Dr Sadia Iqbal

Dr Sadia Iqbal I am Dr. Sadia Iqbal, a Ph.D.

in Applied Psychology with over 11 years of professional experience working with children with intellectual disabilities and 13 years of teaching experience in various renowned universities across Pakistan.

26/08/2026
I successfully completed the 15 days ABA training session conducted by Mark David at the Maryam Nawaz Resource Centre fo...
25/08/2026

I successfully completed the 15 days ABA training session conducted by Mark David at the Maryam Nawaz Resource Centre for Autism.

25/08/2026

فیصلہ سنانا آسان ہے، سمجھنا مشکل…!
​جب کوئی عورت گھر ٹھیک سے نہیں سنبھال پاتی یا بچوں کی دیکھ بھال میں کوئی کمی رہ جاتی ہے، تو ہمارا معاشرہ بغیر سوچے سمجھے فوراً اپنا فیصلہ سنا دیتا ہے — "یہ عورت نااہل ہے، لاپروا ہے۔"
​لیکن کوئی ایک بار بھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتا کہ شاید وہ اندر ہی اندر ٹوٹ رہی ہو… شاید وہ اپنی خاموش جنگ لڑ رہی ہو، ذہنی تھکن کا شکار ہو، یا اس کا ازدواجی رشتہ اسے وہ سکون اور خوشی نہ دے پا رہا ہو جس کی وہ حقدار ہے۔
​عجیب بات یہ ہے کہ یہی پیمانہ مرد پر کبھی لاگو نہیں ہوتا۔ اگر وہ اپنی ذمہ داریوں میں کمزور پڑ جائے یا غافل ہو، تو کوئی سوال نہیں اٹھتا، کوئی انگلی نہیں اٹھتی۔ لیکن عورت کو ہر بار کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے، بغیر یہ جانے کہ اس کی مسکراہٹ کے پیچھے کیا کہانی چھپی ہے۔
​کاش ہم عورت کو بھی ایک انسان سمجھیں — ایک ایسا انسان جس کے اندر درد بھی ہوتا ہے، تھکن بھی ہوتی ہے، اور کبھی کبھار تھک کر ٹوٹ جانے کا حق بھی!
​کسی کی زندگی پر تنقید کرنے سے پہلے، اس کے حالات کو سمجھنے کا ظرف پیدا کریں۔ 🖤 ڈاکٹر سعدیہ اقبال ماہر نفسیات
​ #عورت #احساس #ہمدردی #زندگی

10/08/2026

زندگی کے سفر میں اگر آپ کو ہر موڑ پر ایسے لوگ مل جائیں جو آپ کے جذبات کا مان رکھیں، آپ کے احساسات کی قدر کریں اور آپ کو وہ عزت دیں جس کے آپ واقعی حقدار ہیں… تو یقین مانیں، یہ محض اتفاق نہیں ہوتا۔ یہ آپ پر میرے رب کا خاص کرم، اس کا احسان اور ایک خوبصورت نعمت کا اترنا ہے۔
​الحمدللہ رب العالمین۔ ✨❤️

پیڈوفیلک ڈس آرڈر (Pedophilic Disorder) کیا ہے؟ ایک اہم نفسیاتی اور طبی معلوماتی پوسٹ 🧠👇​کیا آپ جانتے ہیں کہ نفسیاتی علوم...
17/07/2026

پیڈوفیلک ڈس آرڈر (Pedophilic Disorder) کیا ہے؟ ایک اہم نفسیاتی اور طبی معلوماتی پوسٹ 🧠👇
​کیا آپ جانتے ہیں کہ نفسیاتی علوم (Psychology) میں بچوں کی طرف جنسی رجحان یا کشش کو ایک شدید ذہنی اور نفسیاتی عارضہ مانا جاتا ہے؟ اسے میڈیکل کی زبان میں Pedophilic Disorder (پیڈوفیلک ڈس آرڈر) کہا جاتا ہے۔
​بہت سے لوگ اس موضوع پر بات کرنے سے کتراتے ہیں، لیکن معاشرے میں شعور (Awareness) اور بچوں کے تحفظ کے لیے اس کے علمی اور طبی پہلوؤں کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔
​1۔ پیڈوفیلک ڈس آرڈر کیا ہے؟
​یہ ایک دماغی اور نفسیاتی عارضہ ہے جس میں کسی بالغ (Adult) شخص کو طویل عرصے تک (کم از کم 6 ماہ یا اس سے زائد) بچوں (جن کی عمر عام طور پر 13 سال یا اس سے کم ہو) کی طرف شدید جنسی کشش، خیالات یا فینٹسیز کا سامنا رہتا ہے۔
​2۔ بیماری (Disorder) اور جرم (Crime) میں فرق
​نفسیاتی اور قانونی ماہرین کے مطابق ان دونوں میں واضح فرق ہے:
​ڈس آرڈر (ذهنی عارضہ): یہ وہ اندرونی دماغی کیفیت یا خیالات ہیں جن پر مریض کا بس نہیں چلتا۔
​جرم (Behavior): ان خیالات کے زیرِ اثر کسی بچے کو نقصان پہنچانا، چائلڈ ابیوز (Child Abuse) کرنا یا ہراساں کرنا ایک سنگین اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔
​3۔ تشخیص (Diagnosis) کیسے ہوتی ہے؟
​ذہنی امراض کی عالمی گائیڈ لائن (DSM-5) کے مطابق اس کی تشخیص تب ہی کی جاتی ہے جب:
​یہ غیر فطری خواہشات کم از کم 6 ماہ سے مسلسل موجود ہوں۔
​یہ خیالات رکھنے والے شخص کی اپنی عمر کم از کم 16 سال ہو اور وہ بچے سے کم از کم 5 سال بڑا ہو۔
​ان خیالات کی وجہ سے وہ شخص خود شدید ذہنی دباؤ، ندامت (Guilt) یا سماجی مشکلات کا شکار ہو رہا ہو۔
​4۔ کیا اس کا علاج ممکن ہے؟
​جی ہاں، طبی دنیا میں اس عارضے کو مینیج کرنے کے طریقے موجود ہیں:
​تھراپی (CBT): ماہرِ نفسیات مریض کو ان خیالات کو کنٹرول کرنے اور اپنے رویے پر قابو پانے کی تھراپی سکھاتے ہیں۔
​ادویات (Medication): کچھ سنگین کیسز میں ڈاکٹرز ایسی ادویات تجویز کرتے ہیں جو غیر فطری جنسی خواہشات کی شدت کو کم کرتی ہیں۔
​⚠️ ضروری پیغام:
اگر کوئی شخص خود میں اس طرح کے غیر فطری خیالات محسوس کرتا ہے، تو اسے خاموشی سے کڑھنے، شرمندگی میں جینے یا کسی جرم کے ارتکاب کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر کسی ماہرِ نفسیات (Psychiatrist/Psychologist) سے رجوع کرنا چاہیے۔
​ہمارا مقصد آگاہی پھیلانا اور اپنے بچوں کے لیے ایک محفوظ معاشرہ بنانا ہے۔
​ #نفسیات

عنوان: خاموش نعمتیں اور بے مائیگی کا احساس​کیا آپ کبھی سفر پر گئے ہیں؟ اور سفر کے دوران، خاص طور پر جب آپ منزل پر پہنچتے...
16/07/2026

عنوان: خاموش نعمتیں اور بے مائیگی کا احساس
​کیا آپ کبھی سفر پر گئے ہیں؟ اور سفر کے دوران، خاص طور پر جب آپ منزل پر پہنچتے ہیں، یا جب واپسی کا وقت قریب آتا ہے، تو آپ کے فون کی سکرین پر گھر والوں کی کال یا میسج آتا ہے؟
"...خیریت سے پہنچ گئے؟"
"...کب تک واپس آؤ گے؟"
"...راستہ کیسا رہا؟"
​اگر آپ کے ساتھ ایسا ہوتا ہے، تو یقین مانیں، آپ دنیا کی سب سے بڑی اور خوبصورت نعمتوں میں سے ایک کے مالک ہیں۔
​ہماری روزمرہ کی زندگی میں، ہمیں ایسی بہت سی چیزیں مفت میں ملی ہوئی ہیں جن کی اہمیت کا ہمیں اس وقت تک بالکل اندازہ نہیں ہوتا جب تک وہ ہمارے پاس موجود ہوں۔ گھر والوں کی یہ چھوٹی چھوٹی فکر بھری باتیں، دراصل ان کی بے پناہ محبت اور آپ کے لیے ان کی اہمیت کا اظہار ہیں۔
​لیکن ذرا ان لوگوں کے بارے میں سوچیں جن کے پاس یہ نعمت نہیں ہے۔ وہ جب کسی سفر سے لوٹتے ہیں، تو ان کا استقبال ایک سائیں سائیں کرتا خاموش گھر کرتا ہے۔ ان کا کوئی منتظر نہیں ہوتا، کوئی ان کی خیریت جاننے کے لیے بے چین نہیں ہوتا۔
​اس محرومی کو جو انسان محسوس کرتا ہے، اسے نفسیات کی زبان میں "بے مائیگی کا احساس" (Sense of Worthlessness or Incompleteness) کہا جاتا ہے۔ یعنی خود کو دنیا میں غیر اہم یا تنہا محسوس کرنا۔ یہ احساس محبت کی کمی کی سب سے کڑوی گولی کی طرح ہے۔
​لہذا، میری آج کی چھوٹی سی بات یہ ہے کہ:
​ان چھوٹے چھوٹے پیار بھرے لمحات کی قدر کریں جب کوئی آپ سے پوچھے "آپ کہاں ہیں؟"۔ یہ دراصل ان کی محبت اور تحفظ کا ایک حفاظتی حصار ہے۔ اس لمحے کو "ٹوکنا" یا "پریشانی" نہ سمجھیں، بلکہ اسے اپنی خوش نصیبی کا پروانہ سمجھیں۔
​زندگی انہی چھوٹے چھوٹے رشتوں اور فکروں کا مجموعہ ہے۔ اسے محسوس کریں اور شکر ادا کریں۔ ❤️
​نفسیاتی ٹپس (Psychological Tips)
​1. شکر گزاری کی مشق (Practice Gratitude):
روزانہ رات کو سونے سے پہلے ان تین چیزوں کو یاد کریں جو دن بھر میں اپنوں کی محبت کا پتہ دیتی ہیں۔ یہ آپ کی ذہنی صحت کو مثبت بناتا ہے اور احساس محرومی کو دور کرتا ہے۔
​2. خودکفیل رابطے (Proactive Connection):
اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو اس نعمت سے محروم ہیں (یا تنہا محسوس کر رہے ہیں)، تو خود پہل کریں۔ اپنے دوستوں، کزنز، یا کسی بھی عزیز سے رابطہ قائم کریں۔ یاد رکھیں، محبت کو حاصل کرنے کا بہترین طریقہ محبت کو دینا ہے۔
​3. جذباتی خود آگاہی (Emotional Self-Awareness):
یہ سمجھیں کہ گھر والوں کی کال سے چڑچڑاہٹ محسوس کرنا ایک عارضی نفسیاتی کیفیت ہو سکتی ہے (مثلاً تناؤ یا تھکاوٹ کی وجہ سے)، جبکہ اس کال کا نہ آنا ایک مستقل محرومی ہے۔

ڈاکٹر سعدیہ اقبال کلینیکل سائکولوجسٹ
​ #نعمتیں

کیا آپ کا لاشعور (Mind) بھی اسٹریس میں بچہ بن جاتا ہے؟ 👶🏻🧠"​کبھی نوٹ کیا ہے کہ جب زندگی بہت مشکل یا پریشان کن ہو جائے، ت...
15/07/2026

کیا آپ کا لاشعور (Mind) بھی اسٹریس میں بچہ بن جاتا ہے؟ 👶🏻🧠"
​کبھی نوٹ کیا ہے کہ جب زندگی بہت مشکل یا پریشان کن ہو جائے، تو اچھے بھلے بڑے انسان بھی بچوں کی طرح پاؤں پٹخنے، غصے میں دروازے مارنے یا ناخن چبانے لگتے ہیں؟
​نفسیات کی زبان میں اسے "Regression Defense Mechanism" کہتے ہیں۔ یہ ہمارے دماغ کا ایک ایسا خفیہ طریقہ کار ہے جہاں وہ مشکل حالات سے گھبرا کر ماضی کے کسی 'سیف زون' یعنی بچپن میں پناہ لیتا ہے۔


​ #نفسِیات #پاکستان

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارا دماغ بری یادوں سے بچنے کے لیے ہم سے "جھوٹ" بولتا ہے؟ 🤔🧠نفسیات (Psychology) میں ایک بہت دلچسپ ت...
14/07/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارا دماغ بری یادوں سے بچنے کے لیے ہم سے "جھوٹ" بولتا ہے؟ 🤔🧠
نفسیات (Psychology) میں ایک بہت دلچسپ تصور ہے جسے "Repression" (دفاعی طریقہ کار یا Defense Mechanism) کہا جاتا ہے۔
آسان الفاظ میں، جب ہماری زندگی میں کوئی بہت برا، تکلیف دہ یا خوفناک حادثہ پیش آتا ہے، تو ہمارا دماغ خود کو پاگل ہونے یا شدید ڈپریشن سے بچانے کے لیے اس یاد کو زبردستی لاشعور (Unconscious Mind) کی تہہ میں دھکیل دیتا ہے۔ یعنی ہم چاہنے کے باوجود بھی وہ واقعہ یاد نہیں رکھ پاتے، دماغ اسے "لاک" کر دیتا ہے۔
یہ ہمارے دماغ کا ایک خودکار حفاظتی نظام ہے، لیکن بعض اوقات یہ ہماری شخصیت پر عجیب اثرات چھوڑتا ہے۔
چند عام مثالیں (Examples):
1. بچپن کا خوفناک حادثہ
ایک شخص کا بچپن میں بہت برا کار ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ اب جوان ہونے کے بعد اسے وہ حادثہ بالکل یاد نہیں ہے (دماغ نے اسے Repress کر دیا ہے)، لیکن وہ جب بھی گاڑی میں بیٹھتا ہے، اسے بلاوجہ شدید گھبراہٹ ہونے لگتی ہے، بغیر یہ جانے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔
2. اسٹیج کا خوف (Stage Fright)
ایک لڑکی کو اسٹیج پر جانے سے شدید ڈر لگتا ہے۔ اصل میں ہوا یہ تھا کہ پہلی کلاس میں جب وہ اسٹیج پر آئی تو سب اس پر ہنسے تھے، جس سے اسے شدید شرمندگی ہوئی۔ دماغ نے اس شرمندگی کی یاد کو تو مٹا دیا، لیکن وہ خوف آج بھی لاشعور میں موجود ہے۔
3. کسی پیارے کا بچھڑ جانا
کبھی کبھار کسی بہت قریبی انسان کے اچانک انتقال پر انسان صدمے سے بالکل خاموش ہو جاتا ہے اور ایسے برتاؤ کرتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ دماغ اس دکھ کو وقتی طور پر اتنی گہرائی میں چھپا دیتا ہے کہ انسان کو لگتا ہے وہ نارمل ہے۔
خلاصہ:
دماغ تکلیف دہ یادوں کو دفن تو کر دیتا ہے، لیکن وہ مٹتی نہیں ہیں۔ وہ ہمارے خوابوں، بلاوجہ کے غصے یا خوف کی شکل میں باہر آتی رہتی ہیں۔

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آپ کو اپنے ماضی کا کوئی خاص حصہ بالکل یاد ہی نہیں؟ اپنے خیالات کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں!
ڈاکٹر سعدیہ اقبال کلینیکل سائیکالوجسٹ۔۔۔

غصہ کسی کا، نکلتا کسی اور پر؟ 🤔 | کیا آپ "Displacement" کا شکار ہیں؟نفسیات (Psychology) میں ایک لفظ استعمال ہوتا ہے جسے ...
13/07/2026

غصہ کسی کا، نکلتا کسی اور پر؟ 🤔 | کیا آپ "Displacement" کا شکار ہیں؟
نفسیات (Psychology) میں ایک لفظ استعمال ہوتا ہے جسے "Displacement" (منتقلی) کہتے ہیں۔ یہ ہمارے دماغ کا ایک ایسا دفاعی نظام (Defense Mechanism) ہے جس میں ہم اپنا غصہ، مایوسی یا بھڑاس اس انسان پر نکال دیتے ہیں جس کا اس پورے معاملے سے کوئی لینا دینا ہی نہیں ہوتا۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ جس پر اصل میں غصہ آ رہا ہوتا ہے، وہ ہم سے طاقتور ہوتا ہے (جیسے باس یا ابّو) اور ہم وہاں اپنا غصہ ظاہر نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہمارا دماغ کسی "کمزور" یا "محفوظ" ہدف کو ڈھونڈتا ہے۔
آئیں اس کو روزمرہ کی 3 آسان مثالوں سے سمجھتے ہیں:
1️⃣ باس کا غصہ بیگم پر:
آفس میں باس نے سب کے سامنے ڈانٹ دیا، اب وہاں تو نوکری کا سوال ہے، بندہ کچھ بول نہیں سکتا۔ وہی صاحب جب گھر آتے ہیں، تو چائے میں نمک کم ہونے پر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ غصہ باس پر تھا، نکل بیگم پر گیا۔
2️⃣ امی کا غصہ بچوں پر:
ساس نے بہو کو کچھ جلی کٹی باتیں سنا دیں، بہو آگے سے لحاظ کر کے خاموش رہی۔ لیکن تھوڑی دیر بعد جب بچہ آ کر ہوم ورک کا پوچھتا ہے، تو امی اس پر چیخ پڑتی ہیں یا ہلکا سا ہاتھ صاف کر دیتی ہیں۔
3️⃣ بڑے بھائی کا غصہ چھوٹے بھائی پر:
والد صاحب نے بڑے بھائی کو کسی بات پر سخت ہنٹ کیا، بڑے بھائی نے وہ سارا غصہ کمرے میں جا کر چھوٹے بھائی کے کھلونے توڑ کر یا اسے دھکا دے کر نکال دیا۔
حل کیا ہے؟
جب بھی آپ کو محسوس ہو کہ آپ کسی معصوم پر ضرورت سے زیادہ غصہ کر رہے ہیں، تو ایک سیکنڈ کے لیے رکیں اور خود سے پوچھیں: "کیا میرا غصہ واقعی اس بات پر ہے، یا میں کسی اور چیز کا غصہ یہاں نکال رہا ہوں؟"
اپنے جذبات کو سمجھنا ہی ذہنی سکون کا پہلا قدم ہے۔
آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے؟ نیچے کمنٹس میں شیئر کریں!
ڈاکٹر سعدیہ اقبال کلینیکل سائیکولوجسٹ

پوسٹ کا عنوان: پاکستان میں ذہنی صحت کا شعبہ اور لائسنسنگ کا بحران: مریضوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کب تک؟ 🇵🇰بطور ماہرِ نفسیا...
12/07/2026

پوسٹ کا عنوان: پاکستان میں ذہنی صحت کا شعبہ اور لائسنسنگ کا بحران: مریضوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کب تک؟ 🇵🇰
بطور ماہرِ نفسیات (Psychologist)، میں پچھلے کئی دنوں سے ایک ایسے اہم اور پریشان کن موضوع پر لکھنے کا سوچ رہی تھی جو ہمارے ملک میں ذہنی صحت کے پورے نظام کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
ہمارے پیارے پاکستان میں المیہ یہ ہے کہ سائیکالوجسٹس کے لیے کوئی ایک ایسی آفیشل، مرکزی لائسنسنگ باڈی موجود ہی نہیں ہے جو یہ طے کر سکے کہ کون پریکٹس کرنے کا اہل ہے اور کون نہیں۔ اس قانون سازی اور چیک اینڈ بیلنس کی عدم موجودگی کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ایک بھیانک شکل میں موجود ہے۔
# # # # بغیر اسپیشلائزیشن کے پریکٹس اور 'ڈاکٹر' کا لقب:
صرف 4 سالہ بی ایس (BS Psychology) کرنے کے بعد—جو کہ محض ایک بنیادی تعلیمی ڈگری ہے اور کلینیکل ٹریننگ کا متبادل ہرگز نہیں—لوگ خود کو "ماہرِ نفسیات" یا "کلینیکل سائیکالوجسٹ" کہلاوا کر کلینک کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔ حیرت تو تب ہوتی ہے جب بغیر کسی ایم فل (M.Phil)، پی ایچ ڈی (PhD) یا پوسٹ گریجویٹ ڈپلومے کے، محض بی ایس کی بنیاد پر لوگ اپنے نام کے ساتھ 'ڈاکٹر' لگا لیتے ہیں۔ یہ نہ صرف تعلیمی بددیانتی ہے بلکہ عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔
# # # # ادویات کا غیر قانونی استعمال (Prescription Malpractice):
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ قانوناً دوا تجویز کرنے کا حق صرف ایک کوالیفائیڈ سائیکاٹرسٹ (Psychiatrist / PMDC Certified) کو ہوتا ہے، کیونکہ انہوں نے ایم بی بی ایس (MBBS) کیا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں تو اندھیر نگری ہے! کچھ نام نہاد سائیکالوجسٹس نے خود ہی مریضوں کو ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کی بھاری ادویات (Psychiatric Medications) لکھ کر دینا شروع کر دی ہیں، جو کہ سراسر غیر قانونی اور مریض کی جان کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
# # # # "کوئی پوچھنے والا نہیں ہے!"
ہمارے ملک کے دیگر نظاموں کی طرح یہاں بھی "جس کا جو دل چاہے، وہ کرے" والا حساب ہے۔ کوئی ریگولیٹری اتھارٹی یا کونسل فعال نہیں ہے جو ان اتالیقوں، جعلی کونسلرز اور ناتجربہ کار پریکٹیشنرز کو پکڑ سکے۔ دنیا بھر میں (جیسے امریکہ میں APA یا برطانیہ میں BPS/HCPC) سخت ترین امتحانات اور سپروائزڈ ٹریننگ کے بعد لائسنس ملتا ہے، جبکہ یہاں کونسلنگ کو ایک مذاق بنا دیا گیا ہے۔
# # # # اس کا نقصان کس کو ہو رہا ہے؟
مریضوں کو:جو پہلے ہی ذہنی اذیت کا شکار ہوتے ہیں اور ان نیم حکیموں کے ہاتھوں مزید گہرے ٹروما (Trauma) یا غلط علاج کا شکار ہو جاتے ہیں۔
پیشہ ور ماہرین کو: ان مخلص اور اعلیٰ تعلیم یافتہ (M.Phil/PhD) پروفیشنلز کو، جو سالہا سال سخت محنت، ریسرچ اور سپروائزڈ کلینیکل ٹریننگ کے بعد اس مقام پر پہنچتے ہیں، ان کی ڈگریوں اور محنت کی قدر ان ناتجربہ کار لوگوں کی وجہ سے کم ہو جاتی ہے۔
# # # # وقت کی اہم ضرورت:
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان، ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور وزارتِ صحت ہوش کے ناخن لیں۔ ہمیں فوری طور پر ایک فعال "پاکستان سائیکالوجی کونسل" (Pakistan Psychology Council) کی ضرورت ہے جو:
1. پریکٹس کے لیے کم از کم تعلیمی معیار (ایم فل/ ایم ایس کلینیکل سائیکالوجی یا پی ایم ڈی ڈی) اور کلینیکل گھنٹے لازمی قرار دے۔
2. باقاعدہ امتحانات کے بعد آفیشل لائسنس نمبر جاری کرے۔
3. بغیر لائسنس اور بغیر اسپیشلائزیشن کلینک چلانے اور ادویات تجویز کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے۔
ذہنی صحت کوئی کھیل نہیں ہے۔ جیسے آپ دل کے علاج کے لیے کسی عام بائیولوجی گریجویٹ کے پاس نہیں جاتے، ویسے ہی اپنے دماغ اور روح کا علاج کسی غیر تصدیق شدہ شخص سے مت کروائیں۔
آپ سب کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ ہم اس پر مل کر آواز اٹھائیں؟
ڈاکٹر سعدیہ اقبال کلینیکل سائیکالوجسٹ

Address

Bahawalpur
63100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Sadia Iqbal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share