For acne and pimples
Available at Razaan pharmacy jowar
04/07/2025
ہارٹ اٹیک (Heart Attack) اور کارڈیک اریسٹ (Cardiac Arrest) دونوں دل سے متعلقہ سنگین بیماریاں ہیں، لیکن یہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کے درمیان بنیادی فرق کو سمجھنا بروقت طبی امداد حاصل کرنے اور جان بچانے کے لیے بہت ضروری ہے۔
ہارٹ اٹیک (دل کا دورہ)
ہارٹ اٹیک کیا ہے؟
ہارٹ اٹیک اس وقت ہوتا ہے جب دل کے پٹھوں کے کسی حصے میں خون کا بہاؤ اچانک رک جاتا ہے۔ یہ عام طور پر کورونری شریانوں میں رکاوٹ کی وجہ سے ہوتا ہے، جو کہ فیٹ، کولیسٹرول اور دیگر مواد کے جمع ہونے سے بننے والی پلاک (Plaque) کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب یہ پلاک پھٹتی ہے، تو خون کا لوتھڑا بن جاتا ہے جو شریان کو مکمل طور پر بند کر دیتا ہے، جس سے دل کے پٹھوں کو آکسیجن نہیں ملتی اور وہ مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔
اہم نکات:
* وجہ: خون کی سپلائی میں رکاوٹ (گردشی مسئلہ)۔
* دل کی حالت: دل دھڑکتا رہتا ہے، لیکن دل کے پٹھوں کا ایک حصہ خراب ہو جاتا ہے یا مرنا شروع ہو جاتا ہے۔
* علامات: سینے میں شدید درد یا دباؤ، درد کا بازو، جبڑے، گردن یا کمر تک پھیلنا، سانس لینے میں دشواری، ٹھنڈے پسینے، متلی، کمزوری۔ یہ علامات چند منٹوں سے لے کر گھنٹوں تک رہ سکتی ہیں اور بعض اوقات ایک مہینہ پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
* فوری حالت: یہ فوری طور پر موت کا سبب نہیں بنتا، مریض کے بچنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
کارڈیک اریسٹ (حرکت قلب کا بند ہو جانا)
کارڈیک اریسٹ کیا ہے؟
کارڈیک اریسٹ اس وقت ہوتا ہے جب دل کی برقی سرگرمی میں اچانک خلل پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں دل اچانک دھڑکنا بند کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دل خون کو مؤثر طریقے سے پمپ نہیں کر پاتا اور پورے جسم میں خون کی گردش رک جاتی ہے۔ دماغ اور دیگر اہم اعضاء کو آکسیجن نہیں ملتی، جس سے فوری طور پر بے ہوشی اور موت واقع ہو سکتی ہے۔
اہم نکات:
* وجہ: دل کے برقی نظام میں خرابی (برقی مسئلہ)۔ یہ دل کی غیر معمولی دھڑکنوں (arrhythmias) کی وجہ سے ہوتا ہے۔
* دل کی حالت: دل کا دھڑکنا مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے۔
* علامات: اچانک بے ہوشی، سانس بند ہو جانا، نبض کا غائب ہو جانا۔ اس کی علامات عام طور پر کوئی پیشگی وارننگ نہیں دیتیں۔
* فوری حالت: یہ ایک فوری طبی ایمرجنسی ہے جو چند منٹوں میں موت کا سبب بن سکتی ہے اگر فوری طور پر CPR (Cardiopulmonary Resuscitation) اور defibrillation نہ دی جائے۔
خلاصہ: بنیادی فرق
| خصوصیت | ہارٹ اٹیک (دل کا دورہ) | کارڈیک اریسٹ (حرکت قلب کا بند ہو جانا)
| بنیادی مسئلہ | خون کی سپلائی میں رکاوٹ (گردشی مسئلہ) دل کے برقی نظام میں خرابی (برقی مسئلہ)
| دل کی حالت دل دھڑکتا رہتا ہے، لیکن ایک حصہ متاثر ہوتا ہے ' دل کا دھڑکنا مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے -
| علامات | سینے میں درد، سانس کا پھولنا، درد کا جسم کے دیگر حصوں تک پھیلنا، متلی، پسینہ | اچانک بے ہوشی، سانس بند ہو جانا، نبض کا نہ ہونا -
| فوری خطرہ | فوری موت کا خطرہ کم، مگر اگر علاج نہ ہو تو سنگین پیچیدگیاں 'انتہائی جان لیوا، فوری طبی امداد ضروری ہے -
ہارٹ اٹیک کی وجہ سے کارڈیک اریسٹ ہو سکتا ہے، لیکن ہر کارڈیک اریسٹ ہارٹ اٹیک کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ دونوں صورتوں میں فوری طبی امداد ناگزیر ہے۔
04/07/2025
۔۔Cardiac Arrest۔ کیا ہوتا ہے؟
یہ دل کی وہ حالت ہوتی ہے جب دل اچانک دھڑکنا بند کر دیتا ہے۔ انسان بظاہر مردہ لگتا ہے لیکن اگر فوری CPR شروع کر دی جائے تو وہ واپس آ سکتا ہے !---
۔CPR (Cardiopulmonary Resuscitation)۔ کیا ہے؟
یہ ایک ہنگامی طبی عمل ہے جو ایسے شخص پر کیا جاتا ہے:
* جس کا دل دھڑکنا بند ہو جائے
* جو بے ہوش ہو
* جس کی سانسیں رک چکی ہوں
کیسے کیا جاتا ہے؟
1. شخص کو لٹائیں
2. پہلے 30 بار سینے پر زور سے دباتے جائیں۔۔۔۔(Chest Compressions)
3. پھر 2 بار منہ سے سانس دیں (Rescue Breaths)
یہ عمل بار بار دہراتے رہیں جب تک طبی مدد نہ پہنچے۔
یاد رکھیں
سی پی آر کرنے والا شخص ڈاکٹر نہیں ہوتا، لیکن فوری ردعمل ایک عام انسان کو بھی ہیرو بنا دیتا ہے۔
سی پی آر کسی کی آخری سانس کو نئی زندگی میں بدل سکتا ہے-
(Copy paste)
03/04/2025
الٹراساؤنڈ کی دریافت — ایک غیر روایتی سوال کا غیر معمولی جواب
شخصیت: ڈاکٹر ایان ڈونلڈ (Ian Donald)
پیدائش: 27 دسمبر 1910، اسکاٹ لینڈ
وفات: 19 جون 1987
ڈاکٹر ایان ڈونلڈ ایک اسکاٹش ماہر امراض نسواں (Obstetrician) تھے جنہوں نے 1950 کی دہائی میں الٹراساؤنڈ ٹیکنالوجی کو طب میں متعارف کروایا۔ ان کا وژن یہ تھا کہ کسی ماں کے پیٹ میں موجود بچے کو بغیر کاٹے، بغیر چاقو کے، صرف آواز کی لہروں سے دیکھا جا سکے—یہ ایک ایسا خواب تھا جو اس وقت ناممکن لگتا تھا
چیلنجز:
میڈیکل کمیونٹی کی مزاحمت:
اس وقت کی طبی دنیا صرف روایتی ایکسرے اور معائنہ پر یقین رکھتی تھی۔ کسی نے بھی صوتی لہروں (sound waves) کو تشخیصی آلہ نہیں مانا تھا۔
بھیڑ چال کا دباؤ:
سب یہی کرتے آ رہے تھے—ایکسرے، آنکھوں سے معائنہ، سادہ آلہ۔ کسی نے یہ نہیں سوچا کہ آواز بھی دیکھ سکتی ہے۔
تکنیکی مسائل:
ابتدائی الٹراساؤنڈ مشینیں آبدوزوں میں استعمال ہوتی تھیں اور نہایت بھاری اور مہنگی تھیں۔ انہیں طبی میدان میں لانا گویا صحرا میں باغ لگانے جیسا تھا۔
درست سوال کا دائرہ:
ایان ڈونلڈ نے سوال کیا:
"اگر آبدوزیں سمندر کے نیچے دشمن کو آواز کی لہروں سے دیکھ سکتی ہیں تو ہم ماں کے پیٹ کے اندر بچے کو کیوں نہیں دیکھ سکتے؟"
یہ سوال عام نہیں تھا۔ یہ سادہ اور “بے محل” لگتا تھا۔ مگر یہی سوال انقلاب کا بیج بن گیا۔
انسانیت کو فائدہ:
1. حمل کے دوران بچے کی صحت کا جائزہ لینا ممکن ہوا۔
2. بچوں میں پیدائشی نقائص کی قبل از وقت تشخیص ہونے لگی۔
3. جان بچانے والے فوری فیصلے کیے جا سکے۔
4. سرجری سے بچاؤ کے امکانات بڑھے۔
5. تشخیص زیادہ محفوظ، سستی اور بغیر درد کے ممکن ہوئی۔
آج جو الٹراساؤنڈ ہم عام سمجھ کر کرواتے ہیں، وہ ایک ایسے انسان کا نتیجہ ہے جس نے بھیڑ سے ہٹ کر سوال کیا۔ اس نے تقلید نہیں کی، تحقیق کی۔ اور آج، ہر ماں کی مسکراہٹ، ہر محفوظ جنم، ایان ڈونلڈ کی جراتِ سوال کا ثمر ہے۔
Be the first to know and let us send you an email when Razaan Pharmacy Jowar Buner posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.