𝑫𝒓. 𝑺𝒉𝒂𝒉 𝑶𝒇𝒇𝒊𝒄𝒊𝒂𝒍

𝑫𝒓. 𝑺𝒉𝒂𝒉 𝑶𝒇𝒇𝒊𝒄𝒊𝒂𝒍 Daily Medical Medison Knowledge's

ہیٹ سٹروک..!اب درجہ حرارت 40 سے 45 ڈگری تک روز پہنچ رہا ہے اس لئے اس بارے میں کچھ عرض کرنا چاہ رہا ہوں۔انسانی جسم کا درج...
22/05/2026

ہیٹ سٹروک..!

اب درجہ حرارت 40 سے 45 ڈگری تک روز پہنچ رہا ہے اس لئے اس بارے میں کچھ عرض کرنا چاہ رہا ہوں۔
انسانی جسم کا درجہ حرارت 42 ڈگری پر پہنچ جائے تو موت واقع ہونے کے امکانات 80 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔
(موسمی درجہ حرارت نہیں انسانی جسم کا درجہ حرارت) اسی لئے شدید گرمی سے بزرگ لوگ بہت زیادہ متاثر ھوتے ھیں۔ لہذا بہتر ھے کے انتہائی احتیاط سے کام لیا جائے ۔

● احتیاط ●
گوشت ، انڈہ ، اچار ، کوک ، پیسی ، تیز مرچ مصالحے ، پالک ، میتھی وغیرہ کھانے سے اجتناب کریں
کالا ، نیلا ، لال ، میرون ، جامنی اور گہرے رنگ والے کپڑے پہننے سے پرہیز کریں
انتہائی گرمی کے اوقات صبح 9 سے شام 6 بجے تک بلا ضروری سفر سے پرہیز کریں.
نمک کا کم سے کم استمعال کریں.
کالے رنگ کے اور مکمل بند جوتے کم سے کم پہنیں.

کرنے والے کام :

کدو ، ٹینڈے ، اروی ، گھیا توری ، شلجم ، پیٹھا ، مولی ، گاجر ، کھیرا ، دودھ ، دیسی گھی ، شربت بزوری ، بلنگو اور شربت بادام پھلوں میں تربوز ، کیلا , خوبانی اور خربوزے کا استمعال کریں ۔
سفید ، گلابی ، سبز اور ہلکے رنگ کے کپڑوں کا استمعال کریں
گھر سے نکتے وقت گیلا تولیہ ضرور ساتھ رکھیں ۔ ممکن نا ہو تو سر اور گردن کسی کپڑے سے ضرور ڈھانپیں اور عینک کا استمعال بھی کریں ۔

سونف اور الائچی کا قہوہ گرمی کا بہترین توڑ ہے۔
املی اور آلو بخارے کا شربت پیاس کی شدت کو انتہائی کم کر دیتا ھے
پانی جس قدر ممکن ہو پئیں ۔ ٹھنڈے پانی کی بجائے گھڑے کا پانی استمعال کریں۔ پیاس کی شدت کنٹرول میں رہتی ہے۔

جتنی بار ممکن ہو دن میں غسل کریں.
ہوا دار جوتا پہنیں جو کالے رنگ کا نا ہو.
اپنے گھر کی سایہ دار جگہوں پر پرندوں کے لئے لازمی "پانی" کا بندوبست کریں۔
اگر علامات میں شدت پائی جائے تو فوراً اپنے نزدیکی معالج سے رجوع کریں.

گردہ کا درد...!جب بھی بدن انسانی میں پانی کی کمی پیدا ہوتی ہے تو جن لوگوں کے گردے کمزور ہوتے ہیں ان گردہ میں پتھری بننا ...
22/05/2026

گردہ کا درد...!

جب بھی بدن انسانی میں پانی کی کمی پیدا ہوتی ہے تو جن لوگوں کے گردے کمزور ہوتے ہیں ان گردہ میں پتھری بننا شروع ہو جاتی ہے۔یہ پانی کی کمی سخت گرمی کی وہ سے ہو سکتی ہے یا مریض کا مزاج ایسا ہے کہ اسے پانی کی پیاس بہت کم لگتی ہے۔ یا کوئی ایسی خوراک استعمال کرتا ہے جو بدن میں پانی کی کمی پیدا کردیتی ہے تو ایسے لوگوں کے گردے پتھری بنانا شروع کر دیتے ہیں۔

سخت گرمی میں یا خاص طور پر رمضان میں ایسے لوگوں کے گردوں میں درد ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
بعض مریضوں کے گردوں میں پتھری کے ساتھ سوزش بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ جو درد کا سبب بنتی ہے۔

گردہ کے مریضوں سے الٹراساونڈ ضرور کرانا چاہئے اور ساتھ ان کے پیشاب کا ٹیسٹ بھی ضرور ہو کہ معالج کو پتہ چلے کہ گردہ میں سے پیشاب کے ذریعے کون سی چیز زیادہ خارج ہو رہی ہے۔
سیلف میڈیکیشن سے پرہیز کریں اپنے نزدیکی معالج کے مشورے سے دوا کا استعمال کریں.

اوسٹیو ارتھرائٹس..! اوسٹیو ارتھرائٹس گنٹھیا کی سب سے عام شکل ہے، جو دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔  یہ اس و...
22/05/2026

اوسٹیو ارتھرائٹس..!

اوسٹیو ارتھرائٹس گنٹھیا کی سب سے عام شکل ہے، جو دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب حفاظتی کارٹلیج کی تہہ جو ہڈیوں کے سروں کو حفاظت کرتی ہے وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوجاتی ہے۔

اگرچہ اوسٹیو ارتھرائٹس کسی بھی جوڑ کو نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن یہ خرابی عام طور پر آپ کے ہاتھوں، گھٹنوں، کولہوں اور ریڑھ کی ہڈی کے جوڑوں کو متاثر کرتی ہے۔

علامات
اوسٹیو ارتھرائٹس کی علامات اکثر آہستہ آہستہ نشوونما پاتی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ خراب ہوتی جاتی ہیں۔ اوسٹیو ارتھرائٹس کی علامات ۔

درد حرکت کے دوران یا بعد میں متاثرہ جوڑوں کو تکلیف ہو سکتی ہے۔
سختی بیدار ہونے پر یا غیر فعال ہونے کے بعد جوڑوں کی سختی سب سے زیادہ نمایاں ہو سکتی ہے۔

نرمی جب آپ اس پر یا اس کے قریب ہلکا دباؤ لگاتے ہیں تو آپ کا جوڑ نرم محسوس ہوسکتا ہے۔
لچک کا نقصان۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے جوڑ کو حرکت کی پوری رینج کے ذریعے منتقل نہ کر سکیں۔
جھرجھری کا احساس۔ جب آپ جوائنٹ استعمال کرتے ہیں تو آپ کو جھنجھری کا احساس ہوسکتا ہے، اور آپ کو پھٹنا یا کڑکنا سنائی دے سکتا ہے۔
ہڈیوں کو تیز کرتا ہے۔ ہڈی کے یہ اضافی ٹکڑے، جو سخت گانٹھوں کی طرح محسوس ہوتے ہیں، متاثرہ جوڑ کے ارد گرد بن سکتے ہیں۔
سُوجن. یہ جوڑوں کے ارد گرد نرم بافتوں کی سوزش کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔

اسباب
اوسٹیو ارتھرائٹس اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے جوڑوں میں ہڈیوں کے سروں کو کشن کرنے والا کارٹلیج آہستہ آہستہ خراب ہو جاتا ہے۔ کارٹلیج ایک مضبوط، پھسلنے والا ٹشو ہے جو تقریباً بغیر رگڑ کے جوڑوں کی حرکت کو قابل بناتا ہے۔

بالآخر، اگر کارٹلیج مکمل طور پر گر جائے تو، ہڈی ہڈی پر رگڑ جائے گی۔

اوسٹیوآرتھرائٹس پورے جوڑوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ ہڈیوں میں تبدیلیوں اور کنیکٹیو ٹشوز کے بگاڑ کا سبب بنتا ہے جو جوڑ کو ایک ساتھ رکھتے ہیں اور پٹھوں کو ہڈی سے جوڑ دیتے ہیں۔ یہ جوڑوں کی درمیان سطح کی سوزش کا بھی سبب بنتا ہے۔

کھجور کا شربت گرمی اور پیاس کا توڑ ...!جگر,مثانے کی گرمی ہاتھ پاؤں کی جلن کے لیے مفید ہے.معدے کی تیزابیت اور اعصابی طاق...
22/05/2026

کھجور کا شربت
گرمی اور پیاس کا توڑ ...!

جگر,مثانے کی گرمی ہاتھ پاؤں کی جلن کے لیے مفید ہے.
معدے کی تیزابیت اور اعصابی طاقت کے لیے فائیدہ مند ہے.
خون کی کمی کو بڑی جلدی دور کرتا ہے.
پٹھوں اور اعصاب کو طاقت دیتا ہے.

پکی ہوئی 3 نرم کھجوریں لے کر رات کو 1 گلاس پانی میں بھگو دیں
صبح ان کھجوروں کے ریشے الگ الگ کرکے اسی پانی کے ساتھ گرینڈ کرلیں.
مشروب تیار ہے.
اس کو صبح نہار منہ استعمال کریں.
چاہیں تو دن میں 2 بار صبح و شام بھی بنا کر پی سکتے ہیں۔
نوٹ :
روزانہ تازہ بنا کر استعمال کریں کیونکہ 12 گھنٹوں کے بعد اس میں خمیر پیدا ہو جاتا ہے۔

خبردار!سیڑھیاں چڑھنے کے بعد سانس پھول جاتی ہے یاسانس لینا مشکل لگتا ہے؟ تو یہ ضرور خطرے کی گھنٹی ہے،یہ جسم کے اندر چھپی ...
22/05/2026

خبردار!
سیڑھیاں چڑھنے کے بعد سانس پھول جاتی ہے یاسانس لینا مشکل لگتا ہے؟ تو یہ ضرور خطرے کی گھنٹی ہے،
یہ جسم کے اندر چھپی کسی بیماری کی جانب اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔

یہ خیال رہے کہ سانس کا پھول جانا مخصوص حالات میں جسم کا عام ردعمل ہوتا ہے، جیسے سخت ورزش کے دوران سانس لینے کی رفتار بڑھ جاتی ہے تاکہ خون میں آکیسجن کی مقدار بڑھ سکے۔

مگر سانس پھولنے کا سامنا ایسے کاموں کے دوران ہو جن میں پہلے کبھی مسئلہ نہیں ہوتا تھا، جیسے سیڑھیاں چڑھنے کے دوران، تو یہ جسم میں چھپی کسی بیماری کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔

خاص طور پر اگر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ہر بار سانس پھولنے کا سامنا ہو تو یہ ضرور خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ کوئی کام بار بار کرنے سے جسم اس کا عادی ہو جاتا ہے، اس لیے صحت مند افراد کو روزانہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سانس پھولنے کا سامنا نہیں ہوتا۔

پھیپھڑوں یا نظام تنفس کے مسائل
نظام تنفس کو پھیپھڑوں، دماغ اور سینے کے مسلز کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ جسم سے کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کر سکے اور خون کو آکسیجن فراہم کر سکے۔
اس نظام کو پہنچنے والے ہر نقصان سے سانس پھولنے کے مسئلے کا سامنا ہو سکتا ہے، جیسے پھیپھڑوں کے ورم یا رکاوٹ سے سانس زیادہ پھولنے لگتا ہے۔

دل کی شریانوں کے مسائل
دل کی شریانیں پھیپھڑوں سمیت پورے جسم کو خون فراہم کرتی ہیں اور ان کو پہنچنے والے نقصان سے بھی سانس پھولنے کے مسئلے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
جسمانی وزن بڑھ جانے سے بھی سیڑھیاں چڑھنا مشکل ہوتا ہے اور ایسا کرنے پر بہت جلد سانس پھول جاتا ہے۔

جسمانی فٹنس میں کمی
اگر آپ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے کے عادی ہیں تو معمولی کاموں سے بھی سانس پھولنے لگتا ہے۔
البتہ جسمانی فٹنس بہتر بنانے سے اس مسئلے پر قابو پانا آسان ہو جاتا ہے۔

خون کی کمی
جسم میں خون کی کمی کے باعث بھی تھکاوٹ، سانس پھولنے اور سینے میں تکلیف جیسی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔
عموماً آئرن کی کمی کے باعث خون کی کمی کا سامنا ہوتا ہے اور اس کا علاج نہ کرایا جائے تو امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے۔

دمہ
دمہ کے مریضوں کا سانس بھی سیڑھیاں چڑھنے کے دوران پھول جاتا ہے۔

گردوں اور جگر کے امراض
گردوں اور جگر کے امراض کے شکار افراد کا سانس بھی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے پھول جاتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ان امراض کے دوران اکثر جسم میں اضافی مقدار میں سیال جمع ہونے لگتا ہے جس کے باعث عام جسمانی سرگرمیاں بھی مشکل محسوس ہونے لگتی ہیں۔

بواسیر ایک انتہائی تکلیف دہ اور پیچیدہ بیماری ہے جس میں مقعد (A**s) اور بڑی آنت کے آخری حصے میں موجود خون کی رگیں (وریدی...
22/05/2026

بواسیر ایک انتہائی تکلیف دہ اور پیچیدہ بیماری ہے جس میں مقعد (A**s) اور بڑی آنت کے آخری حصے میں موجود خون کی رگیں (وریدیں) پھول کر اندر یا باہر کی جانب ابھر آتی ہیں، جن سے اکثر خون کا اخراج بھی ہوتا ہے۔

بواسیر کی اقسام اور علامات
بواسیر کے دانے یا 'موہکے' مقعد کے آغاز میں یا بڑی آنت کے آخری حصے میں جلد کے اندر چھپے ہوئے (اندرونی) یا باہر نکلے ہوئے (بیرونی) ہو سکتے ہیں۔ ہر چار میں سے تین افراد زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں اس کا شکار ہوتے ہیں۔

عام علامات درج ذیل ہیں۔
پاخانہ کرتے وقت خون آنا اور شدید درد ہونا۔
مقعد کے مقام پر سوجن، خارش اور جلن کا احساس۔
موہکوں میں خون کا لوتھڑا بن جانے کی صورت میں شدید ٹیسیں اٹھنا۔
اہم نوٹ: مقعد سے خون آنے کی وجہ ہمیشہ بواسیر نہیں ہوتی؛ 40 سال سے زائد عمر کے افراد میں یہ بڑی آنت کے کینسر کی علامت بھی ہو سکتی ہے، لہٰذا ڈاکٹر سے معائنہ ضروری ہے۔

بواسیر کی بنیادی وجوہات
اگرچہ اس کی حتمی وجوہات پر تحقیق جاری ہے، تاہم درج ذیل عوامل اسے مہمیز دیتے ہیں:
دائمی قبض یا پیچش: پیٹ کی مسلسل خرابی رگوں پر دباؤ ڈالتی ہے۔
غلط طرزِ زندگی: واش روم میں زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا یا حاجت کو روکنا۔
غذا میں فائبر کی کمی: چھان کے بغیر آٹے، سبزیوں اور پھلوں کا استعمال نہ کرنا۔
موٹاپا اور حمل: جسمانی وزن اور حمل کے دوران بڑھتا ہوا دباؤ رگوں کو پھلا دیتا ہے۔
نشہ آور اشیا: سگریٹ نوشی، شراب، بھنگ اور دیگر منشیات آنتوں کی حرکت کو سست کر کے شدید قبض کا باعث بنتی ہیں۔
بڑھتی عمر: عمر کے ساتھ رگوں میں لچک ختم ہو جاتی ہے، جس سے ضعیف افراد اس کا جلد شکار ہوتے ہیں۔

بواسیر سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر
اس بیماری سے بچنے یا اس کی شدت کم کرنے کے لیے طرزِ زندگی میں تبدیلی ناگزیر ہے:
فائبر کا استعمال: اپنی خوراک میں سبزیاں، پھل، سلاد (ٹماٹر، کھیرے، پیاز) اور دہی شامل کریں۔
پانی کی کثرت: روزانہ مناسب مقدار میں پانی پئیں تاکہ فضلہ نرم رہے۔
اسپغول کا چھلکا: قبض سے بچنے کے لیے روزانہ دو چمچ اسپغول کا چھلکا پانی میں ملا کر لیں۔
فوری حاجت: پاخانہ کی حاجت ہوتے ہی ٹوائلٹ جائیں؛ اسے روکنے سے آنتوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔
جسمانی سرگرمی: سست طرزِ زندگی چھوڑیں، ہلکی ورزش کریں اور زیادہ دیر تک ایک جگہ بیٹھنے سے گریز کریں۔
آئرن کی کمی: خون زیادہ بہنے کی صورت میں جسم میں کمزوری ہو سکتی ہے، اس لیے ڈاکٹر کے مشورے سے آئرن اور فولک ایسڈ کا استعمال کریں۔

اگر طبیعت زیادہ خراب ہو تو اپنے نزدیکی معالج کے مشورے سے دوا کا استعمال شروع کریں۔

20/05/2026

Use of Dalacin C capsule

قوتِ خاص کے لئے چند خاص مشورے..!مردوں میں قوت باہ کا انحصار بڑی حد تک جنسی ہارمون ٹیسٹاسٹیرون پر ہوتا ہے اور 35 سال کی ع...
14/05/2026

قوتِ خاص کے لئے چند خاص مشورے..!

مردوں میں قوت باہ کا انحصار بڑی حد تک جنسی ہارمون ٹیسٹاسٹیرون پر ہوتا ہے اور 35 سال کی عمر کے بعد اس میں قدرتی طور پر کمی واقعہ ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ منشیات جنسی ہارمون کیلئے سخت نقصان دہ ہیں۔ شراب نوشی,سگریٹ ٹیسٹاسٹیرون کو بڑی جلدی سے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے.

وزن میں اضافہ مردانہ جنسی ہارمون میں کمی کا باعث بنتا ہے اس لئے باقاعدگی سے ورزش کریں اور موٹاپے سے بچیں۔

ذہنی دباﺅ اور ڈپریشن جنسی ہارمون میں بے قاعدگی کا باعث بن کر جنسی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ذہن کو پرسکون رکھنے کیلئے مثبت طرز زندگی اپنائیں اور عبادات کی طرف متوجہ ہوں۔

جسم کو طاقتور اور پٹھوں کو مضبوط کرنے والی ورزشیں کریں کیونکہ اس طرح جنسی ہارمون کی افزائش ہوتی ہے۔
نیند کا بہت خیال رکھیں کیونکہ نیند کی کمی کے شکار افراد میں جنسی ہارمون کی واضح کمی ہو جاتی ہے۔

پلاسٹک کی بوتلوں اور برتنوں کا استعمال محدود کریں کیونکہ ان میں Bisphenol نامی کیمیکل پایا جاتا ہے جو مردانہ جنسی ہارمون کو کم کرتا ہے۔ پلاسٹک جتنا لچکدار ہو گا اس کے اثرات اتنے ہی منفی ہوں گے۔
مردانہ ہارمون کیلئے زنک بہت اہم جزو ہے جو کہ سمندری خوراک خصوصاً کستوری مچھلی,شیل فِش میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے گوشت میں بھی زنک پایا جاتا ہے اس کی روزانہ ضرورت 12 سے 15 ملی گرام ہوتی ہے۔
نیچے دی گئی تصویر میں بھی زنک جن غذائی اجزاء میں موجود ہوتا ہے وہ شامل ہیں.
صحت بخش چکنائی کا استعمال کریں۔ اس کیلئے گری دار میوہ جات اور زیتون کا تیل فائدہ مند ہیں۔
میٹھے کا استعمال کم کریں کیونکہ اس سے انسولین میں اضافہ اور ٹیسٹا سٹیرون ہارمون میں کمی واقع ہوتی ہے۔

Address

Karachi Sindh
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 𝑫𝒓. 𝑺𝒉𝒂𝒉 𝑶𝒇𝒇𝒊𝒄𝒊𝒂𝒍 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share