02/06/2026
کیا Cervical spondylosis میں صرف neck pain نہیں، anxiety بھی شامل ہو سکتی ہے۔
اکثر لوگ Cervical Spondylosis کو صرف گردن کے درد، اکڑاؤ یا کندھوں میں کھنچاؤ تک محدود سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بعض مریضوں میں یہ مسئلہ صرف جسمانی تکلیف تک محدود نہیں رہتا بلکہ ذہنی اور جذباتی کیفیت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ مریض گردن کے درد کے ساتھ ساتھ بے چینی، گھبراہٹ، چڑچڑاپن، ذہنی دباؤ اور غیر واضح قسم کی Anxiety کی شکایت بھی کرتے ہیں۔
میری کلینیکل پریکٹس میں ایسے بہت سے مریض آئے ہیں جو شروع میں صرف گردن کے درد یا Cervical Spondylosis کے مسئلے کے ساتھ آئے، لیکن تفصیلی کیس ٹیکنگ کے دوران معلوم ہوا کہ ان کی مشکلات صرف گردن تک محدود نہیں تھیں۔ بعض مریضوں کو ہر وقت سر بھاری محسوس ہوتا تھا، کچھ کو چکر آتے تھے، کچھ کو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے دماغ پوری طرح کام نہیں کر رہا، جبکہ بعض افراد مسلسل بے چینی اور گھبراہٹ کا شکار تھے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا Cervical Spondylosis واقعی Anxiety پیدا کر سکتی ہے؟
اس سوال کا جواب سادہ "ہاں" یا "نہیں" میں دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ Anxiety ایک پیچیدہ کیفیت ہے اور اس کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ بات ضرور دیکھی گئی ہے کہ Chronic Pain خود ذہنی دباؤ اور Anxiety کو بڑھا سکتا ہے۔
جب کسی انسان کو مہینوں یا سالوں تک گردن میں درد، اکڑاؤ، حرکت میں دشواری، سر درد یا بازوؤں میں سنسناہٹ کا سامنا رہے تو اس کا اثر صرف جسم پر نہیں بلکہ ذہن پر بھی پڑتا ہے۔ مسلسل درد انسان کی نیند متاثر کرتا ہے، روزمرہ سرگرمیوں کو محدود کرتا ہے اور اس کی زندگی کے معیار کو کم کر دیتا ہے۔ نتیجتاً مریض میں Stress اور Anxiety پیدا ہونے لگتی ہے۔
بعض مریض یہ شکایت کرتے ہیں:
"گردن میں درد شروع ہوتا ہے تو دل گھبرانے لگتا ہے۔"
"سر کے پچھلے حصے میں بوجھ محسوس ہوتا ہے تو بے چینی بڑھ جاتی ہے۔"
"کمپیوٹر پر کچھ دیر کام کروں تو گردن کے ساتھ ذہنی دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے۔"
"مجھے لگتا ہے جیسے میری طبیعت میں ہر وقت ایک عجیب سی بے چینی موجود رہتی ہے۔"
یہ مشاہدات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جسم اور ذہن ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ جب جسم مسلسل تکلیف میں ہو تو ذہنی سکون بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
آج جدید سائنسی تحقیق بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ Chronic Pain اور Anxiety کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے۔ درد کے سگنلز اور جذباتی ردعمل دونوں دماغ کے بعض مشترکہ حصوں سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے مسلسل درد بعض افراد میں Anxiety، Stress اور حتیٰ کہ Depression جیسی کیفیتوں کو بھی جنم دے سکتا ہے۔
Cervical Spondylosis کے بعض مریضوں میں درج ذیل علامات ایک ساتھ دیکھی جا سکتی ہیں:
گردن میں درد اور اکڑاؤ
کندھوں میں بھاری پن
سر درد
چکر یا عدم توازن کا احساس
ذہنی تھکن
توجہ میں کمی
نیند کی خرابی
بے چینی یا گھبراہٹ
چڑچڑاپن
جسمانی کمزوری کا احساس
یہ ضروری نہیں کہ ہر Cervical Spondylosis کا مریض Anxiety کا شکار ہو، لیکن کچھ افراد میں یہ دونوں مسائل ایک دوسرے کے ساتھ موجود ہو سکتے ہیں۔
کلاسیکل ہومیوپیتھی کی نظر میں بھی صرف گردن کے ایکسرے یا MRI کو دیکھ کر علاج مکمل نہیں ہو جاتا۔ ایک ہی قسم کی Cervical Spondylosis رکھنے والے دو مریض بالکل مختلف شخصیت، جذباتی کیفیت اور علامات کے حامل ہو سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر:
ایک مریض درد کے ساتھ شدید بے چینی کا شکار ہو سکتا ہے۔
دوسرا درد کے باوجود بالکل پرسکون رہ سکتا ہے۔
ایک مریض رات کو علامات بڑھنے کی شکایت کر سکتا ہے۔
دوسرا صبح زیادہ تکلیف محسوس کر سکتا ہے۔
ایک مریض کو حرکت سے آرام ملتا ہے۔
دوسرے کو مکمل آرام سے۔
اسی انفرادی فرق کو سمجھنا کلاسیکل ہومیوپیتھی کا بنیادی اصول ہے۔
یہاں ایک اور اہم بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر Anxiety کو Cervical Spondylosis سے جوڑ دینا بھی درست نہیں۔ Anxiety کی اپنی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں ذہنی دباؤ، خاندانی مسائل، معاشی پریشانیاں، نیند کی کمی، ہارمونل تبدیلیاں اور دیگر طبی عوامل شامل ہیں۔ اس لیے ہر مریض کا انفرادی جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔
اسی طرح اگر کسی مریض کو شدید چکر، ہاتھوں یا پیروں میں بڑھتی ہوئی کمزوری، چلنے پھرنے میں مشکل، یا اعصابی علامات پیدا ہو رہی ہوں تو نیورولوجیکل اور آرتھوپیڈک تشخیص کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایک ذمہ دار معالج ہمیشہ ضروری طبی معائنے اور تحقیقات کو اہمیت دیتا ہے۔
میرا تجربہ یہ کہتا ہے کہ بہت سے مریض صرف گردن کے درد کا علاج نہیں چاہتے، وہ اپنی کھوئی ہوئی زندگی واپس چاہتے ہیں۔ وہ دوبارہ سکون سے سونا چاہتے ہیں، بغیر درد کے کام کرنا چاہتے ہیں اور بغیر بے چینی کے زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
اسی لیے Cervical Spondylosis کو صرف گردن کی بیماری سمجھنا بعض اوقات مکمل تصویر نہیں دکھاتا۔ بعض مریضوں میں یہ مسئلہ جسم اور ذہن دونوں کو متاثر کر رہا ہوتا ہے، اور ایسے مریضوں کو سمجھنے کے لیے صرف ایک MRI نہیں بلکہ ایک مکمل انسان کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔
میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں:
"کبھی کبھی گردن کا درد صرف گردن تک محدود نہیں رہتا، بلکہ انسان کے سکون، اعتماد اور ذہنی کیفیت کو بھی متاثر کرنے لگتا ہے۔"
ڈاکٹر مستنصر جمیل انصاری
کلاسیکل ہومیوپیتھک فزیشن (رجسٹرڈ)
انصاری ہومیوپیتھک کلینک، تاج کالونی، فیصل آباد
رابطہ نمبر: 0300 9072889