Dr.Athar Abbas - Homeopathic Expert

Dr.Athar Abbas - Homeopathic Expert Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr.Athar Abbas - Homeopathic Expert, Medical and health, FB area no 17۔ Karachi / Block D, House no 9-10, DG Khan, Karachi.

ہر انسان کا جسم اپنی شفایابی کی صلاحیت رکھتا ہے
ہمارا کام صرف اس صلاحیت کو بیدار کرنا ہے
📍 Karachi (1st to15th)
FB area no 17, Samanabad Street Gulburg
📍 DG Khan (16th to 30th)
Block D, House no 10
📞 Call to confirm availability
03336485552
03457131500

  یہ بہت پرانا اور روایتی سلفر ہے۔ جو کتابوں میں بیان ہوا ہے۔ آج کل آپ کو اس طرح کا typical سلفر کم ہی ملے گا ۔ ویسے تو ...
30/05/2026



یہ بہت پرانا اور روایتی سلفر ہے۔ جو کتابوں میں بیان ہوا ہے۔ آج کل آپ کو اس طرح کا typical سلفر کم ہی ملے گا ۔

ویسے تو زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن آپ کے نزدیک کیا سلفر پلانے سے اسکی نہانے سے حساسیت کم کی جا سکتی تھی ؟ اگر 'ہاں' تو کس طاقت میں ؟؟؟

 کلاسیکل ہومیوپیتھی وہ طریقہ علاج ہے جسے ہانیمین نے ایجاد کیا تھا اور جس میں ایک مریض کے لیے ایک دوا تجویز کی جاتی ہے۔ م...
29/05/2026



کلاسیکل ہومیوپیتھی وہ طریقہ علاج ہے جسے ہانیمین نے ایجاد کیا تھا اور جس میں ایک مریض کے لیے ایک دوا تجویز کی جاتی ہے۔ مطلب مریض کی ذہنی علامات ، احساسات ، بیماری کی نوعیت ، اسکی کمی بیشی ، مختلف اوقات کا بیماری پر اثر ، مریض کا لائف سٹائل ، کھانا پینا، مریض کے جنسی رجحانات اور نظامِ اخراج وغیرہ کا باریک بینی سے تجزیہ کرتے ہوئے مریض کے لیے دوا منتخب کی جاتی ہے۔۔

مگر پچھلی چند دہائیوں میں، کئی ہومیوپیتھک ڈاکٹروں نے کلاسیکل اصولوں کی نئی تشریحات پیش کی ہیں۔

میں آپ کو چند مشہور اور اہم طریقوں کے متعلق بتاتا ہوں ۔۔

1. سیگل مائنڈ میتھڈ (Sehgal Mind Method / Revolutionized Homeopathy)
ڈاکٹر ایم ایل سیگل نے متعارف کرایا (بھارت)۔
فوکس: صرف مائنڈ (ذہنی حالت) پر ۔Present, Predominant, Persisting (PPP) ذہنی علامات۔ مریض کی بات کرنے کے انداز، الفاظ اور رویے سے ربرکس نکالتے ہیں ۔ خاص طور پر ریپرٹری کے مائنڈ سیکشن سے ۔ جسمانی علامات کو کم بلکہ بہت کم اہمیت دیتے ہیں ۔

2. سینسیشن میتھڈ (Sensation Method) راجن سنکران (Rajan Sankaran)
فوکس: مریض کی "Vital Sensation" (بنیادی احساس/تجربہ)
جسم، ذہن اور انرجی کا پیٹرن جیسے ہاتھ کے اشارے، الفاظ وغیرہ ۔۔

3. پریڈکٹو ہومیوپیتھی (Predictive Homeopathy) ڈاکٹر پرفل وجے کر (Prafull Vijayakar)
فوکس: Genetic Constitution، miasms، suppression کے layers اور Hering's Law of Cure کی پیش گوئی۔
Pathology اور embryology/genetics کی جدید سائنس کو ہومیوپیتھی کے ساتھ جوڑ کر incurable/chronic cases میں استعمال۔

4. بانرجی پروٹوکولز (Banerji Protocols)
ڈاکٹر پرسانتا اور پرتیپ بانرجی (بھارت)۔
فوکس: مخصوص بیماریوں (diagnosis) کے لیے fixed combinations/protocols (مثلاً کینسر، renal failure وغیرہ کے لیے مخصوص remedies)۔
Classical individualization کی بجائے disease-specific۔
بہت مشہور ، خاص طور پر کینسر اور chronic cases میں۔

دیگر اہم طریقے/اپروچیز:
جان شولٹن (Jan Scholten) Periodic Table method (minerals/elements کی classification)۔

ماسیو مانگیالاوری (Massimo Mangialavori)
Complexity and grouping of remedies۔

کلینیکل/پریکٹیکل ہومیوپیتھی Complexes (multiple remedies) یا disease-specific prescriptions، classical کی بجائے symptom-based۔

آئی سی آر (ICR) مِتھڈ اور دیگر جیسے Divya Chhabra، Jayesh Shah وغیرہ کی contributions۔
اسمیں کلاسیکل ہومیوپیتھی کو زیادہ منظم اور سائنسی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔۔

اب اگر ہم اوپر والی ساری گفتگو کو sum up کریں تو یوں سمجھیں کہ کلاسیکل ہومیوپیتھی پورا ہاتھی ہے۔
اب کسی نے اسکی سونٹھ پکڑی ہوئی ہے ، کسی نے اسکے کان پکڑے ہوئے ہیں ، کوئی دُم تھامے بیٹھا ہے اور کچھ احباب پاؤں پکڑے بیٹھے ہیں ۔ اور سب کا دعویٰ ہے کہ اصل ہاتھی میرے پاس ہے ۔
کچھ جذباتی حضرات تو ہاتھی کے ٹ___ پکڑے ہاتھی کو ہی گھور رہے ہوتے ہیں کہ تو ہے کون ؟ اصل ہاتھی تو ہمارے ہاتھ میں ہے۔۔ 🤣🤦
مار اوے ڈپٹی 🥴

by Dr.Athar Abbas - Homeopathic Expert

  سب سے پہلے تمام احباب کو عید مبارک۔۔چند دن پہلے ایک شخص کی ویڈیو دیکھی جو ایک نہایت افسوسناک اور اخلاقی طور پر شدید قا...
28/05/2026



سب سے پہلے تمام احباب کو عید مبارک۔۔

چند دن پہلے ایک شخص کی ویڈیو دیکھی جو ایک نہایت افسوسناک اور اخلاقی طور پر شدید قابلِ مذمت واقعے میں ملوث تھا۔

میرا مقصد واقعے پر تبصرہ نہیں، بلکہ بطور معالج ایک ذہنی کیفیت کی طرف توجہ دلانا ہے۔

انٹرویو کے دوران ایک بات نے خاص طور پر توجہ کھینچی۔ اس شخص کے جواب دینے میں غیر معمولی تاخیر تھی۔
وہ سوال سنتا، خاموش رہتا۔۔ پھر دیر بعد ٹوٹے پھوٹے انداز میں جواب دیتا۔ گویا ذہن جواب بنانا چاہ رہا ہو مگر الفاظ تک رسائی میں رکاوٹ ہو۔

یہ کیفیت مجھے بے اختیار Plumbum metallicum کی یاد دلا گئی۔

بعض احباب کے لیے شاید یہ نئی بات ہو کہ Plumbum کی drug picture میں ایسے رجحانات بھی بیان ہوئے ہیں جنہیں معاشرہ انتہائی ناپسندیدہ، ممنوع یا قابلِ کراہت سمجھتا ہے۔ Dr. George Vithoulkas نے بھی اس پہلو کی طرف اشارہ کیا ہے۔

جارج صاحب لکھتے ہیں کہ پلمبم میٹ کے مریض جنسی طور پر ایسے کاموں میں ملوث ہو جاتے ہیں جنھیں معاشرے میں شدید ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔۔

لیکن میرے نزدیک یہ علامت فقط جنسی بے اعتدالی تک محدود نہیں بلکہ ہر
کام جو معاشرے میں انتہائی ممنوع اور کراہت کا باعث سمجھا جائے ، پلمبم میٹ وہ انجام دے سکتا ہے۔

ان لوگوں کے چہروں پر تروتازگی ہرگز نہیں ہوتی بلکہ ایک سوکھا پن اور پژمردگی کی سی کیفیت ہوتی ہے ۔

آپ اسے لعنت اور پھٹکار کہہ کر اپنا دل ٹھنڈا کر لیں مگر مرضیاتی طور پر یہ کیفیت بھی پلمبم میٹ کی ڈرگ پکچر سے میل کھاتی ہے۔کیونکہ پلمبم میٹ میں پٹھوں کا سکڑنا اہم ترین علامت ہے ۔ اور کہیں ڈاکٹر حضرات کو فقط گردے یا جسم کے کسی اعضا کے سکڑنے پر، میں نے فوراً پلمبم تجویز کرتے دیکھا ہے ۔

کچھ عرصہ پہلے دو آدم خور بھائیوں کا قصہ مشہور ہوا تھا ۔ جو قبروں سے مردے نکال کر کھایا کرتے تھے ۔
عید کے پر رونق موقع پر ان تذکروں پر معافی چاہتے ہوئے عرض کرتا چلوں کہ مجھے وہ بھی پلمبم میٹ ہی لگتے ہیں۔۔

میرے مشاہدے میں Plumbum صرف جسمانی سکڑاؤ (contraction) تک محدود نہیں بلکہ بعض اوقات شخصیت، جذبات، اظہار اور اخلاقی حدود میں بھی ایک طرح کا constriction دکھائی دیتا ہے۔

چہرے پر خشکی ، تاثر میں سختی، ذہنی جمود، جواب دینے میں تاخیر اور بعض اوقات رویّوں میں غیر معمولی انحراف۔
یہ سب مل کر ایک گہری مرضیاتی تصویر بناتے ہیں۔

یقیناً ہر مجرم Plumbum نہیں اور نہ ہر Plumbum مریض ایسا ہوگا۔

مگر بعض اوقات انسانی رویّوں کو صرف اخلاقیات کے پیمانے سے نہیں بلکہ pathology کے زاویے سے بھی دیکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔
سلامتی 🙏

by Dr.Athar Abbas - Homeopathic Expert

 سب سے پہلے تو سوشل میڈیا پر شئیر کردہ یہ مختصر سا کیس ملاحظہ فرمائیں ۔ ایک شخص جو جگر کے کینسر میں مبتلاء تھا اور ہر قس...
26/05/2026



سب سے پہلے تو سوشل میڈیا پر شئیر کردہ یہ مختصر سا کیس ملاحظہ فرمائیں ۔

ایک شخص جو جگر کے کینسر میں مبتلاء تھا اور ہر قسم کے علاج کے باوجود بیماری کے ہاتھوں ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چُکا تھا ۔ گھر والوں نے سہگل صاحب کے شاگرد کو بلایا ۔
موصوف نے مریض کا معائنہ کیا مگر کوئی قابل ذکر علامت نہ ملی ۔ کیونکہ جگر کا کینسر بذاتِ خود کوئی قابل ذکر بیماری یا علامت نہیں ہے اس لیے ڈاکٹر صاحب مایوس ہو کر واپس پلٹنے ہی والے تھے کہ
اچانک ۔۔
مریض نے پیٹ کی خرابی کا ذکر کیا ۔ ڈاکٹر موصوف کا ماتھا ٹھنکا کہ اتنا اہم مسئلہ پہلے کیوں نہیں بتایا ۔ گدھے کہیں کے۔۔
خوامخواہ مجھے جگر کے کینسر میں الجھایا ہوا ہے۔

اب بتاؤ ۔۔ کب سے پیٹ خراب ہے اور کیوں ؟

"وہ ذراصل چند دن پہلے کچھ رشتہ دار عیادت کے لیے آئے تھے تو اس دوران مجھے زور کا پاد آیا۔ مگر میں نے شرم کے مارے روک لیا کہ کہیں بدبو نہ پھیل جائے ۔ بس تب سے پیٹ خراب ہے۔"

وہ مارا ۔۔
بے ساختہ ڈاکٹر موصوف کی زبان سے نکلا ۔ اور سہگل صاحب کی ریپرٹری میں ریوبرک دیکھنے پر صرف ایک دوا نکلی ۔
نیٹرم میور

مریض کو نیٹرم میور 30 کی صرف ایک خوراک دی گئی اور چھ ماہ گزرنے کے بعد مریض آج تک چنگا بھلا ہے ۔

قارئین..!
ذرا انصاف سے بتائیں کہ اس طرح کی تحریر کے بعد کیا کوئی پڑھا لکھا شخص ہومیوپیتھی کی طرف راغب ہو گا ؟ کیا وہ نہیں سوچے گا کہ اگر چند دن پہلے کچھ رشتہ دار عیادت کو نہ آتے اور مریض کو موقع پر "پاد" نہ آتا تو ڈاکٹر صاحب علاج کیسے کرتے ؟ یا پھر خدانخواستہ پاد نکل جاتا اور پیٹ میں درد کی شکایت نہ ہوتی تب بھی جگر کے کینسر کا علاج نہ ہو پاتا ۔
اور اگر ۔۔
مریض جان بوجھ کر زور سے پاد دیتا تب تو کیس کا نقشہ ہی بدل جاتا ۔ اور ریوبرک کچھ یوں لگتی۔۔
brave enough, discarge flatus in the presence of others

برائے مہربانی کوئی قابل بندہ اس ریوبرک کی دوا بھی بتا دے ۔ تاکہ جگر کے کینسر کا کوئی مریض شفایابی سے رہ نہ جائے ۔

یہ کوئی من گھڑت اور ہوائی تحریر نہیں ہے۔ بطور ثبوت سکرین شاٹ ساتھ لگا دئیے ہیں ۔ مگر identity hide کر دی ہے ۔ کیونکہ میرا مقصد کسی فرد یا میتھڈ پر تنقید نہیں بلکہ ہومیوپیتھی کی عکاسی اور نمائندگی کرنے والوں سے درخواست ہے کہ ذرا ہوش کے ناخن لیں۔ کیونکہ آنے والے وقتوں میں آپ کے پاس جگر کے کینسر کا مریض آئے نہ آئے مگر ہومیوپیتھی کا جنازہ ضرور نکلے گا ۔

آخر میں ہاتھ باندھتے ہوئے اتنا عرض کروں گا کہ اگر آپ کے نزدیک ہومیوپیتھی ایک نہایت باریک، مشاہداتی اور سنجیدہ فن ہے۔
تو اسے پیش کرتے ہوئے بھی اسی باریکی، سنجیدگی اور احتیاط کا مظاہرہ کیجیے ۔
شکریہ 🙏

by Dr.Athar Abbas - Homeopathic Expert

22/05/2026

ہومیوپیتھی سمیت ہر شعبے میں کسی نہ کسی حد تک جائز تنقید کی گنجائش ضرور ہوتی ہے۔ ہم بھی ضرورت کے تحت ایسا کرتے رہتے ہیں ۔ مگر انسان کو ہومیوپیتھک دشمنی میں اتنا باؤلا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ تحریر پڑھ کر ذہن میں فوراً ہائیڈروفوبیم دینے کا خیال ابھرے ۔۔

  مجھے اگر Nux Vomica کو ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو وہ ہے۔۔“Desire” (خواہشات)Nux Vomica کا مزاج دراصل ایک driven person...
04/05/2026



مجھے اگر Nux Vomica کو ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو وہ ہے۔۔
“Desire” (خواہشات)

Nux Vomica کا مزاج دراصل ایک driven personality کی عکاسی کرتا ہے۔
ایسا فرد جو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے غیر معمولی حد تک متحرک، پرعزم اور محنتی ہوتا ہے۔

یہ لوگ۔۔
• زندگی کو intensity کے ساتھ جیتے ہیں
• خوراک، کام، اور لذت ہر چیز میں overindulgence کی طرف مائل ہوتے ہیں
• کامیابی کے تعاقب میں اپنی حدود (limits) کو نظر انداز کر دیتے ہیں

ابتدائی مرحلے میں یہی “خواہشات” انہیں مسلسل متحرک اور productive رکھتی ہیں مگر یہی drive آہستہ آہستہ irritability، impatience اور intolerance میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔

Clinical سطح پر Nux Vomica ایک ایسے overstimulated nervous system کی نمائندگی کرتا ہے
جو مسلسل overuse اور excess کے باعث dysregulated ہو چکا ہوتا ہے۔

یعنی مسئلہ صرف جسمانی نہیں رہتا
بلکہ ایک psycho-somatic cascade شروع ہو جاتی ہے۔
• ہاضمے کے مسائل (gastritis, acidity)
• نیند کی خرابی (insomnia)
• اعصابی تناؤ (nervous irritability)
• اور chronic functional disorders

یہ سب excessive desire اور excessive stimulation ذراصل systemic imbalance کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

اسی لیے ہومیوپیتھی میں Nux Vomica صرف ایک دوا نہیں بلکہ ایک مکمل constitutional state کی نمائندگی کرتی ہے۔۔

قصہ مختصر ۔۔
نکس کتابوں میں تو لکھا ملتا ہے 'کام کا دھنی' مگر میں اسے کہتا ہوں 'خواہشات کا دلدادہ'۔

Dr.Athar Abbas - Homeopathic Expert


  خواتین کے چہرے پر غیر ضروری بال (Facial Hirsutism) ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے علاج میں عموماً سطحی اور یکساں نسخوں کا سہا...
03/05/2026



خواتین کے چہرے پر غیر ضروری بال (Facial Hirsutism) ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے علاج میں عموماً سطحی اور یکساں نسخوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ Thuja اور Oleum Jecoris کو محض مرض کے نام پر تجویز کیا جاتا ہے۔
مگر نتائج زیادہ تر مایوس کن رہتے ہیں۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہومیوپیتھی disease-oriented نہیں، بلکہ patient-oriented system ہے ۔
یعنی یہاں مرض نہیں، مریض زیرِ مطالعہ ہوتا ہے۔

اسی تناظر میں ایک اہم دوا Ignatia Amara بھی ہے۔
مگر یہ بھی ہر اس مریضہ کے لیے نہیں جسے facial hair کا مسئلہ ہو۔

یہ دوا خاص طور پر ان خواتین میں موافق آتی ہے جن کا مزاج:

• حد درجہ حساس (hypersensitive) ہو
• رومانوی اور جذباتی شدت لیے ہوئے ہو
• معمولی بات پر disproportionate ردعمل ظاہر کرتی ہوں
• اندرونی غم (silent grief) کو دبا کر رکھتی ہوں
• اور لاشعوری طور پر توجہ یا اپنے مؤقف کی توثیق چاہتی ہوں

یہ وہ constitutional picture ہے جہاں Ignatia ایک key remedy کے طور پر سامنے آتی ہے۔

لہٰذا چہرے کے بالوں کا مسئلہ محض ہارمونی یا ظاہری نہیں ہوتا،
بلکہ اکثر یہ ایک گہری neuro-emotional imbalance کی علامت ہوتا ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں
generic prescriptions ناکام،
اور individualized prescribing کامیاب ہوتی ہے۔

میں ہمیشہ سے کہتا آ رہا ہوں کہ
ہومیوپیتھی نسخوں سے نہیں، مشاہدے اور مطابقت (similarity) سے کام کرتی ہے ۔۔

Dr.Athar Abbas - Homeopathic Expert






  ہمارے بچپن میں جب موبائل فونز نہ تھے تب ماؤں کی ناک میں دم کرنے کے لیے مظہر کلیم صاحب (عمران سیریز والے) ہوا کرتے تھے....
01/05/2026



ہمارے بچپن میں جب موبائل فونز نہ تھے تب ماؤں کی ناک میں دم کرنے کے لیے مظہر کلیم صاحب (عمران سیریز والے) ہوا کرتے تھے.
اللہ انکے درجات بلند کرے ۔

وہ ایسا لکھتے تھے کہ قاری خود کو کہانی کے اندر محسوس کرتا تھا۔
جولیا، عمران، صفدر، بلیک زیرو _ یہ کردار صرف الفاظ نہیں تھے، جیتی جاگتی حقیقت بن جاتے تھے۔
ناول پڑھتے ہوئے نہ بھوک کا احساس رہتا تھا، نہ وقت کا۔

یہ قلم کی طاقت ہوتی ہے جو قاری کو غیر حقیقی دنیا میں لے جا کر، اسے سچ ماننے پر مجبور کر دیتی ہے۔

بدقسمتی سے ہومیوپیتھی میں بھی کچھ ایسے “قلمکار” موجود ہیں جو مریضوں کو اپنی تحریروں میں محو کر کے غیر حقیقی دنیا میں لے جاتے ہیں۔
ایک ایسی دنیا جہاں حقیقت کم اور دعوے زیادہ ہوتے ہیں۔
اور پھر تب تک اسی دنیا میں رکھتے ہیں جب تک وہ ہومیوپیتھی سے بدظن نہیں ہو جاتا ۔

مثلاً آپ بیٹا پیدا کرنے والا معاملہ ہی لے لیجیے ۔ احباب نے اورم میٹ کے نام پر خوب منجھن بیچا۔ کہ اس دوا سے جینیٹک کوڈ تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ یہ ہو جاتا ہے وہ ہو جاتا ہے۔
بیٹے کی خواہش تو ہر خاندان کی فطری ہوتی ہے ۔ اور بلاشبہ ہومیوپیتھی اس میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے لیکن یہ سب حمل conceive کرنے سے پہلے تک ممکن ہے۔
لیکن یہاں تو دعوے labour pain تک جاری رہتے ہیں۔
پھر سوال یہ نہیں بنتا کہ
لوگ ہومیوپیتھی سے بدظن کیوں ہو رہے ہیں؟
سوال یہ بنتا ہے کہ
وہ بدظن کیوں نہ ہوں؟
آپ مظہر کلیم جیسے طاقتور مصنف بن کر عام قاری کے ذہن سے کھلواڑ تو کر سکتے ہیں مگر اسکی قیمت آنے والا وقت ہومیوپیتھی کے زوال کی شکل میں ادا کرے گا۔

رزق تو خدا کی طرف سے ہوتا ہے ۔ جتنا آپکے نصیب میں لکھا ہے آپکو مل کر رہتا ہے۔ کیا آپ اتنے طاقتور ہیں کہ اپنی ذہانت اور ہیرا پھیری سے اپنے حصے سے زیادہ کا رزق لے آئیں گے ؟؟؟

Dr.Athar Abbas - Homeopathic Expert

Please do not copy without my permission; sharing with credit is appreciated.

  کچھ عرصہ پہلے جب AI اور سوشل میڈیا کے شر سے ہومیوپیتھی محفوظ تھی تب بھی کچھ نااہل اور نکمے ڈاکٹر خود کو ترم خان سمجھتے...
30/04/2026



کچھ عرصہ پہلے جب AI اور سوشل میڈیا کے شر سے ہومیوپیتھی محفوظ تھی تب بھی کچھ نااہل اور نکمے ڈاکٹر خود کو ترم خان سمجھتے ہوئے کتابی شکل میں ہومیوپیتھی کی نمائندگی کیا کرتے تھے ۔

لیکن انکی حرکتوں سے ہومیوپیتھی کو اس قدر نقصان نہ ہوتا تھا جتنا آجکل ہو رہا ہے۔
کیونکہ ہر کتاب ہر کوئی تھوڑی پڑھتا ہے ۔ اس لیے ہومیوپیتھی بھی کسی بڑے نقصان سے محفوظ رہی ۔

مگر آجکل کے سوشل میڈیا کے دور میں جہاں ہر بندہ بیٹھا سکرولنگ کر رہا ہوتا ہے وہاں اکثر 'جانباز' اپنے آنلائن مریضوں کے چکر میں ہومیوپیتھی کا بیڑہ غرق کرنے پر تُلے ہوتے ہیں ۔

ارے بھائی ۔۔ 200، 1M, 10M, CM پوٹینسی کو آپ کسی صورت بھی بار بار نہیں دوہرا سکتے ہیں ۔ کیونکہ ایسا کرنے سے آپکی Vital Force کا ردعمل شدید متاثر ہوتا ہے۔

پھر مریض میں پایا جانے والا عام سا سطحی مرض بھی کرانک ہو جایا کرتا ہے۔ نہ مریض کو پتہ چلتا ہے کہ وہ کسی کم فہم ڈاکٹر کے زیر علاج نہیں بلکہ زیر عتاب رہا اور پھر نہ وہ کبھی ہومیوپیتھک سسٹم پر اعتبار کرتا ہے۔۔

میں اپنے لب ولہجہ کی تلخی پر معذرت چاہتے ہوئے صرف اتنا کہنا چاہوں گا
"ہومیوپیتھی کمزور نہیں، لیکن اس کے اصولوں سے انحراف اسے کمزور دکھا دیتا ہے۔"

اپنی صحت کو تجربہ گاہ مت بنائیں اور علاج ہمیشہ ایسے ہاتھوں میں دیں جہاں علم اور ذمہ داری ساتھ ساتھ ہونے کا اطمینان ہو۔
سب سلامت رہیں ۔۔

Dr.Athar Abbas - Homeopathic Expert





  مجھے ایک دفعہ میری بہن نے کال کی۔"بھیا! مجھے خوامخواہ میں رونا آ رہا ہے۔ نہ کوئی مسئلہ ہے اور نہ کوئی پریشانی۔ مگر آنس...
10/03/2026



مجھے ایک دفعہ میری بہن نے کال کی۔
"بھیا! مجھے خوامخواہ میں رونا آ رہا ہے۔ نہ کوئی مسئلہ ہے اور نہ کوئی پریشانی۔ مگر آنسو ہیں کہ خودبخود آنکھوں سے جاری ہیں۔ میں کیا کروں؟"
میں نے اسے 'سیپیا' بتائی اور ایک ہی خوراک لینے سے اسکا causeless tear والا مسئلہ حل ہو گیا۔ الحمدللہ

اسی طرح ریپرٹری میں ایک ریوبرک ہے causeless fear. اگر کسی کو یہ مسئلہ درپیش ہو تو اسکی اہم ترین دوا 'سورائنم' ہو گی۔۔
مگر بار بار دہرانے سے پرہیز کریں۔۔ شکریہ

by Dr.Athar Abbas - Homeopathic Expert

Please do not copy without my permission; sharing with credit is appreciated.


Address

FB Area No 17۔ Karachi / Block D, House No 9-10, DG Khan
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Athar Abbas - Homeopathic Expert posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share