Omar Mukhtar Official

Omar Mukhtar Official 🔥 Khud par yaqeen rakho
💪 Soch badlo, zindagi badlo
🚀 Roz ek naya jazba, ek nayi shuruat

سلام یا حسین علیہ السلام
24/06/2026

سلام یا حسین علیہ السلام

اصل دو قومی نظریہ: ایک بل، دو پاکستانکیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں ایک ہی وقت میں دو الگ الگ دنیائیں بستی ہیں؟ ایک وہ ...
21/06/2026

اصل دو قومی نظریہ: ایک بل، دو پاکستان

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں ایک ہی وقت میں دو الگ الگ دنیائیں بستی ہیں؟ ایک وہ دنیا جہاں ائیر کنڈیشنر کی ٹھنڈی ہوا میں سونے والوں کا بجلی کا بل صفر آتا ہے، اور دوسری وہ دنیا جہاں حبس اور گرمی میں سسکتے ہوئے غریب کا بل اس کی ماہانہ آمدن سے بھی زیادہ نکل آتا ہے۔
یہ تصویر کسی عام کارٹون کی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی اس تلخ حقیقت کا آئینہ ہے جسے آج کا عام پاکستانی روز بھگت رہا ہے۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جس کے پاس طاقت ہے، اختیار ہے، اور سرکاری مراعات کا ایسا سمندر ہے جہاں بارہ سو یونٹ چلنے کے بعد بھی میٹر پر "صفر" لکھا نظر آتا ہے۔ ان کی راتیں پرسکون ہیں، ان کے بچے ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں مخمل کے بستروں پر سوتے ہیں۔
دوسری طرف اس ملک کا اصل بوجھ اٹھانے والا عام پاکستانی ہے۔ وہ پچاس ڈگری کی گرمی میں دن بھر پسینہ بہاتا ہے، اور جب رات کو گھر لوٹتا ہے تو بجلی کا میٹر صرف دو سو یونٹ چلنے پر بھی دس ہزار روپے کا وہ ہولناک بل اگل دیتا ہے جسے دیکھ کر اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل جاتی ہے۔

سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا منظر اس معصوم بچی کا ہے، جو شدید گرمی اور حبس کی وجہ سے پسینے میں شرابور، فرش پر الٹی لیٹی سونے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ تصویر صرف ایک بچی کی نہیں، بلکہ اس ملک کے کروڑوں معصوم بچوں کے مستقبل کی ہے جن کا بچپن اس نظام کی بے حسی کی نذر ہو رہا ہے۔ غریب کا بچہ پسینے میں تڑپتا ہے تاکہ اشرافیہ کے کمرے ٹھنڈے رہ سکیں۔

یہ کیسا انصاف ہے؟ یہ کیسا نظام ہے جہاں غریب کی ہڈیوں کا گودا نچوڑ کر امیروں اور مقتدر حلقوں کو مفت بجلی، مفت پٹرول اور شاہانہ مراعات دی جاتی ہیں؟ ایک عام شہری اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر ٹیکس دیتا ہے، اور بدلے میں اسے صرف اندھیرے، حبس اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بات اب صرف بجلی کے بلوں کی نہیں رہی، یہ بقا کی جنگ بن چکی ہے۔ جب تک مراعات یافتہ طبقے کو مفت بجلی اور پٹرول کی فراہمی بند نہیں کی جاتی، اور جب تک ٹیکسوں کا یہ ظالمانہ بوجھ عام آدمی کے کندھوں سے نہیں ہٹایا جاتا، تب تک یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

ہمیں سوچنا ہوگا کہ یہ نظام کب تک چلے گا؟ کب تک معصوم بچے یوں ہی پسینے میں سسکتے رہیں گے اور ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟ اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا اب صرف ضرورت نہیں، بلکہ ہم سب کا فرض ہے۔

Allah apni rehmat farmaye....ameen
19/06/2026

Allah apni rehmat farmaye....ameen

18/04/2026

سب مفاد کا کھیل ہے

17/04/2026

قبر میں کھڑکی

13/04/2026

لوگوں کے رنگ

11/04/2026

وہ سب دروازے کھول دے گا

10/04/2026

اللہ ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے۔

09/04/2026

منافقت

08/04/2026

مذاق

Address

Gujranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Omar Mukhtar Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share