02/03/2026
ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی قیادت کی جانب سے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔
Ali Larijani، جو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں، نے واضح اور دوٹوک انداز میں اعلان کیا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات میں شریک نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں واشنگٹن کی پالیسیوں نے خطے کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔
انہوں نے امریکی صدر Donald Trump کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے غیر حقیقت پسندانہ فیصلوں نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو بڑھایا اور امریکی فوجیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔ پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ پہلے خطے میں تناؤ پیدا کیا گیا اور اب ممکنہ جانی نقصان پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے، جو تضاد کی نشاندہی کرتا ہے۔
علی لاریجانی نے مزید کہا کہ “امریکہ فرسٹ” کا نعرہ عملی طور پر دوسرے مفادات کو ترجیح دینے میں تبدیل ہو چکا ہے، اور اس پالیسی کے نتیجے میں امریکی فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو غیر ضروری خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کی مسلح افواج نے کسی قسم کی جارحیت کا آغاز نہیں کیا بلکہ ایرانی قوم اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا، تاہم اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
آخر میں انہوں نے ان تمام خبروں کی سختی سے تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی حکام نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے، اور واضح کیا کہ موجودہ حالات میں امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
# # # ممکنہ اثرات
* خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے
* عالمی منڈیوں، خاص طور پر تیل کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے
* امریکہ اور ایران کے درمیان بیانات کی جنگ تیز ہونے کا امکان
**Disclaimer:**
This content is provided solely for informational purposes.