08/06/2026
خلاصہ یہ ہے کہ میڈ ڈینٹل کئیر کے ایڈز آپ نے بھی دیکھے ہوں گے، کہ اتنے لاکھ بک گیا، دانتوں کو یہ کر دیتا، یہ رزلٹ وہ رزلٹ۔ خیر کل ان کے ایک اشتہار پر نظر پڑی ، اور یہ پوسٹ ان کے فیس بک پر ہے۔۔۔
"MAD Dental Care teeth whitening products comply with GSO 1943:2024, verified by METS Laboratory, UAE.
When products are tested under international GCC standards, debates turn into data."
ایک بہت ہی سادہ سوال کیا کہ:
"Why it is not DRAP approved?" (یعنی یہ پراڈکٹ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان سے منظور شدہ کیوں نہیں ہے؟)
اب جن دوستوں کو DRAP کا علم نہیں، انہیں بتاتا چلوں کہ یہ وہ سرکاری ادارہ ہے جو اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی دوا یا ہیلتھ پراڈکٹ آپ کے استعمال کے لیے محفوظ ہے اور کون سی نہیں۔ چونکہ دانتوں کی سفیدی کے لیے کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں، اس لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ کیا یہ انسانی صحت کے لیے محفوظ ہیں یا نہیں۔
خیر، میری اس بات پر کمپنی کا جواب آیا کہ:
"because we Provide Cosmetic Teeth Whitening Products not Medicated ones.
We have all Important Certification for this. DRAP don’t deal with Cosmetic Products."
اس پر انہیں جب یہ کہا:
Calling a 6% Hydrogen Peroxide formula a 'Simple Cosmetic' to avoid DRAP oversight is exactly the problem. In professional dental standards (like the GSO 1943:2024 you cited), concentrations above 0.1% HP are bioactive and can cause permanent enamel damage if not strictly regulated as Medicated Cosmetics or Therapeutic Goods.
If you are 'Dentist Approved,' why hide behind a cosmetic loophole instead of getting a proper DRAP Enlistment (Form-7) for medicated oral care? Also, 'safe' in a lab is not the same as 'safe for long-term enamel.' Where is your independent RDA (Abrasivity) Report? Without that, you're just selling unregulated chemicals under a fancy 'Awards' banner.
تو نتیجہ یہ نکلا ہے کہ انہوں نے خاکسار کی تھریڈ ہی ڈیلیٹ کر دی۔۔۔ اور یہاں بجی شک کی ٹلی!
ہائیڈروجن پراکسائیڈ صفر اعشاریہ ایک اور 6 فیصد میں ، 60 گنا زیادہ کا فرق ہے۔ یہ دانتوں کو ایک ریگ مار کی طرح گھستا ہے اور ایک بار دانتوں کا انیمل تباہ ہو جا ئے تو دوبارہ نہیں ٹھیک ہو سکتا۔
لہذا اب لازم ہو گیا ہے کہ کل تو ذرا سرسری دیکھا تھا اب ذرا تفصیلی جائزہ ان کی پراڈکٹس، اشتہارات، ان کے دعووں، اور ان کی ویب سائٹ کا لیا جائے۔ اگرچہ ان کی لئے آسان ہے کہ پن پوائنٹ کرنے پر ڈیلیٹ کر دیں لیکن پھر بھی جہاں ہو سکا سکرین شاٹ لے لیں گے۔ اگر ڈینٹسٹ یا کوئی متعلقہ دوست اس میں رہنمائی اور ان پٹ دینا چاہے تو حاضر۔