16/05/2026
سیلف میڈیکیشن خود سے دوا بنانا اور بغیر تشخیص کے استعمال کرنا
روایتی یونانی اور اسلامی طب (طبِ نبوی اور طبِ یونانی) میں سیلف میڈیکیشن (بغیر ڈاکٹر یا حکیم کے مشورے کے خود دوا کھانا) سخت ناپسندیدہ اور نقصان دہ عمل ہے۔ اس کے مطابق ہر مزاج کی تاثیر الگ ہوتی ہے، اور غلط دوا کا انتخاب جسم کے قدرتی توازن کو بگاڑ کر نئی بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔
طب کے بنیادی اصولوں اور فلسفے کے مطابق اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. مزاج کا توازن (Mizaj)
طبِ یونانی کا سب سے اہم اصول مزاج کی درست تشخیص ہے۔ انسان کا جسم چار اخلاط (بلغم، خون، صفرا، سودا) کے توازن سے چلتا ہے۔
NCISM
اگر آپ کا مزاج پہلے سے "گرم" ہے اور آپ بغیر سوچے سمجھے گرم تاثیر والی جڑی بوٹی یا دوا (مثلاً سیلف میڈیکیشن کے طور پر) کھا لیتے ہیں، تو اس سے جسم کا توازن بگڑ جاتا ہے۔
اس کے برعکس، نبض اور مزاج کی پہچان رکھنے والا طبیب ہی جان سکتا ہے کہ آپ کو ٹھنڈک پہنچانی ہے یا گرمی۔
2. بیماری کی اصل وجہ
طب میں صرف علامات کا علاج نہیں کیا جاتا، بلکہ بیماری کی جڑ کو ختم کیا جاتا ہے۔ حکیم یا طبیب مریض کی نبض، پیشاب اور عمومی حالت دیکھ کر یہ طے کرتے ہیں کہ خرابی کہاں ہے۔ خود سے دوا کھانے کی صورت میں آپ صرف وقتی طور پر تکلیف (مثلاً درد یا بخار) کو دباتے ہیں، لیکن اندرونی بیماری جوں کی توں رہ جاتی ہے۔
3. حکیمِ حاذق (ماہرِ طب) کی اہمیت
اسلامی اور روایتی طب میں مستند اور تربیت یافتہ طبیب (معالج) سے علاج کروانا لازم قرار دیا گیا ہے۔
جو شخص بغیر علم کے طبابت یا علاج کرتا ہے (یعنی خود سے دوائیاں تجویز کرتا ہے)، اسے طبی اور شرعی دونوں لحاظ سے نقصان دہ مانا جاتا ہے۔
خود سے جڑی بوٹیاں، یا ایلوپیتھک دوائیاں استعمال کرنے سے گردوں، جگر اور معدے پر انتہائی مضر اثرات پڑ سکتے ہیں۔
4. قویٰ (طاقت اور قوتِ مدافعت) کا ضیاع
طبِ یونانی کا ماننا ہے کہ جسم خود بھی بیماریوں کے خلاف لڑنے کی طاقت رکھتا ہے جسے قوتِ مدافعت کہا جاتا ہے。 غیر ضروری دوائیں اس قوت کو کمزور کرتی ہیں۔ البتہ، اگر آپ کسی بیماری کا شکار ہیں، تو مستند طبی ماہر سے مشاورت کر کے ہی علاج کا آغاز
کسی بھی قسم کی سیلف میڈیکیشن سے پرہیز کریں اور ہمیشہ ماہرِ طب (حکیم ) سے مشورہ کریں۔حکیم ملک کفایت اللہ گوجرانوالہ 03016320587