21/06/2026
اصل دو قومی نظریہ: ایک بل، دو پاکستان
کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں ایک ہی وقت میں دو الگ الگ دنیائیں بستی ہیں؟ ایک وہ دنیا جہاں ائیر کنڈیشنر کی ٹھنڈی ہوا میں سونے والوں کا بجلی کا بل صفر آتا ہے، اور دوسری وہ دنیا جہاں حبس اور گرمی میں سسکتے ہوئے غریب کا بل اس کی ماہانہ آمدن سے بھی زیادہ نکل آتا ہے۔
یہ تصویر کسی عام کارٹون کی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی اس تلخ حقیقت کا آئینہ ہے جسے آج کا عام پاکستانی روز بھگت رہا ہے۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جس کے پاس طاقت ہے، اختیار ہے، اور سرکاری مراعات کا ایسا سمندر ہے جہاں بارہ سو یونٹ چلنے کے بعد بھی میٹر پر "صفر" لکھا نظر آتا ہے۔ ان کی راتیں پرسکون ہیں، ان کے بچے ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں مخمل کے بستروں پر سوتے ہیں۔
دوسری طرف اس ملک کا اصل بوجھ اٹھانے والا عام پاکستانی ہے۔ وہ پچاس ڈگری کی گرمی میں دن بھر پسینہ بہاتا ہے، اور جب رات کو گھر لوٹتا ہے تو بجلی کا میٹر صرف دو سو یونٹ چلنے پر بھی دس ہزار روپے کا وہ ہولناک بل اگل دیتا ہے جسے دیکھ کر اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل جاتی ہے۔
سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا منظر اس معصوم بچی کا ہے، جو شدید گرمی اور حبس کی وجہ سے پسینے میں شرابور، فرش پر الٹی لیٹی سونے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ تصویر صرف ایک بچی کی نہیں، بلکہ اس ملک کے کروڑوں معصوم بچوں کے مستقبل کی ہے جن کا بچپن اس نظام کی بے حسی کی نذر ہو رہا ہے۔ غریب کا بچہ پسینے میں تڑپتا ہے تاکہ اشرافیہ کے کمرے ٹھنڈے رہ سکیں۔
یہ کیسا انصاف ہے؟ یہ کیسا نظام ہے جہاں غریب کی ہڈیوں کا گودا نچوڑ کر امیروں اور مقتدر حلقوں کو مفت بجلی، مفت پٹرول اور شاہانہ مراعات دی جاتی ہیں؟ ایک عام شہری اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر ٹیکس دیتا ہے، اور بدلے میں اسے صرف اندھیرے، حبس اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بات اب صرف بجلی کے بلوں کی نہیں رہی، یہ بقا کی جنگ بن چکی ہے۔ جب تک مراعات یافتہ طبقے کو مفت بجلی اور پٹرول کی فراہمی بند نہیں کی جاتی، اور جب تک ٹیکسوں کا یہ ظالمانہ بوجھ عام آدمی کے کندھوں سے نہیں ہٹایا جاتا، تب تک یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ یہ نظام کب تک چلے گا؟ کب تک معصوم بچے یوں ہی پسینے میں سسکتے رہیں گے اور ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟ اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا اب صرف ضرورت نہیں، بلکہ ہم سب کا فرض ہے۔