Iqbal Clinic Daulat Nagar

Iqbal Clinic Daulat Nagar Dr Shaharyar Basit
MBBS , RMP ,
MCPS ( PAEDIATRICS)
Child Specialist & General Physician
ڈاکڑ شہریار باسط
ماہر امراض بچگان و جنرل فزیشن

14/08/2026
کئی بار والدین پوچھتے ہیں کہ: "ڈاکٹر صاحب، ہمارے بچے کا سر اور ماتھا گرم ہے جبکہ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہیں، لیکن تھرمامیٹر جسم...
14/08/2026

کئی بار والدین پوچھتے ہیں کہ: "ڈاکٹر صاحب، ہمارے بچے کا سر اور ماتھا گرم ہے جبکہ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہیں، لیکن تھرمامیٹر جسم کا نارمل درجہ حرارت بتا رہا ہے، تو یہ کیا مسئلہ ہے؟" اس پوسٹ میں ہم اسی بات کی وضاحت کریں گے۔ بچوں کا دماغ بہت تیزی سے بڑھ رہا ہوتا ہے۔ پیدائش کے وقت سر کا سائز اوسطاً 35 سینٹی میٹر ہوتا ہے، جو ایک سال میں بڑھ کر 47 سینٹی میٹر اور دو سال کی عمر میں 49 سینٹی میٹر تک ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد پوری زندگی میں صرف پانچ سینٹی میٹر تک مزید بڑھتا ہے، لہٰذا ابتدائی تین سے پانچ سالوں میں سر اور دماغ کی نشوونما بہت تیز ہوتی ہے۔ تیز نشوونما کا مطلب ہے تیز میٹابولزم، اور میٹابولزم میں اضافے کا مطلب جسمانی درجہ حرارت میں اضافہ ہے۔ جسم کا مرکز دل ہوتا ہے اور مرکز میں زیادہ حرارت پائی جاتی ہے، جبکہ ہاتھ اور پاؤں دل سے زیادہ دور ہونے کی وجہ سے نسبتاً ٹھنڈے محسوس ہوتے ہیں۔ جب خون دل سے پورے جسم کی طرف جاتا ہے تو اس کی گرمی مختلف طریقوں سے کم ہو جاتی ہے، جیسے پسینے کے ذریعے، جسم سے ٹکرانے والی چیزوں کے ذریعے، یا ماحول کی ٹھنڈک کے ذریعے۔ چونکہ سر دل کے نسبتاً قریب ہے اور دماغ کی سرگرمی بھی زیادہ ہے، اس لیے سر کی جانب خون کی گرمی زیادہ محسوس ہوتی ہے، جبکہ ہاتھ پاؤں نسبتاً ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ بچہ گرم ہے تو اس کا درجہ حرارت تھرمامیٹر سے چیک کریں۔ اگر درجہ حرارت 99°F (37.2°C) سے کم ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں، تسلی رکھیں۔ یہ بات دوسروں والدین کے ساتھ بھی ضرور شیئر کریں تاکہ وہ بھی مطمئن رہ سکیں۔ جزاک اللہ۔

بچے کے گلے میں لکڑی کی چھوٹی ٹہنیوں کا یہ ہار آپ نے ضرور دیکھا ہوگا۔ عام تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ یہ جسم سے یرقان کھینچ لی...
16/06/2026

بچے کے گلے میں لکڑی کی چھوٹی ٹہنیوں کا یہ ہار آپ نے ضرور دیکھا ہوگا۔ عام تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ یہ جسم سے یرقان کھینچ لیتا ہے اور جیسے جیسے یرقان ختم ہوتا ہے ویسے ویسے ہار لمبا ہوتا جاتا ہے۔
حقیقت اس سے مختلف ہے۔

یہ ٹہنیاں وقت کے ساتھ خشک ہوتی ہیں۔ جب ٹہنی خشک ہوتی ہے تو اس کی گرہ ڈھیلی ہو جاتی ہے اور ہار خود بخود لمبا ہو جاتا ہے۔ چاہے جسم میں یرقان ہو یا نہ ہو یہ عمل بہرحال ہونا ہی ہے۔

دوسری طرف عام پیلا یرقان بھی اکثر 10 سے 14 دن میں خود بخود بہتر ہو جاتا ہے۔ چنانچہ جب یرقان کم ہوتا ہے اور ہار لمبا ہوتا جاتا ہے تو لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہار نے یرقان کھینچ لیا ہے حالانکہ دونوں چیزیں اپنی اپنی فطری وجہ سے ہو رہی ہوتی ہیں۔

اب لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر یرقان نے خود ہی ٹھیک ہونا ہے تو پھر ڈاکٹر کے پاس کیوں جایا جائے؟

جناب ڈاکٹر کا کام یرقان کو ختم کرنا نہیں بلکہ دو اہم کام کرنا ہوتا ہے۔ پہلا یہ کہ وہ عام اور خود بخود ٹھیک ہونے والے یرقان اور خطرناک یرقان میں فرق کرتا ہے۔ ڈاکٹر اس بات کی تسلی کرتا ہے کہ یہ واقعی عام ہیپاٹائٹس اے ہے اور کسی خطرناک بیماری کی علامت نہیں۔

دوسرا اہم کام یہ ہے کہ یرقان کے دوران پیدا ہونے والی تکالیف کا علاج کیا جائے۔ جیسے بار بار الٹیاں آنا، شدید سستی اور کاہلی، بھوک کا ختم ہو جانا، پیٹ میں درد ہونا یا الٹیوں اور کم خوراک کی وجہ سے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی پیدا ہونا۔ ڈاکٹر ان مسائل کا علاج کرتا ہے اور جسم کی ضروریات کو پورا رکھنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ بچہ بیماری کا یہ مرحلہ محفوظ طریقے سے گزار سکے۔

آئیے عقیدت اور حقیقت میں فرق کو سمجھیں اور اپنے بچوں کی صحت کے فیصلے سائنسی بنیادوں پر کریں۔

17/03/2026

can be fatal.

Do you know its symptoms?
🔴 Rash that starts on the face and spreads over the body
🔴 Fever
🔴 Cough
🔴 Red and watery eyes
🔴 Small white spots inside the cheeks

Seek health care if you suspect you or your child has measles.

بعض بچوں کی پیدائش کے دوران انکا سر پھنس جاتا ہے ۔ اسکی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے بچہ دانی سے سر کے سائز کا بڑا ہونا ...
01/03/2026

بعض بچوں کی پیدائش کے دوران انکا سر پھنس جاتا ہے ۔ اسکی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے بچہ دانی سے سر کے سائز کا بڑا ہونا (Cephalopelvic Disproportion)، بچے کے وزن کا زیادہ ہونا ، حمل میں ماں کو شوگر ہونا شامل ہے ۔ بچے کا سر پیدائیس پر جسم کا سب سے بڑا حصہ ہوتا ہے اسلیے اگر مشکل ڈلیوری ہو تو سر پر ضرور اثر پڑتا ہے۔ پیدائش کے دوران سر پر لگنے والے اس دباؤ یا رگڑ کی وجہ سے سر کی جلد میں موجود خون کی نالیوں پھٹ سکتی ہیں۔ انکے پھٹنے کی وجہ سے خون جمع ہو کر سر کی ہڈی اور جلد کے درمیان جمع ہوجاتا ہے جسے طبی زبان میں Cephalhematoma کہتے ہیں۔

یہ عموماً سر کے ایک طرف ظاہر ہوتا ہے، مگر بعض اوقات دونوں طرف بھی ہو سکتا ہے۔ یہ سوجن عام طور پر سخت محسوس ہوتی ہے اور پیدائش کے فوراً بعد نظر نہیں آتی، بلکہ اکثر چوبیس گھنٹے کے بعد نمودار ہوتی ہے۔ اس کی شکل اور حجم بچے کے سر پر دباؤ کے حساب سے مختلف ہو سکتا ہے۔

اکثر صورتوں میں یہ سوزش خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے۔ اگر یہ گلٹی چھوٹی ہو تو عام طور پر دو سے تین ہفتوں میں ختم ہو جاتی ہے، جبکہ اگر بڑا سائز ہو تو کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ گلٹی کے سائز یا رنگت میں تبدیلی، بچے میں غیر معمولی سستی یا یرقان نظر آنے پر فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

بعض اوقات یہ اتنا سادہ نہیں ہوتا اور پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ اگر خون کی مقدار زیادہ ہو جمع ہو جائے تو بچہ خون کی کمی (انیمیا) کا شکار ہو سکتا ہے۔ خون کے جذب ہونے کے دوران پیلاہٹ یا یرقان (jaundice) بھی ہو سکتا ہے۔ بعض بچوں میں سر کی ہڈی میں فریکچر بھی ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر پیدائش کے دوران سخت دباؤ ہو۔ بہت زیادہ خون جمع ہونے کی صورت میں بعض اوقات سرنج کے زریعے بھی نکالنا پڑ سکتا ہے ۔

تشخیص کے لیے بچوں کے معالج یا نیورولوجسٹ کی مکمل جانچ ضروری ہے۔ بعض اوقات الٹراساؤنڈ یا ایکسرے سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ خون کے نیچے کوئی ہڈی ٹوٹی تو نہیں۔ ڈاکٹر بچے کی حالت، حجم اور خطرے کے مطابق مناسب علاج تجویز کرتے ہیں۔

والدین کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ سر پر گلٹی یا سختی کے ظاہر ہوتے ہی فوراً بچوں کے ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ بروقت جانچ اور رہنمائی سے بچے کے لیے کسی بھی پیچیدگی یا خطرناک صورتحال سے بچاؤ ممکن ہے۔

بعض بچوں کی پیدائش کے دوران، مختلف وجوہات کی وجہ سے، بچے کے سر پر دباؤ پڑنے کی وجہ سے سر پر سوجن بن جاتی ہے جسے کپیٹ سکس...
01/03/2026

بعض بچوں کی پیدائش کے دوران، مختلف وجوہات کی وجہ سے، بچے کے سر پر دباؤ پڑنے کی وجہ سے سر پر سوجن بن جاتی ہے جسے کپیٹ سکسیڈینم (Caput Succedaneum) کہتے ہیں۔ یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب بچے کے سر کی نرم جلد اور اس کے نیچے موجود نرم ٹشو پر پیدائش کے دوران دباؤ یا رگڑ لگتی ہے۔ اس دباؤ کی وجہ سے سر کی جلد اور نرم ٹشو کے درمیان پانی جمع ہو جاتا ہے، جس سے سر پر سوجن یا گلٹی ظاہر ہوتی ہے۔

یہ سوجن سر کے اگلے حصے یا پیشانی پر زیادہ نظر آتی ہے، لیکن کبھی کبھار یہ سوجن پورے سر کے اوپر والے حصے میں پھیل سکتی ہے۔ یہ گلٹی دبانے پر بھی نرم محسوس ہوتی ہے۔ پیدائش کے فوراً بعد یا چند گھنٹوں کے اندر یہ نظر آنے لگتی ہے۔ عام طور پر یہ دونوں طرف ہوتی ہے۔

یہ کنڈیشن خطرناک نہیں ہوتی اور زیادہ تر خود بخود کچھ دنوں میں ٹھیک ہو جاتی ہے۔ یہ عموماً سر کی ہڈیوں کو متاثر نہیں کرتی، اس لیے سر کی ہڈی میں فریکچر یا ایسا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

کچھ صورتوں میں والدین کو محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے اگر سوجن بہت زیادہ ہو یا بچے کو ساتھ میں دیگر علامات جیسے غیر معمولی سستی، پیلاہٹ (jaundice) یا بخار ظاہر ہوں، تو فوراً معالج سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔

تشخیص کے لیے بچوں کے معالج یا نیورولوجسٹ بچے کے سر کا معائنہ کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر الٹراساؤنڈ کے ذریعے یہ دیکھا جاتا ہے کہ سوجن صرف نرم ٹشو میں ہے یا کسی ہڈی پر اثر تو نہیں پڑا۔ علاج عموماً معاون (supportive) ہوتا ہے، جیسے بچے کو آرام دہ حالت میں رکھنا، سر کو دباؤ سے بچانا اور کسی قسم کی اضافی چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔

بچوں میں سانس روکنے کے دورے(Breath holding spell)سانس روکنے کے دورے بچوں میں ایک عام مسئلہ ہے۔ یہ خاص طور پر 6 ماہ سے 5 ...
17/02/2026

بچوں میں سانس روکنے کے دورے
(Breath holding spell)

سانس روکنے کے دورے بچوں میں ایک عام مسئلہ ہے۔ یہ خاص طور پر 6 ماہ سے 5 سال کی عمر کے بچوں میں دیکھا جاتا ہے۔ یہ دورے اکثر بچے کے غصے، رونے یا کسی چوٹ کے فوری ردعمل کے دوران ہوتے ہیں۔ والدین کے لیے بچے کی یہ حالت بہت خوفناک ہوتی ہے، کیونکہ بچہ اچانک سے روتے روتے سانس روک لیتا ہے اور کبھی کبھار جھٹکے یا مختصر بے ہوشی کے ساتھ نیلا یا سفید پڑ جاتا ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں یہ دورے خطرناک نہیں ہوتے اور وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں، لیکن صحیح معلومات اور نگرانی بہت ضروری ہے۔

نیلا ہونے والے دورے سب سے عام ہیں اور یہ زیادہ تر بچے کے شدید رونے یا غصے کے فوری ردعمل کے دوران آتے ہیں۔ اس دوران بچہ روتے روتے اچانک سانس روک لیتا ہے، اور اس کے چہرے، ہونٹ یا انگلیاں نیلے پڑ سکتے ہیں۔ بعض اوقات دل کی دھڑکن سست ہو جاتی ہے، اور بچے کو جھٹکے یا دورہ نما حرکتیں محسوس ہو سکتی ہیں۔ یہ دورے عموماً چند سیکنڈ سے ایک یا دو منٹ تک رہتے ہیں۔ نیلا ہونے والے دورے کی شدت بچے کے جذبات اور سانس روکنے کی مدت پر منحصر ہوتی ہے۔ جیسے ہی بچہ سانس لینا شروع کرتا ہے، رنگ نارمل ہو جاتا ہے، دل کی دھڑکن معمول پر آ جاتی ہے اور بچہ خود بخود ہوش میں آ جاتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کو سکون دیں اور خوفزدہ نہ ہوں، کیونکہ والدین کے پرسکون رویے سے بچے کی حالت جلد بہتر ہو جاتی ہے۔

سفید ہونے والے دورے نسبتاً کم ہوتے ہیں اور عموماً کسی اچانک درد یا چوٹ کے فوری ردعمل میں آتے ہیں۔ اس میں بچے کا چہرہ عارضی طور پر سفید یا پیلا پڑ جاتا ہے کیونکہ دماغ تک خون کی مقدار کم ہو جاتی ہے، اور بعض اوقات بچے کو مختصر بے ہوشی محسوس ہوتی ہے۔ یہ دورے عموماً چند سیکنڈ میں ختم ہو جاتے ہیں اور زیادہ تر صورتوں میں بچوں کے دل یا دماغ میں کوئی مستقل مسئلہ نہیں ہوتا۔

سانس روکنے کے دورے اکثر ایک خاندان کے مختلف افراد میں بھی دیکھے جاتے ہیں۔ اگر والدین یا بہن بھائی کو بچپن میں ایسے دورے پڑے ہوں، تو بچے میں یہ ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ زیادہ تر بچوں میں یہ دورے 1 سے 3 سال کی عمر میں زیادہ عام ہیں اور جیسے جیسے دماغ کی گروتھ ہوتی ہے ، یہ دورے خود بخود کم ہو جاتے ہیں۔

زیادہ تر بچوں میں سانس روکنے کے دورے کے لیے کوئی مخصوص دوا یا علاج ضروری نہیں ہوتا۔ اصل مقصد بچے کی دورے کے دوران اور بعد کے وقت میں حفاظت اور والدین کو صحیح فرسٹ ایڈ کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔ بہت کم صورتوں میں ڈاکٹر کچھ مخصوص ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں، جیسے EEG کا ٹیسٹ یا دل کی جانچ ECG ، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ دورے دماغ یا دل کے کسی مسئلے کی وجہ سے تو نہیں آ رہے۔ یہ ٹیسٹ صرف ان بچوں میں کیے جاتے ہیں جن میں دورے طویل دورانیہ کے ہوں، یا بار بار آئیں۔

دورے کے دوران والدین کو چاہیے کہ بچے کو محفوظ جگہ پر رکھیں، سخت یا نوکیلی چیزیں ہٹا دیں، بچے کو ایک طرف لٹا دیں تاکہ سانس کی نالی بلاک نہ ہو اور بچے کو جھٹکے لگنے سے بچائیں۔ بچے کے منہ میں کبھی بھی کچھ نہ ڈالیں۔ زیادہ تر دورے چند سیکنڈ سے ایک یا دو منٹ میں ختم ہو جاتے ہیں اور بچہ خود بخود ہوش میں آ جاتا ہے۔ والدین کا پرسکون رویہ بچے کے جلد بہتر ہونے میں مددگار ہوتا ہے۔

بعض بچوں میں آئرن کی کمی یا غذائی کمی کے باعث سانس روکنے کے دورے زیادہ بار بار آ سکتے ہیں۔ اچھی اور متوازن غذا، مکمل ویکسینیشن، اور بیماریوں سے بچاؤ ان دوروں کے امکانات کو کم کر سکتے ہیں۔ آئرن کی کمی دماغ اور اعصابی نظام کی فعالیت پر اثر ڈال سکتی ہے، جس سے بچے بار بار سانس روکنے کے دورے محسوس کر سکتے ہیں۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سانس روکنے کے دورے زیادہ تر بچوں میں خطرناک نہیں ہوتے اور وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں۔ والدین کو صرف سکون، درست معلومات اور صحیح نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر دورے بہت طویل ہوں، بار بار آئیں، بچے کے ہوش میں دیر تک نہ آئیں، یا بچے کو سانس لینے میں مشکل ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔

صحیح معلومات، والدین کا پرسکون رویہ، فرسٹ ایڈ کے اصولوں کی جانکاری اور باقاعدہ طبی مشاورت بچوں کی حفاظت اور والدین کے اطمینان کے لیے نہایت اہم ہیں۔

Pneumonia in Children: What Parents Must Know 🫁👶Pneumonia is a serious lung infection that affects many children, especi...
03/02/2026

Pneumonia in Children: What Parents Must Know 🫁👶

Pneumonia is a serious lung infection that affects many children, especially infants and young kids. Early recognition and timely treatment can save lives.

🔍 What causes pneumonia?

Viruses (most common in young children)

Bacteria (can be more severe)

Less commonly: fungi

🚨 Common warning signs

Fast or difficult breathing

Chest indrawing (ribs going in while breathing)

Fever

Cough

Poor feeding or vomiting

Lethargy or unusual sleepiness

Bluish lips or nails (emergency sign)

🏥 When should parents seek urgent care?

➡ Breathing difficulty
➡ Child is not feeding or drinking
➡ Persistent high fever
➡ Child looks very sick or drowsy

💊 How is pneumonia treated?

Viral pneumonia: supportive care (fluids, fever control, oxygen if needed)

Bacterial pneumonia: antibiotics prescribed by a doctor
⚠ Never self-medicate with antibiotics

🛡 Can pneumonia be prevented?

✅ Complete vaccinations (PCV, Hib, measles, influenza)
✅ Exclusive breastfeeding for first 6 months
✅ Good nutrition
✅ Avoid exposure to smoke and pollution
✅ Early treatment of cough and fever

📌 Remember: Not every cough is pneumonia, but every fast-breathing child needs medical assessment.

Address

Iqbal Clinic Near HBL , Bus Stop Daulat Nagar , Tehsil & District Gujrat
Gujrat

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00
Sunday 09:00 - 21:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Iqbal Clinic Daulat Nagar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share