12/07/2026
گینگرین Gangrene کے تکلیف دہ مرض میں جس میں اعضاء گلنے سڑنے لگتے ہیں۔ ہومیوپیتھک میڈیسن ار سینکم البم بہت اہمیت رکھتی ہے ۔ میرے تجربے میں یہ بات ہے کہ جہاں ڈاکٹروں نے گنگرین کے خطرے کی وجہ سے اعضاء کاٹنے کا قطعی فیصلہ کر لیا تھا وہاں مریض نے میرے کہنے پر ارسینکم 200 یا اونچی طاقت میں استعمال کی اور خدا تعالی کے فضل سے گینگرین کی جو علامتیں ظاہر ہو چکی تھیں وہ سرے سے غائب ہو گئیں۔
ایک نوجوان کا ہاتھ مشین میں ا کر کچلا گیا اس کے زخم مندمل نہیں ہوئے اور بگڑ کر گنگرین میں تبدیل ہو گئے ڈاکٹر نے مایوس ہو کر پہلے انگوٹھا اور پھر بازو کٹوانے کا مشورہ دیا میں نے اس کے لیے ار سینکم سی ایم تجویز کی اور ہفتہ 10 دن کے بعد دہرانے کو کہا چند ہفتوں کے بعد اس نے لکھا کہ درد تو ہے لیکن سیاہی رفتہ رفتہ سرخی میں تبدیل ہو رہی ہے کچھ ہی عرصہ میں اللہ کے فضل سے بالکل ٹھیک ہو گیا اور بازو کٹوانا تو کیا ہاتھ کی انگلیاں کٹوانے کی نوبت بھی نہیں ائی۔
لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ اگر ار سینک سے نمایاں فائدہ سامنے نہ ائے تو بہتر ہے کہ کوئی اور دوا مثلا سلیئشیا یا سلفر اونچی طاقت میں دے کر مرض کو قابو میں لائیں ورنہ بہتر ہے کہ سرجن کا مشورہ قبول کر لیا جائے۔
عام ناسوروں میں جو گہرے ہوں اور ہڈی کو بھی کھا رہے ہوں تو ار سینک سے زیادہ کالی ایوڈائڈ یا ارسینک ایوڈائیڈ بہتر کام کرتی ہیں۔
تحریر۔۔۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹر محمد رضوان۔
HDr Muhammad Rizwan
0333_2848183