Dr Aisha Asad

Dr Aisha Asad Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr Aisha Asad, Karachi central hospital Fb area, Karachi.

From conception to delivery—care you can trust! 🤰🏻
Gynecologist and infertility specialist
Nargis medical and Fertility clinic
Mon - Sun
3PM - 5PM
Ahmed medical complex Thursday 12pm- 2pm
Karachi central hospital Saturday 12pm- 2pm

Beshak har Feron ke jaga Allah ne ik Moosa bheja ha..There was a man who stood out for the doctor covered her body, got ...
07/06/2026

Beshak har Feron ke jaga Allah ne ik Moosa bheja ha..

There was a man who stood out for the doctor covered her body, got himself burned by acid..

But he saved and protected that woman there. ♥️

ایک لڑکی نے برسوں کی محنت، لگن اور تعلیم کے بعد ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کا راستہ چنا، مگر ایک شخص کی انا اور بیمار س...
07/06/2026

ایک لڑکی نے برسوں کی محنت، لگن اور تعلیم کے بعد ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کا راستہ چنا، مگر ایک شخص کی انا اور بیمار سوچ نے اس کی زندگی کو نشانہ بنا دیا۔ مسئلہ عورت کی کامیابی نہیں، بلکہ وہ ذہنیت ہے جو عورت کو برابر، خودمختار اور کامیاب دیکھنا برداشت نہیں کرتی۔ تیزاب پھینکنا صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ انسانیت، تعلیم اور انصاف پر حملہ ہے۔ ایسے جرائم کے خلاف سخت سزا اور فوری انصاف وقت کی ضرورت ہے۔

ایک ڈاکٹر کا چہرہ جھلسایا گیا، مگر اس کی ہمت، علم اور وقار کو کوئی جلا نہیں سکتا۔ انصاف ہونا چاہیے

سول ہسپتال کوئٹہ کے ایک ڈاکٹر پر ہونے والا سفاکانہ تیزاب حملہ پوری طبی برادری کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ اس المناک واقعے ...
06/06/2026

سول ہسپتال کوئٹہ کے ایک ڈاکٹر پر ہونے والا سفاکانہ تیزاب حملہ پوری طبی برادری کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ اس المناک واقعے میں ڈاکٹر کا تقریباً 70 فیصد جسم جھلس گیا۔

ہم اس بزدلانہ اور غیر انسانی حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ جو لوگ دوسروں کی جانیں بچانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں، ان پر اس طرح کے حملے کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے شرمناک ہیں۔

حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کرکے عبرتناک سزا دی جائے اور ڈاکٹروں سمیت تمام صحت کے کارکنوں کو مؤثر تحفظ فراہم کیا جائے۔

آج اگر ایک ڈاکٹر محفوظ نہیں تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں۔




ایک عورت نے جنسی تعلق سے انکار کیا، اور اسے قتل کر دیا گیا۔یہ خبر پڑھ کر دل دہل جانا چاہیے تھا، مگر افسوس کہ سوشل میڈیا ...
05/06/2026

ایک عورت نے جنسی تعلق سے انکار کیا، اور اسے قتل کر دیا گیا۔

یہ خبر پڑھ کر دل دہل جانا چاہیے تھا، مگر افسوس کہ سوشل میڈیا پر لوگوں نے اسے بھی مذاق بنا دیا۔ صبح سے پوسٹس کے نیچے ہنسی مذاق، میمز اور غیر سنجیدہ تبصرے دیکھ رہی ہوں۔

ذرا سوچیں، ایک انسان کی جان چلی گئی۔ ایک عورت قتل کر دی گئی۔ ایک خاندان تباہ ہو گیا۔ یہ کوئی لطیفہ نہیں، نہ ہی تفریح کا موضوع ہے۔

ہم اکثر معاشرے کی خرابیوں کا رونا روتے ہیں، مگر جب کسی سانحے پر ہمارا پہلا ردعمل مذاق ہو تو مسئلہ صرف مجرم نہیں، ہماری اجتماعی بے حسی بھی ہے۔

اختلاف، غصہ، ناراضی یا ازدواجی مسائل کبھی بھی قتل کا جواز نہیں بن سکتے۔

اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور ہمیں دوسروں کے دکھ کو محسوس کرنے والا دل عطا کرے۔ آمین۔

لمحۂ فکریہپاکستان میں پہلے ہی ڈاکٹرز کی شدید کمی ہے، مگر افسوس کہ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ میڈیکل کالجز کی سینکڑو...
04/06/2026

لمحۂ فکریہ

پاکستان میں پہلے ہی ڈاکٹرز کی شدید کمی ہے، مگر افسوس کہ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ میڈیکل کالجز کی سینکڑوں نشستیں خالی رہ جاتی ہیں اور ہمارے بہترین ذہن ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔

کبھی MBBS میں داخلہ لینا ہزاروں نوجوانوں کا خواب ہوتا تھا، آج وہی نوجوان سوچتے ہیں:

"اتنی محنت، اتنے سالوں کی پڑھائی، لاکھوں روپے کا خرچ، پھر بھی آخر ملنا کیا ہے؟"

36-36 گھنٹے کی ڈیوٹیاں...

کم تنخواہیں...

کئی جگہوں پر بغیر تنخواہ کام...

جان کا تحفظ نہیں...

ہیلتھ انشورنس نہیں...

واضح سروس اسٹرکچر نہیں...

اور اگر کسی مریض کی جان بچ جائے تو تعریف کسی اور کے حصے میں، لیکن اگر پیچیدگی ہو جائے تو سارا الزام ڈاکٹر کے سر!

میڈیا پر دن رات ایسی خبریں چلائی جاتی ہیں جیسے ہر خرابی کا ذمہ دار صرف ڈاکٹر ہو۔ عوام اور ڈاکٹر کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط کرنے کے بجائے نفرت اور بداعتمادی کو فروغ دیا جاتا ہے۔

نتیجہ؟

ہمارے قابل ترین ڈاکٹرز، جن پر قوم نے سرمایہ کاری کی، آج برطانیہ، آسٹریلیا، آئرلینڈ، خلیجی ممالک اور دیگر ممالک کی خدمت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وہاں ان کی محنت کی قدر ہے، عزت ہے، تحفظ ہے اور مستقبل بھی۔

اور یہاں؟

یہاں ہم انہی لوگوں کو بدنام کرنے میں مصروف ہیں جو ایمرجنسی میں ہماری جان بچانے کے لیے راتوں کو جاگتے ہیں۔

اگر یہی صورتحال جاری رہی تو وہ دن دور نہیں جب اچھے ڈاکٹر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے۔ پھر لوگ مجبوری میں انہی عطائیوں، نیم حکیموں اور جھولہ چھاپوں کے پاس جائیں گے جن کے خلاف آج شکایات کی جاتی ہیں۔

شاید ہم ایک ایسا معاشرہ بنا رہے ہیں جہاں قابل ڈاکٹرز ہجرت کر جائیں گے اور عوام کو ناقص علاج پر اکتفا کرنا پڑے گا۔

پھر شکوہ مت کیجیے گا کہ اسپیشلسٹ دستیاب کیوں نہیں، اپائنٹمنٹ مہینوں بعد کیوں ملتی ہے، اور علاج کے لیے بیرونِ ملک کیوں جانا پڑتا ہے۔

قومیں اپنے بہترین دماغوں کی قدر کرتی ہیں...

ہم اپنے بہترین دماغوں کو رخصت کر رہے ہیں۔

اور جب آخری قابل لوگ بھی چلے جائیں گے تو شاید ہمیں احساس ہوگا کہ ڈاکٹر بنانا کتنا مشکل اور انہیں کھونا کتنا آسان تھا۔💔

"وزن کم کرنے کے تَیرہ طریقے (بغیر ڈائیٹنگ اور بغیر ورزش کے)"۱۔ کپڑے ڈھیلے پہنیں۲۔ تصویر ہمیشہ دُور سے لیں اور کوشش کریں ...
30/05/2026

"وزن کم کرنے کے تَیرہ طریقے (بغیر ڈائیٹنگ اور بغیر ورزش کے)"

۱۔ کپڑے ڈھیلے پہنیں

۲۔ تصویر ہمیشہ دُور سے لیں اور کوشش کریں کہ پاس کوئی بڑی چیز جیسے بَس ٹرک یا بلند عمارت ہو

۳۔ وزن کرتے ہوئے ہمیشہ ایک پاوں زمین پر رکھیں (اور دوسرے سے سکیل کو دبائیں یہاں تک کہ سوئی آپ کے آج کے ہدف تک پہنچ جائے)

۴۔ دُبلے پتلے اور خوراک کا خیال رکھنے والے دوستوں سے تعلقات توڑ دیں

۵۔ خود کو یقین دلائیں کہ موٹاپے کا احساس صرف اور صرف آپ کے دماغ کی خرافات ہیں۔ روزانہ سو مرتبہ یہ وِرد کریں "آئی ایم بیوٹی فُل، آئی ایم پرفیکٹ"

۶۔ گھر کے تمام آئینے توڑ کر باہر پھینک دیں

۷۔ کھانے سے پہلے اور بعد میں خوب کھانا کھائیں تا کہ کھانے کے وقت بھوک کم لگے

۸۔ کھانا ہمیشہ بہت زیادہ بنائیں تا کہ بچے ہوئے کھانے کو دیکھ کر یہی احساس ہو کہ کم کھایا

۹- ڈاکٹر کو رشوت دے کر "مکمل صحتمندی" کا سرٹیفیکیٹ حاصل کریں

۱۰۔ اپنے کمرے میں جگہ جگہ جاپانی پہلوانوں کے پوسٹر اور تصاویر آویزاں کریں

۱۱۔ روزانہ متعدد بار ورزش سے بھاگیں۔ بقیہ اوقات میں ریلیکس کریں اور ورزش کا خیال دل میں نہ لائیں

۱۲۔ موٹاپے کی طرف توجہ دلوانے والے دوستوں کو غلط وزن بتائیں اور اُنہیں اپنی آنکھیں چیک کروانے کا مشورہ دیں

۱۳۔ کھاتے ہوئے یاد رکھیں کہ کم کھانے کی صورت میں جَلد ہی ایک شدید احساسِ محرومی آپ کو لاتعداد اشیائے خورد و نوش دیوانہ وار مُنہ میں ڈالنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ ایک متوازن انسان کبھی ایسے احساسات کو قریب پھٹکنے نہیں دیتا۔ اور آپ تو ہیں ہی بیوٹی فُل، پرفیکٹ اور بیلینسڈ.

ٹھیک ہے نا؟؟؟؟

Eid uL adha Mubarak to everyone !!
28/05/2026

Eid uL adha Mubarak to everyone !!

ڈائجسٹ: تیرے پیروں کے نشاں !!وہ اکیلی تھی، اپنی ذات میں اکیلی، نئی نئی شادی، رفیقِ سفر اور ننّھے بچّے کے ساتھ اَن دیکھے ...
25/05/2026

ڈائجسٹ: تیرے پیروں کے نشاں !!
وہ اکیلی تھی، اپنی ذات میں اکیلی، نئی نئی شادی، رفیقِ سفر اور ننّھے بچّے کے ساتھ اَن دیکھے رستوں پر وہ نازک اندام نیم کُھلی آنکھوں اور تھکے قدموں کے ساتھ چلی جارہی تھی۔ محل چھوڑ کر ریگستان کا سفرآسان نہیں تھا۔ کتنے فاصلے طے کیے، پیروں سے کتنے راستے لپٹے، تلووں میں کتنے پتھر چُبھے، کتنے کانٹوں نے دامن سے الجھنے کی کوشش کی، کون حساب کرتا۔ اُسے تو حُکم ملا تھا، چلتے رہنے کا۔ سو، وہ سر جُھکائے چل رہی تھی۔ ایک ایسے راستے پر، جو اُس کی پہچان بننے جا رہا تھا، اُس کے نام سے جڑنے جارہا تھا۔ وہ ابراہیمؑ کی بیوی سے اسماعیلؑ کی ماں کے لقب سے پکاری جانی تھی۔

مستقبل کی خوش خبریاں آدمؑ کے بچّوں کو بتادی جائیں، تو سفر کا مزہ باقی نہ رہے۔ اُسے بھی علم نہیں تھا، اُسے کیا اعزاز ملنا ہے۔ اُس کے پیروں کے نشان، اُس کے سفر کی تھکاوٹ، سب مستقبل میں آنے والے ہزارہا قدموں کا سرمایہ بن جائیں گے۔ ان کی منزلت بڑھائے گی۔

ساتھ چلنے والا ہم سفر اللہ کا جلیل القدر بندہ ابراہیمؑ تھا۔ آگ کے شعلوں میں کندن بننے والا خاکی عظیم المرتبت ابراہیمؑ۔ وہ جس کے سب اپنے اس کے لیے غیر ہو چُکے تھے۔ جان سے پیارے، جان کے دشمن بن گئے تھے۔ صرف ایک وحدہ لاشریک رب کے آگے سجدۂ اطاعت کی دعوت کے عوض، اُن سب نے اُس کے لیے جلائی جانے والی آگ میں، ڈالی جانے لکڑیاں اکٹھی کی تھیں۔

سورج، چاند، ستاروں کے پرستاروں کو اُن کے خالق کی پہچان میں دشواری ہورہی تھی۔ ابراہیمؑ نے ہجرت کے دُکھ کو اپنے وجود میں سمویا تھا، رشتوں کی کڑواہٹ چکھی تھی۔ وہ اللہ کا پیارا تھا اور اللہ کے سبھی پیاروں کو دشت کی خاک چھاننی پڑتی ہے۔ یہ رب سے عشق کا لازمی جزو ہے۔ رب کی اطاعت اسی سے مشروط ہے۔ تھکا ہوا جسم، آبلوں سے مزیّن پیر، جاگتی آنکھیں، صاف ستھرا، خواہشات سے پاک دل۔ یہی پونجی ہے، رب کے دوست بندوں کی۔ یہی سرمایا، یہی متاع حیات

پانچ ہزار سال پہلے کی دنیا، پہیا ایجاد ہونے میں بڑا وقت تھا، اونٹ صحرا کا جہاز تھا، مگر عراق سے مکّہ کے سفر میں اونٹ کی اونچی پیٹھ بھی نہیں تھی، بس پیر تھے اور مٹی سے اٹے راستے۔ مکّہ خود کالے پہاڑوں سے گھری وادیٔ غیر ذی زرع تھی۔ نہ پھل، نہ میوے، نہ اناج، نہ میٹھے پانی کے چشمے، نہ کھجور کے لمبے پتّوں کے سائے۔

ہوا گرم، سورج کی تپش میں تیزی تھی اور منزل نامعلوم مگر یقینی۔ یقین ہو تو سفر خُود منزل بن جاتا ہے۔ رب کی رضا کی منزل، پھر جس مقام تک پہنچنا ہو اسے معلوم کرنے کی بہت فکر نہیں ہوتی۔ مادی مقام سے روحانی مقام بلند تر ہوتا ہے۔

کہنے کو اُس وقت وہ ایک عام سی عورت تھی۔ ایک بیوی، ایک ماں اور رب کی ایک بندی۔ ہجرت کا طویل سفر، بیابان کا قیام، صحرا کی خاک اور دشتِ بےآب وگیاہ میں پیاس اور پانی کی تلاش اُسے سارے آدمؑ کے بیٹے، بیٹیوں کے لیے قابلِ تعظیم اور قابلِ تقلید بنانے والی تھی۔ عجیب سفر تھا اور عجیب قیام۔ ہم سفر آسمان سے آنے والے اگلے حُکم کا منتظر اور وہ حیرانی سے ہم سفرکا چہرہ تک رہی تھی۔ بہت سے ڈر، اندیشے تھے اور سوال بھی… لیکن سوالوں کے جواب نہیں تھے۔

’’آپ ہمیں اکیلا چھوڑ کرجائیں گے…؟؟‘‘ دلِ بےتاب کی بےقراری اور سامنے صرف خاموشی۔ ’’کیا یہ رب کا حُکم ہے؟‘‘ اور ’’ہاں‘‘ کے جواب نے جیسے دل پہ قرار کا مرہم رکھ دیا۔ ’’اچھا تو پھر مَیں رب کے حُکم پر راضی ہوں۔‘‘ ابراہیمؑ چلے گئے۔ دعوت کے مشن پر اور ننّھا بچّہ اور بیوی بےآب و گیاہ ریگستان میں بغیر دانہ پانی زندگی کے متلاشی رہ گئے۔

گلابی نرم ننّھی ایڑیاں مچل رہی تھیں، پیاس سے زبان خشک تھی اور ہاجرہؑ، ماں کے دل کو آنچل میں سنبھالے ایک بار پھر دشت کی خاک چھان رہی تھی۔ اب کی بار وہ دوڑ رہی تھی۔ بےقراری قدموں سے لپٹی تھی اور قدم تیز پڑ رہے تھے۔ سات چکر، سات بار پانی کے لیے بھاگنا، سات بار ننّھے وجود کو آکر دیکھنا، عشق کی کتاب کا حصّہ بن گیا۔ قبولیت پا گیا۔

عبادت کا جزو بنادیا گیا۔ عشقِ الہٰی اور اطاعتِ الہٰی کی تکمیل ٹھہرا۔ ایک ماں کی بے قراری، تڑپ اور سعی نے زمین کی تہہ سے ٹھنڈے میٹھے پانی کی مُشک کا منہ کھول دیا۔ صاف شفّاف پانی اپنی قسمت پر نازاں ہوگیا۔ پانی جو زندگی ہے، بیش قیمت ہوگیا۔

ہزاروں سال بعد اُسی وادیٔ ذی ذرع میں ابراہیمؑ کی دُعا قبول ہوئی۔ اسماعیلؑ کی نسل سے محمّد صل اللہ علیہ والہ وسلم کے مبارک نام کا چراغِ نبوت طلوع ہوا۔ ابراہیمؑ کا ماننا، ابراہیمؑ اور آلِ ابراہیمؑ پر درود بھیجنا، دُعا کا جواب بنا۔ پیارے نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم نے کیا پیاری بات کہی۔’’اللہ امّاں ہاجرہؑ سے راضی ہو، اگر وہ بہتے پانی کو روکنے کے لیے منڈیر نہ بناتیں، تو زم زم چشمے کی صُورت بہتا رہتا۔‘‘ محمّد صل اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے پیروکاروں سے کہا۔

یہ قربانی تمھارے باپ ابراہیمؑ کی سُنّت ہے۔ اور صفا و مروہ پر دوڑنا حج و عُمرے کا رکنِ لازم۔ حُکم ہوا، جو واحد ولاشریک رب کے ماننے والے ہیں، آدمؑ کے بیٹے ہوں یا بیٹیاں، انہی پیروں کے نشان پر ایک عورت کی مامتا کی سی بےقراری سے لبیّک کہتے ہوئے دوڑیں گے، تو رب کی خوش نودی سے سرفراز ہوں گے۔

ایک عورت کے نقشِ قدم، پیغمبرؑ کی بیوی اور پیغمبرؑ کی ماں ہاجرہؑ کے پیروں کے نشان، رہتی دنیا تک رب کے ماننے والوں کے لیے نشان منزل بنا دئیے گئے کہ بےشک، رب اپنے چاہنے والوں کی محنتوں کا بہترین صلہ دیتا ہے۔
ع انجم

Announcement !Hajj and Eid Holidays You can book your online consultation at 03248049459Please remember us in your praye...
25/05/2026

Announcement !
Hajj and Eid Holidays
You can book your online consultation at 03248049459
Please remember us in your prayers

پاکستان میں ایک عجیب سا رویہ دیکھنے کو ملتا ہے…خواتین اپنی صحت کو سب سے آخر میں رکھتی ہیں۔نہ اپنی علامات پر دھیان دیا جا...
22/05/2026

پاکستان میں ایک عجیب سا رویہ دیکھنے کو ملتا ہے…

خواتین اپنی صحت کو سب سے آخر میں رکھتی ہیں۔
نہ اپنی علامات پر دھیان دیا جاتا ہے…
نہ اپنی بہن بیٹیوں کے مسئلوں کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے…
نہ ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری سمجھا جاتا ہے…

حیض کی بے قاعدگی ہو…
شدید درد ہو…
چہرے پر دانے، غیر ضروری بال، وزن کا بڑھنا ہو…
یا کمزوری اور تھکن ہو…
اکثر یہی کہا جاتا ہے:
“چلتا ہے، ہو جاتا ہے، ٹھیک ہو جائے گا”

لیکن جب بات سیل کی ہو…
کپڑوں اور جوتوں پر ڈسکاؤنٹ مل رہا ہو…
تو دکانوں کے باہر رش دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وقت اور ترجیحات فوراً بدل جاتی ہیں۔

مسئلہ یہ نہیں کہ ہم خریداری کرتے ہیں…
مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی صحت کو وہ اہمیت نہیں دیتے جو ایک عام چیز کو دیتے ہیں۔

ایک ڈاکٹر کے طور پر میں یہ روز دیکھتی ہوں کہ بہت سی خواتین اس وقت آتی ہیں جب بیماری بڑھ چکی ہوتی ہے…
حالانکہ اگر شروع میں ہی توجہ دی جائے تو:
علاج آسان ہوتا ہے،
خرچہ کم ہوتا ہے،
اور بڑی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔

یاد رکھیں:
جسم کے اشارے نظر انداز کرنے کی قیمت بعد میں بہت زیادہ چکانی پڑتی ہے۔

اپنے لیے وقت نکالیں…
اپنی بہن بیٹیوں کی صحت کو اہمیت دیں…
اور بیماری کا انتظار نہ کریں۔

~ ڈاکٹر عائشہ اسد

Address

Karachi Central Hospital Fb Area
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Aisha Asad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dr Aisha Asad:

Share