28/01/2026
:
صحت اور زراعت: ایک مشترکہ ذمہ داری
میں ڈاکٹر عبدالرشید ہوں۔ اپنے روزمرہ طبی تجربے میں میں دیکھ رہا ہوں کہ بڑی تعداد میں مریض، خصوصاً بچے، خواتین اور معمر افراد، اہم غذائی اجزاء (Micronutrients) کی شدید کمی کا شکار ہیں، جن میں خاص طور پر زنک، میگنیشیم، آئرن اور کیلشیم شامل ہیں۔ ان اجزاء کی کمی مدافعتی نظام کی کمزوری، جسمانی نشوونما میں رکاوٹ، ہڈیوں کی کمزوری اور مجموعی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
اسی وجہ سے میں اپنے مریضوں کو ہمیشہ یہ مشورہ دیتا ہوں کہ وہ قدرتی غذاؤں کا استعمال کریں جو غذائی اجزاء سے بھرپور ہوں، اور حد سے زیادہ فارمولہ یا مصنوعی غذاؤں پر انحصار نہ کریں۔ صحت مند مٹی سے پیدا ہونے والی قدرتی خوراک انسانی صحت کے لیے سب سے پائیدار اور مؤثر ذریعہ ہے۔
میں زہیر ہوں، ایک تجربہ کار زرعی ماہر اور مینجنگ پارٹنر آف انٹرپرائزز، جہاں ہم اعلیٰ معیار کے بیج، بہترین کھادیں اور جدید فصل تحفظ (Crop Protection) مصنوعات کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ہم کسانوں کو اس بات کی سختی سے سفارش کرتے ہیں کہ وہ تمام فصلوں میں مائیکرونیوٹرینٹس کا متوازن استعمال کریں—صرف زیادہ پیداوار کے لیے نہیں بلکہ اس لیے بھی کہ پیدا ہونے والی خوراک غذائیت سے بھرپور ہو۔
مٹی کی صحت، فصل کی غذائیت اور انسانی صحت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔
زنک گندم، چاول اور مکئی جیسی غذائی اجناس کے لیے نہایت ضروری ہے، جو دانے کے معیار اور انسانی قوتِ مدافعت دونوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
میگنیشیم، بوران اور کیلشیم بالخصوص سبزیوں کے لیے اہم ہیں، کیونکہ یہ پودوں کے میٹابولزم، معدنی کثافت اور غذائی قدر کو بہتر بناتے ہیں۔
متوازن فصل غذائیت سے غذائیت سے بھرپور خوراک پیدا ہوتی ہے، جو ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔ کسان کی سطح پر مائیکرونیوٹرینٹس میں سرمایہ کاری صرف زرعی فیصلہ نہیں بلکہ ایک عوامی صحت کی حکمتِ عملی ہے۔
صحت مند مٹی → صحت مند فصل
صحت مند فصل → صحت مند انسان