Iqbal Clinic Daulat Nagar

Iqbal Clinic Daulat Nagar Dr Shaharyar Basit
MBBS , RMP ,
MCPS ( PAEDIATRICS)
Child Specialist & General Physician
ڈاکڑ شہریار باسط
ماہر امراض بچگان و جنرل فزیشن

25/05/2026
17/03/2026

can be fatal.

Do you know its symptoms?
🔴 Rash that starts on the face and spreads over the body
🔴 Fever
🔴 Cough
🔴 Red and watery eyes
🔴 Small white spots inside the cheeks

Seek health care if you suspect you or your child has measles.

بعض بچوں کی پیدائش کے دوران انکا سر پھنس جاتا ہے ۔ اسکی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے بچہ دانی سے سر کے سائز کا بڑا ہونا ...
01/03/2026

بعض بچوں کی پیدائش کے دوران انکا سر پھنس جاتا ہے ۔ اسکی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے بچہ دانی سے سر کے سائز کا بڑا ہونا (Cephalopelvic Disproportion)، بچے کے وزن کا زیادہ ہونا ، حمل میں ماں کو شوگر ہونا شامل ہے ۔ بچے کا سر پیدائیس پر جسم کا سب سے بڑا حصہ ہوتا ہے اسلیے اگر مشکل ڈلیوری ہو تو سر پر ضرور اثر پڑتا ہے۔ پیدائش کے دوران سر پر لگنے والے اس دباؤ یا رگڑ کی وجہ سے سر کی جلد میں موجود خون کی نالیوں پھٹ سکتی ہیں۔ انکے پھٹنے کی وجہ سے خون جمع ہو کر سر کی ہڈی اور جلد کے درمیان جمع ہوجاتا ہے جسے طبی زبان میں Cephalhematoma کہتے ہیں۔

یہ عموماً سر کے ایک طرف ظاہر ہوتا ہے، مگر بعض اوقات دونوں طرف بھی ہو سکتا ہے۔ یہ سوجن عام طور پر سخت محسوس ہوتی ہے اور پیدائش کے فوراً بعد نظر نہیں آتی، بلکہ اکثر چوبیس گھنٹے کے بعد نمودار ہوتی ہے۔ اس کی شکل اور حجم بچے کے سر پر دباؤ کے حساب سے مختلف ہو سکتا ہے۔

اکثر صورتوں میں یہ سوزش خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے۔ اگر یہ گلٹی چھوٹی ہو تو عام طور پر دو سے تین ہفتوں میں ختم ہو جاتی ہے، جبکہ اگر بڑا سائز ہو تو کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ گلٹی کے سائز یا رنگت میں تبدیلی، بچے میں غیر معمولی سستی یا یرقان نظر آنے پر فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

بعض اوقات یہ اتنا سادہ نہیں ہوتا اور پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ اگر خون کی مقدار زیادہ ہو جمع ہو جائے تو بچہ خون کی کمی (انیمیا) کا شکار ہو سکتا ہے۔ خون کے جذب ہونے کے دوران پیلاہٹ یا یرقان (jaundice) بھی ہو سکتا ہے۔ بعض بچوں میں سر کی ہڈی میں فریکچر بھی ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر پیدائش کے دوران سخت دباؤ ہو۔ بہت زیادہ خون جمع ہونے کی صورت میں بعض اوقات سرنج کے زریعے بھی نکالنا پڑ سکتا ہے ۔

تشخیص کے لیے بچوں کے معالج یا نیورولوجسٹ کی مکمل جانچ ضروری ہے۔ بعض اوقات الٹراساؤنڈ یا ایکسرے سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ خون کے نیچے کوئی ہڈی ٹوٹی تو نہیں۔ ڈاکٹر بچے کی حالت، حجم اور خطرے کے مطابق مناسب علاج تجویز کرتے ہیں۔

والدین کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ سر پر گلٹی یا سختی کے ظاہر ہوتے ہی فوراً بچوں کے ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ بروقت جانچ اور رہنمائی سے بچے کے لیے کسی بھی پیچیدگی یا خطرناک صورتحال سے بچاؤ ممکن ہے۔

بعض بچوں کی پیدائش کے دوران، مختلف وجوہات کی وجہ سے، بچے کے سر پر دباؤ پڑنے کی وجہ سے سر پر سوجن بن جاتی ہے جسے کپیٹ سکس...
01/03/2026

بعض بچوں کی پیدائش کے دوران، مختلف وجوہات کی وجہ سے، بچے کے سر پر دباؤ پڑنے کی وجہ سے سر پر سوجن بن جاتی ہے جسے کپیٹ سکسیڈینم (Caput Succedaneum) کہتے ہیں۔ یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب بچے کے سر کی نرم جلد اور اس کے نیچے موجود نرم ٹشو پر پیدائش کے دوران دباؤ یا رگڑ لگتی ہے۔ اس دباؤ کی وجہ سے سر کی جلد اور نرم ٹشو کے درمیان پانی جمع ہو جاتا ہے، جس سے سر پر سوجن یا گلٹی ظاہر ہوتی ہے۔

یہ سوجن سر کے اگلے حصے یا پیشانی پر زیادہ نظر آتی ہے، لیکن کبھی کبھار یہ سوجن پورے سر کے اوپر والے حصے میں پھیل سکتی ہے۔ یہ گلٹی دبانے پر بھی نرم محسوس ہوتی ہے۔ پیدائش کے فوراً بعد یا چند گھنٹوں کے اندر یہ نظر آنے لگتی ہے۔ عام طور پر یہ دونوں طرف ہوتی ہے۔

یہ کنڈیشن خطرناک نہیں ہوتی اور زیادہ تر خود بخود کچھ دنوں میں ٹھیک ہو جاتی ہے۔ یہ عموماً سر کی ہڈیوں کو متاثر نہیں کرتی، اس لیے سر کی ہڈی میں فریکچر یا ایسا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

کچھ صورتوں میں والدین کو محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے اگر سوجن بہت زیادہ ہو یا بچے کو ساتھ میں دیگر علامات جیسے غیر معمولی سستی، پیلاہٹ (jaundice) یا بخار ظاہر ہوں، تو فوراً معالج سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔

تشخیص کے لیے بچوں کے معالج یا نیورولوجسٹ بچے کے سر کا معائنہ کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر الٹراساؤنڈ کے ذریعے یہ دیکھا جاتا ہے کہ سوجن صرف نرم ٹشو میں ہے یا کسی ہڈی پر اثر تو نہیں پڑا۔ علاج عموماً معاون (supportive) ہوتا ہے، جیسے بچے کو آرام دہ حالت میں رکھنا، سر کو دباؤ سے بچانا اور کسی قسم کی اضافی چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔

بچوں میں سانس روکنے کے دورے(Breath holding spell)سانس روکنے کے دورے بچوں میں ایک عام مسئلہ ہے۔ یہ خاص طور پر 6 ماہ سے 5 ...
17/02/2026

بچوں میں سانس روکنے کے دورے
(Breath holding spell)

سانس روکنے کے دورے بچوں میں ایک عام مسئلہ ہے۔ یہ خاص طور پر 6 ماہ سے 5 سال کی عمر کے بچوں میں دیکھا جاتا ہے۔ یہ دورے اکثر بچے کے غصے، رونے یا کسی چوٹ کے فوری ردعمل کے دوران ہوتے ہیں۔ والدین کے لیے بچے کی یہ حالت بہت خوفناک ہوتی ہے، کیونکہ بچہ اچانک سے روتے روتے سانس روک لیتا ہے اور کبھی کبھار جھٹکے یا مختصر بے ہوشی کے ساتھ نیلا یا سفید پڑ جاتا ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں یہ دورے خطرناک نہیں ہوتے اور وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں، لیکن صحیح معلومات اور نگرانی بہت ضروری ہے۔

نیلا ہونے والے دورے سب سے عام ہیں اور یہ زیادہ تر بچے کے شدید رونے یا غصے کے فوری ردعمل کے دوران آتے ہیں۔ اس دوران بچہ روتے روتے اچانک سانس روک لیتا ہے، اور اس کے چہرے، ہونٹ یا انگلیاں نیلے پڑ سکتے ہیں۔ بعض اوقات دل کی دھڑکن سست ہو جاتی ہے، اور بچے کو جھٹکے یا دورہ نما حرکتیں محسوس ہو سکتی ہیں۔ یہ دورے عموماً چند سیکنڈ سے ایک یا دو منٹ تک رہتے ہیں۔ نیلا ہونے والے دورے کی شدت بچے کے جذبات اور سانس روکنے کی مدت پر منحصر ہوتی ہے۔ جیسے ہی بچہ سانس لینا شروع کرتا ہے، رنگ نارمل ہو جاتا ہے، دل کی دھڑکن معمول پر آ جاتی ہے اور بچہ خود بخود ہوش میں آ جاتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کو سکون دیں اور خوفزدہ نہ ہوں، کیونکہ والدین کے پرسکون رویے سے بچے کی حالت جلد بہتر ہو جاتی ہے۔

سفید ہونے والے دورے نسبتاً کم ہوتے ہیں اور عموماً کسی اچانک درد یا چوٹ کے فوری ردعمل میں آتے ہیں۔ اس میں بچے کا چہرہ عارضی طور پر سفید یا پیلا پڑ جاتا ہے کیونکہ دماغ تک خون کی مقدار کم ہو جاتی ہے، اور بعض اوقات بچے کو مختصر بے ہوشی محسوس ہوتی ہے۔ یہ دورے عموماً چند سیکنڈ میں ختم ہو جاتے ہیں اور زیادہ تر صورتوں میں بچوں کے دل یا دماغ میں کوئی مستقل مسئلہ نہیں ہوتا۔

سانس روکنے کے دورے اکثر ایک خاندان کے مختلف افراد میں بھی دیکھے جاتے ہیں۔ اگر والدین یا بہن بھائی کو بچپن میں ایسے دورے پڑے ہوں، تو بچے میں یہ ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ زیادہ تر بچوں میں یہ دورے 1 سے 3 سال کی عمر میں زیادہ عام ہیں اور جیسے جیسے دماغ کی گروتھ ہوتی ہے ، یہ دورے خود بخود کم ہو جاتے ہیں۔

زیادہ تر بچوں میں سانس روکنے کے دورے کے لیے کوئی مخصوص دوا یا علاج ضروری نہیں ہوتا۔ اصل مقصد بچے کی دورے کے دوران اور بعد کے وقت میں حفاظت اور والدین کو صحیح فرسٹ ایڈ کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔ بہت کم صورتوں میں ڈاکٹر کچھ مخصوص ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں، جیسے EEG کا ٹیسٹ یا دل کی جانچ ECG ، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ دورے دماغ یا دل کے کسی مسئلے کی وجہ سے تو نہیں آ رہے۔ یہ ٹیسٹ صرف ان بچوں میں کیے جاتے ہیں جن میں دورے طویل دورانیہ کے ہوں، یا بار بار آئیں۔

دورے کے دوران والدین کو چاہیے کہ بچے کو محفوظ جگہ پر رکھیں، سخت یا نوکیلی چیزیں ہٹا دیں، بچے کو ایک طرف لٹا دیں تاکہ سانس کی نالی بلاک نہ ہو اور بچے کو جھٹکے لگنے سے بچائیں۔ بچے کے منہ میں کبھی بھی کچھ نہ ڈالیں۔ زیادہ تر دورے چند سیکنڈ سے ایک یا دو منٹ میں ختم ہو جاتے ہیں اور بچہ خود بخود ہوش میں آ جاتا ہے۔ والدین کا پرسکون رویہ بچے کے جلد بہتر ہونے میں مددگار ہوتا ہے۔

بعض بچوں میں آئرن کی کمی یا غذائی کمی کے باعث سانس روکنے کے دورے زیادہ بار بار آ سکتے ہیں۔ اچھی اور متوازن غذا، مکمل ویکسینیشن، اور بیماریوں سے بچاؤ ان دوروں کے امکانات کو کم کر سکتے ہیں۔ آئرن کی کمی دماغ اور اعصابی نظام کی فعالیت پر اثر ڈال سکتی ہے، جس سے بچے بار بار سانس روکنے کے دورے محسوس کر سکتے ہیں۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سانس روکنے کے دورے زیادہ تر بچوں میں خطرناک نہیں ہوتے اور وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں۔ والدین کو صرف سکون، درست معلومات اور صحیح نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر دورے بہت طویل ہوں، بار بار آئیں، بچے کے ہوش میں دیر تک نہ آئیں، یا بچے کو سانس لینے میں مشکل ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔

صحیح معلومات، والدین کا پرسکون رویہ، فرسٹ ایڈ کے اصولوں کی جانکاری اور باقاعدہ طبی مشاورت بچوں کی حفاظت اور والدین کے اطمینان کے لیے نہایت اہم ہیں۔

Pneumonia in Children: What Parents Must Know 🫁👶Pneumonia is a serious lung infection that affects many children, especi...
03/02/2026

Pneumonia in Children: What Parents Must Know 🫁👶

Pneumonia is a serious lung infection that affects many children, especially infants and young kids. Early recognition and timely treatment can save lives.

🔍 What causes pneumonia?

Viruses (most common in young children)

Bacteria (can be more severe)

Less commonly: fungi

🚨 Common warning signs

Fast or difficult breathing

Chest indrawing (ribs going in while breathing)

Fever

Cough

Poor feeding or vomiting

Lethargy or unusual sleepiness

Bluish lips or nails (emergency sign)

🏥 When should parents seek urgent care?

➡ Breathing difficulty
➡ Child is not feeding or drinking
➡ Persistent high fever
➡ Child looks very sick or drowsy

💊 How is pneumonia treated?

Viral pneumonia: supportive care (fluids, fever control, oxygen if needed)

Bacterial pneumonia: antibiotics prescribed by a doctor
⚠ Never self-medicate with antibiotics

🛡 Can pneumonia be prevented?

✅ Complete vaccinations (PCV, Hib, measles, influenza)
✅ Exclusive breastfeeding for first 6 months
✅ Good nutrition
✅ Avoid exposure to smoke and pollution
✅ Early treatment of cough and fever

📌 Remember: Not every cough is pneumonia, but every fast-breathing child needs medical assessment.

جھٹکے یا دورے (fits) دماغ میں ایک غیر معمولی برقی کرنٹ یا اسپارک کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ کرنٹ دماغ کے مختلف حصوں میں...
31/01/2026

جھٹکے یا دورے (fits) دماغ میں ایک غیر معمولی برقی کرنٹ یا اسپارک کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ کرنٹ دماغ کے مختلف حصوں میں اچانک خارج ہوتا ہے، جس سے پٹھے اچانک حرکت کرتے ہیں، ہوش متاثر ہوتا ہے اور بچے کے جسم پر جھٹکے ظاہر ہوتے ہیں۔ جھٹکے کسی بھی عمر میں اور کسی بھی جگہ ہو سکتے ہیں، گھر، پارک، ہسپتال یا بلڈنگ میں۔
سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ پریشان یا گھبراہٹ میں نہ آئیں۔ والدین کا سکون بچے کے لیے بہت ضروری ہے۔
جھٹکے کے دوران سب سے پہلے بچے کو محفوظ جگہ پر رکھیں اور بچے کے اردگرد کوئی سخت، نوکیلی یا خطرناک اشیاء ہٹا دیں۔ اگر بچے کے گلے میں کوئی سخت یا تنگ چیز ہو تو نکال دیں ، کالر کو ڈھیلا کردیں۔ بچے کے پاس پانی، آگ یا کوئی خطرناک چیز ہو تو اسے بھی دور کریں۔
جھٹکے کے دوران بچے کو ہمیشہ سائڈ پر لٹائیں، تاکہ اگر منہ سے الٹی یا جھاگ نکلے تو وہ پھیپھڑوں میں نہ جائے اور باہر نکل سکے۔ منہ میں جمع بلغم یا تھوک کو آرام سے صاف کریں اور بچے کو سکون کے ساتھ سانس لینے دیں۔ جھٹکے کے دوران بچے کے جسم کو زور سے دبانے یا قابو پانے کی کوشش نہ کریں، بس محفوظ جگہ پر رکھیں تاکہ کوئ چوٹ نہ لگ جائے۔
جھٹکے کے دوران کبھی بھی بچے کے منہ میں پانی نہ ڈالیں۔ بہت سے والدین سمجھتے ہیں کہ پانی دینے سے جھٹکے رک جائیں گے یا کم ہوں گے، لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ جھٹکے کے دوران بچہ نا تو ہوش میں ہوتا ہے اور نہ ہی اسے کچھ معلوم ہوتا ہے۔ پانی دینے سے وہ سیدھا سانس کی نالی میں چلا جائے گا اور بچے کا سانس بند ہو سکتا ہے۔
بچے کے سر کو نرم سطح پر رکھیں، جیسے تکیہ یا ہاتھ وغیرہ۔ بازو یا ٹانگوں کو زور سے دبانے، پکڑنے کی کوشش نہ کریں۔ اکثر جھٹکے چند منٹ میں خود بخود ختم ہو جاتے ہیں کیونکہ دماغ کا خودکار نظام انہیں کنٹرول کر لیتا ہے۔ جھٹکے کے آغاز کے وقت سے ٹائم نوٹ کرنا شروع کریں۔ اگر جھٹکے تین منٹ سے زیادہ جاری رہیں تو فوری توجہ درکار ہے۔ اگر جھٹکے پانچ منٹ تک ختم نہ ہوں تو فوراً ایمبولینس یا ہسپتال سے رابطہ کریں۔ پانچ منٹ کے بعد اگر جھٹکے کنٹرول نہ ہوں تو دماغ میں نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے طویل جھٹکوں کو Status Epilepticus کہا جاتا ہے اور یہ ایمرجنسی ہے۔
اگر جھٹکے گھر پر رک جائیں تو اکثر بچے جھٹکے کے بعد نیند میں چلے جاتے ہیں۔ جب بچہ اٹھتا ہے تو سر میں درد ہو سکتا ہے۔عام طور بچے کو جھٹکے کی چیزیں یاد نہیں رہتی ہیں۔ یہ اکثر معمول کی بات ہے اور یہ علامات کچھ گھنٹوں میں بہتر ہو جاتی ہیں۔ تاہم اگر جھٹکے کے رک جانے کے بعد بھی بچہ کئی گھنٹے تک ہوش میں نہ آئے، یا ہوش میں آئے لیکن جسم کے کسی حصے میں کمزوری ہو، یا شدید سر درد ہو جو وقت کے ساتھ بہتر نہ ہو، تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
باقاعدہ چائلڈ نیورولوجسٹ کے چیک اپ بھی بہت ضروری ہے کیونکہ جھٹکوں کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے بخار کے جھٹکے، یا مرگی (Epilepsy)۔ چائلڈ نیورولوجسٹ مکمل معائنہ کرکے وجہ کا تعین کرے گا اور مناسب علاج تجویز کرے گا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ والدین جھٹکوں کے دوران پرانے روایتی یا غلط طریقے جیسے جراب یا جوتے سونگھانا وغیرہ استعمال نہ کریں۔ یہ عمل اور دیگر مشہور خرافات جھٹکوں کو روکنے میں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے اور صرف غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں۔

Pica in Children – What Parents Should KnowPica is a condition in which a child repeatedly eats non-food items such as s...
21/01/2026

Pica in Children – What Parents Should Know

Pica is a condition in which a child repeatedly eats non-food items such as soil, chalk, clay, paper, ice, paint chips, or soap for more than one month.

It is common in toddlers and preschool children, but persistent pica is not normal and needs medical attention.

Common Causes of Pica

✔ Iron deficiency anemia – the most common cause
✔ Zinc deficiency
✔ Malnutrition
✔ Developmental disorders (e.g., autism spectrum disorder, intellectual disability)
✔ Psychological stress or neglect
✔ Poor supervision / easy access to soil or chemicals
✔ Cultural practices (geophagia) in some communities

Why Pica is Dangerous

⚠️ Intestinal blockage
⚠️ Lead poisoning (from paint or soil)
⚠️ Worm infestation
⚠️ Severe anemia
⚠️ Infections and diarrhea
⚠️ Dental injury

Treatment & Management of Pica

✅ Medical evaluation (Hb level, iron studies, stool exam, lead level if needed)
✅ Treat iron and zinc deficiency (iron therapy as per weight and guidelines)
✅ Improve diet – iron-rich foods (meat, lentils, beans, eggs, green vegetables)
✅ Deworming if indicated
✅ Behavioral therapy & parental supervision
✅ Manage underlying developmental or psychological conditions
✅ Keep harmful substances out of child’s reach

👉 Most children improve once nutritional deficiencies are corrected.

When to See a Doctor?

Pica lasting more than 4 weeks

Child eating soil, paint, or stones

Poor growth or pallor

Recurrent abdominal pain or vomiting

Early diagnosis and proper treatment can completely cure pica in most children.

21/01/2026

Most countries have shown no reduction in the affordability of alcoholic or sugary drinks since 2022.

In fact:
⚠️ Sugary drinks became MORE affordable in 62 countries.
⚠️ Beer is now MORE affordable in 56 countries, while spirits are MORE affordable in 67 countries.

Rising affordability means rising demand and rising harm.

🔗 https://bit.ly/4szr4rv

بچوں میں ناف کے ہرنیاایک عام اور اہم طبی مسئلہ ہے جس میں ناف کے گرد کی عضلات کمزور ہونے کی وجہ سے تھوڑا سا ابھار نظر آتا...
12/01/2026

بچوں میں ناف کے ہرنیاایک عام اور اہم طبی مسئلہ ہے جس میں ناف کے گرد کی عضلات کمزور ہونے کی وجہ سے تھوڑا سا ابھار نظر آتا ہے۔
زیادہ تر کیسز خود بخود چند سالوں میں درست ہو جاتے ہیں، مگر بعض صورتوں میں ڈاکٹر سے معائنہ ضروری ہے۔

براہِ کرم یہ معلومات دوسرے والدین کے ساتھ شیئر کریں اور ہمیں فالو کریں۔

Address

Iqbal Clinic Near HBL , Bus Stop Daulat Nagar , Tehsil & District Gujrat
Gujrat

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00
Sunday 09:00 - 21:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Iqbal Clinic Daulat Nagar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share