27/03/2026
آج کے حالات میں Measles (خسرہ) کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیشِ نظر عوامی آگاہی بہت ضروری ہے۔ بہت سے والدین بچوں کو گھر میں رکھ کر علاج نہیں کرواتے، جس سے خطرناک پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
خسرہ: صرف دانے نہیں، ایک خطرناک بیماری
خسرہ ایک انتہائی متعدی (بہت تیزی سے پھیلنے والی) بیماری ہے۔
یہ کھانسی، چھینک اور سانس کے ذریعے دوسرے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔
کن بچوں کو زیادہ خطرہ ہے؟
5 سال سے کم عمر بچے
کمزور یا غذائی کمی کا شکار بچے
جن بچوں کو ویکسین نہیں لگی
⚠️ بیماری کیسے شروع ہوتی ہے؟
پہلے 3–4 دن:
تیز بخار
کھانسی، نزلہ
آنکھوں سے پانی آنا
پھر:
منہ کے اندر سفید دھبے
جسم پر سرخ دانے (چہرے سے شروع ہو کر پورے جسم پر پھیلتے ہیں)
خطرناک پیچیدگیاں (جنہیں اکثر لوگ ignore کرتے ہیں)
اگر بروقت علاج نہ ہو تو:
نمونیا (سانس کی شدید بیماری)
شدید اسہال اور پانی کی کمی
کان کا انفیکشن (سماعت متاثر)
آنکھوں کا انفیکشن (اندھا پن تک ہو سکتا ہے)
Encephalitis (دماغ کی سوزش → دورے، بے ہوشی)
کمزور بچوں میں موت تک ہو سکتی ہے
❗ اہم پیغام: صرف گھر میں رکھنا کافی نہیں
بہت سے لوگ کہتے ہیں:
“خسرہ ہے، خود ٹھیک ہو جائے گا”
❌ یہ سوچ خطرناک ہے
✔️ ہر بچے کو doctor assessment اور proper care کی ضرورت ہوتی ہے
صحیح علاج کیا ہے؟
✔️ بنیادی care:
بخار کے لیے Paracetamol
وافر مقدار میں پانی، دودھ، ORS
آنکھوں کی صفائی
✔️ بہت اہم:
Vitamin A (ڈاکٹر کے مشورے سے)
👉 یہ complications اور موت کے خطرے کو کم کرتا ہے
✔️ اگر ضرورت ہو:
سانس کی تکلیف میں nebulization / oxygen
بیکٹیریل انفیکشن میں antibiotic
فوراً ڈاکٹر کے پاس کب جائیں؟
اگر بچے میں یہ علامات ہوں:
سانس لینے میں مشکل
بہت زیادہ کمزوری یا سستی
دورے (fits)
پانی نہ پی رہا ہو
مسلسل قے یا شدید اسہال
بچاؤ سب سے آسان ہے
💉 ویکسین ہی اصل حفاظت ہے
MMR vaccine وقت پر لگوائیں
ویکسین نہ لگوانا بچے کو خطرے میں ڈالنا ہے
📢عوام کے لیے پیغام
“خسرہ کو معمولی بیماری سمجھنا بڑی غلطی ہے۔
بچے کو گھر میں رکھ کر بغیر علاج کے چھوڑ دینا اس کی جان کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
بروقت دوا، Vitamin A اور ڈاکٹر سے رابطہ ہی بچے کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔”