Fatima Zahara Khan

Fatima Zahara Khan Health, Beauty & Skincare Product

28/07/2026

اصل نعمتیں کون سی ہیں؟

ایک نوجوان نے ایک بزرگ سے سوال کیا:
"ہم سنتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمان بندوں سے اپنی نعمتیں واپس لے لیتا ہے، لیکن میں تو دیکھتا ہوں کہ بہت سے گناہگار لوگوں کے پاس بھی اچھا گھر، عمدہ لباس، بہترین کھانا اور ہر طرح کی آسائش موجود ہوتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے کیا چھینا؟"
بزرگ مسکرائے اور نہایت شفقت سے پوچھا:
"بیٹا! کیا تم نماز میں خشوع و خضوع محسوس کرتے ہو؟"
نوجوان نے جواب دیا:
"نہیں۔"

بزرگ نے پھر پوچھا:
"کیا قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے وقت تمہارا دل سکون اور لذت محسوس کرتا ہے؟"
نوجوان بولا:
"نہیں۔"
انہوں نے دوبارہ پوچھا:
"کیا تم پانچ وقت کی نماز پابندی سے ادا کرتے ہو؟"

نوجوان نے کہا:
"نہیں۔"
بزرگ نے فرمایا:
"کیا نیکی کی طرف تمہارا دل خود بخود مائل ہوتا ہے؟"
نوجوان نے جواب دیا:
"نہیں۔"
پھر پوچھا:
"کیا تمہاری زبان اللہ کے ذکر کی عادی ہے؟"
نوجوان خاموشی سے بولا:
"نہیں۔"

یہ سن کر بزرگ نے فرمایا:
"بیٹا! یہی تو وہ عظیم نعمتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ بعض نافرمان بندوں سے واپس لے لیتا ہے۔" 🤍

ہم میں سے بہت سے لوگ صرف مال، دولت، گھر، گاڑی اور دنیاوی آسائشوں کو ہی اللہ کی نعمت سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نماز کی لذت، قرآن سے محبت، ذکرِ الٰہی کا شوق، نیکی کی رغبت اور اللہ کے قریب ہونے کی تڑپ... یہی وہ سب سے قیمتی نعمتیں ہیں جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتیں۔

اس لیے اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عبادت کی توفیق، گناہوں پر ندامت اور اپنی یاد میں سکون عطا کیا ہے تو یقین جانیں، آپ دنیا کے خوش نصیب ترین لوگوں میں سے ہیں۔

28/07/2026

🌼
*بہن کا حصہ نہ دینے والے مرد اور آبائی قبرستان کی حسرت*

میں اس وقت مردوں سے مخاطب ہوں۔ صرف یہ بتائیے کہ دفن ہونے کے لیے آپ کون سا قبرستان پسند کریں گے؟

آپ سب کے دماغ میں وہی گھوم رہا ہو گا، آبائی قبرستان، جہاں بڑے گئے آخری آرام کرنے، ہم بھی وہیں جائیں گے، قدرتی بات ہے، میری بھی عین یہی خواہش ہے۔

علامہ ناصر مدنی پچھلے دنوں سیالکوٹ بار سے خطاب کر رہے تھے، کہنے لگے، ’ظالمو، بیٹیوں کو حصہ دیا کرو، وہ تو دفن بھی سسرال کے قبرستان میں جا کے ہوتی ہیں۔‘

یہ اتنی بڑی بات تھی کہ اس نے میرا دماغ پلٹ کے رکھ دیا۔ میں آج تک یہ سوچ رہا ہوں کہ یہ بات میں کیوں نہیں کہہ سکا؟ کیوں نہیں سوچ سکا؟

جب میں یہ دیکھ رہا تھا کہ انڈیا سے آئی میری دادی ملتان دفن ہو رہی ہیں، پشاور سے آئی میری ماں وہیں میرے باپ دادا والے قبرستان میں دفنائی جا رہی ہیں، تو میں نے صرف اپنے لیے کیوں سوچا کہ کاش، میں بھی ادھر ہی آؤں مرنے کے بعد ۔۔۔

میں نے کراچی سے تعلق رکھنے والی اپنی بیوی سے کبھی کیوں نہیں پوچھا کہ یار تم کیا سوچتی ہو، تمہیں نہیں ایسا کوئی خیال آیا؟ شادی کے بعد باہر ملک گئی اپنی بہن سے کیوں اس بارے میں سوال نہیں کیا؟ اسے کوئی ایسی خواہش یا حسرت نہیں ہوتی ہو گی؟

حصہ وغیرہ تو بہت دور کی بات ہے شادی کے بعد کتنی بیٹیوں کے لیے ماں باپ کے گھر میں کمرہ باقی رہ جاتا ہے؟ اپنے اردگرد دیکھیں، غور کریں، کتنی بہنوں نے، کتنی بیٹیوں نے گلہ کیا ہے کہ یار ہم گھر سے نکلے نہیں اور پیچھے کمرہ تک غرق ہو گیا؟

گھر میں دس کمرے ہوں یا تین ۔۔۔ کس نے باقی رکھا ہے کمرہ؟ سال میں چار دن کے لیے بھی وہ آئے گی، تو اسے کوئی تعلق، کوئی دھاگہ، کوئی اپنائیت باقی نہیں ملنی چاہیے؟

ہم لوگ کیا کیا کچھ نہیں کرتے، مذاق میں ہی سہی لیکن آپ میں سے کتنوں نے یہ کہا ہو گا کہ تمہاری شادی پر تم کو مل گیا تمہارا حصہ، اب موج کرو، جو تھا وہی تھا، کیوں؟

شادی کے بعد اُس نے جب دوسری جگہ جانا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنا آدھا نام بدلتی ہے، اس کے بعد ساری زندگی جس گھر کو بنانے میں لگاتی ہے وہ گھر بھی اس کے نام نہیں ہوتا اور قبرستان تو ویسے ہی شوہر کی طرف والا ہونا ہے ۔۔۔

تو میکہ، اسے کیا وہ بنیادی حق نہیں دے سکتا جو پہلے ہی مرد کی نسبت آدھا ہے؟

یہاں تک میری بات ختم ہو گئی۔ آپ سکون سے اپنے گریبانوں میں جھانکیے، دائیں بائیں دیکھیں، سر کھجائیں، میرے کچھ کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے، علامہ صاحب پورا بیان اسی موضوع پر دے گئے۔

اب میں خواتین سے بات کر رہا ہوں۔ پہلا کام جو آپ کر سکتی ہیں پڑھائی کے بعد، وہ یہ ہے کہ سوچیں۔۔۔ یہ سوچیں کہ محض ایک ٹکڑا زمین کا، ایک چھوٹا سا، سنگل کمرے والا فلیٹ، یا کچھ بھی ایسا جو صرف آپ کے نام ہو، وہ آپ کس طرح جلد از جلد بنا سکتی ہیں؟

نوکری کرنا ہے وہ کریں، کاروبار کے وسائل ہیں تو وہ دیکھیں، والد کے پاس اتنا پیسہ ہے تو ان سے مانگیں کہ اپنی زندگی میں دیں، شادی پہ لاکھوں روپے جو ضائع کرنے ہیں، وہ سادگی سے نکاح کر کے اس کام میں لگائیں۔

لیکن یہ کام ضرور کر لیں کیونکہ اپنی چھت ایک سینس آف بی لونگنگ پیدا کرتی ہے، وہی جو تعلق ہم مردوں کا اپنے آبائی قبرستان سے ہوتا ہے۔

میں نے اپنی دادی کو صابر شاکر دیکھا، ماں کو ہمیشہ ہنستے ہوئے، مطمئن دیکھا، آج کی عورت لیکن آرام میں نہیں ہے۔ وہ اُن سے زیادہ کام کر کے بھی ان سے زیادہ ان سکیور ہے، ڈس اورئینٹڈ ہے اور میرے ذاتی خیال میں اس کی سب سے بڑی وجہ وہی ہے ۔۔۔

اپنی چھت کا نہ ہونا ۔۔۔ کسی ایک کمرے کو مکمل اپنا نہ کہہ سکنا اور ہر ایک گھر میں پرائے گھر کا احساس غالب رہنا اور پھر اسی بات کا باپ، بھائی، بیٹے یا شوہر کی طرف سے بار بار بار جتلائے جانا۔

اپنا گھر، میرا بھی کوئی نہیں لیکن قبرستان کا سوچتا ہوں تو تسلی ہوتی ہے کہ نارمل حالات میں مرا تو ملتان بھیج ہی دیں گے لوگ، لیکن اس دنیا کی آدھی آبادی جو یہ بھی نہیں سوچ سکتی ۔۔۔ اس کا ڈس اورئینٹڈ اور پریشان رہنا کیا اب بھی نہیں بنتا؟

علامہ ناصر مدنی کا میں شکرگزار ہوں، بیٹیوں کو حصہ دے دیا کریں یار، یہ دنیا اور آخرت ۔۔۔ ہر لحاظ سے نرا ظلم ہے!

صرف یہ سوچیں کہ آپ کو پتہ ہو آپ اپنے قبرستان میں دفن نہیں ہو سکتے، تو کیسا لگے گا آپ کو؟

اگر آپ بھی اس کام میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں تو اس پیغام کو عام کیجیے اور عمل کی نیت سے کچھ نہ کچھ ضرور کرنے کا عہد کیجئے اللہ پاک ہم سب کو عمل کی بہترین توفیق عطا فرمائے۔ کاپی

18/11/2025

`اے پياری لڑکی"
اپنے لیے ہمیشہ دُعا کِيا کَرو۔۔!
کہ تُم سے وابَسطہ شَخص،ایسی آنکھوں والا ہو.
جسے دکھائی دے سَکے
تُمہارا دُکھ. تُمہاری ہَنسی، تُمہاری اُداسی!
اے حَسين لڑکی! ميری دِلی دُعا ہےکہ ;
رَبّ العالمين تُمہيں ايسی نِسبت سے بَچاۓ،
جو رُوح کو گھائل اور دِل کو تار تار کر دے ...!!

16/11/2025

سنو حوا کی باحیا اور ابو کی شہزادی بیٹی.......
حیا کے دائرے میں رہنا ہمیشہ
یہاں لوگ عزت دے کر،
عزت چھین لیتے ہیں....!!!!
اور محتاط رہنا ایسے لوگوں سے
جو پہلے یقین دلاتے ہیں کہ پانچوں
انگلیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں....!!!
پھر بیڑا غرق کر کے کہتے ہیں تالی
ایک ہاتھ سے نہیں بجتی...!!!

Address

Karachi
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fatima Zahara Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share