Al Qadar

Al Qadar Serving humanity is my belief

پچھلی پوسٹ میں آخر پر بیان 3 طریقوں میں ایک اور طریقہ علاج شامل رکھنا بے جا نہ ہوگا جو صوفیانہ اور روحانیت کے نام سے آجک...
30/04/2026

پچھلی پوسٹ میں آخر پر بیان 3 طریقوں میں ایک اور طریقہ علاج شامل رکھنا بے جا نہ ہوگا جو صوفیانہ اور روحانیت کے نام سے آجکل عام ہو چکا ہے۔
اب ان چاروں پور ہم بات کریں گے۔

ڈپریشن کا علاج ہمیشہ سے بہت کمپلیکس رہتا ہے۔ اورسائنس میں ڈپریشن کاعلاج بہت زیادہ سائیڈ ایفیکٹس رکھتا ہے۔
سب سے پہلے چونکہ ڈپریشن کے مریض میں دماغ جھوٹی اور دوسری بیماریوں سے ملی جلی علامات دکھاتا ہے اس لیے اس کی درست تشخیص کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ کبھی سینے کی گھٹن کبھی رگوں میں دوڑتا درد کبھی قبض کبھی دست کبھی نیند کا نہ آنا۔ ۔۔۔۔ اب ڈاکٹر اپنے مریض کی ان علامات کا علاج کرتا ہے اور مریض بلا وجہ کی ادویات لیتا ہے اور بیماری وہیں کی وہیں رہتی ہے۔ اب تو یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ہر مریض کا پہلا علاج اومیپرازول ، پین کلر اور اینٹی بائیوٹک سے ہوتا ہے، ٹیسٹ وغیرہ بعد میں یا بالکل نہیں کیے جاتے۔ اس میں جعلی ڈاکٹرز کے ساتھ ساتھ عوام کا بھی قصور ہے کیونکہ ہم ہسپتال میں جا کر چیک اپ کے بعد ہسپتال سے باہر نکلنے سے پہلے پہلے تندرست ہونا چاہتے ہیں اور جب کوئی ڈاکٹر انتہائی درجے کی ادویات نہ دے ہم اسے نالائق ڈاکٹر سمجھتے ہیں۔ اب ہسپتالوں میں انتہائی ادویات سے علاج کیا جاتا ہے۔ جو عارضی طور پر تو اچھا لگتا ہے مگر جب ہم خدا نخواستہ کسی بڑے مرض میں مبتلا ہوں توہمارا جسم تقریبا تمام ادویات کے خلاف مدافعت پیدا کر چکا ہوتا ہے۔
میں ڈپریشن میں مستعمل انگلش ادویات کے نام نہیں لکھوں گا کیوں کہ یہ انتہائی نشہ آور ہوتی ہیں۔ اب تو ہمارے نوجوان بھی بیٹابلاکرز پر چلتے ہیں۔
ان ادویات کا استعمال کروا کر پھر ان کے سائیڈ ایفیکٹس کو دیکھ کر ادویات بدلتے بدلتے آخر ایک کمبینیشن کو فائنل کیا جاتا ہے۔ تب تک مریض ان ادویات کے انتہائی تکلیف دہ سائیڈ ایفکٹس کو برداشت۔کرتا ہے۔ اس کے ایک خاص دورانیہ تک استعمال کے بعد ان کی مقدار کو آہستہ آہستہ کم کیا جاتا ہے۔ اس کی تکلیف کا ایک الگ ہی تجربہ ہے جو بلکل ایک نشہ آور انسان سے نشہ چھڑوانے جیسا ہے۔
اور اکثر اوقات مریض ساری عمر ان ادویات پر چلتا ہے۔ بعض مخصوص کنڈیشن میں انگلش علاج کے علاوہ کوئ چارہ نہیں مگر ایک ابتدائی اینگزائٹی یا ڈپریشن کے لیے فوری انگلش علاج کسی صورت فائدہ مند نہیں

سابقہ پوسٹ سے متصل ڈپریشن اصل میں دماغ کا اپنے افعال میں خود سر ہونے کا نام ہےجسے پاگل پن سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ اس کے ...
21/04/2026

سابقہ پوسٹ سے متصل

ڈپریشن اصل میں دماغ کا اپنے افعال میں خود سر ہونے کا نام ہےجسے پاگل پن سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔
اس کے عوامل میں سوچ بلکہ غلط سوچ ہی اصل کردار ہی۔یہ سوچ کسی ماحول کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے اور کسی تربیت کا۔کسی بری صحبت کا۔
ان کی ایک لمبی فہرست ہے۔ ہم اسے مختصر اور جامع رکھیں تو اسلام میں ایک اتنا پرفیکٹ تصور ہے جو اسے سمجھنے میں مدد دے گا

اسلام نفس نام کی ایک چیز کے خلاف جانے کی بات کرتا ہے۔ نفس کیا ہے۔
تصوف کی اپنی تعریف ہے، جدید تعلیم کے حامی اسے کچھ اور سمجھتے ہیں۔ نصابی لوگوں کا اپنا فلسفہ ہے۔
نفس اصل میں انسان کی عادات ہیں۔
اس کے خلاف جہاد ، جہاد افضل ہے۔ مطلب اپنی عادات میں سے بری عادات کو الگ کرنا پھر بری عادات کے خلاف ہونا ۔
اس کا درجہ افضل ہے کیونکہ یہ مرتے دم تک کیا جانے والا
عمل ہے۔ اپنی بری عادات پر ہر وقت نگرانی رکھنی ہوتی ہے۔
کبھی انسان بچ جاتا ہے کبھی نفس جیت جاتا ہے یہی جہاد عظیم ہے۔
اس میں شیطان کا ایک تصور ہے جو خوف وہم اور جھوٹ کو استعمال کرتا ہے۔ اگر سمجھ نہ ہو تو انسان کو ڈپریشن میں لے جانے کے ہر حربے کو استعمال کرتا ہے۔

شاید علم کا حصول فرض کرنے کا مقصد ہی یہی ہے۔

اب بات کرتے ہیں ڈپریشن کی علامات وجوہات پر۔

ایک عام انسان کا غصہ نارمل بات ہے۔ غصہ تب فکر کی بات ہے جب بات بات پر، اور زیادہ دیر تک رہنے لگے۔ یہ بات بچوں سمیت گھر کے ہر فرد میں نظر آ سکتی ہے۔
بلکہ اب یہ معاشرے کے ہر فرد میں سر اٹھا رہی ہے۔ یہی
دماغی عدم توازن کے آغاز کی پہلی نشانی ہے جسے آپ جدید سائنس میں اینگزایٹی کہتے ہیں۔ ۔ اور یہ تب زیادہ خطرناک ہے جب اس کی عادت پڑ جاۓ
ہر برا فعل جب عادت بن گیا تو سمجھیں ڈپریشن نے اپنا کام شروع کر دیا۔ ۔ کبھی کبھار کی غلطی یا برا فعل آسانی سے ترک کیا جا سکتا ہے مگر عادت چاہے ایک چاۓ کی ہو، چھوڑنی پڑے تو عقل ٹھکانے آ جاتی ہے۔ اور دماغ ہمیشہ عادت سے چلتا ہے۔
حسد کے جسم پر پڑھنے والے اثرات کو میڈیکل سائنس مان چکی ہے۔ حسد دل کی بیماری ہے۔
بری نظر طبعیت کو مسلسل تکلیف میں ڈال دیتی ہے۔ جو اینگزائٹی کی وجہ بنتا ہے۔
کنٹرول کی عادت ہو ، ہر چیز درست کرنے کی عادت کسی بھی انسان یا واقعہ کی نسبت بہت امید رکھنا یا اس کی نسبت پہلے سے ایک عکس قائم کر لینا اور پھر اگلی شے یا بندے کا ویسا نہ نکلنا۔ پھر مسلسل ماضی میں رہنا اور پرانی باتوں پر کڑھنا ۔

گھریلو معاملات اور بچوں کی تربیت پر پھر الگ موضوع سے بات کو گی۔
اہنگزائٹی جو بہت لمبی نہ ہو، ایک عام بات ہے ، کبھی کبھار وضو کرنے سے پہلے نفس کے کسل کی وجہ سے اینگزائٹی ہوتی ہے، جو عارضی ہے۔
موسم بدلنے سے اینگزائٹی ہوتی ہے۔ ۔ شام ڈھلنے سے بھی بعض لوگوں کو اینگزائٹی ہوتی ہے۔ کبھی کبھار کسی کا انتظار کرنے سے اینگزائٹی ہونے لگتی ہے۔ یہ سب جسم کے نارمل رسپانس ہیں۔ مگر جب یہ تسلسل سے ہونے لگے تو ڈپریشن ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے
نفس کی چالوں کے انبار لگے ہیں، کبھی کسی کا شوہر ٹھیک نہیں نکلا، کبھی خاوند ٹھیک نہیں نکلا والدین بری دعا والے نکلے اولاد نا فرمان نکلی کاروبار کامیاب نہیں ہوا، معذوری کو گئی۔تعلقات سے ڈر لگتا ہے، دوست دھوکا دے گۓ،گھر نہیں بنا پیسے نہیں کماۓ جاتے ،غریبی آ گئ گناہ چبھتا ہے نماز نہیں پڑھیں جاتی۔ خود پر ضبط نہیں ہوتا آفس میں عزت نہیں کوئ سمجھتا نہیں نیند نہیں آتی جاگا نہیں جاتا لوگ ٹھیک نہیں پاکستان کے حالات ٹھیک نہیں دنیا ختم ہو رہی ہے، اللہ دعا قبول نہیں کرتا اللہ مجھے معاف نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔ انبار ہیں اس کی چالوں کے، کیا نیک کیا بد سب اس کی چالوں میں الجھے ہیں۔ ۔ اور اگر کوئی بس چلتا جا رہا ہے تو وہ تو شکر کرے اور وہم نہ کرے۔ لیکن اگر دباؤ کی کیفیات آ گئ ہیں۔ تو بھی شکر کریں۔ یہ نشانی ہے کہ آپ کو اللہ نے نظر میں رکھا ہے، کچھ غلط ہو گیا جسے اللہ ٹھیک کرنا چاہتا ہے۔

اور یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اللہ کے ہاں اصلاح کا طریقہ دباؤ ہے۔ عین اس لمحے شیطان اس دباؤ کو مایوسی بنا کر دل میں ڈالتا ہے۔ اور انسان اس دباؤ سے سیکھنے کے بجاۓ مایوس ہو کر غصہ غم خوف اسٹریس کے بعدڈپریشن میں چلا جاتا ہے۔ اور گلہ عادت بن جاتا ہے دوا خوراک کی جگہ لے لیتی ہے اورسکون غارت

اس کے علاج کے لیے بہت سے عوامل مد نظر رکھے جاتےہیں۔
علاج کے ضمن میں ہم اسے تین حصوں میں تقسیم کریں گے۔ اور فردا فردا ہر ایک پر بات کریں گے۔
سائنس میں علاج۔
اسلام میں علاج
طب میں علاج۔

جاری ہے
́n

ڈپریشن، انسان کا ،اس کی خوشیوں کا اور نسلوں کا دشمن۔ روحانی بیماریوں میں حسد، غصہ، غیبت، جھوٹ، بدلہ جیسی بیماریاں بھی شا...
21/04/2026

ڈپریشن، انسان کا ،اس کی خوشیوں کا اور نسلوں کا دشمن۔

روحانی بیماریوں میں حسد، غصہ، غیبت، جھوٹ، بدلہ جیسی بیماریاں بھی شامل ہیں۔ جن پر ریسرچ جاری ہے اور ان میں سے چند ایک کو انسانی جسم کے لیے نقصان دہ مانا گیا ہے۔
ان کا ھر مزہب میں علاج معافی، صبر، اپنی اصلاح کی کوشش اور معزرت میں دکھایا، جںبکہ اسلام نے خصوصی طور پر توبہ جیسی نعمت کو متعارف کروایا۔ توبہ انسان کی امید اور ا ن بیماریوں سے بچنے کا طریقہ ہے۔
اگریہ بیماریاں عادات بن جائیں تو ایک مسلسل نقصان کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

ان کے مجموعہ اور تسلسل سے آخر کار ایک مرض ظاہر ہوتا ہے جسے ڈپریشن کہتے ہیں۔ ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک سگرٹ پینے والے انسان کو پہلے سانس پھولنے اور دانتوں اور ہونٹوں کے رنگ بدلنے سے ابتدائی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ جو ان پر توجہ نہ دے اسے اگلی سٹیج پر گلے اور سینے کے انفیکشن جلد کا سیاہ ہونا (nicotine)خون کے سرخ خلیات کی مقدار کم ہو جانا۔ تب بھی اگر توجہ نہ دی جاۓ تو ٹی بی، پھیپھڑوں کے شدید عوارض، قوت مدافعت میں کمی، جنسی صلاحیت کی کمی شروع ہو جاتی ہے۔ اگر تب بھی لا پرواہی برتی جاۓ تو آخر کار کینسر جیسے عارضے کا شکار ہو کر انسان نعمت کو مستقل ناراض کر دیتا ہے اور اپنے اور اپنے خاندان کے لیے مسلسل۔اذیت کا باعث بھی بن جاتا ہے۔

ڈپریشن ان روحانی بیماریوں کا کینسر ہے۔

سائنس کے مطابق ڈپریشن دماغ کی کیمیائی ہئیت میں تبدیلی ، موروثی بیماری ، ہارمونز کا غیر متوازن ہونا ، شدید اور لمبی تکلیف، حادثات وغیرہ اور کمزور شخصیت ہیں۔ یہ سب ظاہری عوامل ہیں۔ یہ صرف وہ اثرات ہیں جنہیں جسم دکھاتا ہے۔

اسلام میں اس کی بڑی وجہ خوف ہے جسے کچھ ہی عرصہ قبل سائنس نے ڈپریشن کی وجوہات میں شامل کیا ہے۔

جدید میڈیکل میں اس کا ڈایاگنوز مشکل ہے۔ کیوں؟ یہ ہمیں اسلام ہی بتا سکتا ہے، سائنس صرف علامات کی وجہ سے مریض کی دیگر بیماریوں کے علاج پر مصروف رہتی ہے۔ جبکہ دماغ خودسر ہونے کی وجہ سے غلط علامات پیدا کر رھا ہوتا ہے۔ ساتھ ڈاکٹرز اس کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کے مضر اثرات کی وجہ سے بھی فورا کسی علاج سے کنارہ کرتے ہیں اور ترغیبات کے ذریعے مدافعتی نظام کو متحرک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض اوقات ڈاکٹرز اس مرض کو ڈھونڈ ہی نہیں پاتے
ڈپریشن میں جانے کے لیے جتنی اذیت درکار ہے، اس سے نکلنا بھی اتنا ہی تکلیف دہ ہے۔
چونکہ سائنس کے اس پر علاج و ہسپتال عام دستیاب ہیں۔ اس پر ہم مزید بحث نہیں کرتے۔

ہم جدید سائنس کے علاوہ محرکات، ڈپریشن کی علامات، مریض کی کیفیات، دماغ کے غلط احساسات ، جسم ، معاملات پر ہونے والے اثرات متروک یا غیر مشہور طریقہ علاج پر بات کریں گے۔ اس کا مقصد صرف اور صرف اس سے آگاہی، سستے اور کم سے کم مضر اثرات والا علاج اور علم سے استفادہ اور آنے والی نسلوں میں اس کی منتقلی کو کم سے کم کرنے کی کوشش ہے۔۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں۔

(جاری ہے)

جسمانی بیماریوں میں بدترین بیماری پیٹ کی بیماری ہے۔ اور روحانی بیماریوں میں بد ترین بیماری ڈپریشن ہے۔ آج کی تحریر پیٹ کے...
21/04/2026

جسمانی بیماریوں میں بدترین بیماری پیٹ کی بیماری ہے۔ اور روحانی بیماریوں میں بد ترین بیماری ڈپریشن ہے۔

آج کی تحریر پیٹ کے متعلق ہے۔
جدید سائنس ہو یا قدیم طب ، پیٹ کو بیماریوں کا مرکز مانا جاتا ہے۔ اور پیٹ کی بیماریوں میں قبض خطرناک ترین ہے۔
قبض سے خوراک کے جسم میں جذب ہونے کا عمل رک جاتا ہے۔ پھر کوئی غذا کوئی دوا اثر نہیں کرتی۔ قدیم طریقہ علاج میں کوئی دوا یا کسی مرض کا علاج شروع کرنے سے پہلے پیٹ کو اسہال آور ادویات سے صاف کرنے کے بعد دوا اور علاج کا آغاز کیا جاتا تھا۔
دست آور ادویات کا بے جا استعمال بھی انتہائی خطرناک ہے، اس سے نظام انہظام متاثر ہوتا ہے۔ اور آنتوں کو ایسی ادویات کی عادت پڑ جاتی ہے۔ جدید تمام ادویات جو anti constipation خصوصیات کی حامل ہیں ان کا لمبے عرصے تک استعمال پانی کی کمی اور آنتوں کے افعال کو متاثر کرنے لگتا ہے۔
تسلسل کے ساتھ قبض دماغی امراض کا بھی راستہ آسان کرتی ہے۔ بواسیر جیسے مرض کا شکار کرتی ہے۔
جسمانی حرکت کا نہ ہونا بھی اس کو مزید تقویت دیتا ہے۔
پھر IBS , OCD ,Anxiety, mood swings جیسے مرض سر اٹھاتے ہیں اور پھر نسلوں تک جنونی کیفیات وراثت میں چلنے لگتی ہیں۔

طب نبوی ص میں پیٹ کے علاج کے متعلق بہت ساری احادیث ہیں مگر انسان نے جدت کا مطلب پرانی اور مستند اشیاء کو ترک کرنے میں رکھا دیا۔
شہد، بطور دوا پیٹ کو صاف کرتا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے شہد دوا ہے، اس کا زیادہ استعمال حدیث میں بھی منع ہے۔ اسے دوا کے طور پر ہی استعمال کیا جاۓ۔
کلونجی کے متعلق حدیث تو بہت عام ہے مگر مجال ہے کہ ایمان میں اتنی طاقت ہو کہ اسے استعمال کرنے دے، کھجور، زیتون کے تیل کو پیٹ کے لیے شفا بخش کہاگیا۔
پیٹ کے بل لیٹنے سے منع کیا گیا۔
پیٹ بھر کھانے سے منع کیا گیا۔ مگر ہم نے ہر بیماری میں ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری کر لیا ہے۔

بالفرض احتیاط و عام علاج سے آرام نہ آۓ تو ڈاکٹر سے علاج انتہائی ضروری ہے۔ مگر ہر چھوٹی بیماری پر علاج کو دوڑنا اپنی جان خراب کرنے جیسا ہے۔

پیٹ پر توجہ دیں۔ پانی سے فایدہ لیں۔ زیتون اور کھجور کو شامل غذا کریں۔ شہد کو کبھی کبھار لازمی استعمال کریں۔ اور اگر یہ مرض سرائیت کر چکا ہے تو ڈاکٹر سے باقاعدہ علاج کروائیں
اللہ ہم کو پیٹ کے ظاہری اور باطنی فتنوں سے بچاۓ

بسم اللہ الرحمن الرحیم                      اللہم الرزقنی سرعة الفهم خالق کائنات نے انسان کے وجود  کو صحت عطا کی اور اسے...
21/04/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہم الرزقنی سرعة الفهم

خالق کائنات نے انسان کے وجود کو صحت عطا کی اور اسے نعمت سے گنا۔ علما نے صحت کو رزق میں شامل کیا کہ اچھی صحت بھی رزق ہے۔ عام راۓ میں صحت سے مراد جسم كا طاقتور هونا ہے۔ سائنس یہیں تک ہے۔ جبکہ اللہ پاک نے کچھ ایسے امراض کا ذکر کیا جو جسمانی نہیں مگر جسم پر بدترین اثر ڈالتی ہیں۔ جن کا ذکر تفصیل سے آتا رہے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جسمانی اور روحانی دونوں علاج کیے جائیں جس پر سائنس ابھی تک محو تحقیق ہے۔ یہ سائنس کی نا اہلیت نہیں بلکہ ترقی کے مراحل میں ابھی مزید مدارج کی ضرورت ہے جو عملا تا قیامت رہے گی۔
اسلام میں طب نبوی ص کو ہی اگر دیکھا جاۓ تو پتہ چلتا ہے طب اس وقت عروج پر تھی جب جدید طریقہ علاج کا وجود نہیں تھا۔ یونانی اپنی تحقیق و علاج میں عروج پر تھے۔
گویا جدید طریقہ علاج اصل میں سابقہ طب کی ہے۔ تب دواخانے تھے اور اب ہسپتال۔ فرق یہاں آیا کہ روحانی مرض کو جدید علم نے اہمیت نہیں دی، اب بھی ذہنی امراض کی تشخیص میں جدید طریقہ علاج سے، بہت دیر ہو جاتی ہے۔
سائنسطویل عرصہ دماغ کو سوچ کا محور مانتی رہی۔ جبکہ قرآن دل کو سوچ کا ماخذ قرار دیتا ہے۔ اب جدید تحقیق اس طرف توجہ دے رہی ہے اور اسے ایک گمان کیا جا رہا ہے کہ دماغ اصل میں دل سے احکام لیتا ہے۔
روحانی علاجوں کے جا بجا ادارے قائم ہوتے جا رہے ہیں، مسلمان عیسائی یہودی سب اس کو پریکٹس کرتے ہیں۔ اس سے یہ تو ثابت ہو جاتا ہے کہ روحانی علاج مذاہبِ کے ساتھ جڑا ہے جو جدید تعلیم یافتہ انسانوں کے نزدیک قابل قبول نہیں
نتیجہ یہ نکلا کہ جدید سے جدید تحقیق , بہترین علاج اور کمال تجربہ بھی انسان کو صحت مند رکھنے سے قاصر ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ جسمانی علاج کے ساتھ روحانی علاج کو جاری کیا جاۓ ۔ تبھی صحت جیسی نعمت کو کم از کم اس حال میں رکھا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی قدرتی مراحل سے گزرے۔

قرآن کے نزدیک تین مراحل ہیں ایک جب انسان پیدا ہوتا ہے اور کمزور ہوتا ہے۔ دوسرا مرحلہ 40 سال کی عمر ہے جںمب طاقت عروج پر ہوتی ہے پھر بڑھاپا ہے جو آخری کمزوری کا درجہ ہے۔

ہمارے 40سال کے افراد ، جب صحت کا عروج ہونا چاہیے ، کئی عجیب امراض میں مبتلا ہو چکے ہوتے ہیں

اس کے لیے روحانی علاج اور علاج بالغذا اور قدرتی پودوں سے علاج کو اہمیت دینی چاہیے۔

اللہ ہم سب کو صحت کی قدر اور حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین۔

Address

Azad Kashmir
Gam Kotli

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Qadar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share