Gillani Homeo

Gillani Homeo 2nd generation complete and trusted homeopathic treatment center serving since 1963.

01/06/2026

Ab tum sb sy baad atty ho....waa

31/05/2026
Think about
30/05/2026

Think about

ایک بادشاہ کے دربار میں اگلے دن علما کا اجتماع ہونا تھا، ایسے میں بادشاہ کو اچانک خواہش ہوئی کہ اجتماع میں اس کا دس سالہ...
29/05/2026

ایک بادشاہ کے دربار میں اگلے دن علما کا اجتماع ہونا تھا، ایسے میں بادشاہ کو اچانک خواہش ہوئی کہ اجتماع میں اس کا دس سالہ بیٹا بھی بطور ’عالم‘ شریک ہوجائے، بادشاہ نے شہر کے سب سے بڑے استاد کا بلاوا بھیجا جو مغرب سےپہلے محل پہنچ گئے، استاد نے نماز کی امامت کی، کھانا بھی کھالیا جب قہوہ آیا تو بادشاہ نے کہا کہ وہ شہزادے کو کل تک عالم بنادیں تاکہ وہ بھی بطور عالم دربار میں شریک ہوسکے، استاد کے پاس کوئی راستہ تو نہ تھا لیکن اس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد ہامی بھرلی اور بادشاہ سے کہا کہ شہزادے کو ساتھ جانے کیلئے تیار کردیں۔
مدرسہ پہنچ کر استاد نے نماز عشاء پڑھائی، شہزادے کو بلاکر اپنے پاس بٹھایا اور کہا کہ دیکھو بیٹا ایک رات میں کوئی عالم نہیں بن سکتا لیکن کل کا معاملہ یہ ہے کہ تمہیں عالم ثابت کرنا ہے وہ میں ہر صورت کروں گا، تمہیں پوری رات کتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں، تم میری بات دھیان سے سنو اور سکون سے سو جاؤ، کل کی محفل میں تم سے کوئی بھی سوال ہو ایک ہی جواب دینا کہ ’اس پر اختلاف ہے‘ اور ہربار تھوڑا سوچ کر تحمل سے دینا ہے، تمہارے باپ کی عزت اور میری آزادی دونوں تمہارے ہاتھ میں ہیں۔
شہزادے نے استاد کی بات سنی اورشکریہ بھی ادا کیا کیوں کہ وہ سوچ کر بیٹھا تھا کہ آج پوری رات کتابیں پڑھنا پڑیں گی، رات بھر سو نہیں سکوں گا، لہذا اس کے لیے اس وقت سب سے اہم چیز نیند تھی۔
اگلی صبح بادشاہ کا دربار لگا، کئی عالم پہنچ گئے، شہزادہ بھی جبہ پہن کر اسٹیج پرجاپہنچا، ایسے میں استاد محترم اپنے تیس چالیس شاگردوں کے ساتھ دربار میں جاپہنچے، بادشاہ نے علما اور شرکا کو تعارف کرایا کہ اس کا بیٹا بھی عالم بن چکا ہے، پہلے سب لوگ حیران ہوئے اور پھر بادشاہ کی ناراضی کے خوف سے خاموش ہوگئے، ایسے میں بادشاہ نے خود ہی بچے سے سوالات پوچھنے کی خواہش کردی۔
پہلے پہل شرکا نے خلفائے راشدین، مسواک کا سائز، نکاح اور طلاق کے مسائل سمیت کئی موٹے فقہی سوالات کئے جن پر شہزادہ جواب دیتا کہ ’اختلاف ہے‘ کیوں کہ مسلمانوں کا زیادہ تر چیزوں پر اختلاف ہے تو ہرچیز پر استاد وضاحت دے دیتے، ان کے باقی شاگرد فوری طور پر شہزادے کے حق میں شور مچاتے، نعرے لگاتے اور بادشاہ خوش ہوجاتا۔
ایسے میں ایک شخص نے پوچھ لیا عالم صاحب نمازیں کتنی ہیں، شہزادے نے رٹا رٹایا جواب داغ دیا کہ اختلاف ہے، جس پر استاد نے وضاحت دی کہ عالم صاحب فقہہ کا علم جانتے ہیں، امام ابوحنیفہ کے ماننے والے پانچ اور امام جعفر صادق کے پیروکار تین وقت نمازیں ادا کرتے ہیں، کیوں کہ شہزادہ عالم ہے تو اس نے عالم والا ہی جواب دیا ہے ورنہ ہر پانچ سات سال کے بچے کو یاد ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں اکثریت پانچ وقت نماز ادا کرتی ہے۔
اگلا سوال عید کا تھا کہ کرنی چاہیے تو شہزادے کا جواب وہی ’اختلاف‘ تھا، جس پر استاد صاحب نے وضاحت دے دی کہ برصغیر میں زیادہ تر لوگ چاند دیکھ کر روزے رکھتے ہیں، جبکہ بوہری ایک دو دن پہلے روزہ شروع کرتے ہیں اور عید بھی ایک روز پہلے کرتے ہیں۔
محفل میں ایک ڈھائی ہوشیار شخص بھی موجود تھا، جو معاملے کو پوری طرح سمجھ چکا تھا لہذا اس نے سوال داغ دیا کہ یہ بتاؤ کے خدا کتنے ہیں؟
دس سالہ شہزادے کو صحیح جواب معلوم تھا لیکن اس کو استاد کی بات بھی یاد تھی کہ ایک ہی جواب دینا ہے لہذا اس نے جواب دیا کہ ’اس پر اختلاف ہے۔‘
اس بار محفل میں سناٹا چھا گیا تھا، خود مدرسے کے طلبہ کو بھی لگا تھا کہ استاد پھنس چکے ہیں، اب دودھ کا دودھ اور پانی کا ہوگا اور استاد کی اگلا کھانا پانی اب جیل میں ہی ہوگا لیکن استاد نے ایک بار پھر لقمہ دیا انہوں نے کہا شہزادہ کوئی عام عالم یا عام ’بچہ‘ نہیں ہے ان کی شخصیت غیر معمولی ہے انہوں نے صرف اسلام کا علم حاصل نہیں کررکھا بلکہ وہ دیگر مذاہب کو بھی جانتے ہیں لہذا یہ جواب بھی درست ہے، مسلمان ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں، عیسائی تین ’خدا‘ مانتے ہیں جبکہ ہندو اور پرانے یورپی مذاہب میں بے شمار ’دیوتا اور دیویاں‘ ہیں۔
استاد کا جواب دینا تھا کہ شاگرد کھڑے ہوگئے اور خوب شور مچایا، شہزادے کے حق میں نعرے لگائے بادشاہ بے پناہ خوش ہوا اور حکم دیا کہ خدا کے بعد کوئی سوال نہیں بنتا، لہذا محفل برخاست کی جاتی ہے، بادشاہ کو اتنا خوش دیکھ کر مزید کسی کی ہمت بھی نہ ہوئی سوال کرے یا اعتراض اٹھائے۔
اس واقعے سے دو قسم کے علما پیدا ہوئے جو مدرسے کے طلبہ تھے، یعنی ’اختلافی علماء‘ اور ’اتفاقی علماء‘، اسی نوعیت کے بے شمار علما ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جو بغیر علم، تحقیق اور دلیل اختلاف یا اتفاق کرتے ہیں اور شور مچاتے ہیں۔

27/04/2026

Celebrating my 5th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

مرد اور عورت کی نفسیات کا فرق سمجھنے کے لیے ڈاکٹر جان گرے کی دلچسپ ترین تقریر سے اخذ کردہ میرے چند پسندیدہ نکات۔۔ انہیں ...
24/12/2024

مرد اور عورت کی نفسیات کا فرق سمجھنے کے لیے ڈاکٹر جان گرے کی دلچسپ ترین تقریر سے اخذ کردہ میرے چند پسندیدہ نکات۔۔ انہیں سمجھ لینا بہت ضروری ہے۔۔
ہمیں جاننا ہوگا کہ ان دونوں کا دماغ، اس میں موجود کیمیکلز اور ہارمون کیسے ایک ہی صورتحال میں مختلف انداز میں کام کرتے ہیں۔۔

یہاں سب سے اہم کیمیکل Dopamine ہے۔۔ کچھ بھی الگ، منفرد، نیا تجربہ حاصل کرنے کا شوق مرد کے دماغ میں Dopamine ابھارتا ہے۔۔ ڈوپامین ہمیں موٹیویٹ کرتا ہے، سرور فراہم کرتا ہے، ہماری توجہ بڑھاتا ہے، یہی وہ کیمیکل ہے جو ہمیں خوشی دیتا ہے اور ہمارے رشتوں میں passion بڑھاتا ہے۔۔
ہماری چاہ، لت، خواہش، لذت اور خوشی سے بے قابو وغیرہ ہوجانے کی وجہ ڈوپامین ہی ہے۔۔
مردوں میں ڈوپامین ایک ہارمون بناتا ہے جسے Testosterone کہا جاتا ہے۔ جب بھی مرد کسی نئے تجربے سے گزرتا ہے اس کا ٹیسٹوسٹیرون لیول بھی شدت سے بڑھتا ہے۔
شادی شدہ انسان ایکسٹرا میریٹل افئیر میں کیوں مبتلا ہوجاتا ہے؟ کیونکہ اسے ڈوپامین ملتا ہے جو نئے رشتے میں ٹیسٹوسٹیرون بڑھاتا ہے اور وہ خود کو دوبارہ جوان محسوس کرتا ہے۔۔
مردوں کے لیے ٹیسٹوسٹیرون وہی ہارمون ہے جو اسٹریس ختم کردینے کے لیے بے حد مفید ہے۔۔ جب جب اسے کسی عمل میں مزہ آئے گا تب تب ڈوپامین ہٹ کرے گا اور ٹیسٹوسٹیرون بڑھائے گا۔۔
سوچیں جس مرد نے ایک طویل عرصے تک کسی سے جنسی یا رومانوی تعلق قائم نہ کیا ہو، یا اپنے مزاج کے خلاف کوئی زندگی گزار رہا ہو وہ کس قدر بد مزاج اور چڑچڑا ہوجاتا ہے۔۔ نفسیات دان پہلے سوچتے تھے کہ ٹیسٹوسٹیرون کی قلت ہی اس کی واحد وجہ ہے۔۔ مگر نہیں، مرد کے لیے Estrogen نامی ہارمون ہے جو اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ اس کی شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔۔ بہت زیادہ ایسٹروجن اور بہت کم ٹیسٹوسٹیرون کا combo مرد کے لیے بہت ہی خطرناک ہے۔۔
یہ مجموعہ دل کے امراض، پروسٹیٹ کینسر وغیرہ کا باعث بنتا ہے۔۔ مردوں میں ڈپریشن کا شکار ہونے کی سب سے بڑی وجہ بھی ٹیسٹوسٹیرون کی کمی ہوتی ہے۔
جیسے مرد کی اسٹریس کم کرنے کے لیے ٹیسٹوسٹیرون فایدہ مند ہے، وہیں جہاں وہ خود کو بے بس محسوس کرتا ہے وہاں اس کا ٹیسٹوسٹیرون بدل جاتا ہے Estrogen میں جو اس کے دماغ میں ڈر اور غصہ پیدا کر دیتا ہے۔۔ ایک enzyme جس کا نام aromataste ہے، یہ مرد کے ٹیسٹوسٹیرون کو ایسٹروجن میں بدل دیتا ہے۔۔
ہر مرد کے اندر عورت سے تیس گنا زیادہ ٹیسٹوسٹیرون ہونا بہت ضروری ہیں تب جاکر وہ کہیں بیوی سے ڈیل کر سکے گا۔۔ اگر یہ کم ہو تو وہ بس بیٹھ کر وقت گزارنا چاہتا ہے، ٹی وی دیکھنا، گیمز کھیلنا، عاجز اور تھکاوٹ محسوس کرنا جیسے جزبات اس پر غالب آکر اسے عارضی سست اور کاہل بنا دیتے ہیں جس کی بدولت وہ کچھ تعمیری نہیں کرنا چاہتا، بیوی سے بات تک نہیں کرنا چاہتا۔۔

وہیں جب عورت خوش ہوتی ہے تب وہ جادوئی ہارمون ریلیز کرتی ہے جسے ہم Oxytocin کہتے ہیں۔ یہ ہارمون عورتوں میں اسٹریس کم کرتا ہے۔۔ جب وہ پھول دیکھتی ہیں، کیوٹ بچوں کی طرف دیکھتی ہے، کوئی ایسی چیز جو اسے پسند ہو، بچہ جننے کے بعد جب پہلی دفعہ اسے سینے لگاتی ہے تو اس کے اندر بڑی مقدار میں آکسیٹوسن بنتا ہے۔۔
پرانے دور کی عورتوں میں بہت زیادہ آکسیٹوسن پایا جاتا تھا آج کی عورت کے مقابلے میں۔۔ وجہ؟ پہلے کی عورت اب کی عورت سے بہت زیادہ feminine ہوتی تھیں۔۔
ہر چھوٹی چھوٹی خوشی اس کے اندر آکسیٹوسن بڑھاتی ہے، مرد کا اسے گلے لگانا آکسیٹوسن کا ایک پوائنٹ، پھول دینا، پیار سے دیکھنا، بات سننا، ساتھ ہونا، سمجھنا، تحفہ دینا غرض کہ ہر وہ عمل جو عورت کو پسند ہو ،جب جب ہوگا اس کا ایک پوائنٹ آکسیٹوسن بڑھ جائے گا۔۔

عورت میں جب ٹیسٹوسٹیرون بڑھے گا جو مرد کے لیے تو بہت فایدہ مند ہے، لیکن حد سے زیادہ عورت میں ہو تو مسئلہ ہے، وہ خود کو بہت آزاد محسوس کرے گی، خود مختار جیسے اسے کسی کی ضرورت ہی نہیں۔۔ اس میں دوسری عورتوں کی عملی مدد کرنے کا دل چاہے گا کیونکہ یہ مردانہ فیکٹر ہے جو اس نے اپنی نفسیات میں masculinity بڑھ جانے کی وجہ سے adopt کرلیا ہے۔۔
خیر پچھتر فیصد عورتوں میں آج بھی ٹیسٹوسٹیرون کم اور ایسٹروجن زیادہ ہے۔۔ اور آکسیٹوسن کا گھٹنا بڑھنا تو حالات و واقعات پر ہی منحصر کرتا ہے پر جس قدر زیادہ آکسیٹوسن اسے ملے گا اتنا اس کا کولیسٹرول کم کرے گا جس کے نتیجے میں cortisol بھی lower کرے گا جو عورت کے لیے اسٹریس ہارمون ہے۔۔

مرد کو اگر آکسیٹوسن کا انجیکشن لگایا جائے تو وہ جاکر سو جائے گا۔۔ جیسے قدرتی جنسی عمل کے بعد مرد کی حالت ہوتی ہے، وہ سونا پسند کرتا ہے۔۔ وہیں اگر مرد کو سمجھ آجائے کہ عورت کو خوش رکھنے کے لیے کس کس طرح اس کا آکسیٹوسن بڑھایا جا سکتا ہے؟ تو وہ اچھے سے اسے خوش رکھ پائے گا۔۔ ساتھ ہی مرد کے لیے ایک achievement بھی ہوگی کہ وہ مسئلہ حل کر رہا ہے جس کے نتیجے میں اس کا اپنا ٹیسٹوسٹیرون لیول بھی اوپر جائے گا جو اس کے لیے بھی مفید ہے۔۔ یہ وہ تعلق کی تجارت ہے کہ جس میں جس قدر آکسیٹوسن بڑھانے میں مرد کامیاب ہوگا اتنا ہی اس کا اپنا بھی فایدہ ہوگا اپنی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے۔۔
عورت کو چھوٹی چھوٹی خوشیاں دیجیے۔۔ پھر دیکھیں کمال اور دو طرفہ فوائد۔۔ وہ ہر وقت تیار ہے مرد کی نظرِ کرم کے لیے۔۔ جب یہ نہیں ملتا تب ہی اس کا اسٹریس لیول مرد کے مقابلے میں دگنا رہتا ہے۔۔ ہاؤس وائفس کا تو چار گنا زیادہ ہوتا ہے۔۔

اگر یہ دونوں طرف سے ایک دوسرے کی اس نفسیات کو سمجھ کر رشتہ چلانا چاہیں تو بہت کچھ اچیو کیا جا سکتا ہے۔۔ اس نے کچھ نیا پہنا، کوئی نیا اسٹائیل، ہئیر کٹ، جھمکے، یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں اس میں آکسیٹون کے پوائنٹس بڑھائیں گی۔۔
مرد جب جب کوئی problem solve کرے گا اس کا ٹیسٹوسٹیرون بڑھے گا۔۔ مثلاً: عورت کی خوشی، یہ جان لینا کہ وہ چاہتی کیا ہے؟ نیز انہیں ضرورت ہوتی ہے عملی سسٹم کی، فارمولے کی جسے اپلائی کرتے ہی مسئلہ حل ہونا شروع ہوجائے۔۔ مردوں میں لیفٹ برین یہاں زیادہ کام کرتا ہے جسے left anterior parietal lobe بھی کہا جاتا ہے، عورتوں میں اس کا سائز بھی دوگنا ہوتا ہے، لیکن کارآمد زیادہ مرد کا ہے جسے وہ مختلف مشقوں میں لگاتا ہے مثلاً ٹوسٹر فکس کردینا، کمپیوٹر ارینج کرنا اور تمام ٹیکنیکل چیزیں بھی اس کا ٹیسٹوسٹیرون بڑھانے میں کام آتی ہیں۔۔

مرد جو حکمت سمجھنے میں مار کھا جاتے ہیں وہ یہ کہ اگر ایک وقت میں عورت کے لیے دو درجن گلاب کے پھول لائیں تو سوچتے ہیں کہ اس کے عوض چوبیس آکسیٹوسن پوائنٹس بنا لیں گے، جبکہ ایسا نہیں ہے، یہ ایک عمل تھا تو ایک گلاب لائیں یا پورا ٹوکرا، پوائنٹ ایک ہی ملے گا۔۔ کمرہ گلابوں سے بھر دیا، ممکن ہے دو پوائنٹس مل جائیں ایفرٹ کے۔۔ اس سے زیادہ نہیں۔۔ آپ صبح اچھے سے اٹھ کر کام پر چلے گئے، ایک پوائنٹ، واپس آئے اور شور شرابہ نہیں کیا، ایک پوائنٹ، آپ شادی شدہ ہیں، ایک پوائنٹ بس عام جوڑے ایک دن میں آکسیٹوسن کے دس سے بارہ پوائنٹس بھی نہیں حاصل کر پاتے۔۔

یاد رکھیں وہ اپنے پوائنٹس خود بھی بڑھا رہی ہیں جیسے آپ کے لیے دل سے کھانا بنایا، پوائنٹ، کینڈل لائٹ ڈنر، ایک پوائنٹ، آپ کی خاطر گھر کی صفائی، تھکن کے باوجود خوشی کا احساس، پوائنٹ۔۔ اگر وہ کہے کہ میں نے آپ کا پسندیدہ کھانا بنایا ہے، تو جان لیں کہ اب آپ بڑی مشکل میں پھنس گئے، کیونکہ جتنے پوائنٹس اس نے آپ کی غیر موجودگی میں خود سے بنائے ہیں اتنے اگر آپ نے نہیں بنائے اپنی موجودگی میں۔۔ تو یہ بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اس نے سب کچھ اپنی نہیں آپ کی پسند کے لیے کیا، تو اب توقع رکھتی ہے کہ اسے سراہا جائے، اتنے پوائنٹس بناکر دیئے جائیں۔۔ جب مرد توقعات پر پورا نہ اترے تو گئی بھینس پانی میں۔۔ اگر کو اس کے پوائنٹس تیس تھے، اور آپ نے کوشش کے باوجود بھی صرف پانچ بنائے اپنی طرف سے تو آپ نے بہت کوشش کی مگر سوچیں وہ کیا سوچے گی؟ اس میں وہ بے بس ہے پھر یا تو سمجھوتہ کرکے خاموش ہو جائے گی یا شکایت کرے گی ایموشن میں بہہ کر کہے گی کہ آپ تو مجھ سے پیار ہی نہیں کرتے۔۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ پوائنٹس نہیں بناتے۔۔ جو درکار ہیں وہ ایفرٹ نہیں کرتے۔۔ ناکہ واقعی میں پیار نہیں کرتے۔۔
وہیں اگر مرد تھکا ہارا، پریشانیوں کا مارا ہو تو وہ اس بابت سوچنے سے بھی قاصر ہے، اس کی فیورٹ ڈش کھا کر بھی اس کے اصل مسئلے حل نہیں ہونے والے، وہ انہیں بھلانے میں مصروف ہے تو آپ پر کیا توجہ دے گا؟ یہاں دونوں کو سمجھنا ہوگا۔۔ کہ کیسے ایک دوسرے میں موجود خلا کو پر کرنا ہے، فرق کو سمجھ کر خوش رہنے کی کوشش کرنی ہے۔۔

یوں میل اور فی میل ہارمونز کام کرتے ہیں۔۔
اختتام اس پر کے مردوں کے لیے سب سے ضروری ٹیسٹوسٹیرون ہیں، عورتوں کے لیے آکسیٹوسن، اس تحریر کے ذریعے ان تمام ہارمون کو بڑھانے گھٹانے کے کچھ عملی اقدامات بھی سمجھ آئے ہوں گے۔۔

اس کی ایک اور قسط بھی لگاؤں گا جو اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔۔

Copy

Address

Gillani Homeo Clinic Papular Nursery Sattlite Town Grw
Gujranwala
52250

Telephone

+923107111709

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gillani Homeo posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share