں۔ آئیے دیکھیں کہ خشک میوے اپنے اندر کیا کیا غذائی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس موسم میں ہم ان سے صحت کے کون کون سے فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔

اخروٹ:سردیوں میں اخروٹ کی گری یعنی اس کا مغز نہایت غذائی بخش میوہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق ایک سو گرام اخروٹ کی گری میں فولاد 2.1 ملی گرام اور حرارے 656 ہوتے ہیں۔ اس کی بھنی ہوئی گری سردیوں کی کھانسی کو دور کرنے کے لئے نہایت مفید ہے۔ اخروٹ کو کشمش کے ساتھ استعمال کیا جائے تو منہ میں چھالے اور حلق میں خراش ہوسکتی ہے۔ یہ دماغی قوت کے لیے بہت ہی فائدہ مند تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کے استعمال سے دماغ طاقت ور ہوجاتا ہے۔ اخروٹ کو اعتدال سے زیادہ کھانے سے منہ میںچھالے اور حلق میں خراش پیدا ہوجاتی ہے۔ ایک حالیہ امریکی تحقیق کے مطا بق اخر وٹ کا استعمال ذہنی نشونما کے لیے نہایت مفید ہے، اوراس کے تیل کا استعما ل ذہنی دبائو اور تھکان کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ امریکا کی ریاست پنسلوانیا میں کی جا نیوالی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اخروٹ میں موجود اجزاء خون کی گردش کو معمول پر لاکر ذہن پر موجود دبائو کوکم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ حضرات جو زیادہ کام کرتے ہیں ان کے ذہنی سکون کے لئے اخرو ٹ اور اس کے تیل کا استعما ل نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اخرو ٹ کا استعما ل بلڈپریشر پر قابو پانے اور امراض ِقلب کی روک تھام کے لیے بھی نہایت مفید ہے۔

اخروٹ بالوں کو سیاہ کرنے کے لیے بھی معروف ہے اس سے جو خضاب بنایا جاتا ہے وہ بازار میں دست یاب بال رنگنے کے پاؤڈر اور محلولوں سے بہ درجہ ہا بہتر ہے کیوں کہ اُن میں مختلف کیمیکل شامل کیے جاتے ہیں جب کہ اخروٹ کا خضاب یک سر محفوظ ہے جو با لو ں کو صرف سیاہ ہی نہیں، ان میں چمک بھی پیدا کرتا ہے، اس کی تیاری کا طریقہ ہے کہ اخروٹ کا سبز چھلکا ایک کلو لے کر اسے آٹھ کلو دودھ میں جوشائیں بعد میں اتار کر اس دودھ کا دہی جمائیں، اب اس دہی کو بلو کر گھی حاصل کرلیں اور مناسب مقدار میں بالو ں پر لگا ئیں۔

بادام:بادام صدیوں سے قوتِ حافظہ، دماغ اور بینائی کے لئے نہایت مفید قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اس میں وٹامن اے، وٹامن بی کے علاوہ روغن اور نشاستہ بھی موجود ہوتا ہے۔ یہ اعصاب کو طاقت ور بناتا ہے اور قبض کو ختم کرتا ہے۔ دماغی کام کرنے والوں کے لئے اس کا استعمال ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق ایک سو گرام بادام کی گری میں کیلشیم کی مقدار 254 ملی گرام، فولاد 2.4 ملی گرام، فاسفورس475ملی گرام اور حرارے 597 ہوتے ہیں۔ بادام قوت حافظہ‘ دماغ اور بینائی کیلئے بے حد مفید ہے اس میں حیاتین الف اور ب کے علاوہ روغن اور نشاستہ موجود ہوتا ہے۔ اعصاب کو طاقت فراہم کرتا ہے اور قبض کو ختم کرتا ہے۔بادام خشک پھلوں میں بے پناہ مقبولیت کا حامل ہے۔ بادام کے بارے میں عام طور پر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ چکنائی سے بھرپور ہونے کے سبب انسانی صحت خصوصاً عارضہ قلب کا شکار افراد کیلئے نقصان دہ ہے تاہم اس حوالے سے متعدد تحقیقات کے مطابق بادام خون میں کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے اور یوں اس کا استعمال دل کی تکالیف میں فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے نیز اس کی بدولت عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے امکانات بھی کم ہوجاتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک تحقیق کے مطابق 3 اونس بادام کا روزانہ استعمال انسانی جسم میں کولیسٹرول لیول کو 14فیصد تک کم کرتا ہے۔ بادام میں 90 فی صد چکنائی’’ نان سیچوریٹڈ فیٹس‘{‘{ پر مشتمل ہوتی ہے نیز اس میں پروٹین وافر مقدار میں پایا جاتا ہے دیگر معدنیات میں فائبر کیلشیم، میگنیٹیم، پوٹاشیم، وٹامن ای اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس بھی وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

تل:تل بھی موسمِ سرما کی خاص سوغات میں سے ایک ہے۔ جن بڑوں یا بچوں کو کثرت پیشاب کا مرض ہو اور سردیوں میں بوڑھے افراد اس کی زیادتی سے تنگ ہوں یا پھر جو بچے سوتے میں بستر گیلا کر دیتے ہوں، ان کو تل کے لڈو کھلانے چاہئیں۔ اس سے کثرتِ پیشاب کی شکایت دور ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ جسم میں گرمی پیدا کرتے ہیں۔ جن بوڑھوں کو بہت زیادہ سردی لگتی ہو ان کے لئے تو بہت ہی مفید ہیں۔ ماہرین غذائیت کے مطابق تل بہت توانائی بخش میوہ ہے۔ اس میں معدنی نمک اور پروٹین کے علاوہ ’’لیسی تھین‘{‘{ بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ فاسفورس آمیز چکنائی دماغ اور اعصاب کے لئے بہت ہی مفید ہے۔ واضح رہے کہ لیسی تھین تل کے علاوہ انڈے کی زردی، گوشت اور ماش کی دال میں بھی پایا جاتا ہے۔ موسم سرما میں بوڑھوں اور بچوں کے مثانے کمزور ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر بستر پر پیشاب کردیتے ہیں۔ اس شکایت سے نجات کیلئے تل کے لڈو بہترین غذا اور دوا ہیں۔
چلغوزہ :چلغوزے گردے، مثانے اور جگر کو طاقت دیتے ہیں۔ سردیوں میں اس کے کھانے سے جسم میں گرمی بھر جاتی ہے۔ چلغوزے کھانا کھانے کے بعد کھائیں۔ اگر کھانے سے پہلے انہیں کھایا جائے تو بھوک ختم ہوجاتی ہے۔چلغوزے گردہ‘مثانہ اور جگر کو طاقت دیتے ہیں اس کے کھانے سے جسم میں گرمی اور فوری توانائی محسوس ہوتی ہے۔ چلغوزہ کھانے سے ’’میموری سیلز‘{‘{ میں اضافہ یعنی یادداشت میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔اگر کوئٹہ سے قلعہ عبداللہ کے راستے ژوپ(فورٹ سنڈے من)کی طرف جائیں تو تقریباً پانچ گھنٹے کی مسافت کے بعد ژوب کا علاقہ آتا ہے۔یہ علاقہ 2500سے 3500میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37سینٹی گریڈ جب کہ سردیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 15سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ مزید بلندی پر یہ درجہ حرارت مزید کم ہو جاتا ہے،یہ ہی وہ علاقہ ہے جہاں چلغوزے کے دنیا کے سب سے بڑے باغات واقع ہیں۔ یہ باغات تقریباً 1200مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔اس علاقے میں پیدا ہونے والا چلغوزہ دنیا بھر میں نہایت معیاری اور پسند کیا جاتا ہے۔ اس کی مناسب پیکنگ وغیرہ کر کے اس کو بیرون ملک ایکسپورٹ کر دیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں پیدا ہونے والے اس چلغوزے کی زیادہ تر مارکیٹ دبئی‘انگلینڈ‘ فرانس‘مسقط اور دیگر ممالک ہیںجہاں کے خریدار اس علاقے کے پاکستانی چلغوزے کو منہ مانگی قیمت پر خریدنے کو تیار رہتے ہیں۔

کشمش:کشمش دراصل خشک کئے ہوئے انگور ہوتے ہیں۔ چھوٹے انگوروں سے کشمش اور بڑے انگوروں سے منقیٰ بنتا ہے۔ کشمش اور منقیٰ قبض کا بہترین توڑ ہیں۔ یہ نزلہ کھانسی میں مفید اور توانائی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق ایک سو گرام کشمش میں پوٹاشیئم 275 ملی گرام جب کہ فولاد 1.3 ملی گرام ہوتا ہے۔کشمش دراصل خشک کیے ہوئے انگور ہیں۔ چھوٹے انگوروں کو خشک کرکے کشمش تیار کی جاتی ہے جب کہ بڑے انگوروں کو خشک کرکے منقی تیار کیا جاتا ہے۔ کشمش اور منقی قبض کا بہترین علاج ہے۔ نیزہڈیوں کے بھربھرے پن کی مرض میں مفید ہے۔ بہت قوت بخش میوہ ہے۔

مونگ پھلی: مونگ پھلی تو سردیوں میں سب کا من بھاتا سستا میوہ ہے۔ اس میوے کی ایک خاصیت اس میں بہت زیادہ تیل کا ہونا ہے لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ مونگ پھلی میں موجود تیل یا چکناہٹ جسم کے کولسٹرول کو نہیں بڑھاتی ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق ایک سو گرام مونگ پھلی میں 37.8 فی صد نشاستہ اور 31.9 فی صد پروٹین موجود ہوتا ہے۔ اس میں وٹامن بی 1 کے علاوہ کیلشیم اور فاسفورس بھی پایا جاتا ہے۔ غذائیت میں مونگ پھلی اخروٹ کی ہم پلہ ہے۔مونگ پھلی ہردل عزیز میوہ ہے۔ سردیوں میں مونگ پھلی کھانے کا اپنا ہی مزا ہے تاہم اس کا باقاعدہ استعمال دبلے افراد اور باڈی بلڈنگ کرنے والوں کے لئے انتہائی غذائیت بخش ثابت ہوتا ہے۔ مونگ پھلی میں قدرتی طور پر ایسے اینٹی آکسی ڈنٹ پائے جاتے ہیں جو غذائیت کے اعتبار سے سیب‘ گاجر اور چقندر سے بھی زیادہ ہوتے ہیں جو کم وزن افراد سمیت باڈی بلڈنگ کرنے والوں کے لئے بھی نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بل کہ اس کے طبی فوائد کئی امراض سے حفاظت کا بھی بہترین ذریعہ ہیں۔ مونگ پھلی میں پایا جانے والا وٹامن ای کینسر کے خلاف لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے جب کہ اس میں موجود قدرتی فولاد خون کے نئے خلیات بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔کینیڈا میں کی جانے والے ایک تحقیق کے ذریعے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ذیابطیس کے مریضوں کے لئے مونگ پھلی کا استعمال نہایت مفید ہے۔ ماہرین کے مطابق دوسرے درجے کی ذیابطیس میں گرفتار افراد کے لئے روزانہ ایک چمچہ مونگ پھلی کا تیل بہت مثبت نتا ئج مرتب کرسکتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مونگ پھلی کا استعمال انسولین استعمال کرنے والے افراد کے خون میں انسولین کی سطح برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مونگ پھلی میں تیل کافی مقدار میں ہوتا ہے لیکن آپ خواہ کتنی بھی مونگ پھلی کھا جائیں اس کے تیل سے آپ کا وزن نہیں بڑھے گا۔

پستہ:پستے کا شمار بھی مغزیات میں کیا جاتا ہے۔ یہ جسم میں حرارت بھی پیدا کرتا ہے جب کہ قوتِ حافظہ، دل، معدے اور دماغ کے لیے بھی مفید ہے۔ اس کے متواتر استعمال سے جسم ٹھوس اور بھاری ہو جاتا ہے۔ مغز پستہ سردیوں کی کھانسی میں بھی مفید ہے اور پھیپھڑوں سے بلغم خارج کر کے انہیں صاف رکھتا ہے۔ پستے میں کیلشیم، پوٹاشیئم اور حیاتین بھی اچھی خاصی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ ایک سو گرام پستے کی گری میں 594 حرارے ہوتے ہیں۔ پستہ کا استعمال مختلف سویٹس کے ہم را ہ صدیوں سے مستعمل ہے۔حلوہ‘زردہ اور کھیر کا لازمی جز ہے۔ نمکین بھنا ہوا پستہ انتہائی لذت دار ہوتا ہے اور دیگر مغزیات کی طرح بھی استعمال کیا جا تا ہے۔ جدید طبی تحقیق کے مطابق دن میں معمولی مقدار میں پستہ کھانے کی عادت انسان کو دل کی بیماری سے دور رکھ سکتی ہے۔ پستہ خون میں شامل ہو کر خون کے اندر کولیسٹرول کی مقدار کو کم کردیتا ہے۔ اس کے علاوہ خون میں شامل مضر عنصر لیوٹین کو بھی ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔اس تحقیق کے دوران ماہرین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پھل اور پتے دار ہری سبزیاں کھانے سے شریانوں میں جمے کولیسٹرول کو پگھلایا جاسکتاہے۔ طبی ماہرین کا خیال ہے کہ پستہ عام خوراک کی طرح کھانا آسان بھی ہے اور ذائقے دار غذا بھی اگر ایک آدمی مکھن‘ تیل اور پنیر سے بھرپور غذائوں کے بعد ہلکی غذائوں کی طرف آنا چاہتا ہے تو اسے پستہ کھانے سے آغاز کرنا چاہیے۔ پستہ کا روزانہ استعمال کینسر کے امراض سے بچائو میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ایک جدید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ منا سب مقدار میں پستہ کھانے سے پھیپھڑوں اور دیگر کینسرز کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ کینسر پر کام کر نے والی ایک امریکی ایسوسی ایشن کے تحت کی جانے والی ریسرچ کے مطا بق پستہ میں وٹامن ای کی ایک خاص قسم موجود ہو تی ہے جو کینسر کے خلاف انتہائی مفید ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پستہ میں موجود اس خاص جزو سے نہ صرف پھیپھڑوں بل کہ دیگر کئی اقسام کے کینسر سے لڑنے کے لیے مضبوط مدا فعتی نظام حاصل کیا جا سکتا ہے۔

کاجو: کاجو انتہائی خوش ذائقہ میوہ ہے ۔اس میں زنک کی کافی مقدار پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کے استعمال سے اولاد پیداکرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔کینیڈا میں کی گئی ایک حالیہ طبی تحقیق کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کاجو کا استعمال ذیابطیس کے علاج میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کاجو کے بیج میں ایسے قدرتی اجزا پائے جاتے ہیں جو خون میں موجود انسولین کو عضلات کے خلیوں میں جذب کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کاجو میں ایسے ’’ایکٹو کمپاونڈز‘‘ پائے جاتے ہیں جو ذیابطیس کو بڑھنے سے روکنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں لہذا ذیابطیس کے مریضوں کے لئے کاجو کا باقاعدہ استعمال انتہائی مفید ہے۔

22/02/2014

فرسٹ ایڈ‘ یا گھریلو علاج
ہاتھوں کو ملائم کرنے کے لیے :
٭ رات کو سونے سے پہلے لیموں کا عرق اور گلیسرین لیں اور ہاتھوں پر ملیں اوراسی حالت میں سوجائیں صبح صاف پانی سے ہاتھ صاف کرلیں ، ہاتھ نرم ونازک ہوجائیں گے ۔

٭ ہاتھوں پر زیتون کا تیل یا ٹماٹر کے ٹکڑے ملئے،اس طرح ہاتھ نرم ونازک ہوجائیں گے ۔

زہریلے کیڑے کے کاٹے کے درد کے لیے : کوئی چھوٹا سا زہریلا کیڑاکاٹ لے اوردرد محسوس ہورہا ہوتو آپ لیموں کا رس نکال کر اس مقام پر ملئے شفا نصیب ہوگی ۔

چہرے کے دانے ختم کرنے کے لیے:کالی مرچ لیں اور اسے صندل کی طرح رگڑ کر چہرے پر یہ لیپ مل لیں ۔ دوچار روز ایسا کرنے سے چہرے سے دانے ختم ہوجائیں گے ۔

منہ کی بُو ختم کرنے کے لیے : دن میں دو یا تین بار سونف چبائیے اور اس کا عرق پی لیجئے چند دنوں میں آپ کے منہ سے بدبوکی بجائے خوشبو آنے لگے گی ۔

بال سفید ہونے سے بچانے کے لیے:

بال اگر وقت سے پہلے سفید ہونا شروع ہوجائیں تو رات سونے سے پہلے ایک پاو دودھ میں چند قطرے بادام روغن ملا لیجئے اور حسب ذائقہ چینی اس میں ملاکر پی لیجئے ۔ آپ ایسا روزانہ کریں کچھ عرصہ بعد بال سفید ہونا بند ہوجائیں گے ۔ اور سفید بال بھی اپنی رنگت سیاہی مائل کرلیں گے ۔

رنگت کو گورا کرنے کے لیے :

٭خستہ سا ململ کا ٹکڑا لیں اور اسے پانی میں ڈال کر تیز آگ پر اُبال لیں جب آدھا گھنٹہ وہ پک جائے تو اس طرح جو بھاپ دیگچی سے اٹھ رہی ہو وہ اپنے چہرے کو دینا شروع کردیں ۔ جب کپڑا گرم ہوجائے تو اسے پانی سے نکال لیجئے اور قابلِ برداشت گرم ہوتو اسے چہرے پر رکھ کر پانچ منٹ تھپکیں اور چہرے پر کوئی کریم مل کرسوجائیں ۔ صبح اُٹھ کر منہ دھو لیں ۔ وہ لوگ جن کا رنگ بیحد سیاہ ہے وہ بھی اسے آزمائیں ۔ وہ جلد شفا حاصل کر لیں گے ۔

٭انڈے کے چھلکے ،سوکھے مالٹے کے چھلکے اور لال دال مسور ہم وزن لے لیں اور خوب پیس لیں ۔ اسے پانی میں ڈال کر آمیزہ سا بنالیں اور اسے ہر روز چہرے پر لگائیں ۔ چہرے کی رنگت نکھرنا شروع ہوجائے گی اور رنگ سفیدی مائل ہوجائے گا ۔

زکام کے خاتمہ کے لیے:

٭دہکتے ہوئے کوئلوں پر ذراسی چینی ڈال لیں اور اسے سونگھیں ۔ اس دھوئیں سے آپ کا زکام دور ہوجائے گا ۔

٭آٹے کا چھان آدھا پاو لیں اور اسے پاو بھر پانی میں پکالیں ۔ جب دو تین بار اُبال آجائے تو آپ نمک یا چینی جو مناسب سمجھیں اس میں ملاکر استعمال کریں ۔ سرد پانی ہرگز نہ پئیں‘ زکام دور ہوجائے گا ۔

٭زکام کی میعادصرف تین دن ہوتی ہے اس کے بعد زکام ازخود ختم ہوجاتا ہے ۔ اس دوران کھٹائی ،تیل اور سرد اشیاءسے پرہیز کریں بغیر کسی دوا کے زکام ختم ہوجائے گا ۔

کھانسی کے خاتمہ کے لیے :

٭کھانسی اگربچے کو ہے تو اسے چھوٹی الائچی پیس کر کھلادیجئے کھانسی ختم ہوجائے گی ۔ یاشہد گرم کرکے بچے کو دیں ۔ یا ادرک کا عرق نکال لیں اوراسے شہد میں ملاکر بچے کو دیں،اس سے بھی کھانسی ختم ہوجائے گی ۔

٭آٹے کا چھان 50 گرام لیں ،پھر اُبلے ہوئے انڈے کی زردی لیں اور اسے شہد میں ملاکر کھائیں ۔ اس عمل سے سخت سے سخت کھانسی کو بھی شفا نصیب ہوتی ہے ۔

نسیان کا مرض ختم کرنے کے لیے :

نسیان کے شکار مریض کو دارچینی بیحد فائدہ دیتی ہے ۔ دن میں دوتین بار دارچینی کا ٹکڑا منہ میں ڈال کر چبانے سے مرض نسیان دورہوجاتا ہے ۔

لقوہ سے نجات پانے کے لیے : سیاہ کبوتر لیں اور اسے ذبح کرکے پکالیں اور ہر دوسرے دن کھائیں ۔ دوتین کبوتر کھانے سے لقوہ ازخود ختم ہوجائے گا اور مکمل شفا نصیب ہوگی ۔

بال چمکدار بنائیے : لیموں کا رس نکال لیجئے اور اسے بالوںمیں ڈال کر خوب اچھی طرح مالش کیجئے ۔ کچھ دیر یوں ہی اُسے رکھیے اور پھر دھولیجئے بال چمکدار ہونا شروع ہوجائیں گے ۔

بال لمبے کرنے کے لیے :

رات کو پانی میں املی ڈال کر بھگو رکھئے اور پھر صبح اس پانی سے بال دھو ڈالئے ،بال اس طرح دھونے کا عمل کم ازکم ایک ہفتہ ضرور کیجئے اور پھر بالوںمیں ناریل کا تیل ڈال کر ملئے ، بال لمبے ہوجائیں گے ۔

پھوڑے پھنسی کے خاتمہ کے لیے : جس جگہ پھوڑا پھنسی ہو تِل کے تیل اورمرغی کے انڈے کی سفیدی ملاکر اس کا لیپ کردیں ۔ پھوڑا پھنسی ازخود ختم ہوجائے گا ۔

قبض کے خاتمہ کے لیے : بغیر چھنے آٹے کی روٹی کا استعمال کیجئے ،قبض ختم ہوجائے گا ۔ سونف اور گل قند ملاکرقبض کا خاتمہ ہوجائے گا ۔

انجیر گرم دودھ میں ڈال کر پی لیں ۔ یا دودھ میں بھیگی ہوئی انجیر کھائیے قبض دور ہوجائے گا ۔

دانت کا درد ختم کرنے کے لیے :لہسن کا پانی نکال لیجئے اور اسے داڑھ یا دانت پر روئی کے پھاہے میں بھگو کر لگائیے اور منہ کو کھلا چھوڑ دیجئے ۔ مواد نکل جائے گا اور درد ختم ہوجائے گا ۔

جلنے والی جگہ کے آرام کے لیے : اگر جسم کا کوئی حصہ جل یا جھلس جائے تو اس پر فوراً سرسوں کا تیل لگا دیجئے یا وہ عضو جو جل گیا ہے اسے فوراً سرسوں کے تیل میں ڈبو دیجئے آبلہ نہیں پڑے گا اور نہ ہی کوئی نشان وہاں ظاہر ہوگا

شہد کی مکھی یا بھڑ کے کاٹے کا علاج ذرا سا نمک سرکہ میں ملاکر اس متاثرہ مقام پر لگا ئیے افاقہ ہوگا۔ جہاں ڈنک لگا ہے وہاں عرق کافورمل لیں ۔ جلن ختم ہوجائے گی اورٹھنڈک پیدا ہوگی ۔

دانتوں کے سیاہ نشان ختم کرنے کے لیے :چنبیلی کے پتے اُبال لیجئے اور ہرصبح اس پانی سے کلیاں کیجئے تو دانتوںپر پڑے سیاہ نشان ختم ہوجائیں گے اوردانتوںمیں چمک پیدا ہوجائے گی ۔

چہرے کی جلد نرم اور دلکش کرنے کے لیے :

٭ایک انڈے کی زردی کو کسی پیالے میں ڈال لیں اوراس میں روغن بادام کے دوچائے کے چمچ ملالیں ۔ چکنی جلد ہے تو بیس قطرے عرق لیموں شامل کرلیں ۔ سبھی کو چمچے سے خوب ہلاکر ملالیں ۔ یہ جھاگ سا بن جائے گا اورآپ کی گھریلو کریم تیار ہوجائے گی ۔ اُسے آہستہ آہستہ چہرے پر ملئے اور دس بارہ منٹ تک ایسا کیجئے ۔ پھر چہرہ نیم گرم پانی سے مل کر صاف کرلیجئے ۔ چند دن میں چہرے پر کافی فرق محسوس ہوگا اورعمر بڑھنے کے باوجود چہرے کی دل کشی برقرار رہے گی ۔

٭غسل کرنے کے بعد لیموں کا عرق رخساروں پر مل لیجئے اورپھر کچھ دیر بعد سرسوں کا تیل لگا لیجئے ۔ پھر اسے تولیہ سے صاف کردیجئے ،آپ کا چہرہ گلاب کے پھول کی مانند ہوجائے گا ۔ (جاری)

فالج کا نقصان کم کرنے میں ہلدی مددگار ایک تحقیق کے مطابق فالج کے بعد انسانی جسم کو ہونے والے نقصان کو ٹھیک کرنے میں ہلدی...
14/02/2014

فالج کا نقصان کم کرنے میں ہلدی مددگار

ایک تحقیق کے مطابق فالج کے بعد انسانی جسم کو ہونے والے نقصان کو ٹھیک کرنے میں ہلدی بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

لاس اینجلس میں ایک میڈیکل سینٹر میں تحقیق کاروں نے خرگوشوں پر ریسرچ کے بعد اب انسانوں پر اس کے استعمال کی تیاری شروع کر دی ہے۔

ہلدی سے تیار کی جانے والی دوا دماغ کے خلیوں تک پہنچتی ہے اور پٹھوں اور دماغی عمل کے مسائل کو کم کرتی ہے۔

فالج کے لیے کام کرنے والی تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ پہلی اہم تحقیق ہے جس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ہلدی فالج کے مریضوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

بھارت میں صدیوں سے ہلدی کا استعمال آیورویدک دواؤں میں کیا جاتا رہا ہے اور متعدد تجربوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہلدی کے کئی فائدے ہیں۔

خرگوشوں پر کیے جانے والے تجربے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسانوں میں فالج کا اثر ہونے کے تین گھنٹوں بعد انسانوں پر اس دوا کا اثر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ایسے علاج کے لیے اس وقت موجود دوا بھی اتنا ہی وقت لیتی ہے۔

تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر پال لیپچک کا کہنا ہے کہ اس دوا سے فالج کے بعد دماغی خلیوں کو زندہ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حالانکہ انسانوں پر اس دوا کے تجربے کی تیاری کی جا رہی ہے لیکن اس دوا سے عام علاج میں ابھی وقت لگ سکتا ہے۔

’سٹروک ایسو سی ایشن‘ کی ڈاکٹر شرلین احمد کا کہنا ہے کہ ہلدی صحت کے لیے کتنی مفید ہے یہ بات پہلے سے ہی سب جانتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسے علاج کی ضرورت ہے جس سے فالج کے فوراً بعد دماغی خلیوں کی حفاظت کی جا سکے اور مریض جلدی صحت یاب ہو سکے۔

ہر انسان کو صحت مند زندگی گزارنے کے لیۓبدن کا کلسٹرول کم کرنے کے لیۓ سلاد کا استعمال کریںحفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھ...
13/02/2014

ہر انسان کو صحت مند زندگی گزارنے کے لیۓ
بدن کا کلسٹرول کم کرنے کے لیۓ سلاد کا استعمال کریں
حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھتے ہوۓ مناسب غذا کا استعمال کرنا چاہیۓ ۔ مناسب غذا ایک طرف تو انسان کو بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے جبکہ دوسری طرف بہت سی لاحق ہو جانے والی بیماریوں کے علاج کے طور پر بےحد معاون اور مفید ثابت ہوتی ہے ۔ ہری بھری اور تازہ سبزیوں کا سلاد ہر شخص کھانے کے ساتھ پسند کرتا ہے۔ بہتر ذائقے کے ساتھ ساتھ سلاد بھرپور غذائیت کا خزانہ ہوتا ہے۔ غذائیت سے بھرپور سلاد اور سبزیاں نظام ہاضمہ پر بھی گراں نہیں گزرتی ہیں اور دن بھر کی پروٹین اور وٹامن کی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔
چکنائی سے پاک سلاد جسم کو ہشاش بشاش اور ہلکا پھلکا رکھتی ہےاور اس سےکولیسٹرول قابو میں رہتا ہے۔

جبکہ ضروری فائبر، آئرن اور کیلشیم کی اچھی خاصی تعداد بھی سلاد سےحاصل کی جا سکتی ہے۔ تازہ سبزیوں سے بنی سلاد کا استعمال سے دل کی بیماریوں اور بلڈ پریشر کے خطرات کو کم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

صحت مند زندگی گزارنے کے لیۓ چند مفید معلوماتتندرستی ہزار نعمت ہے اور اس نعمت سے فیض یاب ہوتے رہنے کے لیۓ ضروری ہےکہ انسا...
11/02/2014

صحت مند زندگی گزارنے کے لیۓ چند مفید معلومات
تندرستی ہزار نعمت ہے اور اس نعمت سے فیض یاب ہوتے رہنے کے لیۓ ضروری ہے
کہ انسان اپنی صحت کا ہمیشہ خیال رکھے اور بیماریوں کے لاحق ہونے والے تمام خطرات سے آگاہ رہے ۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق انسان اپنی صحت سے متعلق مندرجہ ذیل چند باتوں کا خیال رکھ کر بہت سی پیچیدہ اور جان لیوہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے ۔
٭ ہفتے میں 4 سے 5 مرتبہ 45 سے 60 منٹ کی ورزش دل کی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے ۔
٭ شوگر کے مریض دن میں کم از کم 60 منٹ پیدل چلیں ۔
٭ ورزش کرنے کے عمل کو اعتدال کے ساتھ انجام دیں تاکہ حد سے زیادہ سانس نہ پھولے ۔
٭ کسی بھی ایسی ورزش سے پرہیز کریں جو جسمانی دردوں کا باعث بنے ۔
٭ مناسب اور معیاری خوراک کا استعمال کریں جو حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق ہو ۔
٭ خوراک میں دودھ ، پھل اور سبزیاں زیادہ استعمال کریں ۔
٭ تیل اور گھی میں تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز کریں تاکہ کلسٹرول کی زیادتی ، دل اور معدہ کی بیماریوں سے بچا جا سکے ۔
٭ خوراک میں لال مرچ کا استعمال بے حد کم کریں اور نمک بھی کم مقدار میں استعمال ہو تو بہتر ہے ۔
٭ رات کو سونے سے قبل ایک سے دو گلاس پانی پینے کو اپنا معمول بنائیں ۔
٭ رات کا کھانا سورچ غروب ہونے کے فورا بعد کھانے کی کوشش کریں ۔
کمزور اور عمر رسیدہ افراد کے لیۓ ھدایات
٭ زیادہ دیر کے لیۓ جھک کر کام کرنے سے پرہیز کریں ۔
٭ نماز پڑھنے میں اگر دشواری ہو تو نماز ادا کرنے کے لیۓ کرسی کا استعمال کریں ۔
٭ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر یا چونکڑی مار کر مت بیٹھیں ۔
٭ استعداد سے زیادہ وزن اٹھانے سے پرہیز کریں ۔
٭ زمین پر بیٹھنے کی بجاۓ مناسب بلند کرسی کا استعمال کریں ۔
٭ باتھ روم میں کموڈ استعمال کریں تاکہ گھٹنوں کے امراض سے بچا جا سکے ۔
٭ چھینک لیتے ہوۓ اور کھانسی کرتے وقت ضرورت سے زیادہ زور لگانے کی کوشش ہرگز نہ کریں ۔
٭ ناہموار اور پھسلن والی جگہوں پر مت جائیں کیونکہ ہڈیاں کمزور ہونے کی وجہ سے گرنے کے باعث ہڈیاں ٹوٹ سکتی ہیں ۔
٭ گھٹنوں کے مریض اپنی ران کے پھٹوں کی ورزش پاؤں پر وزن باندھ کر باقاعدگی سے کریں ۔ ایسی ورزش آپ کے درد کو 60 سے 70 فیصد تک کم کر سکتی ہے ۔
٭ موٹے افراد اپنے وزن کو کم کرنے کی کوشش کریں ۔

Address

Amroha
244221

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تبب حکی1 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to تبب حکی1:

Share