Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے

  • Home
  • Pakistan
  • Jahania
  • Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے

Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے Amna Children clinic near Gate No.2 THQ hospital Jahanian

Dr Amir Ramay MBBS,RMP,
MCPS Pediatrics,
Child specialist

04/09/2026

بچوں کو بتائیں ــــ کبھی کوئی اجنبی شخص ان کو پکڑ لے تو وہ "انکل" نہیں ہیں۔ احترام، تمیز، سمائل دینا، بات سننا اور ماننا۔۔۔۔ ایسے سوشل مینرز کو بھول جائیں۔ بلکہ اب یہ کرنا ہو گا: زور زور سے چیخنا ہو گا۔ کیا چیخنا ہو گا؟ بچاؤ بچاؤ کی آوازیں لگانا تا کہ دوسرے لوگ سن لیں۔ اجنبی کے ہاتھوں پر پوری قوت سے دانتوں سے کاٹنا کہ کسی طرح اس کی گرفت سے آزاد ہو سکیں۔ پوری قوت سے بھاگنا اور چیخنے والی آواز کے ساتھ بچاؤ بچاؤ کہتے جانا۔ اجنبی کے منہ پر گھونسے مارنا۔ اس کی آنکھوں پر حملہ کرنا۔ اگر ممکن ہو تو پتھر یا مٹی یا جو کچھ بھی ملے، اٹھا کر اس کی آنکھوں پر مارنا، پھر بھاگ کھڑے ہونا۔

نیز، اگر آپ گم ہو جاؤ تو جلدی سے آس پاس کسی فیملی کو دیکھو، بچوں والی ماں، بچوں والے کوئی انکل۔ انہیں اپنی بات بتائیں اور ہیلپ کرنے کو کہیں۔ بچوں کو اپنا فون نمبر، اور فیملی میں دوتین دیگر افراد کے نمبرز رٹواتے رہا کریں۔ 10 سال تک کے بچوں کو اپنے علاقے / کالونی کا نام اور گھر کا ایڈریس زبانی یاد کروائیں۔

04/09/2026
بچپن میں جب بچہ چلنا سیکھ رہا ہوتا ہے تو شروع کے دنوں میں پنجوں کے بل چلنا ایک عام اور فطری بات ہے۔ اس مرحلے پر بچے کا ت...
03/09/2026

بچپن میں جب بچہ چلنا سیکھ رہا ہوتا ہے تو شروع کے دنوں میں پنجوں کے بل چلنا ایک عام اور فطری بات ہے۔ اس مرحلے پر بچے کا توازن، پٹھے اور اعصابی نظام ابھی نشوونما کے عمل میں ہوتے ہیں۔ زیادہ تر بچے چند ہی مہینوں میں آہستہ آہستہ پورا پاؤں زمین پر رکھ کر چلنا سیکھ لیتے ہیں اور یہ عادت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔
البتہ بعض بچوں میں پنجوں کے بل چلنا عارضی عادت کے بجائے کسی جسمانی یا اعصابی مسئلے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ ایک عام وجہ ایڑی کے پٹھے، جسے ایکیلیز ٹینڈن کہا جاتا ہے، کا غیر معمولی طور پر چھوٹا ہونا ہے۔ ایسی صورت میں بچے کی ایڑی زمین تک پوری طرح نہیں پہنچ پاتی اور وہ مجبوری میں پنجوں پر چلتا ہے۔
عمومی طور پر دو سال کی عمر کے بعد بچے کو پورے پاؤں کے ساتھ چلنا شروع کر دینا چاہیے۔ اگر دو سال کے بعد بھی بچہ مسلسل پنجوں کے بل چلتا رہے، یا وقت کے ساتھ یہ عادت بڑھتی جائے، تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ کیفیت بعض اوقات اندرونی بیماری یا اعصابی کمزوری کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔
اس کی ممکنہ وجوہات میں پٹھوں کی پیدائشی بیماریاں، دماغی کمزوری یا سیریبرل پالسی، ایکیلیز ٹینڈن کا چھوٹا ہونا، آٹزم، یا دیگر نیورولوجیکل مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔ بعض بچوں میں یہ صرف ایک عادت بھی ہو سکتی ہے، لیکن درست فرق جاننا بہت ضروری ہے۔
علاج اور نگہداشت بچے کی وجہ کے مطابق کی جاتی ہے۔ زیادہ تر کیسز میں ابتدائی معائنہ اور مخصوص ورزشوں سے واضح بہتری آ جاتی ہے۔ بعض بچوں کو خاص جوتوں یا سپورٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ بہت کم اور پیچیدہ صورتوں میں سرجری کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اہم پیغام والدین کے لیے:
اگر آپ کا بچہ دو سال کی عمر کے بعد بھی مسلسل پنجوں کے بل چل رہا ہو، یا ساتھ میں چلنے میں لڑکھڑاہٹ، کمزوری، یا نشوونما میں تاخیر نظر آئے، تو خود اندازے لگانے کے بجائے لازمی طور پر چائلڈ سپیشلسٹ سے مشورہ کریں۔ بروقت تشخیص سے علاج آسان اور مؤثر ہو جاتا ہے۔

02/09/2026

سوال :
میرا بچہ ڈیڑھ سال کا ہے ویسے تو وہ صحت مند ہے لیکن جب کسی وجہ سے اپ سیٹ ہو یا کو کوئی چوٹ لگ جائےتو روتے روتے تقریبا ایک منٹ تک سانس روک لیتا ہے اور اس کے چہرے کا رنگ نیلا ہو جاتا ہے کیا یہ کوئی بیماری ہے ؟ کوئی ٹیسٹ کروانے کی ضرورت ہے یا نہیں؟

جواب:
اس صورتحال کو انگریزی میں Breath Holding spell کہتے ہیں۔ اردو میں اسے سانس روکنے کا دورہ کہا جاسکتا ہے۔ یہ چھ مہینے سے لے کر 6 سال کی عمر تک کے بچوں میں ہو سکتا ہے لیکن عام طور پر ایک سے تین سال کی عمر تک کے بچوں میں ہوتا ہے. کچھ بچوں میں یہ کبھی کبھار ہوتا ہے مگر دوسرے بچوں میں روزانہ کئی بار بھی ہو سکتا ہے. یہ بچوں میں اس وقت ہوتا ہے جب جب وہ اچانک شدید غصے یا بے چینی کا شکار ہو. یا کسی وجہ سے اچانک شدید خوف میں مبتلا ہو جائیں یا ان کو کوئی چوٹ لگ جائے. بچوں کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا اور یہ خود بخود ہی ہو جاتا ہے۔
اس کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں ایک کو (Blue Breath Holding Spell ) یا سانس ر کنے کی وجہ سے بچے کا نیلا ہو جانا اور دوسری قسم کو (Pale Breath Holding Spell )یا بچے کے رنگ کا پیلا یا سفید پڑ جاتا کہتے ہیں.
پہلی قسم بچوں میں زیادہ دیکھی جاتی ہے اور یہ عمومی طور پر بچے کے غصے یا بے چینی کا شکارہونے کی وجہ سے ہوتی ہے. اس میں بچے کے مسلسل رونے کی وجہ سے سانس لینے کا عمل متاثر ہوتا ہے. بچہ روتے وقت بہت زور سے باہر کی طرف سانس نکالتا ہے اس سے پہلے کہ وہ سانس اندر کی طرف لے سکے اس کے سانس میں ایک لمبا وقفہ آ جاتا ہے یعنی بچے کا سانس رک جاتا ہے اور اس کا نتیجہ بچے کا رنگ نیلا پڑ جانے کی صورت میں نکلتا ہے. دوسری قسم کی سب سے اہم وجہ بچے کو کسی وجہ سے اچانک درد کا ہونا ہے جس کی وجہ سے کے دل کی دھڑکن عارضی طور پر کم ہو جاتی ہے . کچھ بچوں میں دونوں اقسام اکٹھی بھی ہو سکتی ہیں اور کچھ بچے اس کی وجہ سے بے ہوش بھی ہو جاتے ہیں مگر ایک منٹ کے اندر اندر دوبارہ سے ہوش میں آ جاتے ہیں. بےہوشی کے دوران کچھ بچوں کے جسم کو بالکل اسی طرح جھٹکے لگ سکتے ہیں جس طرح مرگی یعنی ایپی لیپسی کے مریض کو لگتے ہیں. ایسی صورتحال کو (Reflex Anoxic Seizure) کہتے ہیں. ایسا دوسری قسم میں ہوتا ہے. اس کا مرگی کے مرض سے کوئی تعلق نہیں.

ان کی تشخیص کے لئے عام طور پر کسی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی. بچوں کا ماہر ڈاکٹر والدین سے اس کی تفصیل جان کر یا ویڈیو دیکھ کر اس کی تشخیص کر سکتا ہے.
یہ دیکھا گیا ہے کہ کچھ بچے جن کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کے آئرن لیول یعنی خون میں فولاد کی کمی ہو سکتی ہے لیکن یہ اس کی بنیادی وجہ نہیں ہے.
یہ کچھ مخصوص بچوں ہی میں کیوں ہوتا ہے اس کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی البتہ یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ کچھ فیملیز یعنی خاندانوں میں ہو سکتا ہے.
عام طور پر اس کے لیے کسی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور بچے جب چھ سال کی عمر سے بڑے ہو جاتے ہیں تو وہ خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں. البتہ اگر بچوں کا سپیشلسٹ ڈاکٹر یہ سمجھتا ہے کہ کسی خاص بچے میں یہ کسی بیماری کی وجہ سے ہو رہے ہیں تو اس صورت میں بچے کو مزید ٹیسٹ اور علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے
بچے کو نیلا یا سفید ہو کر بے ہوش ہوتے ہوئے دیکھ کروالدین شدید پریشانی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اس صورتحال کا سامنا کرنا ایک مشکل کام ہے. اگر آپ کے بچے کو ایسا ہو توسب سے پہلے اپنے آپ کو سنبھالیں . بچے کو محفوظ جگہ پر زمین پر ایک سائیڈ پر لٹا دیں اس کے منہ میں کچھ نہ ڈالیں اور نہ ہی اس کے جسم پر ٹھنڈا یا گرم لگانے کی ضرورت ہے. اگر بچہ ایک منٹ کے اندر اندر سانس دوبارہ سے لینا شروع نہ کرےتو بچے کو بیسک لائف سپورٹ مہیا کریں اس کے لئے یوٹیوب پر بہت ساری ویڈیوز موجود ہیں. اور ایمرجنسی سروسز کو کال کریں.
یاد رکھیں کہ بچے کا اس میں کوئی قصور نہیں اس کا اس پر کوئی کنٹرول بھی نہیں ہے. اس لیے غصّہ ہونے سے پرہیز کریں اور نہ ہی اس کو کوئی سزا دیں. یہ ایک مشکل صورتحال ہو سکتی ہے. بچے کے رویے کو بہتر بنانے کے لیے بہت سی کارآمد معلومات یوٹیوب اور گوگل پر موجود ہیں جن سے والدین استفادہ کر سکتے ہیں.
وقت کے ساتھ ساتھ تجربے' ہمت اور ڈاکٹر کی مدد سے والدین ایسی صورتحال کا سامنا سیکھ جاتے ہیں اور اپنے بچے کے لئے ایک محفوظ اور منظم ماحول فراہم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں

01/09/2026

بچے کو ٹھوس غذا متعارف کرا نے میں تاخیر ہو جا ئے تو کیا مسا ئل ہو سکتے ہیں۔
سب سے پہلا مسئلہ غذا ئیت کی کمی کا ہے ۔چھ مہنے تک ماں کا دودھ یا فامو لا دودھ بچے کی غذا ئی ضرو ریات کو پو را کرتا ہے ۔مگر اس کے بعد صر ف دودھ میں پا ئے جانے وا لے اجزا بچے کے لئے نا کا فی ہو تے ہیں اور بچہ آئرن زنک اور دوسرے غذا ئی اجزا کی کمی کا شکار ہو تا ہے ۔اورٹھو س غذا چھ مہنے کی عمر سے متعا ر ف کرنا لا زمی ہو تا ہے ۔ابتدا میں بچے کو زیا دہ اقسام کی غذا سے متعارف کروانا اور آہستہ آہستہ اس کی مقدار کو بڑھانا مقصدہے ۔ دوسرا مسئلہ اگربچہ زندگی کے ابتدا ئی مہینوں میں ہر قسم کی غذا سے متعا رف نہ ہو تو اس با ت کا قوی امکان ہے کہ ایک ڈیڑھ سال کی عمر میں اس غذا کو قبول کر نے سے انکار کردے ۔اس لئے ا کثر ما ئیں یہ شکا یت کرتی ہیں کہ میرے ڈیڑھ دو سال کے بچے کو کوئی بھی کھا نا پسند نہیں ۔ا س کی بنیا دی وجہ بچے کو چھ ماہ سےایک سال کی عمر تک زیا دہ سےزیادہ اقسام کی غذا ئیں نہ دینا ہے ۔ کیو نکہ ذا ئقےسے متعارف ہو نے کا بہتر ین وقت یہی ہے۔

31/08/2026

ڈاکٹر صاحب، مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ میرا بچہ پیٹ بھر کر دودھ پی رہا ہے؟

نومولود بچے کے بارے میں سب سے بڑا سوال یہی ہوتا ہے کہ "کیا میرا بچہ پیٹ بھر کر دودھ پی رہا ہے یا نہیں؟"
یہ فکر ہر ماں باپ کو ہوتی ہے، خاص طور پر نئی ماؤں کو۔
لیکن کچھ سادہ نشانیاں ہیں جن سے آپ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ بچہ ٹھیک ہے یا نہیں۔

✅ 1۔ پیشاب کی مقدار پر نظر رکھیں
پیدائش کے بعد پہلے چند دنوں میں پیشاب کم ہوتا ہے، یہ نارمل ہے۔
لیکن 5 دن کی عمر کے بعد بچہ دن میں کم از کم 6 بار پیشاب کرے تو یہ اچھی علامت ہے۔
پیشاب کا رنگ ہلکا پیلا یا تقریباً صاف ہونا چاہیے۔
اگر پیشاب گہرا پیلا، نارنجی یا بہت کم ہو تو یہ دودھ کی کمی کی واضح علامت ہے، فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

✅ 2۔ پاخانے کی حالت اور تعداد
یہ نکتہ بہت والدین کو غلط فہمی میں ڈالتا ہے، اس لیے غور سے پڑھیں۔
پہلے ہفتے میں ماں کا دودھ پینے والا بچہ ہر دودھ پینے کے بعد پاخانہ کر سکتا ہے، یعنی دن میں 8 سے 12 بار تک بھی نارمل ہے۔
پاخانہ پیلا، پانی دار اور دانے دار ہوتا ہے، یہ بالکل ٹھیک ہے، گھبرائیں نہیں۔
4 سے 6 ہفتے کی عمر کے بعد تعداد خود بخود کم ہو جاتی ہے، کچھ بچے 2 سے 3 دن میں ایک بار کرتے ہیں، اگر بچہ خوش اور صحت مند ہے تو یہ بھی نارمل ہے۔

✅3۔ وزن کا بڑھنا:سب سے مضبوط نشانی
پیدائش کے بعد پہلے 3 سے 4 دنوں میں وزن میں کچھ کمی آتی ہے۔
یہ کمی پیدائشی وزن کے 7 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
اگر وزن 10 فیصد یا اس سے زیادہ کم ہو جائے تو یہ خطرے کی بات ہے۔
10 سے 12 دن کے اندر بچے کو اپنا پیدائشی وزن واپس حاصل کر لینا چاہیے۔
اس کے بعد ہر ہفتے تقریباً 150 سے 200 گرام وزن بڑھنا چاہیے۔
وزن کی باقاعدہ نگرانی کریں، یہ سب سے قابلِ اعتماد نشانی ہے۔

✅ 4۔ نیند کا پیٹرن:
یہ بات پاکستانی گھرانوں میں اکثر غلط سمجھی جاتی ہے:
"بچہ بہت پرسکون ہے، خوب سوتا ہے" یہ ہمیشہ اچھی بات نہیں۔
نومولود کو ہر 2 سے 3 گھنٹے بعد دودھ کے لیے جاگنا چاہیے۔
اگر بچہ 4 گھنٹے یا اس سے زیادہ بغیر جاگے سوتا رہے اور دودھ نہ مانگے تو یہ خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔
ایسے بچے میں یرقان، خون میں شکر کی کمی، یا دودھ کی کمی کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔
فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں انتظار نہ کریں۔

✅ 5۔ دودھ پینے کے بعد بچے کا رویہ۔
اگر بچہ دودھ پینے کے بعد خود ہی چھاتی چھوڑ دے، پرسکون ہو جائے یا سو جائے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ سیر ہو گیا ہے۔
کچھ بچے تھوڑی دیر بعد دوبارہ دودھ مانگتے ہیں، اسے "cluster feeding" کہتے ہیں۔
یہ عام طور پر ترقی کے مراحل میں یا ماں کا دودھ بڑھانے کے لیے ہوتا ہے، گھبرائیں نہیں، یہ بالکل نارمل ہے۔
اس وقت فارمولا دودھ شروع کرنا ضروری نہیں ہوتا، بلکہ بار بار دودھ پلانے سے ماں کا دودھ خود بخود بڑھتا ہے۔

✅6۔ بچے کی سرگرمی اور نشوونما
جاگنے کے وقت بچہ متحرک ہو، آنکھیں کھولے، اپنی ماں کی آواز پر ردعمل دے اور آہستہ آہستہ اپنی عمر کے مطابق ترقی کرے، یہ سب اچھی علامات ہیں۔

💥 فوری ڈاکٹر سے رابطہ کریں اگر:
✔️بچہ بہت کم پیشاب کرے۔
✔️پیشاب گہرا پیلا یا نارنجی ہو۔
✔️وزن پیدائشی وزن سے 7 فیصد سے زیادہ کم ہو جائے
✔️بچہ 4 گھنٹے سے زیادہ بغیر جاگے سوتا رہے۔
✔️دودھ پینے میں کمزوری یا سستی دکھائے۔
✔️بچہ بے جان، سست یا غیر معمولی طور پر خاموش لگے۔
✔️وزن نہ بڑھے یا مسلسل کم ہوتا رہے۔
💥 ہر بچہ مختلف ہوتا ہے، لیکن اوپر دی گئی علامات کو نظرانداز نہ کریں۔
اپنے بچے کو دیکھیں، اور اگر ذرا بھی شک ہو تو ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔
شک کرنا کمزوری نہیں، یہ ایک سمجھدار ماں باپ کی نشانی ہے۔ اللّٰہ آپ کے بچوں کو صحت، لمبی عمر اور خوشیوں سے بھرپور زندگی عطا فرمائے۔

Address

Jahania

Telephone

+923004065259

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share