30/03/2026
پانی اور انرجی
ہماری تہذیب اور مذہبی روایات میں پانی کو ہمیشہ سے خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ آپ کسی سے دم کروائیں وہ پانی پر کچھ پڑھ کر دینگے، ختم کروائیں، پانی اور دیگر کھانے کی اشیاء پر کلام پڑھا جاتا ہے۔ دنیا کے ہر مذبہب میں پانی کر خاص اہمیت حاصل ہے۔ ہندو گنگا میں نہا کر اپنے آپکو پاک کرتے ہیں، ہمارے لئے بھی آبِ زم زم متبرک ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ اس کے پیچھے حکمت کیا ہے۔
اسکی وجہ یہ ہے کہ پانی میں اردگرد کی انرجی جذب کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ آپ کھانے کی میز پر جو باتیں کر رہے ہونگے، پانی اُسے جذب کر لیتا ہے۔ آپ اگر لڑائی جھگڑا کر رہے ہونگے اور پاس پانی پڑا ہوگا تو وہ وہی اثرات جذب کرے گا جو آپ اُسے دینگے۔ یہ اب آپ پر ہے کہ آپ پیتے ہوئے پانی کو کیسا ماحول دیتے ہیں۔ ایک ٹپ دیتا ہوں کہ جب آپ کوئی وظیفہ یا ذکر کر رہے ہوں تو پاس پانی رکھیں اور احتتام پر اُسے پی لیں اس سے آپ کو ڈبل فائدہ ہوگا۔
اسی طرح آپ کے گرد ہر ہر چیز کی اپنی انرجی ہوتی ہے۔ آپ کی والدہ جو کھانا بناتی ہیں وہ آپکو مزےدار اس لئے لگتا ہے کیونکہ اُس میں ماں کی الفت شامل ہو گئی ہوتی ہے جو۔ وہ کھانا بناتے اپنے دل و دماغ میں رکھتیں ہیں کہ میری اولاد کی صحت اچھی ہو اور وہ بناتی بھی زوق و شوق سے ہیں۔ اس کے مقابلے میں کام والی کو آپ دو کے بعد تیسری روٹی بنانے کو کہیں تو اکتاہٹ والے جذبات سے ہی بنائے گی جسے کھا کر آپ میں بھی وہی جذبات آئینگے نا۔ اسی طرح کھانے جو باہر سے کھانا منگواتے ہیں وہ تنخواہ دار باورچی نے پیسے کمانے کے حصول سے بنایا ہوتا ہے جسے کھا کر آپ بھی پیسے کے پیچھے بھاگنے والے ہی بنتے ہیں۔ اب آپ سوچیں ختم اور نیاز والا کھانا کس جذبات کا ہوتا ہے جس سے آپکو برکت ہی ملتی ہے۔
اب اِس نظر سے آپ اپنے اردگرد میں کھانے پینے پر نظر دوڑائیں تو آپ خوب سمجھ جائینگے کہ کھانا اور پانی کیسا ہونا چاہیے اور یہیں سے علاج بلغذا کا کانسپٹ بھی شروع ہوتا ہے۔ ٹینشن میں کھانا نہ بنائیں ، لڑائی والی جگہ کا پانی نہ پیں ، کھانا بناتے بھی دعائیں اور ذکر کریں اور اپنی زندگی بہتر بنائیں۔
مفتی محمد عارف چےچا نقشبندی شاذلی