پنج تن پاک گوجرہ

پنج تن پاک گوجرہ پنج تن پاک فری ڈسپنسری نیو پلاٹ گلی نمبر1 گوجرہ

17/08/2026
17/08/2026
17/08/2026
17/08/2026

چھوڑ دینا کیوں ضروری؟
(قاسم علی شاہ)
گلوبل فلورشنگ سٹڈی ہر سال دنیا بھر میں ایک سروے کرتی ہے جس کا مقصد یہ جاننا ہے کہ مختلف ممالک میں لوگ کس قدر خوش حال ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سروے میں صرف لوگوں کی آمدن اور روزگار کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ ان کی نفسیاتی اور ذہنی صحت کا خصوصی جائزہ لیا جاتا ہے۔ اسی طرح کی ایک تحقیق 2022 سے 2024 کے درمیان کی گئی جس میں 23 ممالک سے 207919 افراد شریک ہوئے۔ ان سے ایک سوال کیا گیا،”جو لوگ آپ کو تکلیف پہنچاتے ہیں، آپ انھیں کتنی بار معاف کرتے ہیں؟“شرکا نے مختلف جوابات دیے، کسی نے کہا ”ہم کبھی معاف نہیں کرتے“، کسی نے کہا”ہم تو ہمیشہ دوسروں کو معاف کرتے ہیں۔“ایک سال بعد انہی افراد کی زندگی کے 56 مختلف پہلوؤں کا دوبارہ جائزہ لیا گیا اور جو لوگ دوسروں کو جلدی معاف کر دیا کرتے تھے ان میں بڑی حیرت انگیز تبدیلیاں نوٹ کی گئیں، معلوم ہوا کہ دوسروں کو جلدی معاف کرنے والے لوگوں کی زندگی میں اطمینان زیادہ تھا، وہ خوش اور پُرامید تھے، منفی جذبات دوسروں کی نسبت کم تھے، ان کے تعلقات اچھے تھے، ان کے اندر دوسروں کے ساتھ تعاون کرنے کا جذبہ زیادہ تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کی زندگی میں مقصد کا احساس بھی دوسروں سے زیادہ تھا۔

انتقام سرا سر نقصان ہے۔ جب کوئی شخص ہمیں تکلیف دیتا ہے اور ہم برسوں تک منفی جذبہ اپنے دل میں رکھتے ہیں تو اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دماغ با ربار خطرے کی حالت میں واپس آتا رہتا ہے، جس سے کورٹیسول کی شرح بلند ہوتی ہے، بلڈپریشر بڑھ جاتا ہے اور فکر کی وجہ سے ہماری نیند تک اُڑجاتی ہے، لیکن جب ہم دوسروں کو معاف کر دیتے ہیں تو دماغ کو پیغام ملتا ہے کہ ”خطرہ گزر چکا ہے، اب دفاعی حالت سے باہر آ جاؤ“۔ اسی وجہ سے امیگڈالا پرسکون ہو جاتا ہے، پری فرنٹل کارٹیکس زیادہ موثر انداز میں کام کرتا ہے، کورٹیسول کم ہوتا ہے، دل کی دھڑکن متوازن ہوتی ہے اور انسان کی پریشانیاں ختم ہوجاتی ہیں۔

اس موضوع پر مجھے ایک بہترین کتاب پڑھنے کا موقع ملا، جس کا نام The Art of Letting Go ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ زندگی کے تلخ تجربات کی وجہ سے پیدا ہونے والے منفی جذبات کو چھوڑنا بہت ضروری ہے۔ کیوں کہ اگر ہم منفی جذبات کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھیں تو وہ ہماری ذہنی، جذباتی اور روحانی کیفیت کو بے حد متاثر کرتی ہیں۔ اس کتاب میں زندگی کو پرسکون بنانے کے لیے بہترین تجاویزدی گئی ہیں، آئیے کچھ اہم نکات کاجائزہ لیتے ہیں۔

اختیار کی تقسیم
اگر آپ کی زندگی پریشانیوں اور مسائل کا شکار ہیں تو اس کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے اختیار کو تقسیم نہیں کیا ہوا، مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس بات کا تعین نہیں کیا کہ کون سی چیزیں آپ کے دائرہ اختیار میں ہیں اور کون سی نہیں۔ آپ ایسے حالات، واقعات اور لوگوں کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں جو آپ کے اختیار میں ہی نہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ کی فکریں بڑھ جاتی ہیں اور آپ پر مایوسی اور ذہنی دباؤ چھانے لگتا ہے۔ اس مسئلے کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کریں۔ پہلاحصہ: کون سی چیزیں آپ کے اختیار میں ہیں۔ دوسرا حصہ: کون سی چیزیں آپ کے اختیار سے باہر ہیں۔ پہلے حصے میں آپ کی عادات، رویے، محنت، کوشش اور صبر جیسی چیزیں شامل ہیں۔ آپ صرف اور صرف اپنی کوشش کے لیے ذمہ دار ہیں، نتیجے کے لیے نہیں۔ جب کہ دوسرے لوگوں کے رویے، ماضی کے واقعات، اچانک پیش آنے والے حادثات اور مستقبل، آپ کے اختیار میں نہیں۔ اگر آپ ان چیزوں کے متعلق ضرورت سے زیادہ سوچیں گے تو آپ پریشان ہی ہوں گے۔ اس لیے ہر صورت حال میں خود سے یہ سوال پوچھیں کہ یہ معاملہ میرے اختیار میں ہے یا نہیں؟ اگر جواب نفی میں ہو تو اسے چھوڑ دیں اور ان کاموں پر توجہ دیں جنھیں آپ واقعی بدل سکتے ہیں۔

غیر جانب دار سوچ
ہم میں سے ہر کوئی زندگی کو پرسکون بنانا چاہتا ہے، اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنی سوچ کو غیرجانب دار بنایا جائے۔ بعض اوقات ہم کسی بات پر فوراً فیصلہ کر لیتے ہیں، کسی واقعے کو اچھا/برا کہہ دیتے ہیں یا کسی شخص کے بارے میں فوری طور پر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ یہ کامیاب /ناکام ہے۔ یہی جلد بازی بعد میں ذہنی دباؤ اور مایوسی کا سبب بنتی ہے۔ جب آپ ہر وقت خود کو یا دوسروں کو قصوروار ٹھہراتے رہتے ہیں تو آپ حقیقت کے بجائے جذبات کے مطابق سوچتے ہیں۔

اس مسئلے کا بہتر حل یہ ہے کہ ہر صورتِ حال کو پہلے صرف حقیقت کے طور پر دیکھیں۔ اگر آپ سے کوئی غلطی ہو جائے یا کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آجائے تو فوراً خود کو ناکام یا کسی اور کو ذمہ دار نہ ٹھہرائیں۔ پہلے یہ دیکھیں کہ اصل میں ہوا کیا ہے۔ پھر یہ تسلیم کریں کہ اس واقعے کی وجہ سے آپ کو غصہ آرہا ہے، آپ مایوسی ہورہے ہیں یا بے چینی محسوس کر رہے ہیں۔ جب آپ حقیقت کو جذبات سے الگ کرکے دیکھتے ہیں تو آپ کے لیے درست فیصلہ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

ذہنی فاصلہ
اگرآپ کو غصہ آتا ہے، خوف زدہ ہوتے ہیں، پریشان ہوتے ہیں یامایوسی کاشکار ہوتے ہیں توکوئی بات نہیں کیوں کہ یہ زندگی کاحصہ ہیں،البتہ مسئلہ تب پیدا ہوتاہے جب یہ جذبات ہماری سوچ پر قبضہ کرلیں۔اس صورت میں ہم حقیقت کو ویسا نہیں دیکھ پارہے ہوتے جیسی وہ ہوتی ہے۔ہماراردعمل جذبات کی بنیاد پر ہوتاہے جس کی وجہ سے ہمیں بعد میں پچھتانا پڑتاہے۔اس صورتِ حال سے نکلنے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ ذہنی فاصلہ اختیارکریں۔ یعنی چند لمحوں کے لیے خود کو اس واقعے سے الگ کرلیں اور یوں تصورکریں گویاآپ اس واقعے کا حصہ نہیں بلکہ دور سے اسے دیکھ رہے ہیں۔پھر اپنے بارے میں ”میں“کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے اپنا نام استعمال کریں یعنی یہ نہ کہیں میں پریشاں ہوں بلکہ کہیں،خالد(آپ کانام)پریشان ہے۔ یہ معمولی سی تبدیلی آپ کے اور آپ کے جذبات کے درمیان فاصلہ پیدا کردیتی ہے۔ اس سے جذبات کی شدت کم ہوجاتی ہے اور سوچ پہلے سے زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔

اسی طرح اپنے مسئلے کو ہمیشہ بڑی تصویر میں دیکھنے کی کوشش کریں۔ خود سے پوچھیں کہ کیا یہ مسئلہ چند ماہ یاسال بعد بھی قائم رہے گا؟دوسراطریقہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔ تصور کریں کہ آپ کسی بلند مقام سے اپنی زندگی کو دیکھ رہے ہیں۔جب آپ اس زاویے سے اپنے مسائل کو دیکھیں گے تووہ زیادہ بڑے محسوس نہیں ہوں گے۔

پرفیکشن کے پیچھے مت بھاگیں
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ کامیابی صرف اسی صورت مل سکتی ہے جب ہر کام کوبالکل پرفیکٹ کیاجائے۔کاملیت اچھی چیز ہے لیکن حقیقت میں یہ انسان کے لیے پریشانی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ جب آپ اپنے لیے ایسا معیار مقرر کریں جس تک پہنچناممکن نہ ہوتوپھرآپ کومعمولی سی غلطی بھی بڑی ناکامی لگتی ہے۔ آپ اپنے کام سے مطمئن نہیں رہتے، ہر وقت اپنی خامیاں تلاش کرتے ہیں اور بعض اوقات توناکامی کے خوف سے نیا قدم بھی نہیں اٹھاپاتے۔

سمجھ داری یہ ہے کہ کمال کے بجائے بہترین کارکردگی کو اپنا مقصد بنایاجائے۔ اپنے کام میں پوری محنت کریں اور اچھا معیار برقرار رکھیں،البتہ یہ بات بھی تسلیم کریں کہ انسان سے غلطی ہوسکتی ہے۔کامیابی کامطلب یہ نہیں کہ آپ کبھی گریں نہ، بلکہ کامیابی یہ ہے کہ آپ اپنی ناکامیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھیں، جب آپ پرفیکشن کے بجائے بہتری پر توجہ دیں گے توآپ کے ذہن پر کام کادباؤنہیں ہوگااورآپ اچھے طریقے سے کام مکمل کرپائیں گے۔

برین ڈمپنگ
بعض اوقات ایک ہی وقت میں ہمارے ذہن میں بہت سی باتیں چل رہی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے ہم کسی ایک پر بھی توجہ نہیں دے پاتے۔ ادھورے کام، مختلف ذمہ داریاں، پریشانیاں اور مستقبل کی فکریں مل کر ہمارے ذہن کو بھاری اور بوجھل بنادیتی ہیں۔یہ چھوٹے چھوٹے خیالات ہمیں تھکادیتے ہیں،جیسے ایک کمرے میں ہر چیز بکھری پڑی ہوتووہ کتنا برالگتاہے، ایسے ہی ہمارے ذہن میں بکھرے خیالات بھی ہم سے مثبت خیالات کی خوب صورتی چھین لیتے ہیں۔

اس الجھن سے نکلنے کا ایک آسان طریقہ برین ڈمپنگ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے ذہن میں چلنے والی ہر بات کو کاغذ پر منتقل کر دیں۔ چند منٹ کے لیے قلم کاغذ تھامیں اور جو کچھ ذہن میں آ رہا ہے، اسے لکھتے جائیں۔ یہ مت سوچیں کہ کون ساخیال اہم ہے اور کون ساغیر اہم۔مقصد صرف ذہن کا بوجھ کاغذ پر منتقل کرنا ہے۔ اپنی تحریر کو غور سے دیکھیں۔ آپ کو احساس ہوگا کہ بہت سی باتیں اتنی پریشان کن نہیں تھیں جتنی وہ محسوس ہو رہی تھیں۔ اب دیکھیں کہ ان میں سے کون کون سے کام سب سے اہم ہیں، انھیں ایک ایک کرکے مکمل کرتے جائیں۔جب آپ اپنی ترجیحات متعین کرلیتے ہیں توآپ کاذہنی دباؤکم ہوگا،توجہ بہتر ہوگی اورآپ روزمرہ کے کام زیادہ آسانی اور اطمینان کے ساتھ انجام پاسکیں گے۔
پریشانی کو اپنی ذات سے الگ کریں

ہمارے ہاں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے مسئلے کو اپنی پہچان بنالیتے ہیں۔بار بارکی ناکامی کے بعدوہ خود کو ناکام انسان سمجھنے لگتے ہیں۔اگروہ خوف یا بے چینی کاشکار ہوں توسمجھتے ہیں کہ ان کی شخصیت ہی ایسی ہے۔یہ سوچ مسئلے کو مزید خراب کردیتی ہے کیوں کہ آخرکار یہ لوگ یقین کربیٹھتے ہیں کہ وہ بہتر ہوہی نہیں سکتے۔

یاد رکھیں کہ خوف، غصہ، مایوسی یا بے چینی آپ کی شخصیت کالازمی حصہ نہیں بلکہ عارضی کیفیات ہیں۔ یہ آتی ہیں اور پھر ختم بھی ہو جاتی ہیں۔ جب آپ انھیں اپنی شناخت بنالیتے ہیں توپھر ان پر قابو پانا مشکل ہوجاتاہے، البتہ اگر انھیں اپنی ذات سے الگ کرکے صرف ایک مسئلہ سمجھ لیاجائے توانھیں کمزورکرناآسان ہوجاتاہے۔

معاف کردیں
جس انسان کے دل میں غصہ اور تلخیاں ہوں تووقت کے ساتھ یہ مضبوط ہوتی جاتی ہیں اور کئی بار تو انسان کے دل پر ایسا بوجھ بن جاتی ہیں کہ اس کے سکون و اطمینان کو تباہ کرکے رکھ دیتی ہیں۔بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ معاف کرنے کا مطلب دوسرے کی غلطی کو درست مان لینا یا اس سے پہلے جیسے تعلقات قائم کر لینا ہے، لیکن درحقیقت معافی کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے دل کو اس غصے اور نفرت سے آزاد کر دیں جو آپ کو اندر ہی اندر تکلیف دے رہا ہے۔

معاف کرنے کا عمل ایک ہی دن میں مکمل نہیں ہوتا۔ سب سے پہلے یہ ماننا ضروری ہے کہ آپ کو کس بات نے تکلیف پہنچائی ہے۔ پھر یہ فیصلہ کریں کہ آپ اس درد کو ہمیشہ اپنے دل میں نہیں رکھیں گے، اس کے بعد دوسرے شخص کے حالات، کمزوریوں یا غلط فہمیوں کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں۔اس کا مقصد اس کی غلطی کو درست ثابت کرنا نہیں، بلکہ صورتِ حال کو زیادہ وسیع نظر سے دیکھنا ہے۔ آخر میں خود سے یہ سوال کریں کہ میں نے اس تجربے سے کیا سیکھا ہے؟ جب آپ کسی تکلیف سے سبق حاصل کر لیتے ہیں تو وہ آپ کو دُکھ نہیں دیتی بلکہ آپ کی شخصیت کو مضبوط بناتی ہے۔

اسی طرح خود کو معاف کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر آپ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کریں، جہاں ممکن ہو اس کی تلافی کریں اور خود کو سزا دینا چھوڑ دیں۔ ماضی کو واپس نہیں لایا جا سکتا، لیکن مستقبل کو بہتر ضرور بنایا جا سکتا ہے۔ یاد رکھیں، معافی کا فائدہ سب سے پہلے آپ کی ذات کو ملتا ہے۔ جب آپ دل کا بوجھ اتار دیتے ہیں تو آپ کے لیے آگے بڑھنا اور نئی منازل تک پہنچنا آسان ہوجاتا ہے۔

16/08/2026
16/08/2026

آبنائے ہرمز ایران کا نا قابل تقسیم حصہ ہے، امریکا کبھی آبنائے ہر مز پر قدم نہیں رکھ سکے گا، سر براہ ایرانی عدلیہ

16/08/2026

Address

گوجرہ New Pilot Gali No 1
Gojra
56000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when پنج تن پاک گوجرہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share