20/11/2021
موسم سرما میں بچوں کو بیماریوں سے بچانے کے لئے چند ضروری ہدایات:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1)۔ کھانے سے پہلے بچوں کے ہاتھ گرم پانی سے دھوئیں۔ کیونکہ یہ نزلہ، فلو، نمونیا جیسی متعدی بیماریوں کے لیے انفیکشن کا بنیادی راستہ ھیں۔
2)۔ اسکول جانے والے بچوں کو ماسک کا استعمال لازمی کروائیں۔
3)۔ دودھ پلانے والی مائیں نزلہ کھانسی اور بخار کی صورت میں ماسک کا استعمال لازمی کریں اور کھانسی کرتے وقت اپنا منہ ایک طرف کر لیں۔
4)۔ سگریٹ نوشی کرنے والے مرد حضرات گھر کے اندر خصوصی طور پر بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی سے گریز کریں۔
5)۔ گھر کے فرش، دروازوں کے ہینڈل، بجلی کے بٹن بورڈز، سیڑھیوں کی ریلنگ، روزانہ صاف کریں۔
6)۔ اونی کپڑوں میں دھول کو جذب کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور یہ دھول کی الرجی، نزلہ کھانسی اور دمہ کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے بچوں کے اونی کپڑے باقاعدگی سے دھوئیں۔
7)۔ سردیوں میں دن کے وقت گھر کی کھڑکیوں اور دروازوں کو چند منٹ کے لیے کھول دیا کریں تاکہ کمروں میں صاف ہوا گزر سکے۔ مسلسل بند کمروں میں بیماری پیدا کرنے والے جراثیموں کی افزائش زیادہ ہوتی ہے۔
8)۔ سردیوں میں بچوں کے جسمانی ٹمپریچر کو برقرار رکھنے کے لئے گرم کپڑوں، گرم ٹوپی، دستانے اور جرابوں کا استعمال کیجیۓ۔
9)۔ بچوں کے ناک باقاعدگی سے صاف کریں۔ بڑے بچوں کو نیم گرم پانی سے ناک کی صفائی کرنے کا مناسب طریقہ سکھائیں اور چھوٹے بچوں کی ناک کی صفائی کے لیے Suction Bulb یا Nasal Aspirator استعمال کریں۔
10)۔ بچوں کو ہر سال فلو ویکسینیشن کروائیں۔
11)۔ بچوں کو نیم گرم پانی، سوپ، گرم دودھ کی مناسب مقدار سے ہائیڈریٹ کرتے رہیں۔
ایک سال سے بڑے بچوں کو مناسب مقدار میں شہد اور ڈرائی فروٹ کا استعمال کروائیں۔
وٹامن سی کے لیے امرود، مسمی، کنوں اور پپیتا کھلائیں۔
12)۔ اگر دھوپ ہو تو اپنے بچوں کو باہر دھوپ میں لے جائیں۔ سورج وٹامن ڈی کے لیے بہترین ذریعہ ہے۔
13)۔ بچے دوسرے متاثرہ افراد سے آسانی سے انفیکشن پکڑ لیتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ بچوں کو ہجوم والی جگہوں سے دور رکھیں۔
14)۔ جب بچے اکٹھے کھیلتے ہیں تو کھلونوں کے ذریعے انفیکشن پھیلنے کا ہمیشہ امکان رہتا ہے، کھیلنے کے بعد کھلونوں کو گرم صابن والے پانی میں دھو لیں اور دوبارہ استعمال کرنے سے پہلے انہیں مکمل طور پر خشک ہونے دیں۔
15)۔ اپنے گھریلو ملازمین کو کھانسی بخار کی صورت میں کچھ دن کے لیے چھٹی دے دیں تاکہ وہ بچوں سے دور رہیں۔
16)۔ اگر آپ اپنے بچے کو ڈے کیئر میں بھیج رہے ہیں، تو انتظامیہ سے کہیں کہ وہ بیمار بچوں کو وہاں جانے سے روکیں۔
17)۔ بچے کو کوئی بھی دوا شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
ڈاکٹر مزمل ایوب مہر