Gastroenterology and hepatology clinic by Dr. M. Kashif Ansari

Gastroenterology and hepatology clinic by Dr. M. Kashif Ansari ...

30/05/2026
17/05/2026

*لوگوں کے ٹیکس کا پیسہ… اور ڈاکٹر کی “حرام کمائی”؟*
ایک سرکاری ہسپتال میں کام کرنے والا PGR ڈاکٹر تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار روپے تنخواہ لیتا ہے۔
اب ذرا حساب دیکھ لیجیے:
روزانہ اوسط 6 گھنٹے ڈیوٹی
(اتوار چھوڑ کر)
= 144 گھنٹے
7 لانگ کالز
جہاں دن رات ہسپتال میں گزارے جاتے ہیں
= 126 گھنٹے
ایک اسپیشل اتوار ڈیوٹی
یعنی کل ملا کر تقریباً
276 گھنٹے ماہانہ ڈیوٹی
اس حساب سے ایک ڈاکٹر کو
ایک گھنٹے کے صرف 435 روپے ملتے ہیں۔
اب OPD کا حساب بھی دیکھ لیجیے:
اگر ایک ڈاکٹر ایک گھنٹے میں کم از کم 10 مریض بھی دیکھ لے
تو آپ کے ٹیکس سے
ایک مریض کے چیک اپ پر تقریباً 40 روپے خرچ ہوتے ہیں۔
ذرا نشتر روڈ پر بیٹھے کسی مالشی سے ریٹ پوچھ لیجیے؛
وہ 40–45 منٹ کی مالش کے 500–600 روپے لیتا ہے۔
تو پھر ایک ایسا انسان
جس نے اپنی جوانی کتابوں، امتحانوں، ڈیوٹیوں اور جاگی ہوئی راتوں میں گزار دی ہو…
اگر ایک گھنٹے کے 435 روپے لے رہا ہے،
تو کیا واقعی اسے “حرام کمائی” کہنا انصاف ہے؟
آپ یقیناً ٹیکس دیتے ہوں گے،
لیکن ٹیکس کہاں حرام ہوتا ہے…
شاید سوال وہاں اٹھانے کی ضرورت ہے۔ 😊
“یہ کسی پیشے کی توہین نہیں، صرف ترجیحات کا موازنہ ہے”

Copied

11/03/2026

ڈگری نہیں، ہنر بولتا ہے

پاکستان میں ایم ڈی، ایم ایس اور ایف سی پی ایس کے درمیان تقابل کوئی نئی بات نہیں۔ ہر طرف سے دلائل دیے جاتے ہیں۔ کوئی امتحانی نظام کی سختی کو معیار بناتا ہے، کوئی یونیورسٹی اسٹرکچر کو فوقیت دیتا ہے۔ بظاہر یہ ایک علمی بحث ہے، مگر بعض اوقات اس میں غیر ضروری تلخی بھی شامل ہو جاتی ہے۔

میری رائے میں اس بحث کا اصل محور کچھ اور ہونا چاہیے۔

اگر کوئی ڈاکٹر قانونی طور پر اسپیشلسٹ تسلیم شدہ ہے، اس نے باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے، اور وہ میڈیکل ایتھکس اور ملکی قوانین کے اندر رہ کر پریکٹس کر رہا ہے، تو پھر اصل فیصلہ مریض کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ مریض کسی ڈگری کے مخفف سے متاثر نہیں ہوتا؛ وہ اپنے علاج کے نتیجے، ڈاکٹر کے رویے، اور اپنے اعتماد کی کیفیت کو دیکھتا ہے۔

ہنر کی ایک خاموش زبان ہوتی ہے۔ اسے اشتہار کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وقت کے ساتھ وہ خود اپنی پہچان بنا لیتا ہے۔ جس طرح شاعر نے کہا تھا:

چپ رہیں اہلِ ہنر، ان کے ہنر بولتے ہیں
خود تو تتلی بھی نہیں بولتی، پر بولتے ہیں

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ڈگری ایک دروازہ ہے، منزل نہیں۔ اصل منزل مہارت، دیانت، مسلسل سیکھنے کا جذبہ، اور مریض کے ساتھ اخلاقی وابستگی ہے۔ اگر تربیت کا نظام شفاف ہو، احتساب یکساں ہو، اور معیار سب کے لیے ایک ہو، تو پھر ڈگری کے عنوان پر تقسیم کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

بدقسمتی سے ہم کبھی کبھی اصل مسئلے کو چھوڑ کر عنوانات میں الجھ جاتے ہیں۔ ہمیں اپنی توانائی اس بات پر صرف کرنی چاہیے کہ تربیت کا معیار بلند ہو، نگرانی مؤثر ہو، اور مریض کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ باقی سب بحثیں ثانوی ہیں۔

آخرکار طب ایک پیشہ نہیں، ایک امانت ہے۔
اور امانت کی اصل پہچان اس کی ادائیگی سے ہوتی ہے —
نہ کہ اس کے نام سے۔

ڈگریاں کوئی بھی ہوں، ایک سچا مسیحا اپنی قابلیت اور کردار سے خود کو منوا لیتا ہے۔ طب کا پیشہ صرف علم اور مہارت کا نام نہیں بلکہ اس میں انسانیت، ہمدردی اور محبت کا عنصر بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ مریض کے ساتھ پیار کے دو بول اس کے مرض کو آدھا کم کر دیتے ہیں۔

مگر بدقسمتی سے ہمارے ہسپتالوں کی صورتِ حال ایسی ہے کہ جہاں سو مریضوں کی گنجائش ہوتی ہے وہاں چار سو مریض موجود ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ڈاکٹر کی توجہ، خوش اخلاقی اور ہمدردی بھی مجبوری کے تحت کئی حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے مریض اور ڈاکٹر کے درمیان غلط فہمیاں اور تلخیاں جنم لیتی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ بعض حکومتی اور انتظامی فیصلے بھی عوام کے دلوں میں ڈاکٹر کے بارے میں منفی تاثرات پیدا کر دیتے ہیں، حالانکہ ان فیصلوں میں اکثر ڈاکٹر کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ نتیجتاً وہ اعتماد اور احترام، جو کبھی ڈاکٹر کے پیشے کا فطری حصہ تھا، آہستہ آہستہ کم ہوتا نظر آتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ڈاکٹرز آپس میں ڈگریوں اور عہدوں کی بحث میں الجھنے کے بجائے اس پہلو پر غور کریں کہ عوام کے دلوں میں اپنی جگہ دوبارہ کیسے بنائی جائے۔ اگر نامساعد حالات کے باوجود ڈاکٹر اپنا رویہ نرم رکھیں، مریض کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کریں اور حتیٰ کہ محدود وسائل کے باوجود مریض کی طرف کھڑے ہوں تو یقیناً ڈاکٹر اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کافی حد تک کم ہو سکتی ہے۔

ساتھ ہی حکومت اور محکمۂ صحت کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ ڈاکٹروں کو باہمی اختلافات میں الجھانے کے بجائے ایسے حالات اور وسائل فراہم کریں جن میں وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں استعمال کر سکیں اور عوام کی خدمت کر سکیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ڈاکٹر کے پیشے کا وہی احترام دوبارہ حاصل ہو سکتا ہے جو ہم نے آج سے چالیس پچاس سال پہلے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا
ہارون پاشا
Copied

ایک وقت تھا جب پاکستان کے شہر اور محلے میں کچھ جنرل پریکٹیشنرز موجود تھے جو خاندانوں کی ابتدائی صحت کی ضروریات دیکھتے تھ...
08/03/2026

ایک وقت تھا جب پاکستان کے شہر اور محلے میں کچھ جنرل پریکٹیشنرز موجود تھے جو خاندانوں کی ابتدائی صحت کی ضروریات دیکھتے تھے۔ بچوں کی ویکسین، بزرگوں کے بلڈ پریشر، معمولی بیماریوں کا علاج , یہ سب کام وہ کرتے تھے۔ مریض اکثر انہی ڈاکٹرز کے پاس جاتے، اور غیر ضروری ٹیسٹ یا مہنگے علاج سے بچتے۔

مگر یہ کبھی ایک منظم، ملک گیر Family Physician سسٹم نہیں تھا جیسا کہ برطانیہ، کینیڈا یا یورپی ممالک میں ہوتا ہے۔ یہاں ہر خاندان کے لیے ایک مقررہ ڈاکٹر، واضح ریفرل سسٹم، اور مربوط پرائمری کیئر کبھی قائم نہیں ہوئی۔ جو ڈاکٹر تھے وہ زیادہ تر انفرادی بنیادوں پر کام کرتے تھے، اور National Health System کی طرح باقاعدہ structure موجود نہیں تھا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ اکثر مریض براہِ راست اسپیشلسٹ کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ چھوٹی بیماری کے لیے بھی بڑے ہسپتال یا مہنگے کلینکس کا رخ کیا جاتا ہے، نتیجہ یہ کہ علاج کا خرچ بڑھتا ہے اور اسپیشلسٹ حقیقی پیچیدہ مریضوں کے لیے وقت اور وسائل کم پڑ جاتے ہیں۔

ایک اور اہم نقصان یہ ہے کہ مریض کو continuity of care نہیں ملتی۔ ہر بار نیا ڈاکٹر، نیا مشورہ، نئی ادویات، اور اکثر نئے ٹیسٹ۔ مریض کا علاج ایک مربوط نظام کے بجائے ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے یہ مسئلہ پہلے ہی حل کر لیا تھا۔ وہاں General Practitioner یا Family Physician پورے نظام کا گیٹ کیپر ہوتا ہے: مریض پہلے اس کے پاس جاتا ہے، اور صرف ضرورت پڑنے پر اسپیشلسٹ کے پاس ریفر کیا جاتا ہے۔ اس سے نظام منظم رہتا ہے، اخراجات کم ہوتے ہیں، اور مریض محفوظ رہتا ہے۔

پاکستان میں اگر ہم صحت کے نظام کو مؤثر، سستا اور مریض کے لیے محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو Family Physician ماڈل کو مضبوط کرنا ہوگا:

تربیت یافتہ جنرل فزیشنز
فیملی میڈیکل سپیشلسٹس
مضبوط پرائمری کیئر
واضح ریفرل سسٹم

ورنہ سلسلہ جاری رہے گا: چھوٹی بیماری کے لیے بڑے ہسپتال، اور ایک ایسا نظام جو ہر سال مزید مہنگا اور غیر مؤثر ہوتا جا رہا ہے۔
Copied

06/01/2026

28/12/2025

Address

Anfal Clinic Near THQ Hospital Darya Khan
Darya Khan
30100

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gastroenterology and hepatology clinic by Dr. M. Kashif Ansari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share