25/01/2026
خالص دودھ
تحریر: محمد افضل شاغف
اگر یہ کہا جائے تو ہر گز مبالغہ نہ ہو گا کہ انسان کی قسمت کا خالص دودھ وہی تھا جو اس نے اس زمین پر آنکھ کھولنے اور اپنی سزا کے آغاز کے پہلے دو سال تک پی لیا ۔ یا پھر اگر کسی کو آج تک خالص دودھ نصیب ہوا ہے تو وہ صرف اور صرف گائے، بھینس، بکریوں کی اولادیں ہو سکتی ہیں، ورنہ فی زمانہ خالص دودھ کا فقط تصور ہی کیا جا سکتا ہے ۔ میرے ملک کی عوام ملاوٹ زدہ دودھ پی پی کر اس قدر نا خالص ذہنیت کی حامل ہو چکی ہے کہ جب تک ہر چیز میں دو نمبری نہ کر لے اسے کھانا ہضم نہیں ہوتا ۔ کہتے ہیں کہ ہر انسان کا ایک شیطان ہوتا ہے اور جس دن مسلمان کے گھر میں بچہ جنم لیتا ہے اس دن شیطان کے گھر میں بھی ایک بچہ جنم لیتا ہے جو تمام عمر اسے گناہ پر آمادہ کرنے کی سعی کر تا رہتا ہے۔ بہت کم لوگ اپنی مضبوط قوت ارادی اور طاقت ایمانی کی بدولت شیطان کے چکر سے خود کو بچا کر زندگی گزارنے میں کامیاب ہوتے ہیں جب کہ بقیہ سب شیطان کے دوست بن جاتے ہیں۔ چاچا سردار نے چوں کہ اپنے نوجوانی کے زمانے میں تمام عمر خالص دودھ پیا، چائے بھی خالص دودھ کی اور دہی بھی خالص دودھ کا ، اس لیے وہ یہ حقیقت تسلیم کرنے سے انکاری ہوتے ہیں کہ مصنوعی طور پر بھی دودھ تیار کیا جا سکتا ہے ۔ ان کے نزدیک دودھ میں ملاوٹ صرف اور صرف پانی ڈالنے سے ہی ہو سکتی ہے ۔ ایک وقت تھا کہ دودھ میں پانی ملانے والے کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا جب کہ آج کے دور میں عوام دودھ میں پانی ملانے والے سے بخوشی دودھ خرید کر پی لیتی ہے جب کہ زیادہ خطرناک مصنوعی طور پر تیار کیا ہوا دودھ ہے ۔ دوسری جانب پاکستانی عوام کو بھی پانی ملا دودھ ہی اچھی طرح ہضم ہوتا ہے جب کہ خالص دودھ ان کے معدے پر گراں گزرتا ہے۔ ایک شخص نے عرصہ تک کراچی میں دودھ دہی کا کاروبار کیا۔ وہ روزانہ دودھ میں خوب پانی ملاتا اور عوام خوش ہو کر نہ صرف ایسے دودھ کو پیتی بلکہ اس دکان دأر کے دودھ کی تعریفیں بھی کی جاتی تھیں۔ ایک دفعہ اسے کسی کام کے سلسلہ میں اپنے گھر پنجاب آنا پڑا اور دکان کے لیے اس نے اپنے چھوٹے بھائی کو کراچی بلوالیا ۔ اب چھوٹا بھائی گا بکوں کو خالص دودھ پلانا شروع ہو گیا۔ دو دن بعد گاہکوں کی طرف سے شکایات کا انبار لگا دیا گیا کہ انہیں نا خالص اور مضر صحت دودھ پلا دیا گیا ہے جس سے انھیں پیٹ کی بیماریوں نے گھیر لیا ہے۔ وہ لڑکا بڑا حیران ہوا اور اس نے ہزار طریق سے گاہکوں کو سچ سمجھانے کی کوشش کی کہ اس نے خوف خدا کے جذبہ کے تحت انہیں بالکل خالص دودھ ہی فروخت کیا ہے لیکن کوئی بھی اس کی بات ماننے کو تیار نہ تھا۔ آخر کار اس نے پنجاب میں اپنے بھائی سے فون پر رابطہ کر کے اسے ساری کہانی بتائی۔ بھائی نے کہا ارے پاگل ! تجھے کس نے کہا تھا اس عوام کو خالص دودھ پلا۔ چل شاباش کل سے آدھا دودھ اور آدھا پانی ملا کر بیچ۔ چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی کی نصیحت پر عمل کیا تو سب گاہک اس کے دودھ کی تعریف کرنے لگے اور دوبارہ کبھی کسی کا پیٹ خراب نہ ہوا۔ میں چاچا سر دار کو بتارہا تھا کہ ہمارے شہر کے ایک کریانہ سٹور سے ایک آدمی نے چائنہ برانڈ کا ایک کیمیکل کا ڈبہ خریدا اور ساتھ اس نے سرف پوڈر کا بھی ایک پیکٹ لیا۔ دکان دار میر ا دوست تھا، اس نے میرے کان میں سر گوشی کی کہ ابھی دیکھنا یہ آدمی وہ سامنے سڑک پر کھڑی دودھ والی گاڑی میں کیمیکل گاڈبہ ڈالے گا اور ساتھ ہی سرف کا پیکٹ بھی۔ میں یہ سن کر بہت متجسس ہوا اور بغیر کوئی سوال کیے خاموشی سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سڑک کنارے ذرا فاصلے پر کھڑی دودھ والی گاڑی کی جانب دیکھنے لگا۔ اس شخص نے واقعی ایسا کیا۔ اس کے ساتھ ہی ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کر کے کھڑی گاڑی کو اس انداز میں ہلایا جیسے ماں اپنے نومولود بچے کو بانہوں میں بھر کر جھولا جھلبٹی ہے۔ چند منٹوں بعد گاڑی لاہور شہر کی جانب روانہ ہو گئی۔ میرے استفسار پر دکان دار دوست نے بتایا کہ گرمی کی وجہ سے ان کی تمام گاڑی کا دودھ خراب ہو کر پھٹی بن چکا ہے ۔ ڈالے گئے کیمیکل کا کمال یہ ہے کہ وہ دودھ کی پھٹی کو تحلیل کر کے پھر سے دودھ کی شکل میں منتقل کر دیتا ہے جب کہ سرف پوڈرجھاگ بنانے کا کام کرے گا۔ اس طرح جب یہ دودھ بر تن میں نکالا جائے گا تو خوب جھاگ دار خالص دودھ بن کر نکلے گا۔ یہ واقعہ دیکھ کر میں تو ششدر رہ گیا اور سوچنے لگا کہ آخر یہ معاشرے کے لیے ناسور قسم کے لوگ کس طرح اپنی مالی ہوس کو مٹانے کی خاطر انسانی جانوں کے ساتھ ہولی کھیلتے ہیں۔ ایسے ضرر رساں کیمیکل اور زہریلے مرکبات انسانی صحت کے ساتھ کتنا خطر ناک کھلواڑ کرتے ہوں گے کہ انسان کو بیماریوں سے جان چھڑوانا مشکل ہو جاتی ہو گی۔ گویا کہ انسان جیب سے روپے ادا کر کے اپنے لیے موت کا سامان خریدتا رہتا ہے۔ چا چا سردار نے جب یہ باتیں سنیں تو کہنے لگے کہ ہمارے محلے کے فلاں حاجی صاحب نے بھینسیں پال رکھی ہیں اور محلے دار اپنے برتن لے کر علی الصبح ہی ان کی حویلی مویشیاں کے باہر بیٹھے نظر آتے ہیں۔ یقیناحاجی صاحب خالص دودھ ہی فروخت کرتے ہیں۔ ہم نے روزانہ پانچ وقت کے پکے نمازی حاجی صاحب سے دودھ خریدنا شروع کر دیا۔ دودھ واقعی بہت خالص تھا اور بالائی بھی خوب آتی تھی۔ چاچاجی فرمانے لگے: کاکا! پانچوں انگلیاں ایک جیسی نہیں ہو تیں ۔ اللہ کی زمین پر آج بھی بہت حاجی صاحب جیسے اچھے اور خداترس لوگ موجود ہیں جو دھن دولت کے لالچ سے بالا تر ہو کر خالص دودھ فروخت کر رہے ہیں۔ گویا کہ حاجی صاحب کی بھینسوں کے دودھ کے خالص پن نے میرے ناخالص دودھ والے لیکچر کی ایسی کی تیسی پھیر کر رکھ دی تھی اور میں منہ بسورے چاچا سردار کے سامنے خاموش بیٹھا تھا۔ تقریبا چھے ماہ تک یہ خالص اور بالائی سے بھرا دودھ پینے کے بعد ایک دن کیا منظر دیکھا کہ صبح ہی دودھی حاجی صاحب کی حویلی مویشیاں کے باہر محکمہ فوڈاتھارٹی اور پولیس کی گاڑیاں کھڑی ہیں۔ میں اور چاچاسر دار جلدی جلدی وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ محترم حاجی صاحب دودھ میں پانی نہیں ملاتت تھے بلکہ تمام کا تمام دودھ ہی کیمیکل سے تیار کر کے عوام کو بیچ رہے تھے۔ اور حویلی کی بھینسیں انھوں نے گاہکوں کی تسلی کے لیے باندھ رکھی تھیں ۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے چاچاہی کے اندھے اعتماد والے فلسفہ پر ہنسی آرہی تھی لیکن صلواتوں کے ڈر سے منہ بند رکھنا پڑا۔ چاچا سر دار کو اس وقت اس حقیقت کا یقین آیا جب اس نے پولیس کو کیمیکل کے ڈبے اور دودھ کا فلیور بڑی تعداد میں حاجی صاحب کی حویلی سے برآمد کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس کے بعد کچھ عرصہ تک دودھ کا معاملہ منقطع رہا۔ ہمارے ایک عزیز کا دعوی ہے کہ لاہور میں ان کے محلے میں ایک حلوائی کی دکان سے خالص دودھ ، دہی اور لسی دستیاب ہوتا ہے۔
اس نے ہمیں اپنے پاس بلایا اور خدمت کے طور پر اس لسی والی دکان سے ناشتہ کروایا۔ میں لسی کے جگ میں بننے والی جھاگ دیکھوں تو مجھے سرف پوڈر کا پیکٹ یاد آئے اور لسی کا گاڑھا پن مختلف کیمیکلز کی جانب توجہ دلائے جب کہ چاچا جی یہاں بھی بڑے اعتماد اور تسلی سے تشریف فرما تھے۔ لیجیے لسی کے بڑے بڑے گلاس ہمارے سامنے میز پر آ گئے۔ سب لوگ ٹھنڈی اور میٹھی لسی غڑاپ غڑاپ پی گئے۔ اب کی بار چاچا سردار نے لسی پینے کے بعد جو تبصرہ کیا اس کے مطابق لسی پر بالائی کافی گاڑھی تھی جو خالص دودھ پر ہی آسکتی تھی لیکن اس بالائی میں خالص دہی کی بالائی والی چکنائی نہ تھی۔ بات وہیں آ کر رکی کہ اس دہی میں بھی گاڑھا کرنے کے لیے مختلف کیمیکلز کا استعمال کیا گیا تھا۔ شکر ہےکہ اب کی بار چاچا جی نے بھی مجھے ہمیشہ کی طرح مات دینے کی ضد چھوڑی اور سچائی تسلیم کر ہی لی۔ اب میں نے انھیں دودھ کے چکر کے بارے میں تفصیل سے بتانے کی کوشش کی کہ دودھ کا سفر گاؤں سے شروع ہوتا ہے۔ سب سے پہلے گوالا بھینسوں کا دودھ دوہ کر اپنی جانب سے پانی ملانے کی بسم اللہ کرتا ہے اور اپنا فرض اولین سمجھتے ہوئے دودھ کو خوب پتلا کرتاہے۔اس سے خرید کر دوسرے دودھی ڈودھ کو ڈیر ی پر لے آتے ہیں۔ دودھ کو مشین میں ڈال کر کریم الگ کر لی جاتی ہے جو کہ مہنگے داموں بیچ دی جاتی ہے جب کہ بقیہ "خالص دودھ" بڑے بڑے تنگ منھ والے برتنوں (کینوں) میں بھرا جاتا ہے۔ اب نہایت دیدہ دلیری کے ساتھ یہ کہہ کر اس میں برف ڈال ڈی جاتی ہے کہ گرمی ہے اور دودھ کہیں راستے میں خراب نہ ہو جائے۔ گویا کہ پہلے سے تیار کچی لسی کو پانی ملا کر مزید پتلا کردیا جاتا ہے۔ اب یہ نام نہاد دودھ شہر کے چائے خانوں پر بیچ دیا جاتا ہے جہاں پر دکان دار خود بھی اپنی خوشی کے مطابق مزید پانی ملاتا ہے۔ پانی کے ساتھ ساتھ یہاں گاڑھا کرنے کے لیے دودھ کے اندر کیمیکل ملایا جاتا ہےاور موٹی بالائی لانے کے لیے بیکنگ پوڈر یا دیگر سستے اور غیر معیاری کیمیکل ملائے جاتے ہیں۔ دودھ کو کاڑھا جاتا ہے اور چند ہی منٹوں میں اچھی خاصی موٹی مصنوعی بالائی دودھ کی سطح پر تیرتی دیکھی جا سکتی ہے۔ چاچا کے زمانے میں دودھ پہلوانوں کی غذا کا لازمی حصہ تھا اور وہ خالص دودھ دہی کی طاقت سے اکھاڑوں میں اترتے تھے جب کہ آج کل کے ملاوٹ زدہ دودھ کے استعمال کے بعد نا طاقتی اور بیماریاں ہی ہمارا استقبال کر سکتی ہیں۔ لیکن چاچا سردار کا تمام گفتگو سن کر یہ کہنا ہے کہ ایسے لسی نما دودھ کا ایک فائدہ بھی ہے کہ اس سے نہ ہی پینے والے کا وزن بڑھے گا کہ وہ موٹاپے کا شکار ہو جائے ، نہ ہی کولسٹرول میں اضافہ ہوگا کیوں کہ اس میں چکنائی نام کی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہ ہوگی اور نہ ہی اس سے معدہ خراب ہوگا کیوں کہ بے جا پانی کے استعمال سے یہ پتلا در پتلا ہو کر سفید پانی ہی بن چکا ہوگا جس سے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچے گا۔