Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے

  • Home
  • Pakistan
  • Jahania
  • Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے

Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے Amna Children clinic near Gate No.2 THQ hospital Jahanian

Dr Amir Ramay MBBS,RMP,
MCPS Pediatrics,
Child specialist

03/06/2026

آج کے دور میں خاموشی کو اکثر سکون سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ ہر خاموشی کے پیچھے سکون نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ خاموشی ایک ایسی چیخ بن جاتی ہے جو سنائی نہیں دیتی، مگر دل کے اندر گونجتی رہتی ہے۔ والدین، خاص طور پر مائیں، بچوں کی مصروفیت کو آسانی سمجھ کر مطمئن ہو جاتی ہیں، مگر یہی آسانی کبھی کبھار ایک مشکل حقیقت کا دروازہ کھول دیتی ہے۔

ایک ماں اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف رہتی ہے۔ وہ اپنے بچے کو موبائل فون تھما دیتی ہے تاکہ وہ پرسکون رہے، ضد نہ کرے، اور اسے بار بار نہ بلائے۔ بچہ واقعی خاموش ہو جاتا ہے، نہ سوال کرتا ہے، نہ شرارت، نہ بات۔ ماں کو یہ خاموشی ایک نعمت محسوس ہوتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس کا بچہ بہت سمجھدار ہے، خود میں مگن رہتا ہے، اور کسی کو تنگ نہیں کرتا۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتی کہ یہ خاموشی دراصل ایک خاموش زوال ہے، ایک اندرونی تنہائی کا آغاز ہے۔

وقت گزرتا ہے، اور ایک دن اسے پتا چلتا ہے کہ آپ کا بچہ کلاس میں بھی کسی سے بات نہیں کرتا، دوست نہیں بناتا، اور ہر وقت الگ تھلگ رہتا ہے۔ یہ سن کر ماں کے دل میں ایک انجانا خوف جنم لیتا ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ میرا بچہ تو گھر میں بھی خاموش رہتا تھا، مگر یہ تو میں نے کبھی نہ سوچا تھا کہ اس کی خاموشی اس کے دل کی دنیا کو ویران کر رہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بچے فطرتاً باتونی، جستجو کرنے والے اور تعلقات بنانے والے ہوتے ہیں۔ جب ایک بچہ غیر معمولی طور پر خاموش ہو جائے تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ وہ اندر سے کسی کمی، کسی خلا، یا کسی انجانے خوف کا شکار ہے۔ موبائل فون وقتی طور پر بچے کو مصروف تو کر دیتا ہے، مگر اس کے جذبات، اس کی باتیں، اور اس کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں دبا دیتا ہے۔ بچہ آہستہ آہستہ اپنی دنیا اس اسکرین تک محدود کر لیتا ہے، جہاں نہ حقیقی جذبات ہوتے ہیں، نہ سچے تعلقات۔

ماں کو جب یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کا بچہ خاموش نہیں بلکہ تنہا ہے، تو اس کے اندر ایک ندامت سی جاگتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ میں نے اپنے بچے کو وقت دینے کی بجائے ایک آلہ دے دیا، اس کے سوال سننے کی بجائے اسے اسکرین کے حوالے کر دیا۔ لیکن یہ احساس اگر وقت پر آ جائے تو یہی احساس ایک نئی شروعات بن سکتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بچوں کی خاموشی کو غور سے سنیں، ان کی مصروفیت کے پیچھے چھپی حقیقت کو سمجھیں، اور انہیں وقت دیں، توجہ دیں، اور اپنی موجودگی کا احساس دلائیں۔ کیونکہ بچے صرف روٹی، کپڑا اور تعلیم سے نہیں پلتے، وہ توجہ، محبت اور بات چیت سے پروان چڑھتے ہیں۔

اگر آج ایک ماں اپنے بچے کے پاس بیٹھ جائے، اس سے بات کرے، اس کی آنکھوں میں جھانکے، اور اس کی دنیا کو سمجھے، تو کل وہی بچہ ایک پراعتماد، خوش مزاج اور سماجی انسان بن سکتا ہے۔ خاموشی کو سکون سمجھنے کی بجائے، اسے سمجھنے کی کوشش کیجئے، کیونکہ بعض خاموشیاں بچوں کے دلوں میں بسی ہوئی تنہائی کی کہانی سناتی ہیں۔

03/06/2026
02/06/2026

بچوں کے دل و دماغ ایسے حساس ہوتے ہیں کہ اگر ابتدا ہی میں انہیں وقت کی اہمیت کا احساس دے دیا جائے تو یہی شعور ان کی شخصیت کا مستقل حصہ بن جاتا ہے۔ والدین دراصل وہ پہلی درسگاہ ہیں جہاں بچہ سیکھتا ہے کہ لمحوں کو سنوارنا ہے یا انہیں بے معنی مصروفیات میں گنوا دینا ہے۔

بچوں کو وقت کے درست استعمال کا سلیقہ سکھانا محض ہدایات دینے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا ماحول بنانے کا نام ہے جہاں ہر کام میں توازن اور مقصد جھلکتا ہو۔ جب گھر کا ماحول ایسا ہو جہاں ہر فرد اپنے وقت کو سنبھال کر چلتا ہو، گفتگو میں سنجیدگی اور معمولات میں ترتیب ہو، تو بچہ بغیر کسی زور کے یہ سبق اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ وقت کو سنبھالنے والے لوگ زیادہ پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں، اور یہی مشاہدہ اس کے رویئے کو ڈھال دیتا ہے۔

والدین اگر بچوں کے دن کو خوبصورتی سے ترتیب دیں، اس میں پڑھائی کے ساتھ کھیل، تنہائی کے ساتھ صحبت، اور ذمہ داری کے ساتھ خوشی کو شامل کریں تو بچہ وقت کو بوجھ نہیں بلکہ ایک خوبصورت نظم کے طور پر دیکھنے لگتا ہے۔ ایسے میں فضول مشاغل اپنی کشش خود کھو دیتے ہیں کیونکہ بچے کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس کرنے کے لئے بہتر اور بامقصد کام موجود ہیں۔

بچوں کو روکنے ٹوکنے کی بجائے ان کے شعور کو جگانا زیادہ اثر رکھتا ہے۔ جب انہیں محبت بھرے انداز میں یہ سمجھایا جائے کہ ہر لمحہ ایک امانت ہے اور اس کا صحیح استعمال انسان کو آگے لے جاتا ہے، تو ان کے اندر خود احتسابی پیدا ہونے لگتی ہے۔ اگر وہ کسی غیر ضروری مصروفیت میں وقت ضائع کریں بھی تو نرمی سے ان کی توجہ کسی مفید سرگرمی کی طرف موڑ دینا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔

یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ بچہ وہی اپناتا ہے جو وہ محسوس کرتا ہے، نہ کہ صرف وہ جو اسے کہا جاتا ہے۔ اگر والدین اس کے ساتھ وقت گزاریں، اس کی بات سنیں اور اس کے معمولات میں دلچسپی لیں تو بچہ خود کو قیمتی سمجھنے لگتا ہے اور پھر وہ اپنے وقت کو بھی قیمتی سمجھنے لگتا ہے۔ یوں آہستہ آہستہ اس کے اندر ایک ایسا شعور جنم لیتا ہے جو اسے فضولیات سے دور اور مقصدیت کی طرف لے جاتا ہے، اور یہی شعور اس کی کامیاب زندگی کی بنیاد بن جاتا ہے۔

01/06/2026

بچوں کی ذہنی نشوونما صرف معلومات سے نہیں بلکہ سوال کرنے اور نئے زاویوں سے سوچنے سے ہوتی ہے۔ ایک ایسا بچہ جو سوال کرنا سیکھ جاتا ہے، وہ صرف جواب نہیں ڈھونڈتا بلکہ زندگی کو سمجھنے کی صلاحیت بھی پیدا کرتا ہے۔

بچوں کو سوال سوچنے کی ترغیب دینا دراصل ان کے ذہن کو متحرک کرنے کے مترادف ہے۔ جب بچہ خود سے سوال بناتا ہے تو وہ صرف سننے یا پڑھنے تک محدود نہیں رہتا بلکہ سوچنے، تجزیہ کرنے اور سمجھنے کے عمل میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہی عمل اس کی ذہانت کو جِلا بخشتا ہے اور اس میں تخلیقی صلاحیتیں پیدا کرتا ہے۔ ایسے بچے عام باتوں کو بھی غیر معمولی انداز میں دیکھتے ہیں اور ہر چیز کے پیچھے “کیوں” اور “کیسے” تلاش کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ سوچنے والا ذہن کبھی رکتا نہیں، وہ ہمیشہ آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب بچوں کو سوال کرنے کی آزادی ملتی ہے تو ان کے اندر اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ وہ غلطی کرنے سے نہیں ڈرتے بلکہ اسے سیکھنے کا موقع سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر انہیں صرف خاموش رہنے یا تیار شدہ جوابات قبول کرنے کی عادت ڈال دی جائے تو ان کی سوچ محدود ہو جاتی ہے اور وہ نئے راستے تلاش کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔

والدین کا کردار یہاں بہت اہم ہو جاتا ہے۔ اگر وہ بچوں کے سوالات کو سنجیدگی سے لیں، انہیں سراہیں اور مزید سوچنے پر ابھاریں تو بچہ خود کو اہم محسوس کرتا ہے۔ ایک چھوٹا سا سوال بھی بڑے خیالات کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اسی طرح اساتذہ اگر کلاس روم میں ایسا ماحول پیدا کریں جہاں سوال کرنا حوصلہ افزائی کا باعث ہو، تو بچے سیکھنے کے عمل میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔

سوال کرنے والا بچہ دراصل سیکھنے والا بچہ ہوتا ہے، اور سیکھنے والا بچہ ہی آگے چل کر معاشرے کی ترقی میں کردار ادا کرتا ہے۔ جب ہم بچوں کو نئے سوال سوچنے کی ترغیب دیتے ہیں تو ہم دراصل ان کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں، کیونکہ ایک متحرک اور سوچنے والا ذہن ہی ہمیشہ آگے بڑھتا ہے۔

31/05/2026

زندگی ایک سفر ہے جس میں راستے خود نہیں بنتے بلکہ شعور، تربیت اور رہنمائی سے تراشے جاتے ہیں۔ بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو اس کے پاس نہ کوئی واضح منزل ہوتی ہے اور نہ ہی سمت کا ادراک، یہ سب اسے آہستہ آہستہ سکھایا جاتا ہے۔ اگر اسے ابتدائی عمر میں ہی نظم و ضبط، مقصدیت اور زندگی کے معنی سمجھا دیئے جائیں تو وہ بھٹکنے کی بجائے ایک باوقار اور پُراعتماد راستہ اختیار کرتا ہے۔

والدین کے لئے ضروری ہے کہ بچوں کی روزمرہ زندگی میں ایک خوبصورت توازن پیدا کریں، جہاں آزادی بھی ہو اور ذمہ داری کا احساس بھی۔ جب بچہ اپنے کام خود کرنے لگتا ہے، اپنے وقت کو سمجھنے لگتا ہے اور اپنے چھوٹے فیصلے خود لینے کی مشق کرتا ہے تو اس کے اندر خود نظم پیدا ہونے لگتا ہے۔ یہ عمل زبردستی نہیں بلکہ نرمی، تسلسل اور محبت سے پروان چڑھتا ہے۔

مقصد کا شعور تب بیدار ہوتا ہے جب بچے کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ محض وقت گزارنے کے لئے نہیں بلکہ کسی خاص مقصد کے لئے پیدا ہوا ہے۔ اس کے شوق، اس کی دلچسپیاں اور اس کی صلاحیتیں دراصل اس کی پہچان کا راستہ ہوتی ہیں۔ والدین جب ان چیزوں کو دبانے کی بجائے سمجھنے اور سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں تو بچہ اپنے اندر ایک سمت محسوس کرنے لگتا ہے، جیسے وہ کسی اندھیری شاہراہ پر نہیں بلکہ روشن راستے پر چل رہا ہو۔

سمت دینے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ بچے کو اپنی غلطیوں سے سیکھنے دیا جائے اور ہر کامیابی یا ناکامی کو زندگی کا حصہ سمجھنے کی تربیت دی جائے۔ جب وہ گرتا ہے اور پھر سنبھلنا سیکھتا ہے تو اس کے اندر مضبوطی آتی ہے۔ اس عمل میں والدین کا کردار ایک رہبر کا ہوتا ہے، جو راستہ دکھاتا ہے مگر چلنا بچے کو خود سکھاتا ہے۔

گھر کا ماحول اگر محبت، احترام اور اعتماد سے بھرپور ہو تو بچے کے اندر بے یقینی کی جگہ یقین لے لیتا ہے۔ وہ اپنی بات کھل کر کہتا ہے، سوال کرتا ہے اور سیکھنے کی جستجو میں رہتا ہے۔ یہی جستجو آہستہ آہستہ اس کی زندگی کو ایک واضح رخ دیتی ہے۔

جب بچے کو شعوری طور پر یہ سمجھ آ جاتی ہے کہ وقت قیمتی ہے، کوشش ضروری ہے اور ہر قدم کسی نہ کسی مقصد کی طرف بڑھ رہا ہے، تو وہ اپنی زندگی کو خود سنوارنے لگتا ہے۔ ایسے بچے نہ صرف اپنی راہ پہچانتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی روشنی کا سبب بنتے ہیں۔

Address

Jahania

Telephone

+923004065259

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Muhammad Aamir Ramay-Child specialist چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد عامر رامے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share