Provincial Doctors Association

Provincial Doctors Association Provincial Doctors Association

ہیلتھ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل خیبر پختونخوا کے وفد کی اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیںڈاکٹر نبی جان اور ڈاکٹر سعد کی فوری با...
09/10/2026

ہیلتھ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل خیبر پختونخوا کے وفد کی اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں
ڈاکٹر نبی جان اور ڈاکٹر سعد کی فوری باحفاظت بازیابی اور ہسپتالوں میں عملے کی حفاظت کا پُرزور مطالبہ
آج ہیلتھ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل خیبر پختونخوا کے نمائندہ وفد نے *چیئرمین ڈاکٹر زبیر ظاہر* کی قیادت میں صوبائی وزیرِ صحت، چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا، سیکریٹری صحت، اسپیشل سیکریٹری صحت اور سی سی پی او پشاور سے اہم ملاقاتیں کیں۔

ان ملاقاتوں میں ہیلتھ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل خیبر پختونخوا کے صدر اور پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر مجاہد اعظم اور آصف اخونزادہ بھی شریک تھے۔ینگ ڈاکٹرز کے ڈاکٹر حفیظ ۔انصاف ڈاکٹرز کے ڈاکٹر نظیف اور ڈاکٹر مدیر ۔ملگری ڈاکٹران سے ڈاکٹر شاہد۔پیما سے ڈاکٹر بصیر ینگ نرسیسز کی جانب سے میڈم شہناز اور انصاف نرسیسز کی جانب سے میاں دولت شاہ اور نوراسلام ۔انصاف پیرامیڈیکس کے حبیب اور نیوٹرل ڈاکٹرز کی طرف سے ڈاکٹر عدنان نے شرکت کی ۔
ملاقاتوں کے دوران
خیبر ہسپتال سے وابستہ ڈاکٹر نبی جان اور ڈاکٹر سعد کی مبینہ جبری گمشدگی اور فائرنگ کے واقعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وفد نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ مذکورہ ڈاکٹرز کی فوری باحفاظت بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

ہیلتھ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل کے وفد نے واضح کیا کہ صحت کے شعبے سے وابستہ ملازمین کا تحفظ، عزت اور سلامتی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر متعلقہ ڈاکٹرز کی فوری بازیابی اور صحت کے عملے کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو کونسل احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔

کونسل نے اپنے پُرزور مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکس اور کلاس فور ملازمین کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنایا جائے، تاکہ وہ بلاخوف و خطر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں اور انسانیت کی خدمت جاری رکھ سکیں۔
موجودہ حالات میں صحت کے شعبے سے وابستہ تمام ملازمین دن رات عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔ ایسے میں ان کی جان و مال کا تحفظ ریاست اور متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔
ہیلتھ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل خیبر پختونخوا کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر نبی جان اور ڈاکٹر سعد کی فوری بازیابی، صحت کے عملے کی مکمل حفاظت اور ہسپتالوں میں پُرامن و محفوظ ماحول کے قیام کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔

*پراونشل ڈاکٹرز اسوسیشن خیبر پختنخواہ*

08/10/2026

السلام علیکم!

میں ہوں ڈاکٹر محمد رضوان راجپوت، وائس چیئرمین پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا۔

آج کی یہ ویڈیو وفاقی آئینی عدالت کے مقدمہ نمبر ۵۳۸۔پی/۲۰۲۳ کے ۲۳ ستمبر ۲۰۲۶ء کے فیصلے کے حوالے سے ہے۔

اس فیصلے کے بعد ڈاکٹر صاحبان، فارماسسٹ حضرات اور ڈرگ انسپکٹرز کی طرف سے مختلف آراء اور تجزیے سامنے آ رہے ہیں۔ میرا مقصد کسی کی تضحیک، تنقید یا الزام تراشی نہیں، بلکہ اس فیصلے اور اس سے متعلق قانونی معاملات کو واضح کرنا ہے۔

میری گزارش ہے کہ تنقید برائے اصلاح ہونی چاہیے، غیر ضروری الزامات نہیں۔

پہلی اہم بات: کیا عدالت نے ڈاکٹرز کو مجرم قرار دیا؟

نہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے متعلقہ ڈاکٹرز کو مجرم قرار نہیں دیا اور نہ ہی یہ فیصلہ دیا کہ ڈاکٹرز نے ثابت شدہ طور پر غیر قانونی طور پر ادویات فروخت کی ہیں۔

یہ معاملہ بنیادی طور پر اس کارروائی سے متعلق تھا جس میں ڈرگ انسپکٹرز کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ڈاکٹرز اپنے کلینکس میں میڈیکل اسٹور چلا رہے ہیں۔

ابتدائی طور پر ہائی کورٹ نے ڈاکٹرز کے حق میں فیصلہ دیا تھا، لیکن بعد میں معاملہ اعلیٰ عدالت کے سامنے گیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے بنیادی طور پر یہ واضح کیا کہ متعلقہ قانونی اتھارٹی کو اپنا قانونی عمل مکمل کرنے اور ڈاکٹرز کو شوکاز نوٹس کا جواب دینے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

لہٰذا یہ کہنا کہ عدالت نے ڈاکٹرز کو مجرم قرار دے دیا ہے، درست قانونی تشریح نہیں ہے۔

دوسری اہم بات: ڈرگ انسپکٹر کے اختیارات

ڈرگ انسپکٹر کو قانون کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کلینک یا متعلقہ جگہ کا معائنہ کرے، وہاں موجود ادویات کو چیک کرے، ان کی خریداری کی رسیدیں اور انوائس دیکھے، میعادِ استعمال، معیار اور دیگر قانونی تقاضوں کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق کارروائی کرے۔

لیکن معائنہ کرنے کا اختیار اور کسی ڈاکٹر کو تجارتی طور پر میڈیکل اسٹور چلانے کا مجرم قرار دینا دو الگ چیزیں ہیں۔

اگر کسی ڈاکٹر کے کلینک میں ادویات موجود ہیں تو صرف ادویات کی موجودگی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہاں تجارتی میڈیکل اسٹور قائم ہے۔

تیسری اہم بات: ڈاکٹر کی ڈسپنسری اور تجارتی میڈیکل اسٹور میں فرق

فارمیسی ایکٹ ۱۹۶۷ء کی دفعہ ۳۱(۴۔اے) میں رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر کے اپنے مریضوں کو علاج کے سلسلے میں ادویات فراہم کرنے کے حوالے سے قانونی استثنا موجود ہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی ڈاکٹر بغیر لائسنس کے ایک باقاعدہ تجارتی میڈیکل اسٹور یا فارمیسی چلا سکتا ہے۔

اگر کوئی ڈاکٹر باقاعدہ تجارتی بنیادوں پر ادویات فروخت کرتا ہے، عام لوگوں کے نسخے قبول کرتا ہے، مختلف بیماریوں اور تمام شعبہ جات کی وسیع مقدار میں ادویات رکھتا ہے، میڈیکل اسٹور یا فارمیسی کا بورڈ لگاتا ہے اور اسے ایک الگ تجارتی کاروبار کے طور پر چلاتا ہے، تو اسے متعلقہ قانون کے تحت لائسنس اور دیگر لازمی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔

لیکن اگر ڈاکٹر اپنے کلینک میں اپنے مریضوں کے علاج کے لیے، اپنی طبی مشاورت اور اپنے نسخے کے مطابق محدود ادویات رکھتا اور اپنے مریضوں کو فراہم کرتا ہے، تو اس معاملے کو محض ایک تجارتی میڈیکل اسٹور قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کا فیصلہ حقائق، ریکارڈ اور قانون کی روشنی میں ہونا چاہیے۔

پھر یہ کیسے معلوم ہوگا کہ کلینک میں ڈسپنسری ہے یا تجارتی میڈیکل اسٹور؟

اس کا فیصلہ صرف ادویات کی موجودگی سے نہیں ہوگا بلکہ کئی چیزیں دیکھی جائیں گی:

- ادویات کی نوعیت کیا ہے؟
- مقدار کتنی ہے؟
- کلینک میں کون سی بیماریوں کے مریض آتے ہیں؟
- ڈاکٹر کی تخصص کیا ہے؟
- ادویات کن مریضوں کو دی جا رہی ہیں؟
- ڈاکٹر کے اپنے نسخے موجود ہیں یا نہیں؟
- خریداری کی رسیدیں اور انوائس موجود ہیں یا نہیں؟
- ادویات کا ریکارڈ موجود ہے یا نہیں؟
- کیا عام لوگوں کو بغیر ڈاکٹر کے نسخے کے ادویات فروخت کی جا رہی ہیں؟
- کیا باہر کے ڈاکٹروں کے نسخے بھی قبول کیے جا رہے ہیں؟
- کیا وہاں تجارتی میڈیکل اسٹور کی طرح خرید و فروخت ہو رہی ہے؟

مثلاً اگر ایک جلد کے ماہر ڈاکٹر، ہڈیوں کے ماہر ڈاکٹر یا نفسیاتی امراض کے ماہر ڈاکٹر اپنے اپنے کلینک میں اپنے مریضوں کی بیماریوں اور اپنی طبی ضرورت کے مطابق محدود مقدار میں ادویات رکھتے ہیں، تو اس اسٹاک کا جائزہ اسی طبی دائرۂ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔

اگر کسی جلد کے ماہر ڈاکٹر کے پاس جلد کے مریضوں سے متعلق ادویات ہیں، کسی ہڈیوں کے ماہر کے پاس اپنی تخصص سے متعلق ادویات ہیں اور کسی دوسرے ماہر کے پاس اپنی بیماریوں سے متعلق ادویات ہیں، تو صرف اس بنیاد پر کہ کلینک میں ادویات موجود ہیں، اسے تجارتی میڈیکل اسٹور قرار دینا مناسب نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ وہاں تجارتی سطح پر عام لوگوں کو ادویات فروخت کی جا رہی تھیں یا اپنے مریضوں کو علاج کے حصے کے طور پر ادویات فراہم کی جا رہی تھیں۔

ہمارے تینوں ڈاکٹرز کے مقدمے کے حوالے سے ایک اہم وضاحت

اب میں اپنے ذاتی مقدمے اور ہمارے تینوں ڈاکٹرز کے معاملے کے حوالے سے ایک بہت اہم بات واضح کرنا چاہتا ہوں۔

ہم تینوں ڈاکٹرز کو جو فارم نمبر ۶ دیا گیا اور جن ڈاکٹرز کے خلاف شکایات درج کی گئیں، ان متعلقہ دستاویزات میں جہاں مبینہ طور پر دو گواہوں کا ذکر موجود ہے، وہاں ہمارے ریکارڈ اور ہمارے علم کے مطابق ایسا کوئی آزاد اور غیر جانب دار گواہ پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ عام عوام میں سے کوئی خریدار تھا اور اس نے ہمارے کلینک سے دوا خریدی۔

اسی طرح کسی دوسرے ڈاکٹر کا ایسا نسخہ بھی پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ ہمارے کلینک نے کسی دوسرے ڈاکٹر کے مریض کو دوا فروخت کی۔

نہ کسی مبینہ خریدار کی واضح شناخت، نہ اس کی خریداری کی رسید، نہ ادائیگی کا ثبوت، نہ اس کا نسخہ، اور نہ ایسا قابلِ اعتماد دستاویزی ریکارڈ ہمارے سامنے پیش کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ ہم نے اپنے مریضوں کے علاوہ کسی عام شخص کو تجارتی بنیاد پر دوا فروخت کی۔

ہم نے یہ تمام اعتراضات اپنے تحریری جواب میں بھی واضح طور پر درج کر دیے ہیں، جو ہم نے ۸ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو متعلقہ ڈرگ انسپکٹر کے سامنے جمع کرا دیا ہے۔

اب بنیادی سوال یہ ہے:

اگر الزام یہ ہے کہ ڈاکٹر نے تجارتی طور پر دوا فروخت کی، تو پھر یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ دوا کس شخص کو فروخت کی گئی؟

خریدار کون تھا؟

اس کا نام کیا تھا؟

اس کی شناخت کیا تھی؟

اس نے کون سی دوا خریدی؟

کس نسخے پر خریدی؟

اس نے کتنی رقم ادا کی؟

اس کی رسید کہاں ہے؟

اور اس خریداری کا کوئی آزاد اور قابلِ اعتماد گواہ یا دوسرا دستاویزی ثبوت کہاں ہے؟

کیونکہ صرف یہ کہنا کہ کلینک میں ادویات موجود تھیں، اپنے آپ میں یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہاں تجارتی میڈیکل اسٹور چل رہا تھا۔

ہمارا مؤقف یہ ہے کہ ہمارے کلینکس میں موجود ادویات ہمارے اپنے مریضوں کی طبی ضرورت اور ہماری اپنی طبی مشاورت کے مطابق محدود نوعیت کی تھیں، نہ کہ عام عوام کے لیے تجارتی فروخت کے مقصد سے۔

لہٰذا ہم متعلقہ فورم سے یہی کہتے ہیں کہ معاملے کو الزام کی بنیاد پر نہیں بلکہ قابلِ اعتماد شواہد، دستاویزات اور قانون کی بنیاد پر دیکھا جائے۔

اگر واقعی کسی عام شخص کو تجارتی طور پر دوا فروخت کی گئی ہے تو اس فروخت کا خریدار، نسخہ، رسید، ادائیگی اور دیگر متعلقہ ثبوت سامنے آنے چاہئیں۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی الزام کی تحقیق نہیں ہونی چاہیے؛ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ الزام کی تحقیق قانون کے مطابق ہو اور حتمی نتیجہ قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر نکالا جائے۔

فارماسسٹ حضرات سے بھی ایک گزارش

ہم فارماسسٹ برادری کا احترام کرتے ہیں اور فارماسسٹ کا کردار صحت کے نظام میں انتہائی اہم ہے۔

لیکن جس طرح ڈاکٹر کو اپنی پیشہ ورانہ حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے، اسی طرح فارماسسٹ کو بھی اپنی قانونی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔

اگر کسی فارماسسٹ کا نام کسی دواخانے یا ادویات کے لائسنس کے لیے بطور نگران فارماسسٹ استعمال ہو رہا ہے تو اس کی حقیقی موجودگی، نگرانی اور قانونی ذمہ داری بھی ہونی چاہیے۔

صرف اپنا لائسنس یا اپنی پیشہ ورانہ حیثیت کسی دوسرے شخص کو کرائے پر دینا اور خود وہاں موجود نہ ہونا ایک سنجیدہ قانونی اور پیشہ ورانہ مسئلہ بن سکتا ہے۔

خیبر پختونخوا، پنجاب اور اسلام آباد کے متعلقہ ڈرگ قوانین اور قواعد میں فارماسسٹ کی نگرانی اور موجودگی سے متعلق تقاضے موجود ہیں۔

اس لیے میری فارماسسٹ حضرات سے گزارش ہے کہ اپنے نام، اپنی ڈگری اور اپنے لائسنس کو صرف کرائے پر دینے کے بجائے خود اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کریں اور جہاں ان کی نگرانی لازم ہے وہاں باقاعدگی سے موجود رہیں۔

ایک اور اہم بات

فارماسسٹ نسخہ لکھنے والا ڈاکٹر نہیں ہے۔

اس کا کام ڈاکٹر کے درست نسخے کے مطابق ادویات فراہم کرنا، مریض کو دوا کے استعمال سے متعلق ضروری رہنمائی دینا اور ادویات کا مناسب ریکارڈ برقرار رکھنا ہے۔

نسخہ والی ادویات بغیر مجاز ڈاکٹر کے نسخے کے فراہم نہیں کی جانی چاہئیں، سوائے ان ادویات کے جو قانون کے مطابق بغیر نسخے کے فراہم کی جا سکتی ہیں۔

ادویات کی خریداری، اسٹاک، تقسیم اور نسخوں کا مناسب ریکارڈ بھی موجود ہونا چاہیے تاکہ ضرورت پڑنے پر یہ واضح ہو سکے کہ:

کتنی ادویات خریدی گئیں،
کتنی ادویات اسٹاک میں آئیں،
کتنی مریضوں کو فراہم کی گئیں،
کس نسخے کے تحت فراہم کی گئیں،
اور متعلقہ وقت پر ذمہ دار فارماسسٹ موجود تھا یا نہیں۔

آخر میں میری گزارش

میرا مقصد ڈاکٹرز اور فارماسسٹس کے درمیان کوئی تنازع پیدا کرنا نہیں۔

ہم سب کو اپنی اپنی قانونی اور پیشہ ورانہ حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر اپنے طبی دائرۂ کار میں کام کرے،
فارماسسٹ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری پوری کرے،
ڈرگ انسپکٹر قانون کے مطابق نگرانی کرے،
اور ہر معاملہ ثبوت، قانون اور منصفانہ کارروائی کی بنیاد پر طے ہونا چاہیے۔

اگر کوئی ڈاکٹر واقعی تجارتی سطح پر میڈیکل اسٹور یا فارمیسی چلا رہا ہے تو اسے قانون کے مطابق لائسنس لینا چاہیے اور متعلقہ تقاضے پورے کرنے چاہئیں۔

لیکن اگر کوئی ڈاکٹر اپنے کلینک میں اپنے مریضوں کو، اپنی طبی مشاورت اور اپنے نسخے کے مطابق محدود مقدار میں ادویات فراہم کر رہا ہے تو اسے خود بخود تجارتی میڈیکل اسٹور قرار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا فیصلہ قانون، شواہد اور اصل حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

ہم نے اپنا جواب متعلقہ فورم پر جمع کرا دیا ہے اور ہم قانون کا احترام کرتے ہوئے اپنے قانونی حقوق کا دفاع ہر مجاز فورم پر کریں گے۔

ہماری درخواست صرف اتنی ہے کہ اختلاف ضرور کریں، تنقید ضرور کریں، لیکن تنقید برائے اصلاح ہونی چاہیے، غیر ضروری الزامات نہیں۔

شکریہ۔

ڈاکٹر محمد رضوان راجپوت
وائس چیئرمین، پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا
مقدمہ نمبر ۵۳۸۔پی/۲۰۲۳
وفاقی آئینی عدالت پاکستان

08/10/2026

السلام علیکم!

میں ہوں ڈاکٹر محمد رضوان راجپوت، وائس چیئرمین صوبائی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا۔

آج کی یہ ویڈیو وفاقی آئینی عدالت کے مقدمہ نمبر ۵۳۸۔پی/۲۰۲۳ کے ۲۳ ستمبر ۲۰۲۶ء کے فیصلے کے حوالے سے ہے۔

اس فیصلے کے بعد ڈاکٹر صاحبان، فارماسسٹ حضرات اور ڈرگ انسپکٹرز کی طرف سے مختلف آراء اور تجزیے سامنے آ رہے ہیں۔ میرا مقصد کسی کی تضحیک، تنقید یا الزام تراشی نہیں، بلکہ اس فیصلے اور اس سے متعلق قانونی معاملات کو واضح کرنا ہے۔

میری گزارش ہے کہ تنقید برائے اصلاح ہونی چاہیے، غیر ضروری الزامات نہیں۔

پہلی اہم بات: کیا عدالت نے ڈاکٹرز کو مجرم قرار دیا؟

نہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے متعلقہ ڈاکٹرز کو مجرم قرار نہیں دیا اور نہ ہی یہ فیصلہ دیا کہ ڈاکٹرز نے ثابت شدہ طور پر غیر قانونی طور پر ادویات فروخت کی ہیں۔

یہ معاملہ بنیادی طور پر اس کارروائی سے متعلق تھا جس میں ڈرگ انسپکٹرز کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ڈاکٹرز اپنے کلینکس میں میڈیکل اسٹور چلا رہے ہیں۔

ابتدائی طور پر ہائی کورٹ نے ڈاکٹرز کے حق میں فیصلہ دیا تھا، لیکن بعد میں معاملہ اعلیٰ عدالت کے سامنے گیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے بنیادی طور پر یہ واضح کیا کہ متعلقہ قانونی اتھارٹی کو اپنا قانونی عمل مکمل کرنے اور ڈاکٹرز کو شوکاز نوٹس کا جواب دینے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

لہٰذا یہ کہنا کہ عدالت نے ڈاکٹرز کو مجرم قرار دے دیا ہے، درست قانونی تشریح نہیں ہے۔

دوسری اہم بات: ڈرگ انسپکٹر کے اختیارات

ڈرگ انسپکٹر کو قانون کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کلینک یا متعلقہ جگہ کا معائنہ کرے، وہاں موجود ادویات کو چیک کرے، ان کی خریداری کی رسیدیں اور انوائس دیکھے، میعادِ استعمال، معیار اور دیگر قانونی تقاضوں کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق کارروائی کرے۔

لیکن معائنہ کرنے کا اختیار اور کسی ڈاکٹر کو تجارتی طور پر میڈیکل اسٹور چلانے کا مجرم قرار دینا دو الگ چیزیں ہیں۔

اگر کسی ڈاکٹر کے کلینک میں ادویات موجود ہیں تو صرف ادویات کی موجودگی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہاں تجارتی میڈیکل اسٹور قائم ہے۔

تیسری اہم بات: ڈاکٹر کی ڈسپنسری اور تجارتی میڈیکل اسٹور میں فرق

فارمیسی ایکٹ ۱۹۶۷ء کی دفعہ ۳۱(۴۔اے) میں رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر کے اپنے مریضوں کو علاج کے سلسلے میں ادویات فراہم کرنے کے حوالے سے قانونی استثنا موجود ہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی ڈاکٹر بغیر لائسنس کے ایک باقاعدہ تجارتی میڈیکل اسٹور یا فارمیسی چلا سکتا ہے۔

اگر کوئی ڈاکٹر باقاعدہ تجارتی بنیادوں پر ادویات فروخت کرتا ہے، عام لوگوں کے نسخے قبول کرتا ہے، مختلف بیماریوں اور تمام شعبہ جات کی وسیع مقدار میں ادویات رکھتا ہے، میڈیکل اسٹور یا فارمیسی کا بورڈ لگاتا ہے اور اسے ایک الگ تجارتی کاروبار کے طور پر چلاتا ہے، تو اسے متعلقہ قانون کے تحت لائسنس اور دیگر لازمی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔

لیکن اگر ڈاکٹر اپنے کلینک میں اپنے مریضوں کے علاج کے لیے، اپنی طبی مشاورت اور اپنے نسخے کے مطابق محدود ادویات رکھتا اور اپنے مریضوں کو فراہم کرتا ہے، تو اس معاملے کو محض ایک تجارتی میڈیکل اسٹور قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کا فیصلہ حقائق، ریکارڈ اور قانون کی روشنی میں ہونا چاہیے۔

پھر یہ کیسے معلوم ہوگا کہ کلینک میں ڈسپنسری ہے یا تجارتی میڈیکل اسٹور؟

اس کا فیصلہ صرف ادویات کی موجودگی سے نہیں ہوگا بلکہ کئی چیزیں دیکھی جائیں گی:

- ادویات کی نوعیت کیا ہے؟
- مقدار کتنی ہے؟
- کلینک میں کون سی بیماریوں کے مریض آتے ہیں؟
- ڈاکٹر کی تخصص کیا ہے؟
- ادویات کن مریضوں کو دی جا رہی ہیں؟
- ڈاکٹر کے اپنے نسخے موجود ہیں یا نہیں؟
- خریداری کی رسیدیں اور انوائس موجود ہیں یا نہیں؟
- ادویات کا ریکارڈ موجود ہے یا نہیں؟
- کیا عام لوگوں کو بغیر ڈاکٹر کے نسخے کے ادویات فروخت کی جا رہی ہیں؟
- کیا باہر کے ڈاکٹروں کے نسخے بھی قبول کیے جا رہے ہیں؟
- کیا وہاں تجارتی میڈیکل اسٹور کی طرح خرید و فروخت ہو رہی ہے؟

مثلاً اگر ایک جلد کے ماہر ڈاکٹر، ہڈیوں کے ماہر ڈاکٹر یا نفسیاتی امراض کے ماہر ڈاکٹر اپنے اپنے کلینک میں اپنے مریضوں کی بیماریوں اور اپنی طبی ضرورت کے مطابق محدود مقدار میں ادویات رکھتے ہیں، تو اس اسٹاک کا جائزہ اسی طبی دائرۂ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔

اگر کسی جلد کے ماہر ڈاکٹر کے پاس جلد کے مریضوں سے متعلق ادویات ہیں، کسی ہڈیوں کے ماہر کے پاس اپنی تخصص سے متعلق ادویات ہیں اور کسی دوسرے ماہر کے پاس اپنی بیماریوں سے متعلق ادویات ہیں، تو صرف اس بنیاد پر کہ کلینک میں ادویات موجود ہیں، اسے تجارتی میڈیکل اسٹور قرار دینا مناسب نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ وہاں تجارتی سطح پر عام لوگوں کو ادویات فروخت کی جا رہی تھیں یا اپنے مریضوں کو علاج کے حصے کے طور پر ادویات فراہم کی جا رہی تھیں۔

ہمارے تینوں ڈاکٹرز کے مقدمے کے حوالے سے ایک اہم وضاحت

اب میں اپنے ذاتی مقدمے اور ہمارے تینوں ڈاکٹرز کے معاملے کے حوالے سے ایک بہت اہم بات واضح کرنا چاہتا ہوں۔

ہم تینوں ڈاکٹرز کو جو فارم نمبر ۶ دیا گیا اور جن ڈاکٹرز کے خلاف شکایات درج کی گئیں، ان متعلقہ دستاویزات میں جہاں مبینہ طور پر دو گواہوں کا ذکر موجود ہے، وہاں ہمارے ریکارڈ اور ہمارے علم کے مطابق ایسا کوئی آزاد اور غیر جانب دار گواہ پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ عام عوام میں سے کوئی خریدار تھا اور اس نے ہمارے کلینک سے دوا خریدی۔

اسی طرح کسی دوسرے ڈاکٹر کا ایسا نسخہ بھی پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ ہمارے کلینک نے کسی دوسرے ڈاکٹر کے مریض کو دوا فروخت کی۔

نہ کسی مبینہ خریدار کی واضح شناخت، نہ اس کی خریداری کی رسید، نہ ادائیگی کا ثبوت، نہ اس کا نسخہ، اور نہ ایسا قابلِ اعتماد دستاویزی ریکارڈ ہمارے سامنے پیش کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ ہم نے اپنے مریضوں کے علاوہ کسی عام شخص کو تجارتی بنیاد پر دوا فروخت کی۔

ہم نے یہ تمام اعتراضات اپنے تحریری جواب میں بھی واضح طور پر درج کر دیے ہیں، جو ہم نے ۸ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو متعلقہ ڈرگ انسپکٹر کے سامنے جمع کرا دیا ہے۔

اب بنیادی سوال یہ ہے:

اگر الزام یہ ہے کہ ڈاکٹر نے تجارتی طور پر دوا فروخت کی، تو پھر یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ دوا کس شخص کو فروخت کی گئی؟

خریدار کون تھا؟

اس کا نام کیا تھا؟

اس کی شناخت کیا تھی؟

اس نے کون سی دوا خریدی؟

کس نسخے پر خریدی؟

اس نے کتنی رقم ادا کی؟

اس کی رسید کہاں ہے؟

اور اس خریداری کا کوئی آزاد اور قابلِ اعتماد گواہ یا دوسرا دستاویزی ثبوت کہاں ہے؟

کیونکہ صرف یہ کہنا کہ کلینک میں ادویات موجود تھیں، اپنے آپ میں یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہاں تجارتی میڈیکل اسٹور چل رہا تھا۔

ہمارا مؤقف یہ ہے کہ ہمارے کلینکس میں موجود ادویات ہمارے اپنے مریضوں کی طبی ضرورت اور ہماری اپنی طبی مشاورت کے مطابق محدود نوعیت کی تھیں، نہ کہ عام عوام کے لیے تجارتی فروخت کے مقصد سے۔

لہٰذا ہم متعلقہ فورم سے یہی کہتے ہیں کہ معاملے کو الزام کی بنیاد پر نہیں بلکہ قابلِ اعتماد شواہد، دستاویزات اور قانون کی بنیاد پر دیکھا جائے۔

اگر واقعی کسی عام شخص کو تجارتی طور پر دوا فروخت کی گئی ہے تو اس فروخت کا خریدار، نسخہ، رسید، ادائیگی اور دیگر متعلقہ ثبوت سامنے آنے چاہئیں۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی الزام کی تحقیق نہیں ہونی چاہیے؛ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ الزام کی تحقیق قانون کے مطابق ہو اور حتمی نتیجہ قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر نکالا جائے۔

فارماسسٹ حضرات سے بھی ایک گزارش

ہم فارماسسٹ برادری کا احترام کرتے ہیں اور فارماسسٹ کا کردار صحت کے نظام میں انتہائی اہم ہے۔

لیکن جس طرح ڈاکٹر کو اپنی پیشہ ورانہ حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے، اسی طرح فارماسسٹ کو بھی اپنی قانونی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔

اگر کسی فارماسسٹ کا نام کسی دواخانے یا ادویات کے لائسنس کے لیے بطور نگران فارماسسٹ استعمال ہو رہا ہے تو اس کی حقیقی موجودگی، نگرانی اور قانونی ذمہ داری بھی ہونی چاہیے۔

صرف اپنا لائسنس یا اپنی پیشہ ورانہ حیثیت کسی دوسرے شخص کو کرائے پر دینا اور خود وہاں موجود نہ ہونا ایک سنجیدہ قانونی اور پیشہ ورانہ مسئلہ بن سکتا ہے۔

خیبر پختونخوا، پنجاب اور اسلام آباد کے متعلقہ ڈرگ قوانین اور قواعد میں فارماسسٹ کی نگرانی اور موجودگی سے متعلق تقاضے موجود ہیں۔

اس لیے میری فارماسسٹ حضرات سے گزارش ہے کہ اپنے نام، اپنی ڈگری اور اپنے لائسنس کو صرف کرائے پر دینے کے بجائے خود اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کریں اور جہاں ان کی نگرانی لازم ہے وہاں باقاعدگی سے موجود رہیں۔

ایک اور اہم بات

فارماسسٹ نسخہ لکھنے والا ڈاکٹر نہیں ہے۔

اس کا کام ڈاکٹر کے درست نسخے کے مطابق ادویات فراہم کرنا، مریض کو دوا کے استعمال سے متعلق ضروری رہنمائی دینا اور ادویات کا مناسب ریکارڈ برقرار رکھنا ہے۔

نسخہ والی ادویات بغیر مجاز ڈاکٹر کے نسخے کے فراہم نہیں کی جانی چاہئیں، سوائے ان ادویات کے جو قانون کے مطابق بغیر نسخے کے فراہم کی جا سکتی ہیں۔

ادویات کی خریداری، اسٹاک، تقسیم اور نسخوں کا مناسب ریکارڈ بھی موجود ہونا چاہیے تاکہ ضرورت پڑنے پر یہ واضح ہو سکے کہ:

کتنی ادویات خریدی گئیں،
کتنی ادویات اسٹاک میں آئیں،
کتنی مریضوں کو فراہم کی گئیں،
کس نسخے کے تحت فراہم کی گئیں،
اور متعلقہ وقت پر ذمہ دار فارماسسٹ موجود تھا یا نہیں۔

آخر میں میری گزارش

میرا مقصد ڈاکٹرز اور فارماسسٹس کے درمیان کوئی تنازع پیدا کرنا نہیں۔

ہم سب کو اپنی اپنی قانونی اور پیشہ ورانہ حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر اپنے طبی دائرۂ کار میں کام کرے،
فارماسسٹ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری پوری کرے،
ڈرگ انسپکٹر قانون کے مطابق نگرانی کرے،
اور ہر معاملہ ثبوت، قانون اور منصفانہ کارروائی کی بنیاد پر طے ہونا چاہیے۔

اگر کوئی ڈاکٹر واقعی تجارتی سطح پر میڈیکل اسٹور یا فارمیسی چلا رہا ہے تو اسے قانون کے مطابق لائسنس لینا چاہیے اور متعلقہ تقاضے پورے کرنے چاہئیں۔

لیکن اگر کوئی ڈاکٹر اپنے کلینک میں اپنے مریضوں کو، اپنی طبی مشاورت اور اپنے نسخے کے مطابق محدود مقدار میں ادویات فراہم کر رہا ہے تو اسے خود بخود تجارتی میڈیکل اسٹور قرار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا فیصلہ قانون، شواہد اور اصل حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

ہم نے اپنا جواب متعلقہ فورم پر جمع کرا دیا ہے اور ہم قانون کا احترام کرتے ہوئے اپنے قانونی حقوق کا دفاع ہر مجاز فورم پر کریں گے۔

ہماری درخواست صرف اتنی ہے کہ اختلاف ضرور کریں، تنقید ضرور کریں، لیکن تنقید برائے اصلاح ہونی چاہیے، غیر ضروری الزامات نہیں۔

شکریہ۔

ڈاکٹر محمد رضوان راجپوت
وائس چیئرمین، صوبائی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا
مقدمہ نمبر ۵۳۸۔پی/۲۰۲۳
وفاقی آئینی عدالت پاکستان

08/10/2026

*پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (PDA) - پریس ریلیز*

پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور سے ڈاکٹر نبی جان کی مبینہ جبری گمشدگی اور ڈاکٹر زین پر ہسپتال کے احاطے میں فائرنگ اور زخمی کرنے کے واقعے کی شدید مذمت کرتی ہے۔

ڈاکٹرز ہسپتالوں میں انسانی خدمت پر مامور ہیں، ان کا تحفظ ریاست اور انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ ہسپتال کے احاطے سے کسی بھی ڈاکٹر کو اس طرح لے جانا اور ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر پر فائرنگ ناقابل قبول ہے۔

ہم کور کمانڈر پشاور اور آئی جی جیبر پختونخوا سے مطالبہ کرتے ہیں

کہ ڈاکٹر نبی جان اور ڈاکٹر سعد کو فی الفور اور بحفاظت بازیاب کیا جائے۔
اور واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے۔

ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
تمام سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔

پراونشل ڈاکٹرز اسوسیشن (PDA) مشکل کی اس گھڑی میں انصاف ڈاکٹرز فورم اور متاثرہ ڈاکٹرز کے خاندانوں کے ساتھ غیر مشروط طور پر کھڑی ہے اور ان کی رہائی و انصاف کے لیے ہر جمہوری اور قانونی جدوجہد کا حصہ بنے گی۔

*ترجمان*
*پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (PDA) خیبر پختونخوا*

07/10/2026
A few glimpses from the highly informative and academically enriching Surgical Skills Workshop organized by PDA SGTH Swa...
06/10/2026

A few glimpses from the highly informative and academically enriching Surgical Skills Workshop organized by PDA SGTH Swat at Saidu Medical College, Swat.

We extend our sincere appreciation to Dr. Nadeem Khan, Prof. Dr. Naeem Ullah and Dr. Shams Ul Haq, President PDA SGTH Swat, and his dedicated team for organizing such an excellent academic activity. Their commitment to promoting continuous professional development, enhancing surgical skills, and providing valuable learning opportunities for medical professionals is truly commendable.

Such initiatives play a vital role in strengthening clinical expertise and fostering a culture of continuous learning and academic excellence.







06/10/2026
Prof D Abdul Jalil Khan director institute of family medicine, has been appointed Vice Chancellor Khyber Medical Univers...
04/10/2026

Prof D Abdul Jalil Khan director institute of family medicine, has been appointed Vice Chancellor Khyber Medical University for 4 years.

PDA MEDIA CELL

02/10/2026

پشاور میں بڑی واردات۔ ایل آر ایچ سے نومولود اغوا

پولیس مصروف تفتیش۔ ترجمان ایل آر ایچ نے واقعے کی تصدیق کر دی

پشاور(مدثر زیب) پشاور کے سب سے بڑے لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے نومولود کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا۔ اس حوالے سےحشمت نامی ایک شخص کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ بتا رہا ہے کہ دو روز قبل میری ماں اور بھائی میری بیوی کو ایل آر ایچ ہسپتال لائے جہاں اسے فوری طور پر گائنی میں شفٹ کیا گیا۔ بعدازاںں مجھے بھائی نے کال کر کے بیٹے کی پیدائش کی خوشخبری دی۔ رات گئے مجھے بتایا گیا کہ تمہارا ہونے والا بچہ ہسپتال سے لاپتہ ہے جس پر میں معلومات لینے ہسپتال پہنچا جہاں تلاش بسیار کے باوجود بچے کا سراغ نہیں ملا۔ اس دوران مجھے ڈیوٹی ہر موجود ہولیس اہلکار نے برابھلا کہا اور بیوی کو گھر لے جانے کے لئے کہا جس پر میں نے مریضہ کو گھر لے جانے سے انکار کر دیا۔ ہسپتال میں بے سود تلاش کے بعد میں نے پولیس کو نومولود کی بازیابی کے لئے درخواست دی۔ منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں حشمت نامی شخص بتا رہا ہے کہ وہ دہہاڑی دار مزدور ہے اور بمشکل دو وقت کی روٹی کماتا ہے۔ میں تھانے کچہری کروں یا مزدوری۔ جبکہ ہم بیوی کو سرکاری ہسپتال اسی لئے لائے تھے کہ یہاں علاج سستا ہے لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ میرا نومولود بچہ اس طرح غائب کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب ترجمان ایل آر ایچ نے مذکورہ واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بیان جاری کیا کہ ایل آر ایچ لیبر روم سے نومولود بچے کے مبینہ اغوا کے معاملے کی پولیس تحقیقات کر رہی ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کو فراہم کر دی گئی ہے، تاہم متاثرہ خاندان نے ایف آئی آر درج نہیں کرائی۔ بچے کے مبینہ اغوا میں ملوث خاتون کو پولیس سی سی ٹی سی فوٹیج کی مدد سے ڈھونڈ رہی ہے۔

Address

Khyber Pakhtunkhwa

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Provincial Doctors Association posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share