27/10/2024
"اگر ایسا ہوتا تو"
کیا خوب نظارے سامنے آتے اور ہم انہیں دیکھ کے خوش ہوتے مگر اگلے ہی پل کوئی سنگین صورتحال واقع ہوجاتی تو ہم ان نظاروں کو بھول کر اس صورتحال سے پیچھا چھڑانے میں دل و جان لگا دیتے کہ اس کا کوئی حل ملے کوئی اس کا مداوا کرے کوئی اس سے جان بچے مگر تب یہ سوال جنم لیتا ہے کہ "اگر ایسا ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا "یہ سوال میرے آپ کے اور آپ سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کے ذہن میں گردش کرتا ہے مگر ہم صرف مثبت نتائج برآمد کرنے کی جانب توجہ دیتے رہے ہیں فرض کریں ناگہانی صورتحال سے آپ کو پناہ مل جائے ایک ایسی طاقت سے جس پر کسی کا غلبہ نہیں جو صاحب سے طاقت والا ہے جس کی اجازت کائنات کی ریل پیل کے لئے نہایت ضروری ہے جس کا وجود سے یہ سب انعام دیا جائے جس کے اک اشارے بھی بہرے، بولنے سے قاصر ،حرکت و جنبش سے محروم ،تالیف کے متلاشی ،توحید کے متلاشی ،نعرہ تکبیر پڑھنے والوں کی تعداد میں ولولہ پیدا ہو جس نے ساتوں آسمانوں کو نور بخشا ،جس رب ہونے میں کوئی شک نہیں اگر وہ نہ چاہے تو یہ تقلم بھی نہ ہو اس نے جو سوچا خوب سوچا ۔یہ تو حمد ہے جناب مگر اس کا تعلق کدھر ہے مسلہ تب آتا ہے جب ہم اس سے غافل ہو جاتے ہیں
جب دنیا تباہ ہونے کو آ جاۓ تب آخری امید بھی روشنی ڈالتے ہوئے گزر کرتی ہے تب تک دیر کا دامن نہیں پکڑ رہی ہوتی ،اس کو صرف ایک کن روکے رکھتی ہے اگر اس کا حکم ہو جاۓ تو ہی ایسا ہوتا کا جملہ مکمل ہو پاتا ہے ۔المختصر تب تک کو خواہش بھی وجود میں نہیں آتی ،تب ہی آمد ہوتی ہے خوشیاں ملنے کے قریب ہوتی ہیں اور یہاں ختم ہے کائنات ۔۔۔۔۔