Sahibzada Shariq Ahmad Tariqi

Sahibzada Shariq Ahmad Tariqi Rohani Ilaj is an Islamic spiritual treatment that is used to heal a variety of physical, ailments.

03433769511
03182392985
03323492861

سورۃ مزمل مفردات لوح — روحانی حصار، تسخیر اور حاضری کا ایک لاجواب راز یہ خاص روحانی لوح سورۃ مزمل کے مخفی مفردات اور روح...
30/05/2026

سورۃ مزمل مفردات لوح — روحانی حصار، تسخیر اور حاضری کا ایک لاجواب راز

یہ خاص روحانی لوح سورۃ مزمل کے مخفی مفردات اور روحانی اعداد پر مشتمل ہے جو اہلِ علم کے نزدیک حصار، حفاظت، روحانی تسخیر اور حاضری کے اعمال میں نہایت مجرب سمجھی جاتی ہے۔
یہ لوح عامل کو جادو، بندش، آسیب اور منفی اثرات سے حفاظت فراہم کرتے ہوئے حاضری کے اعمال میں مضبوط حصار کا کام کرتی ہے۔

تسخیر کے میدان میں اس لوح کو ایک بے تاج بادشاہ راز مانا جاتا ہے جس کی تاثیر سے روحانی ہیبت، قبولیت اور باطنی کشش میں اضافہ ہوتا ہے۔
اہلِ روحانیت کے مطابق یہ لوح خاص وظائف، چلہ جات، حاضرات اور روحانی عملیات کے دوران مددگار ثابت ہوتی ہے اور عامل کے گرد ایک نورانی دائرہ قائم کرتی ہے۔
یہ لوح 30 گرام خالص چاندی اور مختلف دھاتوں کے مخصوص مجموعے سے ایک خاص ساعت میں تیار کی گئی ہے۔
سورۃ مزمل کی کلاس میں بیان کیے گئے کئی خاص اعمال، حاضرات اور روحانی طریقوں میں بھی یہ نہایت مفید اور معاون سمجھی جاتی ہے۔
🌐 www.sahibzadashariqahmedtariqi.com
📞 +923182392985
📞 +97472267243
📞 +923323492861

🌙 رازِ قربانی/سفر ابراہیم                    ............. قربانی صرف جانور کی نہیں ہوتیعید قریب آتے ہی بازار بھر جاتے ہ...
29/05/2026

🌙 رازِ قربانی/سفر ابراہیم

............. قربانی صرف جانور کی نہیں ہوتی

عید قریب آتے ہی بازار بھر جاتے ہیں کہیں جانوروں کی قیمتیں کہیں نسلوں کی باتیں… کہیں تصویریں… کہیں شور…

اور انہی آوازوں کے درمیان ایک آواز بہت آہستہ سے دل کو پکارتی ہے “کیا تم نے کبھی اپنے نفس کو بھی قربان کیا…؟”
حضرت ابراہیمؑ نے صرف بیٹے کی قربانی نہیں دی تھی انہوں نے اپنی خواہش قربان کی تھی۔
حضرت ہاجرہؑ نے صرف تنہائی نہیں جھیلی تھی انہوں نے اپنا خوف قربان کیا تھا۔
حضرت اسماعیلؑ نے صرف گردن نہیں جھکائی تھی انہوں نے اپنی پوری رضا اللہ کے حوالے کر دی تھی۔
اور آج ہم جانور تو ذبح کر دیتے ہیں مگر اپنی انا زندہ رکھتے ہیں۔
ہم قربانی کر لیتے ہیں مگر دل میں نفرت باقی رہتی ہے۔
ہم گوشت بانٹ دیتے ہیں مگر غرور نہیں چھوڑتے.

آپکو ایک بات بتاتا ہو اللہ نے قرآن میں فرمایا:
“نہ ان کا گوشت اللہ تک پہنچتا ہے نہ خون بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے…”
یعنی اللہ چھری نہیں دیکھ رہا
وہ دل کی کیفیت دیکھ رہا ہے۔

“اصل قربانی وہ ہے جہاں انسان اپنی سب سے محبوب چیز اللہ کے لیے چھوڑ دے۔”

🌙 رازِ قربانی/سفر ابراہیم — قسط ہفتم                    ............. قربانی صرف جانور کی نہیں ہوتیعید قریب آتے ہی بازار...
27/05/2026

🌙 رازِ قربانی/سفر ابراہیم — قسط ہفتم

............. قربانی صرف جانور کی نہیں ہوتی

عید قریب آتے ہی بازار بھر جاتے ہیں کہیں جانوروں کی قیمتیں کہیں نسلوں کی باتیں… کہیں تصویریں… کہیں شور…

اور انہی آوازوں کے درمیان ایک آواز بہت آہستہ سے دل کو پکارتی ہے “کیا تم نے کبھی اپنے نفس کو بھی قربان کیا…؟”
حضرت ابراہیمؑ نے صرف بیٹے کی قربانی نہیں دی تھی انہوں نے اپنی خواہش قربان کی تھی۔
حضرت ہاجرہؑ نے صرف تنہائی نہیں جھیلی تھی انہوں نے اپنا خوف قربان کیا تھا۔
حضرت اسماعیلؑ نے صرف گردن نہیں جھکائی تھی انہوں نے اپنی پوری رضا اللہ کے حوالے کر دی تھی۔
اور آج ہم جانور تو ذبح کر دیتے ہیں مگر اپنی انا زندہ رکھتے ہیں۔
ہم قربانی کر لیتے ہیں مگر دل میں نفرت باقی رہتی ہے۔
ہم گوشت بانٹ دیتے ہیں مگر غرور نہیں چھوڑتے.

آپکو ایک بات بتاتا ہو اللہ نے قرآن میں فرمایا:
“نہ ان کا گوشت اللہ تک پہنچتا ہے نہ خون بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے…”
یعنی اللہ چھری نہیں دیکھ رہا
وہ دل کی کیفیت دیکھ رہا ہے۔

“اصل قربانی وہ ہے جہاں انسان اپنی سب سے محبوب چیز اللہ کے لیے چھوڑ دے۔”

کسی کے لیے اصل قربانی حرام محبت چھوڑنا ہے کسی کے لیے اپنا غرور کسی کے لیے بدلہ لینے کی خواہش کسی کے لیے دنیا کی وہ چیز جو اسے اللہ سے دور کر رہی ہو۔

قربانی کا دن صرف جانور ذبح کرنے کا دن نہیں. یہ اپنے اندر چھپے فرعون کو کاٹنے کا دن ہے۔
یہ اپنی خواہشات کے بت توڑنے کا دن ہے۔ یہ اپنی روح کو دوبارہ اللہ کے سامنے جھکانے کا دن ہے۔

رسولِ کریم ﷺ جب قربانی کرتے تو دل میں خشوع ہوتا کیونکہ یہ صرف رسم نہیں تھی یہ ابراہیمؑ کے عشق کی یاد تھی۔

آج بھی کچھ لوگ جانور قربان کرتے ہیں…مگر عید گزرنے کے بعد وہی دل… وہی غفلت… وہی تکبر…

کیونکہ انہوں نے جانور تو ذبح کیا…مگر اپنے نفس کو زندہ چھوڑ دیا۔

شاید اسی لیے یہ سب ٹھیک ہے کہ
“سب سے مشکل قربانی اپنی ذات کی قربانی ہے…”
آج اگر آپ. بھی واقعی ابراہیمؑ کے راستے پر چلنا چاہتے ہو تو صرف چھری ہاتھ میں نہ لو اپنے دل میں بھی دیکھو وہ کون سی چیز ہے جو تمہیں اللہ سے دور کر رہی ہے…؟
اور پھر اسے اللہ کے لیے قربان کر دو۔

🕋 تصوف ایک ایسا راستہ ہے سہی جہاں انسان جانور سے پہلے اپنے نفس پر چھری چلاتا ہے۔ 🤍

جانور ذبح کرنا آسان ہے مگر اپنے نفس، غرور اور خواہشات کو اللہ کے لیے قربان کرنا اصل امتحان ہے۔ 🔥

*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ* آج 27 مئی کا خوبصورت دن شروع ہوگیا ہے  — وہ دن جب میری زندگی کی سب سے پیاری خوش...
26/05/2026

*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*

آج 27 مئی کا خوبصورت دن شروع ہوگیا ہے — وہ دن جب میری زندگی کی سب سے پیاری خوشی دنیا میں آئی تھی۔ ✨
میری ننھی شہزادی، تم صرف بیٹی نہیں بلکہ اللہ کی سب سے خوبصورت رحمت ہو۔ تمہاری مسکراہٹ گھر کی رونق اور دل کا سکون ہے۔ 💖🌸

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جس شخص کی بیٹیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے، ان کی اچھی تربیت کرے، تو وہ اس کے لیے جنت کا سبب بنیں گی۔”
— Sunan Ibn Majah، حدیث 3669

سالگرہ بہت بہت مبارک ہو میری ننھی شہزادی 🎂👑💕
تم میری زندگی کی سب سے قیمتی دعا اور سب سے حسین تحفہ ہو۔
اللہ تمہیں ہمیشہ خوش، سلامت، کامیاب اور نصیبوں والی زندگی عطا فرمائے۔
تمہاری ہر مسکراہٹ ہمیشہ قائم رہے اور تمہاری زندگی محبتوں اور خوشیوں سے بھری رہے۔ آمین 🤲✨

“جس دن تم پیدا ہوئیں، اُس دن ہماری دنیا اور بھی خوبصورت ہوگئی۔” 🌸💫

26/05/2026
🌙 **یومِ عرفہ — رحمتوں، مغفرت اور قبولیتِ دعا کا دن** 🤲✨آج کے بابرکت دن اپنے دلوں کو اللہ کی یاد سے روشن کریں اور زیادہ ...
26/05/2026

🌙 **یومِ عرفہ — رحمتوں، مغفرت اور قبولیتِ دعا کا دن** 🤲✨

آج کے بابرکت دن اپنے دلوں کو اللہ کی یاد سے روشن کریں اور زیادہ سے زیادہ دعا، استغفار اور ذکرِ الٰہی میں مشغول رہیں۔
یومِ عرفہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے، اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور نئی امید کے ساتھ زندگی گزارنے کا پیغام دیتا ہے۔ ❤️

📿 *”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ”*
یہ بہترین ذکر ہے جو دلوں کو سکون اور روح کو تازگی عطا کرتا ہے۔ 🌸

🤍 اللہ تعالیٰ ہم سب کی عبادات، دعائیں اور نیک تمنائیں قبول فرمائے۔ آمین۔

لطیفۂ سِرباطن کا وہ مقام جہاں بندہ رازِ محبت سننے لگتا ہے۔صوفیائے کرام کے نزدیک “لطیفۂ سِر” انسان کے اُن باطنی مراکز م...
23/05/2026

لطیفۂ سِر
باطن کا وہ مقام جہاں بندہ رازِ محبت سننے لگتا ہے۔

صوفیائے کرام کے نزدیک “لطیفۂ سِر” انسان کے اُن باطنی مراکز میں سے ہے جہاں دل محض ذکر کرنے والا نہیں رہتا بلکہ رازوں کو محسوس کرنے لگتا ہے۔
اگر لطیفۂ قلب محبت کا دروازہ ہے، اور لطیفۂ روح اُس محبت کی زندگی، تو لطیفۂ سِر وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنے رب کے ساتھ خاموش تعلق میں داخل ہوتا ہے۔
یہاں زبان خاموش اور باطن گویا ہو جاتا ہے۔

اہلِ سلوک کے ہاں اس کا مقام سینے کے بائیں حصے سے اوپر، قلب و روح کے درمیان یا قدرے وسطِ سینہ کی طرف بیان کیا جاتا ہے۔
یہ مقام ظاہری جسم سے زیادہ باطنی شعور سے متعلق ہے، اس لیے اس کی کیفیت محسوس کی جاتی ہے، دیکھی نہیں جاتی۔

اس لطیفہ کا رنگ اکثر سفید نور یا ہلکا سنہری نور بیان کیا جاتا ہے۔
یہ نور صفائی، اخلاص اور باطنی سکون کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

اس لطیفہ کے ساتھ عموماً اسمِ ذات “اللہ” یا ذکرِ خفی کیا جاتا ہے۔
سالک خاموشی سے دل کی گہرائی میں “اللہ… اللہ…” کو محسوس کرتا ہے، یہاں تک کہ ذکر آواز سے نکل کر احساس بننے لگتا ہے۔

بعض اہلِ طریقت اس مقام پر مراقبۂ حضوری کرتے ہیں، یعنی دل کو اس احساس میں رکھنا کہ۔
“میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔”
اس کے اسرار و رموز
لطیفۂ سِر کے بیدار ہونے پر انسان کے اندر چند تبدیلیاں پیدا ہونے لگتی ہیں:

عبادت میں دکھاوے سے نفرت ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
تنہائی سے محبت ہو جاتی ہے
خاموشی میں سکون محسوس کرتا ہے
دل نرم پڑ جاتا ہے اور بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے
دنیا کی چمک دھمک مدھم پڑ جاتی ہے اس کی نظر میں
ذکر کے وقت آنکھوں کا نم ہو جانا
گناہ کے بعد باطن میں بےچینی محسوس کرنا۔
یہ وہ مقام ہے جہاں انسان لوگوں کے عیب کم اور اپنی کمزوریاں زیادہ دیکھنے لگتا ہے۔
باطن میں ایک نرم درد پیدا ہوتا ہے جو انسان کو اللہ کی طرف کھینچتا ہے۔

لطیفۂ سِر کی ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ بندہ اپنی نیکیوں پر خوش ہونے کے بجائے اپنی کمیوں پر نظر رکھتا ہے۔
وہ عبادت کرتا ہے مگر خود کو عبادت گزار نہیں سمجھتا۔
یہ عاجزی، سِر کی زندگی کی علامت ہے۔

اے راہِ سلوک کے مسافر
لطیفۂ سِر شور سے نہیں کھلتا، خاموشی سے کھلتا ہے۔ زیادہ بولنا، زیادہ دیکھنا، اور ہر وقت دنیا میں الجھے رہنا باطن کی روشنی کو کمزور کر دیتا ہے۔
اپنے دل کو تین چیزوں سے بچاؤ۔
ریا سے، تکبر سے اور لوگوں کی بےجا تعریف کی خواہش سے۔
اور تین چیزوں کو لازم پکڑو۔
تہجد کی خاموش عبادت کو
ذکر کی پابندی کو
سچی توبہ کو۔

جب لطیفۂ سِر بیدار ہوتا ہے تو انسان کو عبادت میں لذت کے ساتھ حضوری نصیب ہوتی ہے۔
پھر وہ اللہ کو صرف پکارتا نہیں، بلکہ اپنے اندر اُس کی قربت محسوس کرنے لگتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں دعا الفاظ سے نکل کر آنسو بن جاتی ہے اور بندہ آہستہ آہستہ “علم” سے “معرفت” کی طرف سفر کرنے لگتا ہے۔

اسمِ مبارک "یا حی یا قیوم" کی صدائیں اب دل کے دریچوں سے ٹکرا کر واپس نہیں آتیں، بلکہ باطن کی گہرائیوں میں اتر کر وہاں سو...
19/05/2026

اسمِ مبارک "یا حی یا قیوم" کی صدائیں اب دل کے دریچوں سے ٹکرا کر واپس نہیں آتیں، بلکہ باطن کی گہرائیوں میں اتر کر وہاں سوئی ہوئی روشنیوں کو جگانے لگتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے روح کے ویران صحرا پر رحمت کی پہلی بارش برس پڑی ہو، اور وجود کی خشک مٹی سے نور کے چشمے پھوٹنے لگے ہوں۔

ساتویں دن کی ضربیں نرم سرگوشی نہیں ہوتیں، یہ روح کے دروازوں پر ہونے والی وہ مقدس دستکیں ہیں جو بند دلوں کو بیدار کر دیتی ہیں۔
اب ہر “یا حی” میں حیات کی ایک نئی لہر پوشیدہ ہے، اور ہر “یا قیوم” میں ایسا سہارا جو ٹوٹتے وجود کو پھر سے قائم کر دیتا ہے۔

جب ذکر کی ضربیں قلب کے نہاں خانوں میں اترتی ہیں تو برسوں کی غفلت، خواہشات کی گرد، اور نفس کی تاریک تہیں ہلنے لگتی ہیں۔
اس لمحے کبھی دل بھاری محسوس ہوتا ہے، کبھی سانسوں میں لرزش سی آتی ہے، اور کبھی آنکھیں بے سبب نم ہونے لگتی ہیں۔
مگر اے سالک! یہ اضطراب بیماری نہیں، بلکہ روح کی بیداری کی پہلی آہٹ ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب اندر سویا ہوا نور آنکھ کھولتا ہے اور دل پہلی بار اپنے رب کی طرف پلٹنے لگتا ہے۔

جیسے بارش کے بعد گرد آلود فضا شفاف ہو جاتی ہے، ویسے ہی ذکر کی شدت دل کے آئینے سے زنگ اتارتی ہے۔
باطن کے اندھیروں میں جب “یا حی یا قیوم” کی روشنی اترتی ہے تو پرانی کدورتیں، چھپی ہوئی بے چینی، اور دل کی تھکن ابھر کر باہر آنے لگتی ہے۔
یہی تطہیر ہے… یہی تزکیہ ہے…
یہ وہ لمحہ ہے جب رب اپنے بندے کے اندر جگہ بنا رہا ہوتا ہے۔

اب سالک کے سینے میں ایک خاموش نور جنم لیتا ہے، جو کبھی آنسو بن کر بہتا ہے، کبھی سکون بن کر ٹھہر جاتا ہے، اور کبھی دعا بن کر آسمانوں تک پہنچ جاتا ہے۔

اس مقام پر نفس اور وسوسے آخری کوشش کرتے ہیں کہ سالک کے قدم ڈگمگا جائیں۔
کبھی سستی آئے گی، کبھی دل کہے گا کہ بس اب کافی ہے، اور کبھی ذہن میں بے سبب الجھنیں اتریں گی۔
مگر یاد رکھو…
یہی وہ مقام ہے جہاں ثابت قدمی انسان کو عام ذاکر سے صاحبِ حضور بنا دیتی ہے۔

اپنی ضربوں کو جاری رکھو۔
ہر “یا حی” کے ساتھ روح کو زندگی مل رہی ہے، اور ہر “یا قیوم” کے ساتھ دل رب کی پناہ میں قائم ہو رہا ہے۔
ذکر کی یہ شدت دراصل رحمت کی شدت ہے، جو تمہیں تمہاری ذات سے نکال کر اُس ذات کی طرف لے جا رہی ہے جو ہمیشہ سے زندہ اور قائم ہے۔

دل کانپے تو سمجھ لو دروازہ کھل رہا ہے۔
آنکھ نم ہو تو جان لو رحمت قریب ہے۔
اندر بے چینی جاگے تو یقین رکھو کہ روح اپنے اصل وطن کو پہچاننے لگی ہے۔
گھبراؤ نہیں…
یہ نور کے اترنے کی کیفیت ہے۔
یہ وہ درد ہے جو انسان کو فنا سے اٹھا کر بقا کی طرف لے جاتا ہے۔

اے حی و قیوم۔
ہمارے دلوں کو اپنے ذکر کا چراغ بنا دے۔
ہماری روحوں کو اپنی محبت کی بارش سے زندہ فرما۔
ہمیں وہ استقامت عطا کر کہ دنیا کے طوفان بھی ہمیں تیرے در سے جدا نہ کر سکیں۔
اور ہمارے سینوں کو اپنے نور کا ایسا مسکن بنا دے جہاں تیرے سوا کچھ باقی نہ رہے۔
آمین یا رب العالمین۔

✨ سفرِ عشقِ الٰہی قریب ہے… ✨🕋دلوں کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں،“لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ” کی صدائیں گونجنے لگیں… 🤍🕋 حج...
18/05/2026

✨ سفرِ عشقِ الٰہی قریب ہے… ✨

🕋دلوں کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں،
“لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ” کی صدائیں گونجنے لگیں… 🤍

🕋 حج — 25 مئی 2026
🤲 یومِ عرفات — 26 مئی 2026
🐐 عیدُالاضحیٰ — 27 مئی 2026

وہ دن جب لاکھوں سفید لباسوں میں ملبوس لوگ
صرف ایک رب کے سامنے جھکتے ہیں…
وہ دن جب دعائیں آسمانوں کو چھوتی ہیں…
اور وہ عید جو قربانی، محبت اور اطاعت کا پیغام دیتی ہے۔ ✨

اے اللّٰہ!
ہمیں بھی اپنے گھر کی حاضری نصیب فرما،
عرفات میں کھڑے ہو کر دعا مانگنے والوں میں شامل فرما،
اور ہماری ہر عبادت قبول فرما۔ آمین 🤲🤍

🌐Website Link:
www.sahibzadashariqahmedtariqi.com

Arafat2026 EidUlAdha IslamicReminder Makkah Dua HajjMubarak

Address

Karachi
74200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sahibzada Shariq Ahmad Tariqi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share