Hakeem Hafiz muhammad Tariq awan

Hakeem Hafiz muhammad Tariq awan 41476tariq

31/07/2026
17/06/2026

# چین نے 12 ہزار پرانے ڈگری پروگرام ختم کر دیے: AI کے دور میں تعلیم کا نیا رخ

چین کی یونیورسٹیاں تیزی سے اپنی تعلیمی پالیسی تبدیل کر رہی ہیں۔ ایک بڑی تعلیمی تبدیلی کے تحت چین نے ہزاروں ایسے ڈگری پروگرامز ختم یا معطل کر دیے ہیں جنہیں موجودہ دور کے مطابق کم اہم، پرانا یا مارکیٹ کی ضرورت سے دور سمجھا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم کو مستقبل کی صنعتوں، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور روزگار کی نئی ضروریات کے ساتھ جوڑا جائے۔

رپورٹ کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران چین کی اعلیٰ تعلیمی اداروں نے 12,200 undergraduate degree programmes ختم یا معطل کیے، جبکہ اسی عرصے میں 10,200 نئے degree programmes شروع کیے گئے۔ اس کا مطلب ہے کہ چین کے 30 فیصد سے زیادہ یونیورسٹی پروگرامز میں کسی نہ کسی سطح پر تبدیلی کی گئی۔ یہ صرف نصاب کی تبدیلی نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کی سمت بدلنے کی کوشش ہے۔

چین میں سب سے زیادہ کٹوتی arts، humanities، foreign languages اور management جیسے شعبوں میں دیکھی گئی ہے۔ ان شعبوں کو چین میں اس وجہ سے دباؤ کا سامنا ہے کہ مارکیٹ میں ان کی طلب کم ہو رہی ہے، graduates کی تعداد بڑھ رہی ہے، اور روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ چین میں نوجوانوں کی بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، اس لیے حکومت اور یونیورسٹیاں ایسے پروگرامز کو ترجیح دے رہی ہیں جو براہِ راست مستقبل کی معیشت اور روزگار سے جڑے ہوں۔

دوسری طرف چین نئی ٹیکنالوجی پر مبنی ڈگریاں متعارف کروا رہا ہے۔ ان میں AI، robotics، embodied intelligence، advanced manufacturing، digital technology اور دیگر future industries سے متعلق پروگرامز شامل ہیں۔ embodied intelligence جیسے شعبے خاص طور پر اہم سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ یہ artificial intelligence کو physical machines، robots اور real-world applications کے ساتھ جوڑتے ہیں۔

یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ دنیا بھر میں تعلیم کا روایتی ماڈل دباؤ میں آ چکا ہے۔ اب صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں رہا۔ مارکیٹ ایسے نوجوانوں کو ترجیح دے رہی ہے جو technology، problem solving، creativity، AI tools، data understanding اور practical skills رکھتے ہوں۔ وہ دور کمزور پڑ رہا ہے جس میں صرف نامور یونیورسٹی کی ڈگری کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔

چین کا یہ فیصلہ باقی دنیا کے لیے بھی ایک بڑا پیغام ہے۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک کے لیے، جہاں آج بھی بہت سے طلبہ صرف ڈگری کے نام پر سالوں لگا دیتے ہیں، مگر عملی مہارت، AI literacy، communication skills اور digital skills پر توجہ نہیں دیتے۔ آنے والے وقت میں وہی طالب علم کامیاب ہوگا جو اپنی ڈگری کے ساتھ ساتھ جدید مہارتیں بھی سیکھے گا۔

اس خبر کا اصل سبق یہ ہے کہ AI صرف نوکریوں کو نہیں بدل رہا، بلکہ تعلیم کے پورے نظام کو بھی بدل رہا ہے۔ یونیورسٹیوں کو اب یہ سوچنا ہوگا کہ وہ طلبہ کو صرف معلومات دے رہی ہیں یا انہیں مستقبل کے لیے تیار بھی کر رہی ہیں۔ جو تعلیمی ادارے وقت کے ساتھ خود کو تبدیل نہیں کریں گے، وہ خود بھی obsolete ہو سکتے ہیں۔

آنے والا دور ان لوگوں کا ہوگا جو AI سے ڈرنے کے بجائے اسے سمجھیں گے، استعمال کریں گے اور اپنی creativity، productivity اور professional skills کو کئی گنا بڑھائیں گے۔ چین نے اپنے تعلیمی نظام میں جو تبدیلی شروع کی ہے، وہ ایک واضح اشارہ ہے کہ مستقبل کی تعلیم کتابوں سے آگے نکل کر technology، innovation اور real-world skills کی طرف جا رہی ہے۔

# اصل سوال

کیا ہمارے تعلیمی ادارے بھی طلبہ کو AI کے دور کے لیے تیار کر رہے ہیں، یا ہم ابھی بھی صرف ڈگریوں کی تعداد بڑھانے میں مصروف ہیں؟
prompt engnieering and ai tools

Address

No 1
Behal
MUHAMMADTARIQ

Telephone

+923454041476

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakeem Hafiz muhammad Tariq awan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hakeem Hafiz muhammad Tariq awan:

Shortcuts

Share