19/05/2026
ہیپاٹائٹس بی اور سی hepatitis B and C ایسی خاموش بیماریاں ہیں جو کئی سال تک بغیر کسی واضح علامت کے جگر کو نقصان پہنچاتی رہتی ہیں۔
اسی لیے بروقت اسکریننگ انتہائی ضروری ہے، خاص طور پر حاملہ خواتین، بار بار خون لگوانے والے مریض، ڈائیلاسز کے مریض، ہیلتھ کیئر ورکرز، غیر محفوظ انجیکشن یا بلیڈ استعمال کرنے والے افراد، اور ایسے لوگ جن کے گھر یا شریکِ حیات میں ہیپاٹائٹس موجود ہو۔
اگر کسی مریض میں جگر کے ٹیسٹ خراب ہوں، یرقان ہو یا کمزوری اور بھوک کی کمی جیسی علامات ہوں تو ہیپاٹائٹس بی اور سی کی اسکریننگ ضرور کروانی چاہیے۔ یاد رکھیں، بروقت تشخیص نہ صرف مریض کی جان بچا سکتی ہے بلکہ بیماری کو دوسروں تک منتقل ہونے سے بھی روک سکتی ہے۔ صاف سرنج، محفوظ خون اور وقت پر ٹیسٹ — ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے بنیادی اصول ہیں۔
یہ ایک اہم بات ہے کہ ہیپاٹائٹس کی وائرل اسکریننگ پازیٹو آنے کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ مریض میں بیماری ایکٹیو بھی ہے۔ اسکریننگ ٹیسٹ جیسے ہیپاٹائٹس بی یا سی کے اینٹی باڈی/اینٹی جن ٹیسٹ ابتدائی جانچ کے لیے کیے جاتے ہیں۔ یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ مریض کبھی وائرس کے ایکسپوژر میں آیا ہے یا نہیں۔ بعض اوقات انفیکشن پہلے ہو کر ختم بھی ہو چکا ہوتا ہے، لیکن اینٹی باڈیز خون میں موجود رہتی ہیں، اس لیے اسکریننگ ٹیسٹ پازیٹو آ سکتا ہے۔
اسی وجہ سے اگلا اہم مرحلہ PCR ٹیسٹ ہوتا ہے، جو وائرس کے اصل جینیاتی مواد (viral RNA/DNA) کو ڈھونڈتا ہے۔ PCR یہ واضح کرتا ہے کہ وائرس اس وقت جسم میں موجود ہے یا نہیں، اور اگر موجود ہے تو اس کی مقدار یعنی viral load کتنا ہے۔ یہی ٹیسٹ فیصلہ کرنے میں مدد دیتا ہے کہ بیماری ایکٹیو ہے، علاج کی ضرورت ہے یا صرف فالو اپ کافی ہے۔ اس لیے صرف اسکریننگ رپورٹ دیکھ کر گھبرانے کے بجائے مکمل evaluation اور PCR کی بنیاد پر حتمی رائے قائم کی جاتی ہے۔
اب نئی میڈیکل پریکٹس میں یہ بات زیادہ واضح ہو چکی ہے کہ اگر وائرل اسکریننگ ٹیسٹ پازیٹو آ جائے، خاص طور پر ہیپاٹائٹس بی یا سی میں، تو بار بار ELISA یا اینٹی باڈی کی ویلیوز دہرانے کے بجائے ڈائریکٹ PCR کروانا زیادہ مؤثر اور فیصلہ کن سمجھا جاتا ہے۔
پہلے عموماً اسکریننگ ٹیسٹ کے بعد ELISA کے ذریعے کنفرمیشن کی جاتی تھی، لیکن اب چونکہ PCR وائرس کے اصل جینیاتی مواد کو detect کرتا ہے، اس لیے یہ زیادہ specific اور definitive ٹیسٹ مانا جاتا ہے۔ PCR واضح طور پر بتاتا ہے کہ وائرس جسم میں اس وقت موجود ہے یا نہیں، بیماری active ہے یا نہیں، اور وائرل لوڈ کتنا ہے۔
اسی لیے اگر اسکریننگ پازیٹو آ جائے تو غیر ضروری طور پر بار بار اینٹی باڈی یا ELISA ویلیوز چیک کرنے کے بجائے ڈائریکٹ PCR کروانے سے مریض کی جلد اور درست تشخیص ہو جاتی ہے، علاج کے فیصلے میں آسانی ہوتی ہے، اور مریض کی بے چینی بھی کم ہوتی ہے۔ البتہ حتمی فیصلہ ہمیشہ مریض کی علامات، LFTs، کلینیکل صورتحال اور معالج کے مشورے کے مطابق کیا جاتا ہے
ڈاکٹر احمد نوید (فیملی فزیشن)