دھرتی پنجاب دی چک نمبر153 دس آر تحصیل جہانیاں عثمان اکبر

  • Home
  • Pakistan
  • Jahanian
  • دھرتی پنجاب دی چک نمبر153 دس آر تحصیل جہانیاں عثمان اکبر

دھرتی پنجاب دی چک نمبر153 دس آر تحصیل جہانیاں عثمان اکبر ہمارا مقصد پاکستان کی بقاء ہے Don't Take Anything Serious! If anything Hurts You or You Think That Something Wrong? just Comment On this Post And Inbox Us.

We Will Solve The Problem Quite Sooner. >>> LIKE PAGE

19/08/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Maya Ammar, Forjul Sk, Mujahid Khan, Hamid Khan Dhillon, Haresh Dhanwani, Abdul Ghafoor Memon, Mahtab Ali, Mohammad Soomar, M Abu Bakar Khan, Ayesha Ferdosh Noushin, Bhanupartap Raghuvanshi, Bilal Abbasi, Sunita Chaturvedi Sunita Chaturvedi, Mohd Anas, Asgar Ali SK, Aizal Khan, Mohd Iklash Qureshi, सत्यम सत्यम, MdJamsid Jamsid, Akash Gupta, Sahil Sbrl, Asif Siddiqui, Aasia Javed, Shree Marathe, Bakht Ameen, Gh Rasool Magsi, Alla Bux Noohani, Sankarlal Meena Sankarlal Meena, Shagufa Ali, Mohammad Saiful, Ritek Ritika, Anjali Kumari, कपूर बागड़ी, Musharaf Alam, Krishna Kumar Gupta, Abdul Khaliq, Shahzad Khan Tanha Tanha, Anas Hashmi, Vipul Tripathi, SK Akash, Gull Mann Dgk, Umar Khan, Sameer Khan, Adam Khan, Soriful Islam, Nazeer Ali, Saif Ullah Saif Ullah, Vinod Kumar, Junaid Baloch, Adnan Shabeer

کلر سیداں سے تعلق رکھنے والے مستقیم خالد نے 2006 میں پولیس میں شمولیت اختیار کی اور اسی سال ان کی شادی بھی ہوئی۔ بعد میں...
19/08/2026

کلر سیداں سے تعلق رکھنے والے مستقیم خالد نے 2006 میں پولیس میں شمولیت اختیار کی اور اسی سال ان کی شادی بھی ہوئی۔ بعد میں ٹائیفائڈ بخار کے باعث ان کی صحت متاثر ہوئی اور ان کی والدہ شاہین اختر کے مطابق اس بیماری کے بعد ان کی ذہنی حالت بھی خراب ہوتی چلی گئی، جس کی وجہ سے وہ پولیس کی ملازمت جاری نہ رکھ سکے۔ ذہنی مسائل کے باعث وہ اکثر گھر سے چلے جاتے اور چند دن بعد واپس آجاتے تھے، لیکن 2016 میں گھر سے نکلنے کے بعد وہ اچانک غائب ہوگئے۔ یہاں تک کہ عرصہ 7 سال گزر گیا اور ان کی کوئ خبر نا ملی۔ گھر والے مان چکے تھے کہ شاید اب مستقیم اس دنیا میں نہیں رہے۔

ایک دن شاہین اختر اپنے بھتیجے کے ہمراہ تہلی موہری میں رشتہ داروں سے ملنے جارہی تھیں تو تہلی موہری چوک پر انہوں نے مستقیم کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھا۔ سات سال بعد اپنے بیٹے کو سامنے دیکھ کر شاہین اختر فوراً اس سے لپٹ گئیں۔ لیکن ان کے مطابق مستقیم کے ساتھ موجود بھکاری گروہ کے افراد نے انہیں گالیاں دینا اور مارنا شروع کردیا۔ اس دوران گروہ کے دو مرد وہاں سے فرار ہوگئے، جبکہ بعد میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گروہ کے سرغنہ سمیت تین خواتین کو گرفتار کرلیا۔

شاہین اختر نے پولیس کو بتایا کہ ان کے بیٹے کی ذہنی حالت کا فائدہ اٹھا کر اسے زبردستی بھیک منگوائی جاتی رہی۔ ان کا یہ بھی الزام تھا کہ مستقیم کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انجیکشن دیے جاتے رہے۔ درج کی گئی ایف آئی آر میں بھی الزام عائد کیا گیا کہ مستقیم کو اغوا کرکے اس حالت میں رکھا گیا کہ اسے بھیک منگوانے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ پولیس نے مقدمے کے بعد دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کردیے۔

مستقیم کی گھر واپسی پر ان کا پورا گاؤں اس خوشی میں شریک ہوا۔ شاہین اختر کے مطابق بڑی تعداد میں رشتہ دار اور گاؤں کے لوگ ان کے گھر پہنچے اور انہیں بیٹے کے مل جانے پر مبارکباد دیتے رہے۔ مستقیم کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی، سب سے جذباتی لمحہ بچوں کے لیے تھا، جنہوں نے سات سال بعد اپنے لاپتہ والد کو دوبارہ اپنے گھر میں دیکھا۔

یوں 2016 میں گھر سے نکل کر گم ہوجانے والے مستقیم خالد کی تلاش دسمبر 2023 میں راولپنڈی کے ایک چوک پر ختم ہوئی—جہاں ایک ماں نے برسوں بعد اپنے بیٹے کو بھیک مانگتے دیکھا اور بالآخر اسے واپس گھر لے آئی۔

ماخذ: Dawn — شائع شدہ 22 دسمبر 2023

ستمبر 1997 میں چین کے صوبہ شینڈونگ میں گوؤ گانگ کا صرف دو سال پانچ ماہ کا بیٹا گھر کے باہر کھیل رہا تھا۔ تانگ نامی ایک خ...
19/08/2026

ستمبر 1997 میں چین کے صوبہ شینڈونگ میں گوؤ گانگ کا صرف دو سال پانچ ماہ کا بیٹا گھر کے باہر کھیل رہا تھا۔ تانگ نامی ایک خاتون نے بچے کو وہاں سے اغوا کیا، اور اپنے بوائے فرینڈ ہُو کے ساتھ بچے کو لے گئی اور بعد میں اسے ایک خاندان کو فروخت کردیا گیا۔

بیٹے کے غائب ہوتے ہی گوؤ گانگ کی زندگی بدل گئی۔ اس نے ابتدا میں مقامی سطح پر تلاش کی، لیکن کوئی سراغ نہ ملا تو اپنی نوکری چھوڑ دی۔ اس نے بیٹے کی تصویر، نام اور شناختی معلومات بڑے جھنڈوں اور پمفلٹس پر چھپوائیں، انہیں موٹر سائیکل کے ساتھ باندھا اور چین کے مختلف علاقوں میں خود اسے ڈھونڈنے نکل پڑا۔ وہ بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں، شہروں، قصبوں اور دیہات میں لوگوں کو بیٹے کی تصویر دکھاتا اور ہر ممکن اطلاع کے پیچھے جاتا۔

گوؤ نے بیٹے کی شناخت کے لیے اس کی جسمانی نشانیوں کا بھی ذکر کیا، جن میں بائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی پر موجود ایک خاص نشان شامل تھا، تاکہ اگر کسی نے اسے کہیں دیکھا ہو تو پہچاننے میں آسانی ہوسکے۔

یہ تلاش چند ماہ یا چند سال نہیں بلکہ پورے 24 سال جاری رہی۔ اس دوران گوؤ نے موٹر سائیکل پر تقریباً 5 لاکھ کلومیٹر کا سفر کیا، چین کے بیشتر صوبوں تک پہنچا اور تقریباً 10 موٹر سائیکلیں بدلیں۔ مسلسل سفر اور تلاش میں اس کی جمع پونجی خرچ ہوگئی اور وہ قرض میں بھی چلا گیا۔ کئی بار اسے حادثات اور خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس نے اپنے بیٹے کو تلاش کرنا بند نہیں کیا۔

وقت کے ساتھ گوؤ صرف اپنے بیٹے کی تلاش کرنے والا باپ نہیں رہا بلکہ گمشدہ اور اغوا شدہ بچوں کے والدین کی مدد کرنے والا سرگرم کارکن بھی بن گیا۔ اس نے دوسرے خاندانوں کے کیسز شیئر کیے، معلومات جمع کرنے میں مدد کی اور گمشدہ بچوں کو والدین سے ملانے والی کوششوں میں حصہ لیتا رہا۔ اس کی جدوجہد اتنی مشہور ہوئی کہ بعد میں اس سے متاثر ہوکر Lost and Love نامی فلم بھی بنائی گئی۔

دوسری طرف گوؤ اور اس کی اہلیہ کے DNA نمونے چین کے انسدادِ اغوا ڈیٹا بیس میں محفوظ کیے جاچکے تھے، لیکن کئی سال تک کوئی میچ سامنے نہ آیا۔ اس لیے صرف DNA ڈیٹا بیس پر انحصار کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوا۔

اصل پیش رفت 2021 میں ہوئی، جب چین میں پرانے اور حل نہ ہونے والے بچوں کے اغوا کے مقدمات پر دوبارہ کام شروع کیا گیا۔ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور چہرے کی شناخت کے طریقوں کی مدد سے گوؤ کے بیٹے کی بچپن کی تصاویر کو ایسے بالغ افراد کے ریکارڈ سے ملانا شروع کیا جن کے چہرے کے خدوخال ممکنہ طور پر اس بچے سے مل سکتے تھے۔

اسی عمل کے دوران پولیس کی توجہ ہینان صوبے میں رہنے والے ایک 26 سالہ شخص پر گئی۔ اس شخص کی ظاہری خصوصیات اور دستیاب معلومات مشتبہ طور پر لاپتہ بچے سے مل رہی تھیں، مگر پولیس نے صرف شکل کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا۔

اس شخص کا DNA نمونہ حاصل کرکے اسے گوؤ گانگ اور اس کی اہلیہ کے DNA سے ملایا گیا۔ ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا اور تصدیق ہوگئی کہ یہی نوجوان 24 سال پہلے اغوا ہونے والا گوؤ کا بیٹا تھا۔ جس بچے کو اس کے والدین نے آخری بار دو سال کی عمر میں دیکھا تھا، وہ اب 26 سالہ نوجوان بن چکا تھا۔

پولیس نے اس کے بعد پرانے اغوا کی تحقیقات مزید آگے بڑھائیں اور تانگ اور ہُو کو گرفتار کیا۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ یہ دونوں بچوں کی اسمگلنگ میں ملوث رہے تھے اور گوؤ کے بیٹے کو بھی اغوا کرکے فروخت کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس جوڑے کو دیگر بچوں کی اسمگلنگ کے معاملات سے بھی جوڑا۔

آخرکار 11 جولائی 2021 کو پولیس کے انتظام میں گوؤ گانگ اور اس کی اہلیہ کی اپنے بیٹے سے ملاقات ہوئی۔ 24 سال پہلے جو بچہ ان سے چھینا گیا تھا، وہ اب ایک جوان شخص بن کر ان کے سامنے کھڑا تھا۔ ماں نے اسے دیکھتے ہی گلے لگا لیا اور گوؤ بھی اپنے بیٹے سے لپٹ گیا۔

یہ صرف ایک گمشدہ بچے کے ملنے کی کہانی نہیں تھی بلکہ ایک ایسے باپ کی 24 سالہ جدوجہد کا اختتام تھا جس نے تقریباً پانچ لاکھ کلومیٹر سفر کیا، دس موٹر سائیکلیں بدلیں، اپنی جمع پونجی خرچ کردی اور اپنی جوانی کا بڑا حصہ ایک ہی امید پر گزار دیا۔

آخرکار جدید پولیس ٹیکنالوجی نے ممکنہ بالغ چہرہ تلاش کیا، DNA نے شناخت ثابت کردی اور 24 سال بعد ایک باپ اپنے اغوا شدہ بیٹے کو دوبارہ گلے لگانے میں کامیاب ہوگیا۔

صحیح شخص کا انتخاب زندگی کا ہر بوجھ ہلکا کر دیتا ہے🫀❤️‍🩹اور غلط انسان کا آپ کی زندگی تباہ
18/08/2026

صحیح شخص کا انتخاب زندگی
کا ہر بوجھ ہلکا کر دیتا ہے🫀❤️‍🩹
اور غلط انسان کا آپ کی زندگی تباہ

شکوہ ان سے کیا جاتا ہے جو اپنے اوپر آپ کے حق کو تسلیم کریں۔
18/08/2026

شکوہ ان سے کیا جاتا ہے جو اپنے اوپر آپ کے حق کو تسلیم کریں۔

“The prisoner shall, within the next two days, be shifted to Shifa International Hospital, Islamabad.”“A prisoner does n...
18/08/2026

“The prisoner shall, within the next two days, be shifted to Shifa International Hospital, Islamabad.”

“A prisoner does not, by reason of his incarceration, cease to be entitled to humane treatment and necessary medical care.”

- The Supreme Court of Pakistan, in a ruling given on 18 August 2026, has stated that arbitrarily detained former Prime Minister Imran Khan be shifted to Shifa International hospital and his meetings with family members reinstated.

18/08/2026
جسم سے جان نکال لینا اور کہنا زندہ رہو🖤🥀
18/08/2026

جسم سے جان نکال لینا اور کہنا زندہ رہو🖤🥀

کمرہ عدالت میں بہنوں کے ساتھ ۔ مبارکباد میرے پاکستانیو ۔
18/08/2026

کمرہ عدالت میں بہنوں کے ساتھ ۔ مبارکباد میرے پاکستانیو ۔

Address

153/10. R
Jahanian

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when دھرتی پنجاب دی چک نمبر153 دس آر تحصیل جہانیاں عثمان اکبر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to دھرتی پنجاب دی چک نمبر153 دس آر تحصیل جہانیاں عثمان اکبر:

Shortcuts

Share