01/02/2026
وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل افریدی سے کے پی ہاؤس اسلام اباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے ملاقات کی ،ملاقات میں اٹھ فروری کے ممکنہ پرامن احتجاج ،عمران خان کی صحت سے متعلق حکومتی رویے سمیت قومی اور صوبائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،صوبائی مشیر اطلاعات شفیع جان بھی اس موقع پر موجود تھے، تحریک انصاف کے قائدین نے سابق وزیراعظم عمران خان کی خرابی صحت اور ان سے ان کی فیملی اور وزیراعلی سمیت وکلاء اور پارٹی رہنماؤں کو ملاقات کی اجازت نہ دینے پر تشویش کا اظہار کیا گیا، پی ٹی ائی رہنماؤں نے حکومتی وزراء کی جانب سے عمران خان کی صحت سے متعلق جھوٹ بولنے اور بعد میں اقرار کرنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومتی وزراء کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور بچگانہ ہے، انہوں نے کہا کہ خصوصاً ملک کے سب سے پاپولر لیڈر عمران خان کے ساتھ حکومت کا رویہ انتہائی غیر مناسب اور قابل مذمت ہے، ملاقات کے دوران سٹریٹ موومنٹ کو مزید ارگنائز اور موثر بنانے پر غور کیا گیا، اور تمام تر فسطائیت اور ظلم و جبر کے باوجود عوام کا سٹریٹ موومنٹ میں بھرپور انداز میں شرکت کرنا عوام کا عمران خان سے محبت اور موجودہ وفاقی حکومت پر عدم اعتماد کا مظہر قرار دیا۔ وزیر اعلی سہیل افریدی نے کہا کہ ان کو اپنے قائد عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے انہوں نے کہا کہ میں صوبے کے ساڑھے چار کروڑ عوام کا منتخب وزیراعلی ہوں لیکن مجھے اڈیالہ جیل کے باہر روڈ پر کئی کئی گھنٹے انتظار کرایا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے پوری قوم تشویش میں ہے اور وہ جاننا چاہتی ہے کہ عمران خان کی صحت اس وقت کیسی ہے انہوں نے کہا کہ فیملی سمیت کسی کو ملاقات کی اجازت نہ دینا نہ صرف غیر انسانی سلوک ہے بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سے ملک نہیں چل رہا مہنگائی اور بے روزگاری میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے عوام پریشان ہیں کسان رل رہا ہے انہوں نے کہا کہ وفاق کی سطح پر غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک سنگین مشکلات سے دوچار ہوگیا ہے ۔ حکمرانوں کو ملک کی کوئی فکر نہیں ہے انہوں نے کہا کہ وفاق خیبر پختون خواہ کے بقایاجات کی ادائیگی نہ کرکے صوبے کو ترقی سے محروم کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت عدلیہ سمیت تمام ادارے مفلوج ہیں انصاف نہیں مل رہا، سہیل افریدی نے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور ائین کو بے بس کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ وفاق کے عدم تعاون کے باوجود صوبے میں ترقی کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور ائین کی بحالی کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے، شوکت یوسف زئی نےاس موقع پر کہا کہ حکومت عوام سے خوفزدہ ہے انہوں نے کہا کہ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنا نہ صرف جیل مینول بلکہ انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں ائین اور قانون کی بالادستی ختم ہو چکی ہے، شوکت یوسف زئی نے کہا کہ جس ہسپتال میں عمران خان کو رات کے اندھیرے میں لا کر علاج کا ڈرامہ رچایا گیا اس ہسپتال میں نواز شریف شہباز شریف یا مریم نواز اپنا علاج کرا لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وضاحت کرے کہ عمران خان کی بیماری اور ان کو رات کی تاریکی میں پمز لا کر خفیہ طور پہ علاج کرانے کی خبر کیوں خفیہ رکھی حکومت نے عمران خان کی فیملی کو کیوں پیشگی اطلاع نہیں کی ، انہوں نے کہا کہ موجودہ وزراء جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے ان کے اب کسی بات پر یقین نہیں کی جا سکتی عمران خان کے معالجین ان کی فیملی، وزیراعلی کے پی اور ان کے وکلا کو فوری طور پر ملاقات کی اجازت دی جائے، تاکہ قوم کو مطمئن کیا جا سکے۔