Dr Mehboob alam official

Dr Mehboob alam official "My extreme objective is to guide individuals about their inner and outer environment."

‏سدا نہ رہندی جوانی، سدا نہ باغاں بلبل بولے۔ سلمان خان کی حالیہ تصویر جب سے وائرل ہوئی ہے، ان کے لاکھوں مداحوں میں ایک ع...
22/07/2026

‏سدا نہ رہندی جوانی، سدا نہ باغاں بلبل بولے۔

سلمان خان کی حالیہ تصویر جب سے وائرل ہوئی ہے، ان کے لاکھوں مداحوں میں ایک عجیب سی اداسی دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن شاید یہ تصویر صرف سلمان خان کی نہیں، ہم سب کے لیے ایک پیغام ہے۔ بچپن، لڑکپن، جوانی اور پھر بڑھاپا... زندگی کا ہر موسم خوبصورت ہے، مگر کوئی بھی موسم ہمیشہ نہیں رہتی دھرمیندر کی ایک بات دل کو چھو جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: "زندگی برف کے ایک گالے کی طرح ہے۔" اسے ہتھیلی پر رکھیں تو اس کی ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے، مٹھی بند کریں تو لگتا ہے کہ یہ ہمیشہ ساتھ رہے گا، مگر چند لمحوں بعد مٹھی کھولیں تو وہ پگھل کر پانی بن چکا ہوتا ہے۔ بس زندگی بھی ایسی ہی ہے، لمحہ بہ لمحہ ہاتھوں سے پھسلتی جاتی ہے۔اسلیے نہ جوانی پر غرور کرنا چاہیے، نہ حسن پر، نہ طاقت پر۔ اصل خوبصورتی یہ ہے کہ انسان اپنی عمر کے ہر مرحلے کو وقار، شکر اور مسکراہٹ کے ساتھ جینا سیکھ لے۔ وقت سب کے چہروں پر اپنی تحریر ضرور لکھتا ہے، مگر کردار اور اخلاق وہ چیزیں ہیں جو وقت کے ساتھ بھی روشن رہتی ہیں۔

13/07/2026

♦️ *`Basic Body Stats:`*
- Total Muscles: *more than 600 or UpTo 639*
- Total Bones (Adult): *206*
- Bones in Newborn Baby: *306*
- Chromosomes: *46 (23 pairs)*
- Number of Kidneys: *2*
- Milk Teeth: *20*

♦️ *`Skeletal System:`*
- Ribs: *24 (12 pairs)*
- Vertebrae in Spine: *33*
- Vertebrae in Neck: *7*
- Bones in Skull: *22*
- Bones in Face: *14*
- Bones in Chest: *25*
- Bones in Arm: *6*
- Bones in Hand: *27*
- Bones in Each Wrist: *8*
- Bones in Foot: *33*
- Smallest Bone: *Stapes (ear)*
- Strongest Bone: *Femur*

♦️ *`Muscular System:`*
- Muscles in Arm: *72*
- Smallest Muscle: *Stapedius*

♦️ *`Circulatory System:`*
- Heart Chambers: *4*
- Heart Pumps: *2*
- Pulse Rate: *72/min*
- Normal BP: *120/80 mmHg*
- Largest Artery: *Aorta*
- Blood Volume: *4–5 liters*
- Blood pH: *7.4*
- Viscosity: *4.5–5.5*
- "River of Life": *Blood*
- Blood Cholesterol: *

جان ڈی راک فیلر کو کبھی دنیا کا سب سے امیر انسان کہا جاتا تھا۔ وہ دنیا کے پہلے ارب پتی تھے۔  25 سال کی عمر میں انہوں نے ...
12/07/2026

جان ڈی راک فیلر کو کبھی دنیا کا سب سے امیر انسان کہا جاتا تھا۔ وہ دنیا کے پہلے ارب پتی تھے۔
25 سال کی عمر میں انہوں نے امریکہ کی بڑی آئل ریفائنریوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کر لیا۔
31 سال کی عمر تک وہ دنیا بھر میں تیل کی صفائی کا سب سے بڑا نام بن چکے تھے۔
38 سال کی عمر میں امریکہ کے 90 فیصد تیل کی ریفائننگ ان کے ادارے سے ہوتی تھی۔
اور 50 سال کی عمر میں وہ پورے ملک کے امیر ترین شخص تھے۔ جوانی سے ہی ان کا ہر فیصلہ، سوچ اور تعلق دولت اور طاقت بڑھانے کے گرد گھومتا تھا۔

لیکن جب وہ 53 سال کے ہوئے تو شدید بیماری نے انہیں گھیر لیا۔ جسم میں مسلسل درد رہتا، سارے بال گر گئے۔ حالت اتنی خراب تھی کہ دنیا کا سب سے امیر شخص بھی صرف سوپ اور بسکٹ کھا سکتا تھا۔ ایک قریبی ساتھی نے لکھا: "وہ نہ سو سکتا تھا، نہ مسکرا سکتا تھا۔ زندگی کا کوئی لطف اسے محسوس نہیں ہوتا تھا۔"
اس وقت کے بڑے ڈاکٹروں نے کہا کہ وہ ایک سال سے زیادہ نہیں جی سکیں گے۔ وہ سال تکلیف میں بہت سست گزرا۔

جب انہیں اپنی موت قریب محسوس ہوئی تو ایک دن انہیں خیال آیا کہ وہ اپنی ساری دولت اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتے۔ کاروبار کی دنیا کو کنٹرول کرنے والا شخص اب اپنی جان پر بھی اختیار نہیں رکھتا تھا۔ تب انہوں نے ایک فیصلہ کیا۔

انہوں نے اپنے وکیلوں، اکاؤنٹنٹس اور مینیجرز کو جمع کر کے کہا کہ وہ اپنی دولت کا بڑا حصہ ہسپتالوں، میڈیکل ریسرچ اور فلاحی کاموں میں لگانا چاہتے ہیں۔
اسی سوچ کے تحت انہوں نے "راک فیلر فاؤنڈیشن" بنائی۔ اسی فاؤنڈیشن کی مدد سے بعد میں پینسلین دریافت ہوئی، اور ملیریا، ٹی بی اور ڈپتھیریا جیسی بیماریوں کے علاج ممکن ہوئے۔

کہانی کا سب سے دلچسپ حصہ یہ ہے کہ جیسے ہی انہوں نے دینا شروع کیا، ان کی صحت بہتر ہونے لگی۔ جس شخص کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ 53 میں نہیں بچے گا، وہ 98 سال کی عمر تک جیا۔ لگتا تھا جیسے خیرات کرنا بھی ان کے لیے دوا بن گیا۔

اپنی وفات سے پہلے انہوں نے اپنی ڈائری میں لکھا:
_"اعلیٰ طاقت نے مجھے سمجھایا کہ سب کچھ اسی کا ہے، اور میں صرف ایک ذریعہ ہوں۔ میری زندگی ایک لمبی اور خوبصورت چھٹی بن گئی۔ کام بھی تھا، سکون بھی۔ میں نے فکریں پیچھے چھوڑ دیں۔ اب صرف میں اور میرا خدا تھا۔ ہر دن میرے لیے بہترین تھا۔"_

اگر پسند آئے تو شیئر ضرور کریں 👍

*جنازہ سامنے رکھا ہے۔**سفید کفن میں لپٹا ہوا۔ خاموش۔ ساکت۔*مگر یہ عام خاموشی نہیں۔  یہ اس شخص کی خاموشی ہے جس نے عمر بھر...
04/07/2026

*جنازہ سامنے رکھا ہے۔*

*سفید کفن میں لپٹا ہوا۔ خاموش۔ ساکت۔*

مگر یہ عام خاموشی نہیں۔
یہ اس شخص کی خاموشی ہے جس نے عمر بھر وہ سچ بولا جسے بولنے سے دنیا ڈرتی ہے۔

اور آج جب یہ جسم یہاں رکھا ہے، تو بڑی سے بڑی طاقتیں سانس روک کر اس ایک جنازے کو دیکھ رہی ہیں۔ اور پوچھ رہی ہیں: اب کیا ہوگا؟

*ذرا ٹھہریں۔ ذرا سوچیں۔*

یہ وہ شخص تھا جسے امریکہ نے توڑنے کی ہر کوش کی۔
پابندیوں سے، دھمکیوں سے، اقتصادی محاصرے سے۔
جس کے سائنسدانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا، جس کے جرنیل ڈرون حملوں میں شہید ہوئے، جس کے ملک کا ہر طرف سے گھیراؤ کیا گیا۔

*مگر یہ جھکا نہیں۔*
ایک بار بھی نہیں۔ کبھی بھی نہیں۔

اور آج جب یہ جسم یہاں ہے، تو ہاتھ بالکل خالی ہیں۔
نہ تاج، نہ تخت، نہ بینک بیلنس، نہ محل۔
بس ایک سادہ سا سفید کفن۔

*یہی تھا وہ انسان۔*

جوانی میں شاہ کے قید خانے میں گیا۔ کوڑے کھائے، تشدد سہا، مگر زبان کا رخ نہیں بدلا۔
انقلاب کے بعد جب اقتدار ملا، تو اپنے بیٹے کا تعارف "ایک عام غریب نوجوان" کے طور پر کروایا۔ تاکہ دنیا جان لے کہ یہاں رشتہ عہدے سے نہیں، کردار سے جڑتا ہے۔

جب پوری دنیا نے کہا "جھک جاؤ"، تو اس نے کربلا کا وہ درس یاد کیا جو چودہ سو سال پہلے ایک پیاسی زمین پر لکھا گیا تھا:

*"عزت کی موت، ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔"*

ام حسینؑ نے یہ کہا تھا۔ اور اس شخص نے یہ جی کر دکھایا۔

آج لاکھوں لوگ اس جنازے کے گرد کھڑے ہیں۔
آنکھیں نم ہیں، سینے بھاری ہیں۔

مگر ایک بات ہے جو رونے نہیں دیتی:
*یہ احساس کہ یہ شخص ہارا نہیں۔*

دنیا کی سب سے بڑی فوج اس ایک انسان کو توڑ نہ سکی۔
سب سے سخت پابندیاں اس کا حوصلہ توڑ نہ سکیں۔
سب سے جدید ایجنسیاں اس کے ایمان کا اندازہ نہ لگا سکیں۔

کیونکہ جو موت سے نہیں ڈرتا، اسے کوئی ڈرا نہیں سکتا۔

*یہی وہ راز ہے جو طاقت کے پجاری کبھی نہیں سمجھ پائے۔*

وہ سمجھتے ہیں کہ جسم مٹا دو تو آواز ختم۔
مگر کربلا نے چودہ سو سال پہلے فیصلہ سنا دیا تھا:
*جسم مٹ جاتا ہے، پیغام نہیں مٹتا۔ خون خشک ہو جاتا ہے، نظریہ نہیں۔*

آج یہ جنازہ ہمارے سامنے ہے۔
کل یہ تاریخ کا حصہ ہوگا۔

اور تاریخ ہمیشہ انہی کو یاد رکھتی ہے جو نہ ڈرے، نہ جھکے، نہ بکے۔

*جو بنیاد ایمان پر کھڑی ہو، وہ جسم کے جانے کے بعد بھی قائم رہتی ہے۔*

اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے، اور ہمیں بھی ایسا انجام عطا فرمائے کہ جب ہمارا جنازہ اٹھے تو لوگ ہمارا مال نہ گنیں، بلکہ ہمارا کردار یاد کریں۔

*آمین یا رب العالمین* 🤲

---

30/06/2026

رزق اور دولت
وظیفے پڑھنے سے نہیں محنت کرنے سے ملتے ہیں
اگر وظیفوں سے دولت اور رزق ملتے تو مولوی چندے نہ مانگ رہے ہوتے

28/06/2026

---

*فیس بک آج کے نوجوانوں کے لیے ایک بڑا موقع بن چکی ہے، خاص کر ان کے لیے جو بے روزگار ہیں*

اگر آپ تھوڑی سی مستقل مزاجی اور فوکس کے ساتھ کام کریں، تو فیس بک پر کام کرنا واقعی دلچسپ بھی لگتا ہے اور فائدہ مند بھی۔

یہاں کمائی کے کئی راستے ہیں:
*1. تصاویر شیئر کریں* - اس پر بھی آپ کو پیسے ملتے ہیں
*2. آرٹیکلز لکھیں* - اس کا بھی معاوضہ ہے
*3. سٹوریز لگائیں* - وہ بھی مونیٹائز ہوتی ہیں

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ فیس بک کا بونس سسٹم۔ اگر آپ کی صرف 2 ویڈیوز، پوسٹس یا آرٹیکلز ایک ہفتے میں تقریباً 2 لاکھ 15 ہزار ویوز لے لیں، تو فیس بک آپ کو $160 یعنی تقریباً 45,000 PKR کا بونس دیتی ہے۔ اگر آپ یہ ٹارگٹ ہر ہفتے پورا کرتے رہیں، تو صرف بونس سے ہی مہینے کا 1.8 لاکھ بن جاتا ہے۔ یہ اس کے علاوہ ہے جو آپ کی عام ریچ اور انگیجمنٹ سے کمائی ہوگی۔

*اب سوچیں، کون سی نوکری ہے جو اتنی تنخواہ دیتی ہے؟*
9 سے 5 کی نوکری میں روز کا سفر، دھوپ، گرمی، سردی، باس کی سختی برداشت کریں۔ مہینے کے آخر میں بمشکل 1 لاکھ ہاتھ آتا ہے۔ اس میں سے پیٹرول اور کھانے کا خرچ نکال دیں تو بچتا ہی کیا ہے؟

اور فیس بک صرف کمائی تک محدود نہیں۔ آپ یہاں اپنا برانڈ بنا سکتے ہیں، اپنی پراڈکٹس بیچ سکتے ہیں۔ فیس بک آپ کو مفت میں اپنا آن لائن سٹور چلانے کا آپشن دیتی ہے۔ جبکہ Shopify یا Amazon پر سٹور بنانا مہنگا پڑتا ہے۔

دنیا کا سب سے بڑا سوشل پلیٹ فارم ہونے کی وجہ سے یہاں کسٹمرز تک پہنچنا بھی بہت آسان ہے۔ آپ کو زیادہ مارکیٹنگ پر سر کھپانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

*تو میرے قابلِ عزت نوجوانو سنو*
پاکستان میں نوکری ملنا مشکل ہے۔ اور اگر مل بھی جائے تو آخر میں بچت نہ ہونے کے برابر۔ اپنا قیمتی وقت نوکریوں کے چکر میں ضائع کرنے کے بجائے، 4 مہینے فیس بک کو سنجیدگی سے ٹائم دیں۔

نوکری صرف تنخواہ دیتی ہے۔
لیکن فیس بک پر محنت کرنے سے آپ کو ملتا ہے:
*شہرت، عزت، کامیابی، ڈالر میں کمائی، ذہنی سکون اور ایکسٹرا بونس۔ یعنی سب کچھ ایک جگہ پر۔*

حوصلہ افزائی کے لیے میں نے اپنے پیج کی ایک مہینے کی کمائی کا سکرین شاٹ بھی لگایا ہے۔ زوم کر کے خود چیک کر لیں، پھر خود فیصلہ کریں کہ آپ نے کیا راستہ چننا ہے۔

جو لوگ پہلے سے فیس بک پر کام کر رہے ہیں، ان کے لیے دلی دعائیں اور نیک خواہشات 💕
اور جو ابھی شروع کرنا چاہتے ہیں، وہ سیکھیں اور اپنا مستقبل خود بنائیں۔
اگر آپ سیکھنا چاہتے ہیں تو میں مدد کے لیے موجود ہوں۔

*Mehboob Alam*

07/06/2026

"شدید بارش اور طوفان کی وجہ سے میری دو گائیں مر گئیں۔"

Krebs cycle Please subscribe my channel
10/03/2026

Krebs cycle
Please subscribe my channel

Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

08/03/2026

Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

07/03/2026

آپ پولینڈ کے لوگوں سے پوچھیں یہ آپ کو بتائیں گے جنگ کیا ہوتی ہے۔۔۔ یا کسی یورپی خاندان سے پوچھ لیں جنگ کیا ہے؟ آپ اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھیں گے، جرمن فوج نے یکم ستمبر1939 کو پولینڈ پر حملہ کیا، یہ دوسری جنکِ عظیم کا آغاز تھا، جارح فوج کو 4959 توپوں ، 3647 ٹینکوں اور3300 جنگی طیاروں کی سپورٹ حاصل تھی، یہ آۓ اور پولینڈ میں ایک لاکھ99 ہزار 700 لاشیں بچھادیں،75 سال بعد بھی اس شہر کی دیواروں پر جنگ کے زخم ہیں، یورپ نے 1939 سے 1945تک مسلسل 6برس تک جنگ بھگتی، یورپ امریکہ اور جاپان کے چھ کروڑ لوگ ہلاگ ہوۓ، امریکہ نے آخر میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر 2 ایٹم بم داغے، 2 منٹ میں 1 لاکھ 40ہزار لوگ، جبکہ ناگاساکی میں 75ہزار لوگ ہلاک ہوۓ، اور جو زندہ بچے وہ عمر بھر کیلۓ معذور ہوگۓ،جنگِ عطیم دوم میں یورپ کا کوئ شہر سلامت نہیں بچا تھا، بجلی، پانی، سڑکیں، سکول و کالج، ریلوے کا نظام اور خوراک ہر شے مفقود ہوگئ تھی، آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جنگ سے پہلے یورپ میں سور نہیں کھایا جاتا تھا، لوگ پورک سے نفرت کرتے تھے، خوراک کی قلت کی وجہ سے پورک کھایا جانے لگا وہ دن ہے اور آج کا دن۔ پورک اب پورے یورپ کی خوراک بن چکا ہے،جنگ کے بعد مرد ختم ہوگۓ، چنانچہ یورپ شادی کا سسٹم ختم کرنے پر مجبور ہوگیا،عورت صرف عورت اور مرد صرف مرد بن کر رہ گیا۔

آپ جنگوں کے دوران یہودیوں کی داستانیں پڑھیں، آپ اندر سے دکھی ہوجائیں گے، سینکڑوں ہزاروں یہودی خاندان دو دوبرس گٹروں میں رہے انکی ایک پوری نسل گٹروں میں رہی، اور سیوریج کا پانی پی کر کھڑا ہونا سیکھا، آپ یورپ کی پہلی جنگِ عظیم بھی دیکھۓ، یہ جولائ 1914 سے 11نومبر 1918 تک،4 سال 3ماہ تک چلی،یورپ نے ان 4 برسوں میں سوا 4 کروڑ لوگوں کی قربانی دی،یہ جنگ آسٹریلیا اور نیوزی کی ہر ماں کی گود اجاڑ گئ، ترکی کا جزیرہ گیلی پولی قبرستا بن گیا، آپ آج بھی وہاں کی مٹی کی مٹھی بھریں تو انسان کی باقیات ملیں گی، آپ ان باقیات سے پوچھیں جنگیں کیا ہوتی ہیں؟ یہ آپکو جنگ کا مطلب سمجھائیں گی اگر پھر بھی پتہ نہ چلے تو آپ ویتنام، افغانستان اور افریقہ کے جنگ ذدہ علاقوں سے پوچھ لیں، ویتنام کے لوگوں نےساڑھے 19 سال جنگ بھگتی، افغانستان پچھلے35 برسوں سے لاشیں اٹھا رہا ہے،جبکہ افریقہ کے ملکوں نائیجیریا، لائبیریا، سیرالیون، صومالیہ، یوگنڈا، گنی اور سوڈان میں جنگ نے قحط کو جنم دیا، اور یہ قحط افریقہ کے ہر شخص کی آنکھ میں لکھا ہے، آپ انکی آنکھوں سے پوچھ لیں، جنک کیا ہوتی ہے؟ یہ آپکو بتائیں گے انسان جب اپنے والد، اپنے بچے اور اپنی بیوی کا گوشت ابال کر کھانے پر مجبور ہوجاتا ہے یا اپنے لختِ جگر کو زخموں سے رہائ دلانے کے لۓ گولی مارتا ہے، اسکا دل اسکی روح کہاں کہاں سےزخمی ہوتی ہے، یہ آپ کو بتائیں گے۔

ہم برصغیر کے پاک و ہند کے لوگوں نے اصلی اور مکمل جنگ نہیں دیکھی، ہندوستان کی تمام جنگیں محدود تھیں، ہم ہر پنجابی سنٹرل ایشیا کے حملہ آور کا اٹک کے پُل پر استقبال کرتے تھے، اسے ہار پہناتے، سپاہیوں کو خوراک اور گھوڑوں کو چارہ دیتے اور سیدھا پانی پت چھوڑ کر آتے“ یہ ہماری تاریخ تھی، تاریخ نے پلٹا کھایا اور انگریز پانی پت سے لاہور آگیا، ہم نے اسے بھی ہار پہناۓ، اور سیدھا جلال آباد چھوڑ کر آگۓ، انگریز باقی زندگی افغاںوں سے لڑتے رہے اور ہم انکے سہولت کار بنے رہے,
ہم 1857 کی جنگِ آزادی کو ہندوستان کی عظیم جنگ سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ دہلی سے 75 کلومیڑ کے فاصلے میرٹھ پر شروع ہوئ اور دہلی پہنچ کر ختم ہوگئ تھی، یہ پوری جنگ دہلی کے مضافات میں لڑی گئ، اور پنجاب، سندھ، ڈھاکہ، ممبئ کے لوگوں کو خبر اس وقت ہوئ جب ملبہ سمیٹا جا چکا تھا، اور بہادر شاہ ظفر رنگون میں ” کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں” لکھ رہا تھا، ہم اگر 1965 اور 71 کا بھی تجزیہ کریں تو یہ جنگیں کم اور جھڑپیں ذیادہ محسوس ہونگی۔

1965 کی جنگ 6 ستمبر کو شروع ہوئ اور 23 ستمبر کو ختم ہوگئ، پاک و ہند کے لوگ 17 دن کی اس مڈ بھیڑ کو جنگ کہتے ہیں، یہ دونوں ملک ہر سال اسکی سالگرہ مناتے ہیں، 65 کی جنگ میں 4 ہزار پاکستانی اور 3 ہزار بھارتی ہلاگ ہوۓ تھے، یہ جنگ بھی کشمیر اور پنجاب کے بارڈر تک محدود رہی تھی، عوام کو صرف ریڈیو پر جنگ کی اطلاع ملی،

1971 کی جنگ 3دسمبر کو شروع ہوئ اور 16 دسمبر کو ختم ہوگئ، اس جنگ میں 9 ہزار پاکستانی شہید ہوۓ اور26ہزاربنگالی ہلاک ہوۓ،

آپ کبھی ٹھنڈے ذہن کے ساتھ 13 اور 17 دن کی ان جنگوں کو یورپ کی 4 اور 6 سال لمبی جنگوں کے اور ان تین، چار ہزار ، اور 9 ہزار، 26 ہزار لاشوں کو یورپ کی ساڑھے چار کروڑ اور سات کروڑ لاشوں کے سامنے رکھ کر دیکھیں، آپ لاہور اور ڈھاکہ پر حملے کو دیکھیں، آپ 1965 کے پٹھان کوٹ اور چونڈا کے حملے کو دیکھیں پھر ہیروشیما، ناگاساکی، پرل ہاربر، نارمنڈی، ایمسٹرڈیم، برسلز، پیرس، لندن، وارسا، پولینڈ، برلن اور ماسکو پر حملے کو دیکھیں، اور پھر اپنے آپ سے پوچھیں جنگ کیا ہوتی ہے؟ آپکے جسم کا ایک خلیہ آپکو جنگ کی ماہیت بتاۓ گا،

ہم دونوں ملک جنگ سے ناواقف ہیں، ہم جانتے ہی نہیں کہ جنگ کیا ہوتی ہے، ہم ہر سال، چھ مہینے بعد ہم ایٹم بم نکال کر دھوپ میں بیٹھ جاتے ہیں، بھارت میں چڑی بھی مر جاۓ تو الزام پاکیستان پر تھوپ دیتا ہے، ایل او سی پر معصوم شہریوں، ہند یا کشمیر میں مسلمانوں پر تشدد شروع کردیا جاتا ہے اور ہم ہر معمولی واقعات پر یہ کہہ کر ٹھنڈے ہوجاتے ہیں کہ ہم نے یہ مواد ایٹم بم “شبِ برات” پر چلانے کیلۓ نہیں بناۓ، ایٹم بم کیا ہے، اور جب یہ پھٹتا ہےتو کیا ہوتا ہے؟ ہیروشیما اور ناگاساکی کے مکینوں سے پوچھیں،

میں بعض اوقات سوچتا ہوں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بڑی جنگ ہونی چاہۓ، جی بھر کر جنگی ارمان پورے کرلیں، یہ اپنے سارے ایٹم بم چلالیں تاکہ ایک بار برصغیر کے 110شہروں کو موہن جوڈارو بناکر دیکھ لیں، یہ خیر پور سے گوا تک پانچ ، دس کروڑ لاشیں بھی دیکھ لیں، یہ عوام کو دوا اور خوراک کے بغیر بلکتا بھی دیکھ لیں، یہ زندگی کو ایک بار پھر بجلی، پانی، سڑک ، سکول اور ہسپتال کے بغیر دیکھ لیں۔ یہ پچاس سال تک معذور بچے پیدا ہوتے بھی دیکھ لیں، یہ تب جنگ کو سمجھیں گے، یہ جاپان اور یورپ کے لوگوں کی طرح جنگ کا نام نہیں لیں گے، یہ اس وقت یورپ کی طرح اپنی سرحدیں کھولیں گے اور بھائ بھائ بن کر زندگی گزاریں گے، راوی اسکے بعد چین ہی چین لکھے گا ، یہ ہیروشیما اور وارسا بننے تک جنگ جنگ کرتے رہیں گے

Address

Karak
Karak
27200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Mehboob alam official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share