29/12/2025
ہمارا گھر کبھی سکون کی جگہ ہوا کرتا تھا، مگر پھر نہ جانے کیا ہوا کہ ہر دیوار بوجھل ہونے لگی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بحث، بلاوجہ کی پریشانیاں، رزق میں تنگی، بیماریوں کا آنا جانا، اور دلوں میں ایک انجانی گھبراہٹ۔ رات کو نیند پوری نہ ہوتی، دن کو دل بےچین رہتا۔ ایسا لگتا جیسے گھر میں روشنی تو ہے مگر برکت کہیں کھو گئی ہے۔
امی اکثر کہتیں، “بیٹا، دعا تو کرتے ہیں، پھر بھی دل مطمئن کیوں نہیں ہوتا؟” ابو خاموش رہتے، ان کی خاموشی میں بھی تھکن بولتی تھی۔ میں خود بھی اندر سے ٹوٹتا جا رہا تھا، جیسے کوئی بوجھ ہے جو نظر نہیں آتا مگر ہر وقت کندھوں پر رکھا ہے۔
ایک دن مسجد کے باہر ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ باتوں باتوں میں انہوں نے اصحابِ کہف کے نقش کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، “یہ نقش کوئی جادو نہیں، یہ یاد دہانی ہے۔ اللہ کی حفاظت، صبر اور ایمان کی یاد۔ اگر یقین کے ساتھ گھر میں لگایا جائے تو فضا بدلتی ہے۔”
میں نے زیادہ بحث نہ کی، بس دل میں ایک امید جاگی۔ میں نے وہ نقش حاصل کیا، وضو کر کے خاموشی سے گھر کی ایک صاف دیوار پر لگا دیا۔ نہ کوئی خاص اعلان، نہ شور۔ بس دل سے ایک دعا نکلی:
“یا اللہ، اگر اس میں خیر ہے تو ہمارے حال بدل دے۔”
کچھ دن گزرے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جھگڑے کم ہونے لگے۔ امی کے چہرے پر سکون آنے لگا، ابو کی پیشانی کی شکنیں ہلکی ہو گئیں۔ راتوں کی بےچینی کم ہوئی، نیند بہتر ہونے لگی۔ رزق کے دروازے بھی آہستہ آہستہ کھلنے لگے، ایسے جیسے بند کھڑکی سے ہوا کا پہلا جھونکا آتا ہے۔
میں جانتا ہوں، اصل طاقت نقش میں نہیں، اصل طاقت اللہ پر یقین میں ہے۔ مگر وہ نقش ہمیں ہر روز یاد دلاتا رہا کہ جب ایمان کے ساتھ پناہ لی جائے، تو غار بھی محل بن جاتا ہے۔
آج بھی وہ نقش ہمارے گھر میں لگا ہے۔ دیوار پر نہیں، دلوں میں۔ اور گھر… اب واقعی گھر لگتا ہے۔