24/06/2026
Autism پہچان و علاج آٹزم
Autism spectrum Disorder is Congenital or Genetic Disorder by Genes Mutation.
تحریر سلیم اشعر ہومیوپیتھ۔ بھکر
آٹزم کی پہچان کیلئے 3 بڑی علامات ہیں۔
1۔lack of Concentration
توجہ مرکوز کرنے کی کمی۔
Lack of Eye Contact & Talk
انکھ ملا کر بات کرنے کا فقدان
Lack of Response پکارنے پر رد عمل نہ دینا۔.
اسکے علاوہ
یہ بچے سوشل نہیں ہوتے۔ مخصوص چیزوں میں گم رہتے ہیں مثلا موبائل یا کھلونے۔
کھیل کود میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرتے۔ اور ایک ہی کام کو بار بار دوہراتے ہیں۔ 1 سال کی عمر تک زبان سے الفاظ ادا نہیں کر سکتے وغیرہ
AUTISM آٹزم کا علاج
اسکے علاج کے لئے 4 ادویات کی ضرورت پڑتی ہے۔
Miasmatic Remedy.
Constitutional Medicine
Immunity Booster Remedy
Specific Remedy.
میازمیٹک دوائی کے لئے مریض بچے کو اسکے میازم کی دوائی دی جاتی ہے۔ اس دوائی کے لئے مریض کے والدین کے میازم کےمطابق بچے کا میازم معلوم کیا جاتا ہے اور بچے کو وہی مدوائی دی جاتی ہے جو جو اس کے میازم کا احاطہ کرتی ہو۔ میازم معلوم کرنے کیلئے ہومیو پیتھی میں والدین کے خاندان کی ہسٹری معلوم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اسکےمطابق بچے کا میازم معلوم ہوگا اور میازم کے مطابق ہی دوائی دی جائے گی۔ اور یہ کام صرف ایک کامل اور قابل ہومیوپیتھ کر سکتا ہے۔ کچھ ڈاکٹرز والدین اور بچے کی فیس ریڈنگ سے بھی میازم کا پتا لگا لیتے ہیں اور یہ کام وہی ہومیوپیتھ کر سکتا ہے جس کو میازم پر مکمک دسترس حاصل ہو۔ یہ پاکستان میں چند ہی ڈاکٹرز ہیں۔ الحمدللہ۔
دوسری دوائی مزاجی دوائی ہوتی ہے جسے
Constitutional medicine کہا جاتا ہے۔
اسکے لئے بچے کے والدین کی ہسٹری کی ساتھ ساتھ بچے کی عادات اطوار ۔ کھانا پینا مزاج دیکھا جاتا ہے ۔ ان سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مزاجی دوائی سلیکٹ کی جاتی ہے۔ یہ کام بھی ماہر ہومیوپیتھ کر سکتا ہے کچھ ڈاکٹرز بچے اور اسکے والدین کو دیکھ کر بھی مزاجی ادویات تک پہنچ جاتے ہیں یا پھر وہ ڈاکٹرز مزاجی دوائی ایک منٹ میں سلیکٹ کر سکتے ہیں جو سینکڑوں آٹزم بچوں کا علاج کا تجربہ رکھتے ہیں۔
تیسری دوائی قوت حیات جسے Vital force یا Immunity بھی کہا جاتا ہے کی لئے دی جاتی ہے۔ کالی گروپ بہترین ہے جو حرام مغر اور اس سے related نروس سسٹم کو ریپئیر کرتی ہے اسکی رکاوٹوں اور خلل کو ٹھیک کرکے پیغام رسانی کے کام کو بہتر کرتی ہیں ۔ ریسپانس ایک ایسا عمل ہے جس میں سارا کام نروس سسٹم کا ہے۔ جو نیورانز کے ذریعے پورے جسم میں پھیلا ہوا ہے اور جس کا مرکز حرام مغز ہے
چوتھی دوائی۔۔۔ جس کے بارے مشہور ہے کہ یہ آڑھی ترچھی علامات رکھتی ہے اسکے مریض میں تسلسل نہیں ہوتا یعنی ایک ہی کام کو مکمل سرانجام نہیں دے سکتے یا آپ یوں سمجھ لیں کہ ادھورے کام کرنے والے لوگ۔ یا ایک کام کرتے کرتے کسی دوسرے کام میں لگ جانا۔۔۔
اسکے علاوہ
آٹزم۔کے علاج کے لئے مزید کئی ادویات ہیں جو علامات کے حساب سے بوقت ضرورت بچے کو دی جاتی ہیں۔
Ars alb. Arn, V alb, bell, stra, hyos, k sulph, M sol, Cham, cheli, Borx,aethua,..etc
یہ بچے کچھ عرصہ کے علاج سے بہتر ہونا شروع ہو جاتے ہیں ہم(پاکستان ہومیوپیتھی) نے کئی ایسے بچوں کا علاج کیا ہے جو اب نارمل سکولز میں پڑھ رہے ہیں اور وہ ذہانین بھی ہیں۔ میرے تجربات سے ایک بات سامنے آئی ہے کی جو والدین زیادہ ذہین ہوں جن کا IQ لیول زیادہ ہو تو ان کے بچے زیادہ تر آٹزم کا شکار نظر آئے ہیں۔ کیونکہ والدین کی وجہ سے بچے کے کچھ دماغی خلیات ضرورت سے زیادہ فعال ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آٹزم بچے کسی ایک مضمون میں دوسرے بچوں سے زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔ جیسے
آئن سٹائن کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ آٹزم زدہ تھا اور اس نے فزکس میں ایک ایسی تھوتی دی جس کو ثابت کرنے میں 100 سال لگ گئے۔
آٹزم کا علاج آسان نہیں ہے یہ قابل ہومیوپیتھس کا کمال ہو سکتا ہے۔ اس لئے آٹزم بچوں کے علاج کے سلسلے میں بہترین ہومیوپیتھ کا انتخاب سب سے اہم ہے۔
تحریر:۔
Saleem Ashar Homoeopath.
Pakistan homoeooathy Bhakkar. 03163845036.
یہ پوسٹ پاکستان ہومیوپیتھی کا کاپی رائیٹ ہے۔ اپ اسکو شئیر کر سکتے ہیں لیکن کاپی پیسٹ نہیں۔
Pakistan Homoeopathy Bhakkar