29/08/2026
Deeply sad 😔 😭 we losss
شاعر لاہور ڈاکٹر فخر عباس اپنے خالق حقیقی سے جا ملے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ
شعر و ادب کا وہ درخشاں ستارہ، محبت و خلوص کا پیکر اور طب و سخن کا استعارہ، ڈاکٹر فخر عباس اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں۔
لاہور کی ادبی فضاؤں اور علمی محفلوں کو سوگوار چھوڑ جانے والے ڈاکٹر فخر عباس 27 جنوری 1978ء کو ضلع شیخوپورہ کے علاقے ڈیرہ معمورہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1995ء میں سینٹ میریز ہائی اسکول سرگودھا سے میٹرک کا امتحان پاس کیا، اور پھر علم و عرفان کے اس سفر کو جاری رکھتے ہوئے 2004ء میں علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ وہ نہ صرف ایک ماہرِ طب کی حیثیت سے انسانیت کی خدمت میں مصروف رہے بلکہ اسی ادارے میں درس و تدریس سے وابستہ ہو کر علم کی شمع بھی روشن کرتے رہے۔ پچھلے بیس برسوں سے لاہور ان کا مسکنِ دایمی رہا۔
شاعری سے ان کا رشتہ اپریل 1995ء میں جڑا، جو عمر کے آخری لمحے تک ان کی روح کا پتا دیتا رہا۔ ان کے ادبی سرمایے میں ان کے دل کی دھڑکنیں محسوس ہوتی ہیں، جن میں "میں نے جو محسوس کیا" (1999ء)، "خوشبو خوشبو" (2010ء)، اور "یہ جو لاہور سے محبت ہے" (2016ء) جیسی کتابیں شامل ہیں۔ ان کا کلام پڑھنے والے کے دل میں اتر جاتا ہے، جہاں ان کی قلبی نسبت اور دردِ دروں صاف دکھائی دیتا ہے:
جن کے سینے میں حبِ حیدر ہے
جن کے ہونٹوں پہ نامِ سرور ہے
غمِ حسینی ہے جن کی آنکھوں میں
رب کا کلمہ ہے جن کی سانسوں میں
مر بھی جائیں تو کم نہیں ہوں گے
ہم سے ہوں گے جو ہم نہیں ہوں گے
زندگی کے آخری ایام میں، وہ اربعینِ حسینی کے مقدس موقع پر کربلا و نجف کی زیارتوں کے لیے گئے تھے۔ وہیں ان کی طبیعت ناساز ہوئی، کچھ عرصہ عراق اور پھر مشہدِ مقدس (ایران) میں زیرِ علاج رہے۔ حالت زیادہ خراب ہونے پر اگست 2026ء کے اواخر میں انہیں لاہور منتقل کیا گیا، جہاں وہ کچھ عرصہ پی کے ایل آئی (PKLI) میں کومے کی حالت میں زندگی اور موت کی کشمکش میں رہے، یہاں تک کہ 29 اگست 2026ء کو انہوں نے اپنے مولا کی بارگاہ میں حاضری دے دی۔
ان کی شاعری کا یہ سچ آج حقیقت بن گیا ہے:
موت سے ہاتھ ملاتا ہوں، میں سو جاتا ہوں
جاگتے رہنا بھی اک شکل ہے بیماری کی
خود کو احساس دلاتا ہوں، میں سو جاتا ہوں
مرحوم ایک شفیق انسان، مخلص دوست، بے مثال ماہرِ فن اور غزل کے ایک سچے عاشق تھے۔ ان کا یوں اچانک بچھڑ جانا ادبی دنیا اور وابستگان کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کے پسماندگان میں ایک بیوہ اور چھ معصوم بچے شامل ہیں، جنہیں اس کٹھن گھڑی میں ہماری دعاؤں کی شدید ضرورت ہے۔
پروردگارِ عالم مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی تمام لغزشوں کو درگزر کرتے ہوئے انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور جوارِ سرکارِ وفا حضرت عباس علمدار نصیب فرمائے۔ سوگوار خاندان اور تمام لواحقین کو اس صدمہِ عظیم کو برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
نمازِ جنازہ آج صبح گیاره بجے خانقاہ ڈوگراں میں ادا کر دی گئی ہے۔