03/06/2026
آج کے دور میں خاموشی کو اکثر سکون سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ ہر خاموشی کے پیچھے سکون نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ خاموشی ایک ایسی چیخ بن جاتی ہے جو سنائی نہیں دیتی، مگر دل کے اندر گونجتی رہتی ہے۔ والدین، خاص طور پر مائیں، بچوں کی مصروفیت کو آسانی سمجھ کر مطمئن ہو جاتی ہیں، مگر یہی آسانی کبھی کبھار ایک مشکل حقیقت کا دروازہ کھول دیتی ہے۔
ایک ماں اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف رہتی ہے۔ وہ اپنے بچے کو موبائل فون تھما دیتی ہے تاکہ وہ پرسکون رہے، ضد نہ کرے، اور اسے بار بار نہ بلائے۔ بچہ واقعی خاموش ہو جاتا ہے، نہ سوال کرتا ہے، نہ شرارت، نہ بات۔ ماں کو یہ خاموشی ایک نعمت محسوس ہوتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس کا بچہ بہت سمجھدار ہے، خود میں مگن رہتا ہے، اور کسی کو تنگ نہیں کرتا۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتی کہ یہ خاموشی دراصل ایک خاموش زوال ہے، ایک اندرونی تنہائی کا آغاز ہے۔
وقت گزرتا ہے، اور ایک دن اسے پتا چلتا ہے کہ آپ کا بچہ کلاس میں بھی کسی سے بات نہیں کرتا، دوست نہیں بناتا، اور ہر وقت الگ تھلگ رہتا ہے۔ یہ سن کر ماں کے دل میں ایک انجانا خوف جنم لیتا ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ میرا بچہ تو گھر میں بھی خاموش رہتا تھا، مگر یہ تو میں نے کبھی نہ سوچا تھا کہ اس کی خاموشی اس کے دل کی دنیا کو ویران کر رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بچے فطرتاً باتونی، جستجو کرنے والے اور تعلقات بنانے والے ہوتے ہیں۔ جب ایک بچہ غیر معمولی طور پر خاموش ہو جائے تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ وہ اندر سے کسی کمی، کسی خلا، یا کسی انجانے خوف کا شکار ہے۔ موبائل فون وقتی طور پر بچے کو مصروف تو کر دیتا ہے، مگر اس کے جذبات، اس کی باتیں، اور اس کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں دبا دیتا ہے۔ بچہ آہستہ آہستہ اپنی دنیا اس اسکرین تک محدود کر لیتا ہے، جہاں نہ حقیقی جذبات ہوتے ہیں، نہ سچے تعلقات۔
ماں کو جب یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کا بچہ خاموش نہیں بلکہ تنہا ہے، تو اس کے اندر ایک ندامت سی جاگتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ میں نے اپنے بچے کو وقت دینے کی بجائے ایک آلہ دے دیا، اس کے سوال سننے کی بجائے اسے اسکرین کے حوالے کر دیا۔ لیکن یہ احساس اگر وقت پر آ جائے تو یہی احساس ایک نئی شروعات بن سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بچوں کی خاموشی کو غور سے سنیں، ان کی مصروفیت کے پیچھے چھپی حقیقت کو سمجھیں، اور انہیں وقت دیں، توجہ دیں، اور اپنی موجودگی کا احساس دلائیں۔ کیونکہ بچے صرف روٹی، کپڑا اور تعلیم سے نہیں پلتے، وہ توجہ، محبت اور بات چیت سے پروان چڑھتے ہیں۔
اگر آج ایک ماں اپنے بچے کے پاس بیٹھ جائے، اس سے بات کرے، اس کی آنکھوں میں جھانکے، اور اس کی دنیا کو سمجھے، تو کل وہی بچہ ایک پراعتماد، خوش مزاج اور سماجی انسان بن سکتا ہے۔ خاموشی کو سکون سمجھنے کی بجائے، اسے سمجھنے کی کوشش کیجئے، کیونکہ بعض خاموشیاں بچوں کے دلوں میں بسی ہوئی تنہائی کی کہانی سناتی ہیں۔