PM & DC issues affecting Doctors

PM & DC issues affecting Doctors Pm&Dc Issues Affecting Doctors ��

Deeply sad 😔 😭 we losss شاعر لاہور ڈاکٹر فخر عباس اپنے خالق حقیقی سے جا ملے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِاِنَّا...
29/08/2026

Deeply sad 😔 😭 we losss
شاعر لاہور ڈاکٹر فخر عباس اپنے خالق حقیقی سے جا ملے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ
شعر و ادب کا وہ درخشاں ستارہ، محبت و خلوص کا پیکر اور طب و سخن کا استعارہ، ڈاکٹر فخر عباس اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں۔
لاہور کی ادبی فضاؤں اور علمی محفلوں کو سوگوار چھوڑ جانے والے ڈاکٹر فخر عباس 27 جنوری 1978ء کو ضلع شیخوپورہ کے علاقے ڈیرہ معمورہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1995ء میں سینٹ میریز ہائی اسکول سرگودھا سے میٹرک کا امتحان پاس کیا، اور پھر علم و عرفان کے اس سفر کو جاری رکھتے ہوئے 2004ء میں علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ وہ نہ صرف ایک ماہرِ طب کی حیثیت سے انسانیت کی خدمت میں مصروف رہے بلکہ اسی ادارے میں درس و تدریس سے وابستہ ہو کر علم کی شمع بھی روشن کرتے رہے۔ پچھلے بیس برسوں سے لاہور ان کا مسکنِ دایمی رہا۔
شاعری سے ان کا رشتہ اپریل 1995ء میں جڑا، جو عمر کے آخری لمحے تک ان کی روح کا پتا دیتا رہا۔ ان کے ادبی سرمایے میں ان کے دل کی دھڑکنیں محسوس ہوتی ہیں، جن میں "میں نے جو محسوس کیا" (1999ء)، "خوشبو خوشبو" (2010ء)، اور "یہ جو لاہور سے محبت ہے" (2016ء) جیسی کتابیں شامل ہیں۔ ان کا کلام پڑھنے والے کے دل میں اتر جاتا ہے، جہاں ان کی قلبی نسبت اور دردِ دروں صاف دکھائی دیتا ہے:
جن کے سینے میں حبِ حیدر ہے
جن کے ہونٹوں پہ نامِ سرور ہے
غمِ حسینی ہے جن کی آنکھوں میں
رب کا کلمہ ہے جن کی سانسوں میں
مر بھی جائیں تو کم نہیں ہوں گے
ہم سے ہوں گے جو ہم نہیں ہوں گے
زندگی کے آخری ایام میں، وہ اربعینِ حسینی کے مقدس موقع پر کربلا و نجف کی زیارتوں کے لیے گئے تھے۔ وہیں ان کی طبیعت ناساز ہوئی، کچھ عرصہ عراق اور پھر مشہدِ مقدس (ایران) میں زیرِ علاج رہے۔ حالت زیادہ خراب ہونے پر اگست 2026ء کے اواخر میں انہیں لاہور منتقل کیا گیا، جہاں وہ کچھ عرصہ پی کے ایل آئی (PKLI) میں کومے کی حالت میں زندگی اور موت کی کشمکش میں رہے، یہاں تک کہ 29 اگست 2026ء کو انہوں نے اپنے مولا کی بارگاہ میں حاضری دے دی۔

ان کی شاعری کا یہ سچ آج حقیقت بن گیا ہے:
موت سے ہاتھ ملاتا ہوں، میں سو جاتا ہوں
جاگتے رہنا بھی اک شکل ہے بیماری کی
خود کو احساس دلاتا ہوں، میں سو جاتا ہوں
مرحوم ایک شفیق انسان، مخلص دوست، بے مثال ماہرِ فن اور غزل کے ایک سچے عاشق تھے۔ ان کا یوں اچانک بچھڑ جانا ادبی دنیا اور وابستگان کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کے پسماندگان میں ایک بیوہ اور چھ معصوم بچے شامل ہیں، جنہیں اس کٹھن گھڑی میں ہماری دعاؤں کی شدید ضرورت ہے۔
پروردگارِ عالم مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی تمام لغزشوں کو درگزر کرتے ہوئے انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور جوارِ سرکارِ وفا حضرت عباس علمدار نصیب فرمائے۔ سوگوار خاندان اور تمام لواحقین کو اس صدمہِ عظیم کو برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
نمازِ جنازہ آج صبح گیاره بجے خانقاہ ڈوگراں میں ادا کر دی گئی ہے۔

محترم عمران ریاض خان، منصور علی خان، حامد میر، سلیم صافی، انصار عباسی اور اسما شیرازی صاحبہ/صاحب،السلام علیکم!ہم تقریباً...
27/08/2026

محترم عمران ریاض خان، منصور علی خان، حامد میر، سلیم صافی، انصار عباسی اور اسما شیرازی صاحبہ/صاحب،

السلام علیکم!

ہم تقریباً 5,000 افغان میڈیکل طلبہ اور گریجویٹس آپ سے ایک اہم اور سنگین مسئلے کو اجاگر کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔

جب ہم نے پاکستان میں میڈیکل تعلیم کے لیے داخلہ لیا تھا، اُس وقت ہماری متعلقہ یونیورسٹیاں PMDC کی رجسٹرڈ/تسلیم شدہ فہرست میں شامل تھیں۔ ہم نے اسی بنیاد پر اپنی تعلیم اور مستقبل کے فیصلے کیے۔ تاہم بعد میں ان یونیورسٹیوں کو فہرست سے ڈی لسٹ کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں اب ہمیں NRE (National Registration Examination) میں شرکت کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

اس فیصلے سے تقریباً 5,000 افغان میڈیکل طلبہ و گریجویٹس کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے۔ ہمارا مؤقف ہے کہ جن طلبہ نے داخلہ اُس وقت لیا جب ان کی یونیورسٹیاں PMDC کی فہرست میں موجود تھیں، ان کے معاملے کو پرانے قوانین/حالات کے مطابق تحفظ دیا جائے اور انہیں NRE میں شرکت کا موقع فراہم کیا جائے۔

ہم آپ سے مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو اپنے پروگرام، کالم اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے اجاگر کریں اور PMDC اور حکومتِ پاکستان سے اس معاملے کا منصفانہ اور انسانی بنیادوں پر حل نکالنے کا مطالبہ کریں۔

آپ کی آواز ہماری 5,000 افراد کی آواز بن سکتی ہے۔ براہِ کرم اس مسئلے کو ضرور اجاگر کریں۔

والسلام
متاثرہ افغان میڈیکل طلبہ و گریجویٹس






























پمز نرسری میں آتشزدگی کے المناک واقعے میں 15 معصوم بچوں کی جانوں کا ضیاع ایک ناقابلِ قبول سانحہ ہے جس نے ہسپتال کے حفاظت...
27/08/2026

پمز نرسری میں آتشزدگی کے المناک واقعے میں 15 معصوم بچوں کی جانوں کا ضیاع ایک ناقابلِ قبول سانحہ ہے جس نے ہسپتال کے حفاظتی نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ہماری مانگیں:
اس سانحے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے۔
آگ لگنے کی وجوہات، فائر سیفٹی انتظامات اور ایمرجنسی رسپانس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔
پمز کی انتظامی قیادت، بشمول ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈین، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور دیگر متعلقہ افسران کی انتظامی ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔
پروفیسر رضوان تاج کی میڈیکل ایجوکیشن اور گریجویٹس، خاص طور پر Foreign Medical Graduates (FMGs)، افغانستان، کرغزستان، فاٹا اور بلوچستان کے طلبہ سے متعلق پالیسیوں اور فیصلوں کا بھی غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔
ہمارا مطالبہ:
اگر تحقیقات میں کسی فرد کی غفلت، انتظامی کوتاہی یا قانونی ذمہ داری ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ چاہے وہ معصوم بچوں کی جانوں کا ضیاع ہو یا طلبہ اور ڈاکٹرز کے مستقبل کا سوال، ہر معاملے میں شفافیت، جوابدہی اور انصاف ضروری ہے۔ ہم حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ہمیں شخصیات نہیں، جوابدہی چاہیے؛
ہمیں انتقام نہیں، انصاف چاہیے۔

14 معصوم جانیں، Patient Safety اور جوابدہی کا بڑا سوال!اسلام آباد کے PIMS ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں پیش آنے و...
27/08/2026

14 معصوم جانیں، Patient Safety اور جوابدہی کا بڑا سوال!

اسلام آباد کے PIMS ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے سانحے میں 14 معصوم نومولود جان سے گئے۔ یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ہسپتال کے حفاظتی انتظامات، نگرانی اور انتظامی کارکردگی پر ایک انتہائی سنگین سوال ہے۔

یہاں ایک اہم سوال پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج سے بھی بنتا ہے، جو PM&DC کے صدر ہیں اور PIMS کی Dean ہیں PM&DC کی جانب سے FMGs کے خلاف مختلف پالیسیوں اور اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے بارہا Patient Safety کو بنیاد بنایا جاتا ہے

تو پھر آج عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں:

اگر Patient Safety اتنی ہی اہم ہے تو PIMS میں 14 نومولود بچوں کی جانیں کیسے ضائع ہوئیں؟

کیا اس وارڈ میں مناسب Fire Safety System موجود تھا؟
کیا باقاعدہ Safety Inspections ہوتی تھیں؟
کیا Emergency Response کا مؤثر نظام موجود تھا؟
کیا ہسپتال انتظامیہ نے ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی کی تھی؟
اور سب سے اہم سوال: ان 14 معصوم جانوں کی حفاظت میں ناکامی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
اگر Patient Safety FMGs کے خلاف اقدامات کی دلیل بن سکتی ہے، تو پھر PIMS کے اندر Patient Safety پر اٹھنے والے سوالات کا جواب بھی اسی سنجیدگی سے دینا ہوگا۔
ہم کسی فرد کے خلاف ذاتی انتقام نہیں چاہتے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ 14 معصوم بچوں کی موت کی شفاف، آزاد اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہوں، ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور اگر کسی کی غفلت یا انتظامی ناکامی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ Patient Safety کا اصول سب کیلئے یکساں ہونا چاہئے چاہے آپ ڈاکٹر ہوں یا Dean ہو

































د عوامي نشنل ګوند د خیبر پښتونخوا د صوبايي اسمبلۍ غړي ارباب عثمان خان ویلي، د دغه ایالت له پنځو زرو ډېر هغه محصلین چې په...
26/08/2026

د عوامي نشنل ګوند د خیبر پښتونخوا د صوبايي اسمبلۍ غړي ارباب عثمان خان ویلي، د دغه ایالت له پنځو زرو ډېر هغه محصلین چې په افغانستان کې طبي زده‌کړې کوي، د پاکستان د طبي شورا د نوې پرېکړې له امله زیانمن شوي دي. نوموړي د پاکستان له مرکزي حکومت او طبي شورا وغوښتل چې دغو محصلینو ته په ملي ازموینه کې د ګډون اجازه ورکړي.

بل خوا، د پاکستان طبي شورا مخکې خبرداری ورکړی و چې له افغانستان څخه د طبي زده‌کړو فارغانو ته به په پاکستان کې د کار کولو رسمي جواز ورنه‌کړل شي. ارباب عثمان خان ټینګار کوي چې له ازموینې د محصلینو منع کول بې‌انصافي ده او باید ارزونه یې وشي.






























24/08/2026

عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی ارباب عثمان خان کا اسمبلی اجلاس میں خطاب

خیبر پختونخوا کے پانچ ہزار سے زائد میڈیکل طلبہ افغانستان میں تعلیم کے بعد ڈگریوں کی عدم منظوری سے متاثر

پی ایم ڈی سی نے اگست 2025 سے قبل طلبہ کو این او سی جاری کیے تھے،

طلبہ جن کالجز میں زیرِ تعلیم تھے، پی ایم ڈی سی انہیں پہلے ریکگنائز بھی کر رہا تھا،

ہزاروں طلبہ نے افغانستان میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے فیسیں جمع کرائی ہیں،

طلبہ کو نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے،

اگر طلبہ امتحان میں کوالیفائی نہ کریں تو قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے،

پی ایم ڈی سی نے پہلے این او سی دیے، اب طلبہ کو امتحان میں بیٹھنے سے روکنا ناانصافی ہے

خیبر پختونخوا کے میڈیکل طلبہ کا ایگزام اور اسیسمنٹ کیا جائے،

قانونی اور تکنیکی طور پر طلبہ کو نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن میں بیٹھنے کی اجازت ملنی چاہیے

وفاقی حکومت اور پی ایم ڈی سی خیبر پختونخوا کے متاثرہ میڈیکل طلبہ کا مسئلہ حل کریں

|






























اہم قانونی پیش رفت ⚖️آج FMGs کے صدر ڈاکٹر وقاص اکبر صاحب نے ایڈووکیٹ شعیب شاہین صاحب کے ساتھ اپنے کیس کے حوالے سے اہم می...
24/08/2026

اہم قانونی پیش رفت ⚖️
آج FMGs کے صدر ڈاکٹر وقاص اکبر صاحب نے ایڈووکیٹ شعیب شاہین صاحب کے ساتھ اپنے کیس کے حوالے سے اہم میٹنگ کی، جس میں آئندہ کے قانونی لائحۂ عمل پر رہنمائی حاصل کی گئی۔
عدالتی تعطیلات 14 ستمبر تک جاری رہیں گی، جبکہ 15 یا 16 ستمبر کو ان شاء اللہ کیس کی سماعت/کارروائی مکمل ہونے کی توقع ہے۔ وکیل صاحب نے یقین دلایا کہ اگر فیصلہ ہمارے حق میں آتا ہے تو 10 ستمبر کی NRE اپلائی کی آخری تاریخ گزرنے کے باوجود پورٹل کھلوانے اور اپلائی کرنے کے لیے قانونی راستہ موجود ہے۔
ہم پُرامید ہیں کہ عدالت سے اپنے حق میں فیصلہ حاصل کرکے قانونی طور پر اپنے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔ ⚖️🤝































24/08/2026

: پی ایم ڈی سی بیرونی ممالک سے تعلیم حاصل کرنے والے گریجویٹ سے متعلق اپنا نوٹس واپس لے۔ ڈاکٹر وقاص اکبر

فارغ التحصیل فارن میڈیکل گریجویٹس کو انصاف اور قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔ ڈاکٹر وقاص اکبر

پی ایم ڈی سی کا ایک شخص ایسے نوٹیفکیشن جاری کر رہا ہے جس سے فارن میڈیکل گریجویٹس کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ ڈاکٹر وقاص اکبر

پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کرتے ہوئے پی ایم ڈی سی 31 جولائی کا نوٹیفکیشن واپس لے۔ ڈاکٹر وقاص اکبر

پشاور ۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے جاری کیے گئے غیر قانونی نوٹس کے خلاف بیرون ملک طبی تعلیم حاصل کرنے والے میڈیکل گریجویٹس نے حکومت پاکستان اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور متعلقہ اداروں سے انصاف اور قانونی تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ پشاور پریس کلب میں ںیرون ممالک سے میڈیکل گریجویٹس جن کی قیادت ڈاکٹر وقاص، اکبر ڈاکٹر نور رحمان، ڈاکٹر حنا اور ڈاکٹر نواد کر رہے تھے نے پیر کے روز پشاور پریس کلب میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ہزاروں فارن میڈیکل گریجویٹس جنہوں نے غیر ملکی طبی جامعات سے تعلیم حاصل کی جہاں انہوں نے اس وقت داخلہ لیا جب متعلقہ جامعات پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی تسلیم شدہ فہرست میں شامل تھی طلبہ اور ان کے والدین نے اسی سرکاری تسلیم شدہ اور اس وقت نافذ قواعد و ضوابط پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کر کے اور کئی سال طبی تعلیم کے حصول میں سرف کیے تاہم بعد اذان اٹھ ستمبر 2025 اور پھر 31 جولائی 20026 کے جاری کردار نوٹیفکیشن کے نتیجے میں ایسے نئی شرائط عائد کی گئی جن کے برے اثرات پہلے سے داخلہ لینے والے طلبہ اور فارغ التحصیل ڈاکٹروں تک بھی پہنچ رہے ہیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متاثرہ طلبہ نے کہا کہ پی ایم ٹی سی کی نئی شرائط سے ان کا مستقبل تاریک ہو گیا ہے اور بیرون ممالک سے فارغ التحصیل ڈاکٹروں پر اطلاق ان کے تعلیمی قانونی اور پیشہ ورانہ حقوق حقوق کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ اس معاملے کے حل اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے متاثرہ طلباء نے پشاور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا اور معزز عدالت نے دو اپریل 2026 کو متاثرہ طلباء کے حق میں فیصلہ بھی صادر کیا ہے اور پی ایم ڈی سی کو واضح کہا ہے کہ یہ کھلم کھلا ائین پاکستان کے خلاف ورزی ہے اور اس نوٹیفکیشن کو جلد از جلد منسوخ کیا جائے لیکن پی ایم ڈی سی کے کرتا دھرتا اور تین جگہ پر ڈیوٹیوں کرنے والے رضوان تاج صاحب یہ احکامات ماننے سے مکمل انکاری ہے متاثرہ ڈاکٹروں نے سوال اٹھایا کہ اگر انہی جامعات کے فارغ التحصیل ڈاکٹر عالمی سطح پر مختلف امتحانات اور لائسنسن کے عمل میں حصہ لینے کے اہل سمجھے جاتے ہیں جن میں اسٹریلین میڈیکل کونسل، میڈیکل کونسل اف کینیڈا، جرمنی کی میڈیکل کونسل، جنرل میڈیکل کونسل برطانیہ، ایجوکیشنل کمیشن فار فارن میڈیکل گریجویٹس امریکہ، ورلڈ ڈائریکٹری اف میڈیکل اسکول اور ورلڈ ہیلتھ ارگنائزیشن کے تقاضوں کے مطابق اگے بڑھنے کے مواقع موجود ہیں تو پھر پاکستان میں انہیں نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن میں بیٹھنے سے کیوں روکا جا رہا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ فارن میڈیکل گریجویٹس نیم حکومت پاکستان اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے مطالبہ کیا کہ اٹھ ستمبر 2025 اور 31 جولائی 2026 کے نوٹیفکیشن کا انرول اور فارغ التحصیل گریجویٹس پر صرف فوری طور پر اطلاق ختم کیا جائے اور نئی پالیسی اور نئی شرائط کا اطلاق مستقبل میں داخلہ لینے والے طلبہ پر کیا جائے جبکہ پہلے سے زیر تعلیم اور فارغ التحصیل طلبہ کے حقوق کا تحفظ کیا جائے متاثرین نے مطالبہ کیا کہ اٹھ ستمبر 2025 اور 31 جولائی 2026 سے قبل داخلہ لینے والے یا اپنی تعلیم مکمل کرنے والے تمام اہل طلبہ کو اس وقت کہ نافذ کردہ فوائد وہ ضوابط کے مطابق عارضی رجسٹریشن، قومی رجسٹریشن امتحان اور متعلقہ رجسٹریشن کے مراحل میں شرکت کا منصفانہ موقع فراہم کیا جائے۔ متاثرین نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی نئی پالیسی یا ضابطے کے نفاذ سے پہلے ایسے طلبہ کے حقوق اور قانونی توقعات کو مدنظر رکھا جائے جنہوں نے پہلے سے نافذ سرکاری قواعد و ضوابط کے تحت اپنی تعلیم شروع کی متاثرین نے مطالبہ کیا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روح میں ائین پاکستان قانونی اصولوں اور متاثرہ طلبہ کے جائز حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کے لیے ایک مستقل اور واضح اور منصفانہ پالیسی واضح کیے جائے۔ فارن میڈیکل گریجویٹس نے صدر پاکستان اصف علی زرداری وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال پارلیمنٹ اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور انسانی حقوق کے اداروں اور ذرائع ابلاغ اور تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف چند طلبہ یا فارغ التحصیل ڈاکٹروں کو نہیں بلکہ اس سے ہزاروں خاندانوں کا مستقبل وابستہ ہے اور ان کی برسوں کی محنت اور ان کے قانونی حقوق کا معاملہ ہے۔ فارن میڈیکل گریجویٹس نے کہا کہ ہم کسی غیر قانونی رعایت، خصوصی استسنا یا معیار پر سمجھوتے کا مطالبہ نہیں کر رہے انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ قانون کے مطابق ہے اور اہلیہ ثابت کرنے کا موقع دیا جائے ایسی نئی شرائط کا اطلاق ان طلبہ پر نہ کیے جائے جنہوں نے ماضی میں ریاست کی تصدیق اور اس وقت کے قانون کے کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی تعلیم مکمل کی اور اج پاکستان میں انہیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی پوری زندگی اور قیمتی سال ڈاکٹر بننے اور ملک و قوم کی خدمت کے لیے وقف کیے لیکن اگے سے پی ایم ڈی سی نے ایسے ارڈر جاری کیے جس سے ہمارا مستقبل تاریک ہو رہا ہے۔ لہذا ہماری وزیراعظم صدر پاکستان اور چیف اف ارمی سٹاف سے اپیل ہے کہ وہ ایک شخص اور مافیا کی جانب سے جاری کردہ اس غیر قانونی نوٹس کے خلاف ایکشن لیں اور ہمیں انصاف اور قانونی تحفظ فراہم کریں اور ہمارا مستقبل تاریک ہونے سے بچائیں۔

: فارن میڈیکل گریجویٹ ڈاکٹر وقاس اکبر بیرون ممالک سے طبی تعلیم حاصل کرنے والے فارغ التحصیل گریجویٹس کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔

doctors ke ilawa koe aur fisha rakhni wala hai jo qom ke sath itna muhlis hn 🤔. ڈاکٹر ہونے کا حق ادا کر دیا دلہن کے لباس...
24/08/2026

doctors ke ilawa koe aur fisha rakhni wala hai jo qom ke sath itna muhlis hn 🤔.

ڈاکٹر ہونے کا حق ادا کر دیا دلہن کے لباس میں جب اسے پتہ چلا کہ کیٹرن والے کی جان کو خطرہ ہے تو ڈاکٹر نے فورا اپنی رسم کو فنکشن کو ادھر ہی روک کر فرسٹ ایڈ دے کر جان بچائے































Address

Islamabad
24506

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PM & DC issues affecting Doctors posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share