Kids Health by Dr Majid

  • Home
  • Kids Health by Dr Majid
Call Website

Kids Health by Dr Majid This page is for public awareness about kids health issues by Dr Majid. MBBS, DCH, FCPS.Classified Child Specialist. Ist FCPS Child Specialist in JHELUM

کیا آپ اپنے بچے کے قد کی وجہ سے پریشان ہیں؟بچے کے قد پر اثر انداز ہونے والی اہم وجوہات یہ ہیں:1. موروثی عوامل (Genetics)...
27/09/2026

کیا آپ اپنے بچے کے قد کی وجہ سے پریشان ہیں؟

بچے کے قد پر اثر انداز ہونے والی اہم وجوہات یہ ہیں:

1. موروثی عوامل (Genetics) — والدین کا قد بچے کے متوقع قد پر سب سے زیادہ اثر ڈالتا ہے۔

2. غذائیت کی کمی — پروٹین، کیلوریز، وٹامن D، کیلشیم، آئرن اور دیگر غذائی اجزا کی کمی۔

3. ہارمونز کی خرابی — خاص طور پر Growth Hormone کی کمی، Hypothyroidism اور بعض دیگر endocrine disorders۔

4. دائمی بیماریاں — مثلاً گردوں، جگر، دل یا آنتوں کی دائمی بیماریاں۔

5. آنتوں میں غذائی اجزا کا جذب نہ ہونا — مثلاً Celiac disease یا مسلسل اسہال۔

6. بار بار یا طویل عرصے تک ہونے والی بیماریاں — جو بچے کی مجموعی نشوونما کو متاثر کر سکتی ہیں۔

7. پیدائش سے متعلق عوامل — کم وزنِ پیدائش یا حمل کے دوران بچے کی نشوونما کم ہونا۔

8. نیند کی کمی — مناسب اور باقاعدہ نیند بچوں کی نشوونما کے لیے اہم ہے۔

9. جسمانی سرگرمی کی کمی — متوازن جسمانی سرگرمی صحت مند نشوونما کا حصہ ہے۔

10. بعض ادویات کا طویل استعمال — خصوصاً طویل مدتی corticosteroids، بعض بچوں میں قد کی رفتار کو متاثر کر سکتے ہیں۔

11. بلوغت کا وقت — کچھ بچے دیر سے بلوغت کی وجہ سے ابتدا میں چھوٹے نظر آتے ہیں لیکن بعد میں مناسب قد حاصل کر لیتے ہیں۔

اہم بات: صرف بچے کا قد کم ہونا بیماری کی علامت نہیں۔ اصل اہمیت growth chart پر قد کی رفتار اور وقت کے ساتھ قد میں اضافے کی ہے۔ اگر بچہ اپنی growth percentile مسلسل نیچے کراس کر رہا ہو یا ایک سال میں قد میں مناسب اضافہ نہ ہو تو بچوں کے ماہر ڈاکٹر سے معائنہ کروانا چاہیے۔

👂 بچے کا کان کیوں بہتا ہے؟اگر آپ کے بچے کے کان سے بار بار پانی، پیپ یا بدبودار رطوبت آتی ہے تو اسے نظرانداز نہ کریں۔🔹 اہ...
26/09/2026

👂 بچے کا کان کیوں بہتا ہے؟

اگر آپ کے بچے کے کان سے بار بار پانی، پیپ یا بدبودار رطوبت آتی ہے تو اسے نظرانداز نہ کریں۔

🔹 اہم وجوہات

1️⃣ کان کا انفیکشن
نزلہ، زکام یا بخار کے بعد درمیانی کان میں انفیکشن ہو سکتا ہے۔ پردۂ گوش میں سوراخ ہونے کی صورت میں پیپ باہر آ سکتی ہے۔

2️⃣ پرانا یا بار بار ہونے والا کان کا انفیکشن
کان مسلسل یا بار بار بہ سکتا ہے اور بعض اوقات بدبو بھی آتی ہے۔

3️⃣ بیرونی کان کا انفیکشن
کان میں خارش، درد اور کان کو چھونے سے تکلیف ہو سکتی ہے، خاص طور پر تیراکی کے بعد۔

4️⃣ کان میں کوئی چیز پھنس جانا
چھوٹے بچوں میں یہ ایک اہم وجہ ہے، خصوصاً جب ایک ہی کان سے بدبودار رطوبت آ رہی ہو۔

5️⃣ کان میں چوٹ
ماچس کی تیلی، روئی یا کسی چیز کو کان میں ڈالنے سے کان کے پردے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

🩺 علاج کیا ہے؟

علاج کا انحصار وجہ پر ہے۔ ڈاکٹر کان کا معائنہ کرکے فیصلہ کرتا ہے کہ بچے کو کان کے قطرے، اینٹی بایوٹک یا کسی دوسرے علاج کی ضرورت ہے یا نہیں۔

❌ کان میں خود سے تیل، ماچس کی تیلی، روئی یا کوئی دوا نہ ڈالیں۔

⚠️ اگر کان بار بار بہتا ہے، سماعت کم ہو رہی ہے، شدید درد یا بخار ہے، خون آ رہا ہے یا کان کے پیچھے سوجن ہے تو بچے کا فوری طبی معائنہ کروائیں۔

❤️ بچے کی سماعت قیمتی ہے—کان کے بار بار بہنے کو نظرانداز نہ کریں۔

کیا آپ کے بچے کو سبق یاد نہیں ہوتا؟اگر بچہ بار بار پڑھنے کے باوجود سبق بھول جاتا ہے تو گھبرانے یا اسے ڈانٹنے کے بجائے چن...
25/09/2026

کیا آپ کے بچے کو سبق یاد نہیں ہوتا؟

اگر بچہ بار بار پڑھنے کے باوجود سبق بھول جاتا ہے تو گھبرانے یا اسے ڈانٹنے کے بجائے چند باتوں پر توجہ دیں:

• بچے کے لیے روزانہ پڑھائی کا مقررہ وقت بنائیں۔
• پڑھاتے وقت موبائل، ٹی وی اور دوسری توجہ ہٹانے والی چیزیں دور رکھیں۔
• سبق کو ایک ساتھ بہت زیادہ پڑھانے کے بجائے چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں۔
• بچے سے سبق صرف رٹوانے کے بجائے اپنے الفاظ میں سمجھانے کو کہیں۔
• پڑھنے کے بعد کتاب بند کرکے بچے سے سوالات کریں؛ اسے یاد کرکے سنانے کی مشق کروائیں۔
• ایک ہی سبق کو وقفے وقفے سے دوبارہ دہرائیں، کیونکہ بار بار مختصر دہرائی یادداشت بہتر کرتی ہے۔
• بچے کی مناسب نیند، متوازن غذا اور جسمانی سرگرمی کا خیال رکھیں۔
• دوسرے بچوں سے موازنہ نہ کریں اور غلطی پر ڈانٹنے کے بجائے حوصلہ افزائی کریں۔
• اگر بچہ مسلسل توجہ نہیں دے پاتا، پڑھنے یا لکھنے میں غیر معمولی مشکل ہوتی ہے، یا عمر کے مطابق تعلیمی کارکردگی بہت کم ہے تو بچوں کے ماہر ڈاکٹر یا متعلقہ ماہر سے مشورہ کریں۔

یاد رکھیں: ہر بچے کی سیکھنے کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔ پہلے وجہ سمجھیں، پھر حل تلاش کریں۔

ڈاؤن سنڈروم کیا ہے؟ڈاؤن سنڈروم (Down Syndrome) ایک پیدائشی جینیاتی کیفیت ہے جو بچے کے جسم اور ذہنی نشوونما کو متاثر کر س...
24/09/2026

ڈاؤن سنڈروم کیا ہے؟

ڈاؤن سنڈروم (Down Syndrome) ایک پیدائشی جینیاتی کیفیت ہے جو بچے کے جسم اور ذہنی نشوونما کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کروموسوم نمبر 21 کی ایک اضافی کاپی ہونا ہے، اسی لیے اسے Trisomy 21 بھی کہا جاتا ہے۔

عام علامات

ہر بچے میں علامات کی شدت مختلف ہو سکتی ہے، لیکن عام طور پر:

چہرہ نسبتاً چپٹا اور ناک کی ہڈی چھوٹی

آنکھوں کا اوپر کی طرف جھکاؤ

گردن نسبتاً چھوٹی

ہاتھ چوڑے اور ہتھیلی پر ایک نمایاں لکیر

پٹھوں کی کمزوری یا Hypotonia

قد اور جسمانی نشوونما نسبتاً سست

ذہنی اور سیکھنے کی نشوونما میں مختلف درجے کی تاخیر

بولنے کی نشوونما میں تاخیر

کن بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟

ڈاؤن سنڈروم کے بچوں میں کچھ طبی مسائل نسبتاً زیادہ دیکھے جاتے ہیں:

❤️ Congenital heart disease — تقریباً 40–50% بچوں میں

سماعت کے مسائل

نظر کے مسائل

تھائیرائڈ کی بیماری، خصوصاً hypothyroidism

بار بار کان یا سانس کی انفیکشن

معدے اور آنتوں کی بعض پیدائشی بیماریاں، مثلاً Duodenal atresia

بعض بچوں میں خون کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

اگر بچے کی ظاہری علامات سے شک ہو تو حتمی تشخیص Chromosomal analysis (Karyotyping) سے کی جاتی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ Down syndrome Trisomy 21، Translocation یا Mosaicism کی وجہ سے ہے۔

اہم بات: ڈاؤن سنڈروم کا کوئی ایک مخصوص علاج نہیں، لیکن مناسب early intervention، physiotherapy، speech therapy، تعلیم اور باقاعدہ medical follow-up سے بچے کی صلاحیتوں کو کافی حد تک بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

بچوں میں بالوں کا گرنا کئی وجوہات کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ کچھ عارضی اور معمولی ہوتی ہیں، جبکہ بعض میں علاج ضروری ہوتا ہے۔ب...
23/09/2026

بچوں میں بالوں کا گرنا کئی وجوہات کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ کچھ عارضی اور معمولی ہوتی ہیں، جبکہ بعض میں علاج ضروری ہوتا ہے۔

بچوں میں بال گرنے کی اہم وجوہات

1. فنگس کی بیماری (سر کی داد)

بچوں میں بہت عام وجہ ہے۔

سر پر گول گول جگہوں سے بال جھڑتے ہیں۔

خارش، خشکی، لالی یا چھوٹے چھوٹے ٹوٹے ہوئے بال بھی ہو سکتے ہیں۔

بعض اوقات گردن کے غدود بھی بڑھ جاتے ہیں۔

2. ایلوپیشیا ایریاٹا

اچانک ایک یا کئی جگہوں پر بالکل صاف گول گنجے دھبے بن جاتے ہیں۔

عموماً وہاں جلد سرخ یا خارش والی نہیں ہوتی۔

یہ جسم کے مدافعتی نظام سے متعلق بیماری ہے۔

3. غذائی کمی

آئرن کی کمی، زنک کی کمی، پروٹین کی کمی یا مجموعی طور پر ناکافی غذا بال گرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

خاص طور پر ایسے بچوں میں جن کی خوراک محدود ہو۔

4. بخار یا شدید بیماری کے بعد

تیز بخار، شدید انفیکشن، آپریشن یا جسمانی دباؤ کے 2–3 ماہ بعد بال زیادہ گر سکتے ہیں۔

اسے عموماً عارضی بالوں کا جھڑنا کہا جاتا ہے اور اکثر چند ماہ میں دوبارہ بال آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

5. تھائیرائڈ کی خرابی

تھائیرائڈ ہارمون کی کمی یا زیادتی کے ساتھ بال پتلے اور خشک ہو سکتے ہیں۔

ساتھ میں وزن، قبض، کمزوری یا سردی/گرمی برداشت کرنے میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔

6. بال کھینچنے یا رگڑنے کی عادت

بعض بچے بے اختیار اپنے بال کھینچتے یا توڑتے ہیں۔

اس میں سر پر مختلف سائز کے بے ترتیب بالوں کے ٹکڑے نظر آ سکتے ہیں۔

7. بالوں کو بہت کس کر باندھنا

سخت چوٹی، پونی ٹیل یا مسلسل کھنچاؤ سے بال جڑ سے کمزور ہو سکتے ہیں۔

کب ڈاکٹر کو ضرور دکھائیں؟

اگر اچانک گنجے دھبے بنیں، سر میں سوجن/پیپ ہو، شدید خارش ہو، بال بہت تیزی سے جھڑ رہے ہوں، بھنویں بھی جھڑ رہی ہوں، یا بچے کا وزن/قد اور عمومی صحت متاثر ہو رہی ہو تو بچے کا معائنہ ضروری ہے۔

اہم بات: ہر بچے کے بال گرنے پر وٹامن یا آئرن خود سے شروع نہیں کرنا چاہیے۔ وجہ معلوم کرنا زیادہ اہم ہے۔ ا

پیدائشی طور پر مڑے ہوئے پاؤں کا کیا کریں؟-اگر بچے کا پاؤں پیدائش ہی سے اندر یا نیچے کی طرف مڑا ہوا ہو تو سب سے پہلے یہ د...
22/09/2026

پیدائشی طور پر مڑے ہوئے پاؤں کا کیا کریں؟-

اگر بچے کا پاؤں پیدائش ہی سے اندر یا نیچے کی طرف مڑا ہوا ہو تو سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ صرف پوزیشن کی وجہ سے ہے یا حقیقی کلب فٹ (Clubfoot) ہے۔

اگر پاؤں ہاتھ سے آسانی سے سیدھا ہو جاتا ہے تو اکثر یہ رحم میں بچے کی پوزیشن کی وجہ سے ہوتا ہے اور عموماً ہلکی ورزش/فزیوتھراپی سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔

اگر پاؤں سختی سے اندر اور نیچے مڑا ہو اور ہاتھ سے سیدھا نہ ہو تو کلب فٹ کا امکان ہے۔ اس کا مؤثر علاج عموماً Ponseti طریقے سے ہوتا ہے: ابتدائی ہفتوں میں ہفتہ وار پلاسٹر کاسٹ، ضرورت پڑنے پر ایڑی کے ٹینڈن کا معمولی پروسیجر، اور پھر مخصوص بریس۔

گھر پر زور سے پاؤں سیدھا کرنے یا مالش کرنے کی کوشش نہ کریں۔

بہتر ہے کہ بچے کو پیدائش کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو pediatric orthopaedic surgeon کو دکھایا جائے؛ علاج جلد شروع کرنے سے نتائج عموماً بہت اچھے ہوتے ہیں۔

پیدائشی کٹے ہونٹ اور تالو کا کیا کریں؟اگر آپ پیدائشی کٹے ہوئے ہونٹ (cleft lip) اور تالو (cleft palate) کی بات کر رہے ہیں...
21/09/2026

پیدائشی کٹے ہونٹ اور تالو کا کیا کریں؟

اگر آپ پیدائشی کٹے ہوئے ہونٹ (cleft lip) اور تالو (cleft palate) کی بات کر رہے ہیں، تو نومولود میں ابتدائی انتظام اس طرح کریں:

👶 پیدائش کے فوراً بعد

بچے کی سانس اور airway چیک کریں۔

وزن، hydration اور عمومی معائنہ کریں۔

یہ دیکھیں کہ صرف ہونٹ کٹا ہوا ہے یا تالو بھی شامل ہے۔

کان، آنکھوں، دل اور دوسرے پیدائشی نقائص کا معائنہ کریں، کیونکہ بعض بچوں میں cleft کے ساتھ دوسری anomalies بھی ہو سکتی ہیں۔

🍼 سب سے اہم مسئلہ: دودھ پلانا

Cleft palate میں بچہ عام نپل سے مؤثر طریقے سے دودھ نہیں پی سکتا کیونکہ منہ میں مناسب suction نہیں بن پاتا۔

ماں کا دودھ ترجیح ہے۔

خصوصی cleft feeding bottle/teat استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بچے کو نسبتاً سیدھا رکھ کر، آہستہ آہستہ اور وقفوں کے ساتھ feed کریں۔

ہر feed کے دوران اور بعد میں burping کروائیں۔

وزن کی باقاعدہ نگرانی کریں۔

اگر بچہ مناسب مقدار میں دودھ نہ لے رہا ہو، بار بار کھانسے/دم گھٹے یا وزن کم ہو رہا ہو تو feeding specialist / pediatrician سے فوری مدد لینی چاہیے۔

🏥 علاج کب ہوتا ہے؟

یہ ایک multidisciplinary cleft team کا مسئلہ ہے، جس میں pediatrician، plastic/cleft surgeon، ENT، orthodontist اور speech therapist شامل ہو سکتے ہیں۔

عمومی طور پر:

Cleft lip repair: تقریباً 3 ماہ کی عمر میں، بچے کی عمومی صحت اور وزن مناسب ہونے پر۔

Cleft palate repair: عموماً 9–18 ماہ کے درمیان، مرکز اور بچے کی حالت کے مطابق۔

یعنی پیدائش کے فوراً بعد ہونٹ یا تالو کی سرجری نہیں کی جاتی؛ پہلے feeding، nutrition اور بچے کی مجموعی صحت کو بہتر کیا جاتا ہے۔

کیا بچوں کو فلو ویکسین لگوانی چاہیے؟جی ہاں، بچوں کو فلو (Influenza) ویکسین لگوانی چاہیے، خصوصاً چھوٹے بچوں اور ایسے بچوں...
20/09/2026

کیا بچوں کو فلو ویکسین لگوانی چاہیے؟

جی ہاں، بچوں کو فلو (Influenza) ویکسین لگوانی چاہیے، خصوصاً چھوٹے بچوں اور ایسے بچوں کو جنہیں دمہ، دل/پھیپھڑوں کی بیماری یا کوئی دوسری chronic بیماری ہو۔ WHO بھی خاص طور پر 6 ماہ سے 5 سال کے بچوں میں سالانہ فلو ویکسین کی سفارش کرتا ہے۔

اہم باتیں:

6 ماہ سے کم عمر: فلو ویکسین نہیں لگتی۔

6 ماہ–8 سال: اگر پہلی مرتبہ ویکسین لگ رہی ہو یا پہلے مناسب طور پر ویکسین نہ لگی ہو تو عموماً 2 خوراکیں، کم از کم 4 ہفتے کے وقفے سے دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد سالانہ ایک خوراک۔

9 سال یا اس سے زیادہ: عموماً سالانہ ایک خوراک کافی ہوتی ہے۔

فلو ویکسین فلو نہیں کرواتی؛ injectable vaccine میں غیر فعال وائرس/اجزاء ہوتے ہیں۔

ویکسین لگنے کے باوجود فلو ہو سکتا ہے، لیکن بیماری کی شدت اور complications کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔

آپ کے لیے عملی طور پر: پاکستان میں ستمبر کا وقت seasonal influenza vaccination شروع کرنے کے لیے مناسب ہے، خاص طور پر اگر بچے school-going ہیں یا گھر میں بزرگ/ہائی رسک افراد موجود ہیں۔

بچوں میں بخار کے ساتھ جھٹکے کیا خطرناک ہوتے ہیں؟بچوں میں بخار کے ساتھ جھٹکے (Febrile Seizures) اکثر خطرناک نہیں ہوتے، خا...
19/09/2026

بچوں میں بخار کے ساتھ جھٹکے کیا خطرناک ہوتے ہیں؟

بچوں میں بخار کے ساتھ جھٹکے (Febrile Seizures) اکثر خطرناک نہیں ہوتے، خاص طور پر اگر بچہ 6 ماہ سے 5 سال کی عمر میں ہو اور جھٹکا بخار کے دوران مختصر وقت کے لیے آئے۔

عام طور پر خطرناک نہ ہونے والی صورت

جھٹکا پورے جسم میں ہو۔

5 منٹ سے کم رہے۔

24 گھنٹے میں صرف ایک مرتبہ ہو۔

جھٹکے کے بعد بچہ آہستہ آہستہ معمول کی حالت میں آ جائے۔

بچے کی نشوونما اور نیورولوجیکل معائنہ معمول کے مطابق ہو۔

ایسے جھٹکوں کو عموماً سادہ بخاری جھٹکے کہا جاتا ہے۔ یہ عموماً دماغ کو نقصان نہیں پہنچاتے اور زیادہ تر بچے بڑے ہونے کے ساتھ اس مسئلے سے نکل جاتے ہیں۔

⚠️ کب فوری طبی مدد ضروری ہے؟

اگر:

جھٹکا 5 منٹ سے زیادہ جاری رہے۔

صرف جسم کے ایک حصے میں جھٹکے ہوں۔

24 گھنٹے میں دوبارہ جھٹکا آئے۔

جھٹکے کے بعد بچہ بہت دیر تک بے ہوش یا غیر معمولی طور پر غنودہ رہے۔

گردن اکڑ جائے، شدید سر درد، مسلسل قے یا سانس لینے میں مشکل ہو۔

بچہ 6 ماہ سے کم عمر کا ہو۔

یہ بچے کا پہلا جھٹکا ہو۔

جھٹکے کے دوران کیا کریں؟

بچے کو کروٹ پر لٹائیں، منہ میں کچھ نہ ڈالیں، زبردستی نہ پکڑیں اور وقت نوٹ کریں۔ اگر جھٹکا 5 منٹ سے زیادہ ہو تو فوری ایمرجنسی مدد لیں۔

بچوں میں شوگر کی بیماریبچوں میں شوگر کو ذیابیطس کہتے ہیں۔ اس میں خون میں شوگر کی مقدار معمول سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ بچوں م...
18/09/2026

بچوں میں شوگر کی بیماری

بچوں میں شوگر کو ذیابیطس کہتے ہیں۔ اس میں خون میں شوگر کی مقدار معمول سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ بچوں میں عموماً ٹائپ 1 ذیابیطس زیادہ پائی جاتی ہے، جبکہ موٹاپے کے ساتھ ٹائپ 2 ذیابیطس بھی بڑھ رہی ہے۔

اہم علامات:

بار بار اور زیادہ پیشاب آنا

بہت زیادہ پیاس لگنا

وزن کم ہونا، باوجود اس کے کہ بچہ معمول کے مطابق کھا رہا ہو

بہت زیادہ بھوک لگنا

کمزوری اور تھکن

نظر دھندلا ہونا

بار بار انفیکشن ہونا

چھوٹے بچوں میں دوبارہ بستر گیلا کرنا

کب فوراً ہسپتال لے جائیں؟
اگر بچے کو بہت زیادہ پیاس اور پیشاب کے ساتھ الٹی، پیٹ میں درد، تیز یا گہری سانس، شدید کمزوری، غنودگی یا بے ہوشی ہو تو یہ خطرناک حالت، یعنی ذیابیطس کیٹو ایسڈوسس، ہو سکتی ہے اور فوری طبی علاج ضروری ہے۔

تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
ڈاکٹر خون میں:

فاسٹنگ بلڈ شوگر

رینڈم بلڈ شوگر

HbA1c
وغیرہ چیک کروا سکتے ہیں۔ ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 میں فرق کے لیے بعض اوقات مزید ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں۔

علاج:
ٹائپ 1 ذیابیطس میں انسولین بنیادی علاج ہے اور اسے باقاعدگی سے دینا ضروری ہوتا ہے۔ ساتھ میں مناسب غذا، جسمانی سرگرمی اور گھر پر شوگر کی باقاعدہ نگرانی کی جاتی ہے۔ ٹائپ 2 میں وزن، غذا اور ورزش اہم ہیں اور بعض بچوں کو دوا یا انسولین کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

Address

Majid Danyal Clinic Opposite Allied Bank Old GT Road Jada Jhelum

49600

Opening Hours

Monday 17:00 - 20:00
Tuesday 17:00 - 20:00
Wednesday 17:00 - 20:00
Thursday 17:00 - 20:00
Friday 17:00 - 20:00
Saturday 17:00 - 20:00

Telephone

+923363809900

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kids Health by Dr Majid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed health & beauty business?

Share