Dr.Ishfaq Ilyas —Chest specialist سینہ و تبدق سپیشلسٹ “

Dr.Ishfaq Ilyas —Chest specialist  سینہ و تبدق سپیشلسٹ “ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr.Ishfaq Ilyas —Chest specialist سینہ و تبدق سپیشلسٹ “, Medical and health, Bahawalpur.

پرندے پالنے کا شوق اور ہمارے پھیپھڑے !!!کچھ لوگ پرندے پالنے کے شوقین ہوتے ہیں جن کو برڈ فینسئیر کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے...
23/05/2026

پرندے پالنے کا شوق اور ہمارے پھیپھڑے !!!

کچھ لوگ پرندے پالنے کے شوقین ہوتے ہیں جن کو برڈ فینسئیر کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے
کہ ہر شوق کی ایک قیمت ادا کرنی پڑتی ہے تو پرندے پالنے کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے۔ پرندوں کے پروں اور فضلے میں کچھ خاص زرات/جراثیم/اینٹی جن ہوتے ہیں جو کہ پھیپھڑوں کی ایک خاص بیماری کا سبب بنتے ہیں جس کو ہائیپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری شروع شروع میں اتنی ہلکی ہوسکتی ہے کہ نہ تو مریض کو بروقت پتہ چل جاتا ہے اور نہ علاج کرنے والے ڈاکٹر کو۔ مریض اکثر ہلکی کھانسی، بخار، جسم میں درد، سانس لینے میں دشواری اور تھکاوٹ کی شکایت کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے جس کو عام نزلہ زکام کے طور پر لیا جاتا ہے۔دوائیوں سے وقتی آرام آنے کی صورت میں مریض اور معالج دونوں مطمئن ہو جاتے لیکن کچھ عرصہ بعد دوبارہ یہی مسئلہ سر اٹھاتا ہے اور پھر یہ سلسلہ طول پکڑتا ہے۔ اکثر صحیح تشخیص/ڈائیگنوسس تک پہنچنے میں اتنا وقت ضائع ہوجاتا ہے کہ مرض ناقابل علاج ہوجاتا ہے اور پھیپھڑے سکڑجاتے ہیں۔ پھیپھڑوں کے سکڑنے کی وجہ سے بدن کو آکسیجن کی سپلائی متاثر ہوجاتی ہے جس کا اثر پھیپھڑوں میں موجود خون کی شریانوں پر بھی پڑ جاتا ہے۔ خون کی شریانوں میں خون کا پریشر بڑھ جاتا ہے جس کو پلمونری ہائیپر ٹینشن کہا جاتا ہے۔پلمونری ہائیپر ٹینشن کی وجہ سے دل کے دائیں جانب پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور آخر کار دل کا دائیاں طرف فیل ہو جاتا ہے۔ایسی حالت کو پھر کارپلمونیل کہا جاتا ہے

پرندوں کے علاوہ ہائیپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس کے دیگر وجوہات بھی ہیں ۔ چند قابل ذکر وجوہات / پیشہ جات مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ زمیندارہ/فارمنگ/زراعت سے وابستہ شعبہ۔
زمینداروں اور زراعت سے وابستہ دیگر افراد میں ہائیپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس کی سب سے بڑی وجہ فنگس زدہ گھاس پھوس اور بھوسہ ہے
2۔ جانوروں کے ڈاکٹرز/پیرامیڈکس اور دوسرے ورکرز
3۔ غلہ/اناج کا کاروبار کرنے والے افراد اور آٹا ملز ورکرز، بیکری بنانے والے افراد۔
4۔ کباڑ کا کام کرنے والے لوگ، کاغذ اور وال بورڈ بنانے والے کارکن
5۔ پلاسٹک کی مصنوعات بنانے والے، پنیٹرز
6۔ دھاتی آلات بنانے والے وہ افراد جو دھاتی پانی کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔
7۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں کام کرنے والے افراد۔

لٹریچر میں ہائیپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس کے تقریبا تین سو سے زیادہ وجوہات بیان کیے گئے ہیں جن میں سے چند قابل ذکر اوپر بیان کیے گئے۔

ہائپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس پھیپھڑوں کی ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسانی بدن کے اپنے ہی دفاعی نظام کی وجہ سے پھیپھڑوں کے نالیوں، ہوا کی جھلیوں(الویلائی ) اور انٹرسٹیشیم(پھیپھڑوں کا وہ حصہ جو پھیپھڑوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتا ہے ) میں انفلیمیشن ہوجاتی ہے۔ یہ انفلیمیشن جن زرات کی وجہ سے ہوتی ہے ان کو اینٹی جن کہا جاتا ہے اور ان کا سائز عام طور پر 5 مائکرو میٹر سے کم ہوتا ہے۔ یہ اینٹی جن تو تقریبا ہر جگہ موجود ہوتے ہیں لیکن ہر وقت ہر کسی کو ان سے یہ بیماری نہیں ہوجاتی۔ ۔

علامات۔

اس بیماری کو عام طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
1 ۔شدید(اکیوٹ )
2 ۔قدرے شدید(سب اکیوٹ )
3۔ دائمی(کرانک )

1۔ شدید ہائیپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس اینٹی جن کو ایکسپوز ہونے کے چند گھنٹوں کے بعد وقوع پذیر ہو جاتا ہے اور اگر مریض اینٹی جن سے دور ہوجائے تو آہستہ آہستہ بیماری کے اثرات ختم ہو جاتی ہیں حتی کہ 12 گھنٹوں کے بعد بالکل ختم ہوجاتی ہیں اور مریض ٹھیک ہوجاتا ہے۔لیکن کبھی کبھار یہ علامات کئی دنوں تک برقرار رہتی ہیں۔ اور اگر مریض دوبارہ ایسے ماحول میں چلا جائے جہاں یہ اینٹی جن موجود ہو تو دوبارہ بھی شدید ہائیپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس ہوسکتا ہے۔

شدید ہائیپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس کی صورت میں مریض کو شدید کھانسی، سانس لینے میں دشواری، تیز بخار سردی کے ساتھ، جسم میں شدید درد، سر درد، سینے میں تنگی اور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔

2/3۔ سب اکیوٹ/دائمی ہائیپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس۔ غیر محسوس طور پر/ آہستہ آہستہ وقوع پذیر ہونے والی بلغمی کھانسی، سانس کا پھول جانا اور تھکاوٹ جس میں ہفتے بلکہ کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ بھوک کا نہ لگنا اور وزن کی کمی بھی واقع ہوسکتی ہے۔۔

تشخیص اور علاج۔

ہائیپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس کی بروقت تشخیص میں ہی اس کا علاج پوشیدہ ہے۔جتنا جلدی اس بیماری کی تشخیص کی جائے اور متعلقہ اینٹی جن کو ہٹایاجائے تو بیماری نہ صرف یہ کنٹرول کی جاسکتی ہے بلکہ اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جاسکتا ہے۔لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا جائے تو بیماری کا علاج نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہوجاتا ہے خاص طور پر پھیپھڑوں کے سکڑنے کی صورت میں۔ بروقت تشخیص کے لئے مریض کی تفصیلی ہسٹری لینے کے بعد ایکسرے اور کچھ دوسرے ٹیسٹ مثلا سپائرومیٹری اور سی ٹی سکین وغیرہ کروائے جاتے ہیں

29/01/2026
انفلوئنزا اے (H3N2) کی علامات — عوامی آگاہیانفلوئنزا اے (H3N2) ایک وائرل انفیکشن ہے جو تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ اس کی عام ع...
18/12/2025

انفلوئنزا اے (H3N2) کی علامات — عوامی آگاہی

انفلوئنزا اے (H3N2) ایک وائرل انفیکشن ہے جو تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ اس کی عام علامات درج ذیل ہو سکتی ہیں:

اہم علامات:
• شدید سر درد
• تیز بخار
• کھانسی
• سانس لینے میں دشواری یا دمہ جیسی علامات
• جسم میں شدید درد
• بھوک میں کمی
• گلے میں درد جو بعض اوقات سینے تک پھیل جاتا ہے

بیماری کا دورانیہ:
• کچھ مریض 4–5 دن میں بہتر ہو جاتے ہیں
• زیادہ تر افراد کو صحت یاب ہونے میں تقریباً 15 دن لگ سکتے ہیں

علامات کی شدت مختلف ہو سکتی ہے، اس کا انحصار:
• جسم کی قوتِ مدافعت
• دمہ یا دیگر پرانی بیماریوں
• عمر
• غذائیت
• ذہنی دباؤ
• پہلے سے وائرس سے سامنا (Previous exposure)

فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں اگر:
• سانس لینے میں شدید مشکل ہو
• سانس کے ساتھ سینے میں درد ہو
• بخار 5 دن سے زیادہ رہے
• شدید پانی کی کمی ہو
• آکسیجن لیول کم ہو جائے یا مریض کو الجھن (confusion) ہو

⚠️ احتیاط اور بروقت علاج پیچیدگیوں سے بچا سکتا ہے۔

ڈاکٹر اِشفاق الیاس

‏MBBS,FCPS (pulmonology)
چیسٹ سپیشلسٹ
دمہ ،الرجی ،ٹی بی سپیسلسٹ

📌 آج کل پھیلنے والی وبا کیا ہے؟ Influenza A — ایک اہم آگاہی پوسٹآج کل پورے پاکستان میں ایک ایسی وبا پھیلی ہوئی ہے جو بال...
22/11/2025

📌 آج کل پھیلنے والی وبا کیا ہے؟ Influenza A — ایک اہم آگاہی پوسٹ
آج کل پورے پاکستان میں ایک ایسی وبا پھیلی ہوئی ہے جو بالکل ڈینگی کی طرح محسوس ہوتی ہے، مگر ڈینگی ٹیسٹ ہمیشہ نیگیٹو آتا ہے۔
اصل مسئلہ ڈینگی نہیں… بلکہ Influenza A (خاص طور پر H3N2) ہے، اور اس وقت ہر دوسری OPD میں یہی کیسز نظر آ رہے ہیں۔

شروع میں مریض کو بالکل عام نزلہ زکام ہوتا ہے، چھینکیں، گلا خراب، ہلکا بخار اور بدن ٹوٹنا۔ پھر آہستہ آہستہ پیٹھ کی ہڈیوں اور جوڑوں کا درد بڑھنے لگتا ہے، سر بھاری ہوتا جاتا ہے، چکر آتے ہیں اور متلی محسوس ہوتی ہے۔

اس کے بعد بخار یک دم تیز ہونا شروع ہوتا ہے اور بہت سے مریضوں میں 103–104 تک پہنچ جاتا ہے۔ 3–6 دن تک بخار کا نہ ٹوٹنا اب عام بات ہو چکی ہے۔ مریض جسمانی طور پر ٹوٹ جاتا ہے، بھوک ختم، منہ کا ذائقہ خراب، اور ہر وقت کمزوری اور بےچینی۔

جب بخار کا فیز گزر جاتا ہے تو آغاز ہوتا ہے دوسری مشکل کا:
ناک کا نزلہ گاڑھا ہو کر **Sinusitis** میں بدل جاتا ہے۔ بلغم بدبودار، سر بھاری، ناک بند، اور کھانسی بھی شامل ہو جاتی ہے۔ اس ساری کیفیت میں مریض کی کمزوری اتنی بڑھ جاتی ہے کہ کئی کئی دن تک اٹھنے کو دل نہیں کرتا۔

ڈینگی ٹیسٹ نیگیٹو اس لئے آتا ہے کہ یہ ڈینگی ہے ہی نہیں۔ Influenza A بخار، بون پین اور شدید کمزوری تو دیتا ہے، مگر platelets خطرناک حد تک نہیں گراتا۔ اسی لئے لوگ کنفیوز ہوتے ہیں کہ “علامات تو ڈینگی والی ہیں مگر رپورٹس کیوں نارمل؟”

اس وقت سب سے اہم چیز یہ ہے کہ مریض آرام کرے، پانی زیادہ پئے، steam لے، اور علامات کے مطابق symptomatic care کرے۔
اگر بلغم بدبو دار ہو یا سر بہت بھاری ہو تو یہ واضح سائن ہے کہ سائنوسائٹس ہو چکا ہے اور اس کا علاج ساتھ چلانا لازم ہے۔

شدید کمزوری میں multivitamins فائدہ دیتے ہیں۔
اگر سانس میں دقت، بہت زیادہ بخار، یا پانی کی کمی محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے۔

مختصر یہ کہ پاکستان میں اس وقت Influenza A کا زور ہے، اور اسی کی وجہ سے ہر طرف یہی بخار، نزلہ، کمزوری اور سائنوسائٹس والے کیسز نظر آ رہے ہیں۔

🇵🇰 بچوں کے دمے کے مریضوں کے لیے خوشخبری!🚨 ایک نئی انہیلر نے بچوں میں دمے کے دوروں کو 45٪ تک کم کر دیا — اور یہ بالکل محف...
20/11/2025

🇵🇰 بچوں کے دمے کے مریضوں کے لیے خوشخبری!

🚨 ایک نئی انہیلر نے بچوں میں دمے کے دوروں کو 45٪ تک کم کر دیا — اور یہ بالکل محفوظ بھی ہے۔

یہ 2-اِن-1 انہیلر، جس میں budesonide (ایک corticosteroid) اور formoterol (ایک تیزی سے اثر کرنے والا bronchodilator) شامل ہیں، نیوزی لینڈ میں 360 بچوں (عمر 5 سے 15 سال) پر کیے گئے بڑے مطالعے میں عام استعمال ہونے والی salbutamol انہیلر سے کہیں بہتر ثابت ہوئی۔

تحقیق کے مطابق، نئی انہیلر نے نہ صرف دمے کے دوروں میں نمایاں کمی کی بلکہ بچوں کی نشوونما، پھیپھڑوں کی کارکردگی، اور عمومی صحت پر کوئی منفی اثر نہیں ڈالا — جو طویل مدتی علاج کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔

🔬 یہ مطالعہ The Lancet میں شائع ہوا ہے اور ماہرین کے مطابق یہ بچوں کے دمے کے علاج میں عالمی سطح پر تبدیلی لا سکتا ہے۔
چونکہ دنیا بھر میں اندازاً 11 کروڑ 30 لاکھ بچے دمے کا شکار ہیں، یہ نئی انہیلر ہنگامی دوروں میں کمی اور بہتر معیارِ زندگی کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔

📘 حوالہ:
Budesonide–formoterol versus salbutamol as reliever therapy in children with mild asthma (CARE): The Lancet, 2025

07/11/2025

#الرجی #کی #کہانی

انسان زندگی کے پہلے دن سے لے کر آخری دن تک مختلف مساٸل اور بیماریوں کا سامنا کرتا رہتا ہے۔ان میں سے کچھ مساٸل ایسے ہوتے ہیں جو مناسب علاج کے بعد ٹھیک ہوجاتے ہیں جبکہ کچھ مساٸل ایسے ہوتے ہیں جو مناسب علاج کے بغیر بھی ٹھیک نہیں ہوتے,ہاں یہ ضرور ہے کہ کچھ عرصے کے لیے اس مسٸلہ سے نجات مل جاتی ہے,لیکن کچھ دنوں کے بعد پھر اسی مسٸلہ سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ایسا ہی ایک مسٸلہ الرجی یعی زود حساسیت بھی ہے۔جو ایک بار انسان کو ہوجاۓ تو یہ زندگی بھر اس کے ساتھ رہ سکتی ہے۔

الرجی کیا ہے؟اسکو سمھنے کے لیے ہمیں تھوڑا بہت امیون سسٹم کو سمجھنا ہوگا۔آٸیے امیون سسٹم کو آسان الفاظ میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تصور کیجیے کہ ایک بڑا عالیشان محل ہے جسکی پہرہ داری کے لیے مختلف مہارت رکھنے والے فوجی دستوں کا سسٹم موجود ہے۔جیسے ہی باہر سے کوٸ حملہ آور محل میں داخل ہوتا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ فوجی دستوں کا یہ سسٹم انہیں فوراً پہچان لے گا اور متحرک یعنی الرٹ ہوجاۓ گا۔اس دشمن کے حملے کو ناکام بنانے کے لیے فوجی دستوں کا یہ سسٹم ان پر اٹیک کرے اور انکو ختم کردے گا۔

جیسے محل کی حفاظت کے لیے مختلف مہارت رکھنے والے فوجی دستوں کا سسٹم موجود ہے بالکل اسی طرح ہمارا جسم بھی ایک طرح کا محل ہے اور اسکی حفاظت کے لیے بھی ہمارا جسم ایک ڈیفینس سسٹم رکھتا ہے جسے امیون سسٹم کہا جاتا ہے۔جیسے ہی باہر سے کوٸ حملہ آور(اینٹی جن)جیسے واٸرس,بیکٹریا یا پیراساٸٹ ہمارے جسم میں داخل ہوتے ہیں تو ہمارا امیون سسٹم متحرک ہوجاتا ہے اور انکو تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ہمارے امیون سسٹم کے سب سے قابل فوجی واٸٹ بلڈ سیلز ہیں۔جسطرح محل کی حفاظت کے لیے تعینات فوجی دستوں کے پاس مختلف قسم کے ہتھیار موجود ہیں جو دشمنوں کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے بالکل اسی طرح ہمارے امیون سسٹم کے فوجی دستوں(جیسے واٸٹ بلڈ سیلز) کے پاس بھی ایسے ہتھیار ہیں جن کو وہ اپنے دشمن کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے,ان ہتھیاروں کو اینٹی باڈیز(خاص قسم کی پروٹینز)کہتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ہمارے جسم میں دس ارب مختلف قسم کے اینٹی باڈیز پاۓ جاتے ہیں۔ہمارے امیون سسٹم کی خاص بات یہ ہے کہ مخصوص قسم کے حملہ آور کو ختم کرنےکے لیے مخصوص قسم کے اینٹی باڈیز موجود ہیں۔ہمارے امیون سسٹم کے ایسے اینٹی باڈیز جو ایک قسم کے بیکٹریا(اینٹی جن)کو ختم کرنے کے لیے موجود ہیں,انکو واٸرس کو ختم کرنے کے لیے استعمال نہیں کرسکتا۔آپ حملہ آوروں کو تالے اور اینٹی باڈیز کو چابی کی طرح سمجھ سکتے ہیں۔جسطرح ایک ہی چابی صرف ایک ہی مخصوص تالے کو لگ سکتی ہے بالکل اسی طرح ایک مخصوص قسم کے اینٹی باڈیز مخصوص قسم کے اینٹی جنز(جیسے واٸرس ) سے ہی جڑ سکتے ہیں اور انکے(اینٹی جنز)کو ختم کرسکتے ہیں۔

الرجی اس وقت ہوتی ہے جب ہمارا امیون سسٹم باہر سے جسم میں داخل ہونے والے ایسے مادوں کے خلاف متحرک ہوجاۓ اور ان پر اٹیک کرے جو حقیقت میں غیر نقصاندہ ہوتے ہیں۔ہمارے امیون سسٹم کا یہ حساس ردعمل الرجی کہلاتا ہے۔جن غیر نقصاندہ مادوں کو یہ دشمن اور حملہ آور(اینٹی جنز) سمجھ کر ان پر اٹیک کرتا ہے,ایسے مادوں کو الرجنز کہا جاتا ہے۔الرجنز عموماً ایک قسم کی پروٹینز ہوتی ہیں جو مختلف اشیا جیسے انڈے,دودھ,مونگ پھلی,پولن وغیرہ میں پاٸ جاتی ہیں یعنی ایسی چیز جس سے کسی شخص کو الرجی ہوسکتی ہے اس میں عموماً یہ پروٹینز موجود ہوتی ہیں(مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر الرجن پروٹین ہی ہو)۔مثلاً اگر کسی شخص کو دودھ سے الرجی ہے تو اسکا مطلب ہے کہ دودھ میں ایسی پروٹین(الرجن)موجود ہے کہ جب وہ جسم میں داخل ہوتی ہے تو ہمارا امیون سسٹم فوراً متحرک ہوجاتا ہے کیونکہ وہ اس الرجن یعنی پروٹین کو دشمن سمجھ رہا ہوتا ہے حالانکہ وہ حقیقت میں غیر نقصاندہ ہوتی ہے۔

جن لوگوں کو کسی چیز سے الرجی ہوتی ہے انکا امیون سسٹم اس چیز میں موجود الرجن کے خلاف حساس ردعمل کا اظہار کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ وہ چیز یعنی الرجن اسکا دشمن ہے۔ساٸنسدان ابھی تک مکمل طور پر یہ نہیں سمجھ پاۓ کہ کچھ لوگوں میں یہ حساس ردعمل کیوں ہوتا ہے۔دوسرے لفظوں میں محققین ابھی تک مکمل طور پر یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کچھ لوگوں کو کسی مخصوص چیز سے کیوں الرجی ہوتی ہے۔کیوں انکا امیون سسٹم ایسے مادوں کو نقصادندہ سمجھتا ہے جو کہ حقیقت میں غیر نقصاندہ ہوتے ہیں۔اب ہمارا امیون سسٹم ایسا کیوں کرتا ہے اسکی وجہ ظاہر ہے کہ ہمارے امیون سسٹم میں ایسی خرابی آجاتی ہے جسکی وجہ سے وہ کسی غیر نقصاندہ چیز کو دشمن سمجھتا ہے اور حساس ردعمل کا اظہار کرتا ہے جس کے نتیجہ میں کسی شخص کو الرجی ہوتی ہے۔

ہمارا امیون سسٹم الرجنز کو تباہ کرنے کے لیے جو اینٹی باڈیز بناتا ہے انہیں امینوگلوبلین E یا igE کہا جاتا ہے۔اگر کسی شخص کو دودھ سے الرجی ہے تو اسکا مطلب ہوگا کہ دودھ میں موجود الرجن جب جسم میں داخل ہوگا تو اسکو کو ختم کرنے کے لیے ہمارا امیون سسٹم مخصوص ہتھیار یعنی igE تیار کرے گا۔اور اگر کسی شخص کو دودھ سے الرجی نہیں ہے تو اسکا مطلب ہے کہ دودھ میں موجود الرجن کو ختم کرنے کے لیے اس شخص میں وہ مخصوص اینٹی باڈیز igE تیار نہیں کرے گا۔چونکہ اس شخص کے امیون سسٹم کے پاس igE نہیں ہیں لہذا اسکو دودھ سے الرجی نہیں ہوگی کیونکہ اس شخص کا امیون سسٹم دودھ میں موجود اس مخصوص پروٹین کو الرجن یعنی حملہ آور نہیں سمجھتا ہے۔

اب ہم الرجی کے تھوڑے بہت میکانزم کو بھی سمجھ لیتے ہیں۔فرض کریں کہ آپ کو انڈے سے الرجی ہے تو اسکا مطب ہے کہ انڈے میں موجود ایسی پروٹین ہے جس کو ہمارا امیون سسٹم دشمن سمجھتا ہے حالانکہ وہ غیر نقصاندہ ہے۔اب جسے ہی آپ انڈا کھاٸیں گے تو اس انڈے میں موجود الرجن ہمارے جسم میں داخل ہوگا تو ہمارا امیون سسٹم متحرک ہوجاۓ گا۔ہمارا امیون سسٹم کے ایک قسم کے سفید خلیات(لمفوساٸٹس) یعنی TH2 اس الرجن کے اثر کو زاٸل کرنے یا اس کو تباہ کرنے کے لیے فوراً igE اینٹی باڈیز بنانا شروع کردیں۔یہ اینٹی باڈیز امیون سسٹم کے ماسٹ سیلز(الرجی سیلز) کی سطح(ریسپٹرز) سے جڑ جاٸیں گے۔اب جیسے ہی وہ مخصوص الرجن ماسٹ سیلز کے رابطے میں آۓ گا تو وہ اینٹی جن(الرجن) ماسٹ سیلز کی سطح پر موجود igE اینٹی باڈیز کے ساتھ جڑ جاٸیں گے۔جب ایسا ہوگا تو ماسٹ سیلز متحرک ہوجاٸیں گے اور طاقتور کیمکلز ریلیز کریں گے۔ان میں سب سے اہم کیمکل ہسٹامین ہے۔ہمارے جسم پر جو بھی الرجی کی علامات ظاہر ہوتی ہیں وہ عموماً اسی کیمکل کے اخراج کا نتیجہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس کیمکل کے اخراج کو کم کرنے کے لیے اینٹی ہسٹامین ادویات تجویز کی جاتی ہیں جو کہ الرجی کی سوزش کو کم کرنے میں معاون ہیں۔

مختلف لوگوں کو مختلف چیزوں(الرجنز) کی وجہ سے الرجی ہوسکتی ہے۔مختلف اشیا کی وجہ سے ہونے والی الرجی کی علامات مختلف ہوسکتی ہیں یہ اس پر منحصر ہے کہ کسی شخص کو کس قسم کے الرجن کا سامنا ہوا ہے اور کتنی مقدار میں ہوا ہے۔ویسے تو کسی بھی شخص کو کسی بھی چیز کی وجہ سے الرجی ہوسکتی ہے تاہم جن اشیا کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کو الرجی ہونے کا امکان ہوتا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

🌟کھانے کی اشیا کی وجہ سے الرجی

نوے فیصد لوگوں کو کھانے کی جن اشیا کی وجہ سے الرجی ہوسکتی ہے ان میں دودھ,مونگ پھلی,انڈا,گندم,شیل مچھلی,سویا,گری دار میوے وغیرہ شامل ہیں۔

🌟پولن کی وجہ سے الرجی

انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی پھول کا ریزہ یا زرِگل بھی لیا جاتا ہے جو چھوٹے چھوٹے ذرات ہوتے ہیں جو پھولوں کے اندر پائے جاتے ہیں۔یہ ذرات پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔یہ پولن کے ذرات نر پودے سے مادہ پودوں تک اڑنے والے کیڑوں اور ہوا کے ذریعے پہنچتے ہیں
لیکن بعض پودوں کے ذرات اتنے چھوٹے ہوتے ہیں جو ہوا سے اڑ کر انسانی ناک کے ذریعے سانس لیتے ہوئے داخل ہو جاتے ہیں اور حساس لوگوں میں الرجی کا سبب بن جاتے ہیں۔

🌟پالتو جانوروں کی وجہ سے الرجی

بالتوں جانوروں جیسے کتا اور بلی کی کھال,پیشاب,تھوک میں ایسے پروٹینز(الرجنز) ہوتے ہیں جو کچھ لوگوں میں الرجی کا سبب بنتے ہیں۔

🌟کاکروچ کی وجہ سے الرجی

کاکروچ سرخی ماٸل بھورے رنگ کے کیڑے ہوتے ہیں۔ان کے پاخانے,تھوک,انڈے اور مردہ جسم کے اعضا میں ایسے پروٹینز ہوتے ہیں جو مخصوص افراد میں الرجی کا سبب بن سکتے ہیں۔

🌟لیٹکس کی وجہ سے الرجی

لیٹکس دراصل ایک سیال(Liquid) ہے جو ربڑ کے درخت سے حاصل ہوتا ہے اور اسکو مختلف قسم کی ربڑ کی مصنوعات جیسے دستانے اور غبارے وغیرہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اس لیٹکس میں ایسی پروٹین(الرجن) ہوتی ہے جو کچھ لوگوں میں الرجی کا سبب بن سکتی ہے۔

🌟حشرات الاارض کے ڈنک مارنے کی وجہ سے الرجی

کچھ حشرات جیسے شہد کی مکھیوں کے ڈنک مارنے کی وجہ سے کچھ لوگوں کو الرجی ہوسکتی ہے۔

🌟ادویات کی وجہ سے الرجی

کچھ ادویات جیسے اینٹی باٸیوٹیکس(پنسلین),انسولین,نان سٹیرواٸیڈیل اینٹی انفلامینٹری کی وجہ سے الرجی ہوسکتی ہے۔

🌟دھاتوں کی وجہ سے الرجی

کچھ دھاتیں ایسی ہیں جن کے رابطے میں آنے سے کچھ لوگوں کو الرجی کی شکایت ہوسکتی ہے۔ان دھاتوں میں کوبالٹ,کرومیم,زنک اور نکل وغیرہ شامل ہیں۔

الرجی مختلف علامات کا سبب بن سکتی ہے جیسے ناک بہنا،آنکھوں سے پانی آنا یا آنکھوں میں سرخی,چھینک آنا، جسم پر خارش ہونا(جس کے نتیجہ میں جسم پر سرخ دھبے نمودار ہوسکتے ہیں)،جسم کے کسی حصے میں سوجن(بالخصوص منہ,گلا,ہونٹ)،سانس لینے میں دشواری,پیٹ میں درد اور سر درد وغیرہ شامل ہیں۔الرجی معمولی سے شدید تک ہو سکتی ہے۔اینافاٸلکسیس ایک شدید الرجک درعمل ہے یا یوں سمجھیے یہ ایک شدید قسم کی الرجی ہے۔اسکی علامات میں سانس لینے میں دشواری اور بلڈ پریشر میں اچانک یا بہت کمی ہے۔یہ ایک ہنگامی اور جان لیوہ حالت ہے۔اگر متاثرہ شخص کا بروقت علاج نہ کیا جاۓ تو مریض کی موت واقع ہوسکتی ہے۔اینافاٸلکسس کے مریض کو ڈاکٹر عموماً ایپی نیفرین دوا دیتا ہے جو بلڈ پریشر کو معمول پر لانے میں کارآمد ہے۔اینافاٸیلکسس اکثر کھانے,ادویات اور کیڑوں کے زہروں جیسے الرجنز کی وجہ سے ہوتا ہے۔

الرجنز چار اہم راستوں کے ذریعے جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔

1)نظام انہظام

منہ کے ذریعے غذا اور ادویات کی شکل میں جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔

2)نظام تنفس

یعنی جس میں ناک اور پھیپھڑے شامل ہیں کے ذریعے پھپھوند,پولن,گردوغبار,جانوروں کے بالوں کی خشکی کی شکل میں جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔

3)جلد

جلد کے ذریعے رال گوند(Latex),دھاتوں کو چھونے سے(ان میں موجود الرجنز) ہمارے جسم میں داخل ہوجاتے ہیں۔

4)نظام دوران خون

خون میں یہ الرجنز انجیکشن کے ذریعے ادویات اور زہر(جیسے شہد کی مکھی ڈنک مارتی ہے) کی شکل میں جسم میں داخل ہوتے ہیں۔

یہ دیکھا گیا ہے کہ بڑوں کی نسبت بچوں میں الرجی ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ویسے تو ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بعض لوگوں کو کسی مخصوص چیز سے الرجی کیوں ہوتی ہے اور بعض لوگوں کو اس مخصوص چیز سے الرجی کیوں نہیں ہوتی۔البتہ ماحولیاتی اور موروثی ایسے عوامل ہیں جو الرجی کے رجحانات کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یہ دیکھا گیا ہے کہ جن لوگوں کے والدین کو الرجی ہو تو ان میں الرجی ہونے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔اگر والدین میں سے کسی ایک کو الرجی ہو تو بچے کو الرجی ہونے کا امکان 30 سے 50 فیصد ہوتا ہے۔اگر کسی بچے کے دونوں والدین کو الرجی ہو تو اس بچے کو الرجی ہونے کا امکان 70 فیصد تک ہوتا ہے۔

ماحولیاتی عوامل جو الرجی کے رجحان کو بڑھانے میں معاون ہیں ان میں زرگل کے موسم میں کسی بچے کا پیدا ہونا,ماں کا دودھ نہ پینا,تمباکو نوشی کے گھر میں پرورش پانا,گھر میں پالتو جانور کا ہونا شامل ہیں۔

یاد رہے کہ الرجی کا کوٸ مستقل علاج نہیں ہے۔الرجی کا موٸثر علاج یہی ہے کہ جس چیز کی وجہ سے کسی فرد کو الرجی ہوتی ہے اس سے حتی الامکان بچا جاۓ۔مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو انڈے سے الرجی ہے تو الرجی سے بچنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ انڈے سے مکمل طور پر پرہیز کیا جاۓ۔جب تک آپ انڈا استعمال کریں گے آپ کو اس وقت تک الرجی کی شکایت ہوتی رہے گی۔ایسی کوٸ دوا نہیں ہے کہ جو امیون سسٹم کو بتاۓ کہ بھیا یہ جو انڈا ہے اس میں موجود پروٹین(یعنی جس کی وجہ سے الرجی ہوتی ہے جسے الرجن کہتے ہیں) تمہاری دشمن نہیں ہے بلکہ یہ غیر نقصاندہ ہے۔نہ ہی ہم امیون سسٹم کو جسم سے نکال سکتے ہیں کیونکہ اگر اسکو نکالا تو پھر ہماری موت پکی ہے۔الرجی کی ادویات صرف الرجی کی سوزش کو کم کرسکتی ہیں۔الرجی ادویات عموماً اس وقت تجویز کی جاتی ہیں جب کسی الرجن سے بچنا نامکمن ہو۔

اگر کسی فرد کو لگتا ہے کہ اسکو الرجی ہے تو اسکا بہتر طریقہ یہی ہے کہ متاثرہ شخص الرجسٹ سے رابطہ کرے۔الرجسٹ الرجی کی تشخیص کے لیے مختلف ٹیسٹ استعمال کرتا ہے۔ان ٹیسٹوں میں سب سے زیادہ اہم اور سب سے زیادہ عام استعمال ہونے والا ٹیسٹ جلد کا پرک ٹیسٹ ہے جسے انگلش میں Skin Prick Test کہا جاتا ہے۔

الرجسٹ اس ٹیسٹ کے ذریعے ممکنہ الرجن کی شناخت کرتا ہے جس کی وجہ سے کسی شخص کو الرجی ہوسکتی ہے۔اس ٹیسٹ میں الرجسٹ بازو یا کمر کی جلد پر ممکنہ الرجنز(یعنی ایسے الرجنز جن کی وجہ سے اسکو الرجی ہوسکتی ہے) ماٸع شکل میں سوٸ کے ذریعے چھبوتا(Prick) ہے تاکہ وہ ماٸع جلد کے ذریعے جسم میں داخل ہوسکے۔دس سے پندرہ منٹ کے بعد ٹیسٹ کے مقام پر سرخی پیدا ہوتی ہے اور ابھرے ہوۓ گول دھبے بن جاتے ہیں جن کو وہیل(Wheel) کہا جاتا ہے۔یہ ٹیسٹ ہوا سے ہونے والی الرجی,کھانے کی وجہ سے ہونے والی الرجی اور پنسلین کی وجہ سے ہونے والے الرجنز کی تشخیص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر اِشفاق الیاس

‏MBBS,FCPS (pulmonology)
چیسٹ سپیشلسٹ
دمہ ،الرجی ،ٹی بی سپیسلسٹ

 #نمونیہ|   ■نمونیہ پھیپھڑوں کی سوزش کو کہا جاتا ہے۔ یہ سوزش خاص طور پر پھیپھڑوں میں موجود ہوا کی تھیلیاں، جنہیں "Alveol...
07/11/2025

#نمونیہ|

■نمونیہ پھیپھڑوں کی سوزش کو کہا جاتا ہے۔
یہ سوزش خاص طور پر پھیپھڑوں میں موجود ہوا کی تھیلیاں، جنہیں "Alveoli" کہا جاتا ہے، کو متاثر کرتی ہے۔
یہ ایک متعددی مرض ہے۔ اس مرض میں کبھی صرف ایک پھیپھڑا متاثر ہوتا ہے اور کبھی دونوں۔
سوزش اکثر پھیپھڑوں کے صرف نچلے حصے میں ہوتی ہے، لیکن کبھی کبھار سارا پھیپھڑا بھی سوزش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔


نمونیہ کے تین درجے ہوتے ہیں

■اول درجہ;
میں پھیپھڑے سوزش کا شکار ہو کر جلد شفاء پا جاتے ہیں، اس کو نمونیہ کی عام حالت کہا جاتا ہے۔
دوم میں;
اگر جلدی شفاء نہ ہو تو سوزشی مادہ ایلو یولائی میں جمع ہو کر پھیپھڑے کی ساخت کو متاثر کرتا ہے، پھیپھڑوں کی ساخت جگر کی مانند ہو جاتی ہے اور ہوا کا گزر پھیپھڑوں میں نہیں ہوپاتا،اس درجے کو Hepatization کہتے ہیں۔
اگر اس درجے میں مرض کو دور کر دیا جائے تو سوزش دور ہو کر پھیپھڑے اپنی اصلی حالت میں آجاتے ہیں۔

■ 🩺

»سانس کی رفتار کا تیز ہونا،
»سانس لینے میں دشواری ہونا،
»سینے میں درد (یہ درد عموماً پسلیوں اور بغل کے پاس پایا جاتا ہے)،
»بلغمی کھانسی کا
»دل کی رفتار کا تیز ہونا

اس کے علاوہ

»تیز بخار کا ہونا،
»سردی لگنا،
»بھوک کی کمی یا ختم ہونا،
»جلد کی رنگت کا نیلا پڑ جانا،
»بلڈ پریشر کا کم ہونا،
»متلی و قے آنا
» پورے جسم کا درد ہونا شامل ہے۔

■ 🦠🦠

■بیکٹیریا، وائرسز اور دیگر خوردبینی اجسام نمونیہ کا سبب بنتے ہیں۔
■ اس کے علاوہ سخت محنت اور تھکان کے ساتھ سردی شامل ہو جائے تو یہ نمونیہ کا سبب بن جاتی ہے۔ جب سردی دیر تک اپنا حملہ کرتی رہے اور قوت مدافعت کمزور کر دے تو یہ مرض پیدا ہو جاتا ہے
■ بھیگے ہوئے کپڑے دیر تک پہنے رکھنا یا نمدار زمین پر عرصہ تک بیٹھے رہنا یا سرد ہوا میں گھنٹوں کھڑے رہنا یا چلنا پھرنا یہ سب بھی نمونیہ کے اسباب ہیں۔ کیونکہ سرد ہوا جب تھکے ماندے جسم پر حملہ کرتی ہے تو پھیپھڑوں میں ورم پیدا کر دیتی ہے۔
■ بعض دوسرے امراض بھی نمونیہ کا سبب بنتے ہیں جیسے خسرہ، چیچک، انفلوئزا، امراض قلب سوزش گردہ وغیرہ۔



■بہت سے دوسرے عام لوگوں کی نسبت جو لوگ جلد نمونیہ کا شکار ہو جاتے ہیں ان میں یہ لوگ شامل ہیں
■ جو سگریٹ و شراب نوش ہوتے ہیں
■ایک سال سے کم اور 65 سال سے بڑی عمرکے لوگ
■کمزور یا خراب مدافعتی نظام کے حامل افراد۔
#علاج
بیکٹیریل نمونیہ کی صورت میں 10_14(یا اس سے بھی ذیادہ عرصہ) دن اینٹیبایوٹک کا علاج ضروری ھے ،جو یا گھر میں دینا ھوتا ہے یا مریض کو داخل ہونا پڑتا ہے ۔
اسکا فیصلہ ڈاکٹر کرتا ہے۔
لہذا ڈاکٹر کا مشورہ ضروری ہے
ڈاکٹر اِشفاق چیسٹ سپیشلسٹ

محترم مریضوں کے لیے اہم آگاہیپروٹون پمپ ان ہیبیٹرز (PPIs) کا طویل مدتی استعمال اور اس کے نقصاناتپروٹون پمپ اِن ہیبیٹرز (...
19/10/2025

محترم مریضوں کے لیے اہم آگاہی
پروٹون پمپ ان ہیبیٹرز (PPIs) کا طویل مدتی استعمال اور اس کے نقصانات
پروٹون پمپ اِن ہیبیٹرز (Proton Pump Inhibitors - PPIs)، جنہیں عام طور پر تیزابیت، سینے کی جلن، اور معدے کے السر کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، بہت مؤثر ادویات ہیں۔ ان میں Omeprazole، Esomeprazole، Pantoprazole اور Lansoprazole جیسی ادویات شامل ہیں۔ تاہم، انہیں لمبے عرصے تک استعمال کرنے کے کچھ ایسے ممکنہ خطرات اور جسمانی اثرات ہیں جن کا جاننا ضروری ہے۔
جسم پر طویل مدتی استعمال کے ممکنہ اثرات:
چونکہ PPIs معدے میں تیزاب (Stomach Acid) کی پیداوار کو بہت زیادہ کم کر دیتے ہیں، جو کہ خوراک سے اہم غذائی اجزاء کو جذب کرنے کے لیے ضروری ہے، اس لیے طویل عرصے تک ان کا استعمال جسم میں کچھ ضروری غذائی اجزاء کی کمی کا سبب بن سکتا ہے:

1. وٹامن B12 کی کمی:
• وجہ: وٹامن B12 کے ہضم ہونے اور جذب ہونے کے لیے معدے کے تیزاب کی ضرورت ہوتی ہے۔ تیزابیت کم ہونے سے اس کا جذب متاثر ہوتا ہے۔
• اثرات: وٹامن B12 کی کمی سے خون کی کمی (Megaloblastic Anemia)، کمزوری، تھکاوٹ، اور اعصابی مسائل (جیسے ہاتھوں پیروں میں سنسناہٹ یا بے حسی) ہو سکتے ہیں۔
• مشورہ: اگر آپ تین سال سے زیادہ عرصے سے PPIs استعمال کر رہے ہیں تو اپنے ڈاکٹر سے وٹامن B12 کی سطح کی جانچ کرائیں اور ضرورت پڑنے پر سپلیمنٹس لیں۔

2. میگنیشیم کی کمی (Hypomagnesemia):
• وجہ: طویل عرصے تک PPIs کے استعمال سے میگنیشیم کا جذب کم ہو سکتا ہے۔
• اثرات: میگنیشیم کی کمی سے پٹھوں میں کھنچاؤ، کمزوری، دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی، اور جھٹکے لگ سکتے ہیں۔ شدید کمی کی صورت میں ڈاکٹر ہنگامی صورتحال کے لیے الرٹ جاری کر سکتے ہیں۔
• مشورہ: ڈاکٹر کی ہدایت پر میگنیشیم کی سطح کی وقتاً فوقتاً جانچ کرانا ضروری ہے۔

3. کیلشیم کی کمی اور ہڈیوں پر اثر:
• وجہ: اگرچہ اس بارے میں شواہد ملے جلے ہیں، لیکن کچھ مطالعات کے مطابق PPIs کیلشیم کے جذب کو متاثر کر سکتے ہیں۔
• اثرات: کیلشیم کی کمی کے نتیجے میں ہڈیوں کی کمزوری (Osteoporosis) اور ہڈیوں کے ٹوٹنے (Fractures) کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر کولہے، کلائی یا ریڑھ کی ہڈی کے فریکچر کا۔
• مشورہ: ہڈیوں کی صحت کے لیے وٹامن ڈی اور کیلشیم سپلیمنٹس کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے بات کریں۔

4. آئرن (فولاد) کی کمی:
• وجہ: آئرن کو مؤثر طریقے سے جذب کرنے کے لیے بھی معدے کے تیزاب کی ضرورت ہوتی ہے۔ تیزابیت کم ہونے سے آئرن کا جذب متاثر ہوتا ہے۔
• اثرات: آئرن کی کمی سے خون کی کمی (Iron Deficiency Anemia)، تھکاوٹ، اور کمزوری ہو سکتی ہے۔

5. دیگر ممکنہ خطرات:
• گردے کے مسائل: طویل مدتی استعمال گردے کے شدید یا دائمی مسائل (Acute or Chronic Kidney Disease) کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
• انفیکشن کا خطرہ: معدے کا تیزاب نقصان دہ بیکٹیریا کو مارنے میں مدد کرتا ہے۔ تیزاب کم ہونے سے آنتوں کے انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر C. difficile نامی بیکٹیریا کا انفیکشن، جو شدید دست (اسہال) کا سبب بنتا ہے۔
• دوبارہ تیزابیت (Rebound Acid
Hypersecretion): ایک لمبے عرصے تک استعمال کے بعد اگر دوا اچانک بند کر دی جائے تو تیزاب کی پیداوار پہلے سے بھی زیادہ بڑھ سکتی ہے، جس سے علامات مزید خراب ہو جاتی ہیں۔

آپ کے لیے مشورہ:
• صرف ضرورت کے مطابق استعمال کریں: PPIs کو صرف اسی وقت اور اتنے ہی عرصے کے لیے استعمال کریں جتنے عرصے کے لیے آپ کے ڈاکٹر نے تجویز کیا ہے۔
• ڈاکٹر سے مشورہ کریں: اگر آپ چھ ماہ سے زیادہ عرصے سے PPIs استعمال کر رہے ہیں تو ان ادویات کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے تفصیلی بات کریں۔
• غذائی اجزاء کی نگرانی: اپنے ڈاکٹر کی ہدایت پر وٹامن B12، میگنیشیم اور آئرن کی سطح کی جانچ کراتے رہیں اور ضرورت پڑنے پر سپلیمنٹس استعمال کریں۔
• طرز زندگی میں تبدیلی: تیزابیت کی علامات کو کنٹرول کرنے کے لیے غذا اور طرز زندگی میں تبدیلیاں لانا بھی بہت ضروری ہے، جیسے کہ وزن کم کرنا، مرغن اور تیزابی غذاؤں سے پرہیز، اور کھانے کے فوراً بعد لیٹنے سے گریز کرنا۔

یاد رکھیں، یہ دوا آپ کے ڈاکٹر کی تجویز پر ہی استعمال کی جانی چاہیے اور اس کے استعمال میں کسی بھی تبدیلی کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔

Address

Bahawalpur
63100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Ishfaq Ilyas —Chest specialist سینہ و تبدق سپیشلسٹ “ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share