Mann ki Baat

Mann ki Baat Deep thoughts• • Soft emotions • Social awareness• A journey of hearts,healing,and humanity �

ایمرجنسی کے دروازے صرف زخمی جسم نہیں دیکھتے، وہ ٹوٹتے ہوئے دل بھی دیکھتے ہیں۔آج جو قصہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، وہ ش...
18/07/2026

ایمرجنسی کے دروازے صرف زخمی جسم نہیں دیکھتے، وہ ٹوٹتے ہوئے دل بھی دیکھتے ہیں۔

آج جو قصہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، وہ شاید صرف میرا قصہ نہیں۔ شاید ہر تیسرے، چوتھے ڈاکٹر کی کہانی ہے۔ بلکہ ہر اُس نوجوان کی داستان ہے جو برسوں کی محنت کے بعد زندگی کے اُس مقام پر پہنچتا ہے جہاں وہ اپنے والدین کے خواب پورے کرنا چاہتا ہے، مگر قسمت اُس کے لیے کچھ اور لکھ چکی ہوتی ہے۔

ہم اپنی جوانی کتابوں، امتحانوں، ڈیوٹیوں اور اسپتالوں میں گزار دیتے ہیں۔ جب پچیس، تیس سال کی عمر میں جا کر ہم اس قابل ہوتے ہیں کہ اپنے والدین کے لیے آسانیاں پیدا کریں، ان کی خدمت کریں، ان کے چہروں پر فخر اور خوشی دیکھیں... تب اکثر اُن میں سے ایک، یا دونوں، اس دنیا سے جا چکے ہوتے ہیں۔

یہ وہ خلا ہے جو کبھی نہیں بھرتا۔

میرے والد صاحب کی ہمیشہ ایک خواہش تھی۔ وہ فرمایا کرتے تھے:

تمہارے نام کے ساتھ حافظ بھی لکھا جائے اور ڈاکٹر بھی۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے حافظِ قرآن بھی بنایا اور ڈاکٹر بھی۔ مگر جب ہاؤس جاب مکمل ہوئی، زندگی کا اصل سفر شروع ہونے والا تھا، تب میرے والد صاحب اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

آج الحمدللہ جنرل سرجری کی ٹریننگ اپنے اختتامی مراحل میں ہے۔ لوگ عزت دیتے ہیں، دعائیں دیتے ہیں، مریض اعتماد کرتے ہیں۔ مگر دل میں ایک حسرت آج بھی زندہ ہے...

کاش! آج میرے والد زندہ ہوتے۔
کاش! وہ یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھتے۔

کل ایمرجنسی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے برسوں پرانا درد پھر سے تازہ کر دیا۔

ایک سادہ سے بزرگ موٹر سائیکل پر جا رہے تھے۔ راستے میں ریڑھی کا بانس ان کے پیٹ میں لگا۔ چوٹ معمولی محسوس ہوئی، اس لیے گھر چلے گئے۔ دو دن درد برداشت کرتے رہے۔

ان کا ڈاکٹر بیٹا ہاؤس جاب کر رہا تھا۔ اس نے فون پر اصرار کیا کہ الٹراساؤنڈ کروائیں۔

رپورٹ دیکھی تو بیٹے کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔

انہیں فوری ہمارے اسپتال لایا گیا۔

سی ٹی اسکین میں معلوم ہوا کہ آنتوں کو خون پہنچانے والی بڑی شریانیں زخمی ہیں اور پیٹ کے اندر شدید نقصان ہو چکا ہے۔

فیصلہ ہوا کہ فوری آپریشن کیا جائے۔

مگر جب پیٹ کھولا گیا تو منظر رپورٹ سے بھی زیادہ خوفناک تھا۔

لبلبہ (Pancreas) بری طرح گل چکا تھا، اردگرد کے ٹشوز تباہ ہو چکے تھے۔ جو بچایا جا سکتا تھا، بچایا گیا، جو نکالنا ضروری تھا، نکالا گیا، اور مریض کو آئی سی یو منتقل کر دیا گیا۔

آپریشن کے بعد میں اُس کے بیٹے کے پاس بیٹھا۔

اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔

وہ آہستہ سے بولا:

سر! میں چھتیس گھنٹے کی ڈیوٹی کر کے سیدھا یہاں پہنچا ہوں۔ میں نے اپنی زندگی میں ہر مریض کو پوری توجہ دی ہے، صرف اس نیت سے کہ اگر کل میرے والدین کسی اسپتال میں مریض بن کر آئیں تو انہیں بھی کوئی ایسا ہی ڈاکٹر ملے، جیسا میں دوسروں کے لیے بننے کی کوشش کرتا ہوں۔

یہ الفاظ سن کر چند لمحوں کے لیے میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ پوری رات ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ مریض کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی دونوں ڈاکٹر ہیں۔ نہ کسی نے سفارش کروائی، نہ کسی سے فون کرایا، نہ کسی قسم کا دباؤ ڈالا۔ وہ ایک عام مریض کی طرح علاج کرواتے رہے۔

پھر وہ لمحہ آیا جب ہمیں اُس بیٹے کو اپنے والد کی اصل حالت بتانی پڑی۔

ہم نے اسے سمجھایا کہ چوٹ بہت شدید ہے، لبلبہ بری طرح متاثر ہے، آئندہ دن بہت مشکل ہو سکتے ہیں۔

سوچیے...

ایک ایسا بیٹا جس نے ابھی زندگی شروع ہی کی ہو۔

جس نے ابھی والد کے لیے سکون کے دن لانے ہوں۔

جس نے ابھی ان کا سہارا بننا ہو۔

اور اچانک اسے بتایا جائے کہ شاید اس کے والد اب زیادہ عرصہ اس کے ساتھ نہ رہ سکیں۔

اس لمحے پر انسان ڈاکٹر نہیں رہتا...

صرف ایک بیٹا رہ جاتا ہے۔

لوگ اکثر کہتے ہیں کہ ڈاکٹر اپنے والدین کو وقت نہیں دیتے۔

شاید یہ بات کسی حد تک درست بھی ہو۔

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہی ڈاکٹر کسی اور کے والدین کو بچانے کے لیے چھتیس، چھتیس گھنٹے جاگ رہا ہوتا ہے۔

ایمرجنسی صرف خون، آپریشن اور دواؤں کا نام نہیں۔

یہاں ہر بستر کے ساتھ ایک خاندان جڑا ہوتا ہے۔

ہر مریض کے پیچھے کسی کی پوری دنیا کھڑی ہوتی ہے۔

اور ہر ڈاکٹر کے دل میں بھی ایک ایسا درد ہوتا ہے، جسے وہ سفید کوٹ کے اندر خاموشی سے چھپا لیتا ہے۔

اگر آج آپ کے والدین آپ کے ساتھ ہیں تو ان کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی قدر کریں، ان کی دعائیں سمیٹ لیں۔

کیونکہ زندگی کی سب سے بڑی کامیابی عہدے، شہرت یا دولت نہیں...

سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ جن لوگوں نے آپ کے لیے خواب دیکھے، وہ آپ کی کامیابی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔.



.

11/07/2026

پہلا سجدہ اگر تم اُس کی چاہت میں کروگے ، تو دوسرے سجدے میں وہ تمہیں تمہاری چاہت سے نواز دے گا۔“


11/07/2026

Wohi Khuda hai...❣️
وہی خدا ہے۔۔۔❣️

میں نے ایم آر آئی اسکین کو دیکھا اور محسوس کیا کہ میرے جسم میں ایک سرد سا کرنٹ سا دوڑ گیا ھو جس کا ہسپتال کے ایئر کنڈیشننگ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ موت کی سزا تھی، جو سیاہ اور سفید میں چھپی ہوئی تھی۔

لوگ مجھے لیجنڈ کہتے ہیں۔ میں ڈاکٹر کاشف سلطان ہوں، برین سرجن اور بین الاقوامی نیوروسرجری فیڈریشن کا ایڈوائزر اور ملک کا ایک سرکردہ برین ٹراما اور آنکولوجیکل سرجن۔ میں نے انسانی جسم کے اندر پندرہ سال گزارے ہیں۔ میں انسانی دماغ کی شریانوں کا نقشہ لاھور کی گلیوں سے بہتر جانتا ہوں۔ میں نے اپنی ہتھیلیوں میں دھڑکتے دماغوں کو کئی دفعہ پکڑا ہے اور کئی بار خون کے بلیڈرز جو انسانی دماغ سے ابل کر چھت تک چھڑک رہے ہوتے ھیں انہیں اپنی انگلیوں کی پوروں میں قابو کر چکا ھوں۔ لیکن اس اسکین کو دیکھ کر، دہائیوں میں پہلی بار، میں ایک سرجن کی طرح محسوس نہیں ہوا بلکہ مجھے لگا میں ایک دھوکہ باز ھوں جو اور ایک جوا لگانا چاہتا ھوں۔

مریضہ سارہ تھی۔ وہ چھبیس سال کی تھی، اکیلی ماں صرف اپنی یتیم بچی کو پالنے کے لیے ڈبل شفٹ میں کام کرتی ہے اور اس رات کافی ڈالتے ہوئے وہ گر گئی تھی۔ اس کے دماغ میں ٹیومر صرف بڑا نہیں تھا۔ یہ ایک مونسٹر تھا. یہ اس کے دماغ کے تنے کے نازک ترین ڈھانچے کے گرد ایک پیچیدہ سانپ کی طرح لپٹا ہوا تھا۔

"یہ لاعلاج ہے سلطان یہ آپریشن کرنا ممکن ھی نہیں" چیف آف نیورالوجی نے سر ہلاتے ہوئے مجھے بتایا۔ "تم جب وہاں جاؤگے آپریشن کی میز پر اور اسے کھولو گے تب دماغ کی شریانوں سے اتنا خون بہہ رہا ھو گا کہ تمہیں آپریشن کی میز پر ھی مریض کو مرتا ھوا دیکھنا پڑے گا اسے چھوڑ دو، یہ چند دنوں یا ھفتوں میں ویسے بھی مر جائے گی کیونکہ سائنس کہتی ھے وہ کسی بھی طرح سے مر چکی ہے۔"
نیورو سرجری کے تربیتی نظام میں، ہمیں خطرات کا وزن کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ ہم ذمہ داری کے بارے میں، کامیابی کی شرح کے بارے میں، کسی سانحے کی پیروی کرنے والے مقدموں کے بارے میں فکر مند رھتے ھیں۔ منطق نے کہا: اس کو ہاتھ مت لگاؤ، فطرت کو اپنا راستہ اختیار کرنے دیں۔

لیکن پھر میں سارہ کی آنکھوں میں دیکھا۔ اور میں نے اس کی چھوٹی بچی کو دیکھا، جو بمشکل چار سال کی تھی، ویٹنگ روم میں ایک کتاب میں رنگ بھر رہی تھی، جو پرانے جوتے پہنے ہوئے تھی۔ اگر سارہ مر گئی تو وہ چھوٹی لڑکی سسٹم میں رل جائے گی۔ وہ اکیلی ہو جائے گی۔

میں نے انتظامیہ سے کہا کہ OR شیڈول کریں۔ میں نے ان سے کہا کہ میں کیس لے رہا ہوں۔ انہوں نے مجھے ایسے دیکھا جیسے میں پاگل ہوں۔ شاید میں تھا۔

سرجری سے ایک رات پہلے، میں لائٹس بند کرکے اپنے دفتر میں بیٹھا تھا۔ باہر شہر کا آسمان چمک رہا تھا، اندر کے توازن میں لٹکی زندگی سے بے نیاز۔ میں گھبرا گیا۔ میرے ہاتھ، عموماً پتھر کی طرح ساکت، ہلکے سے کانپ رہے تھے۔ میں نے آخری بار اسکینز کو دیکھا۔ کوئی واضح راستہ نہیں تھا۔ حملے کا کوئی زاویہ نہیں۔ یہ ایک خودکش مشن تھا۔
میں سائنس کا آدمی ہوں۔ میں سکیلپل، سیون اور بلڈ پریشر پر یقین رکھتا ہوں۔ لیکن اپنی میز پر، طبی جرائد کے ڈھیروں کے پیچھے چھپا ہوا، میں قرآنی اور نماز کا ایک چھوٹا سا پرت دار کارڈ رکھتا ہوں۔ میری والدہ نے یہ مجھے اس وقت دیا جب میں نے میڈیکل سکول شروع کیا۔ اس نے کہا، دوا جسم کا علاج کرتی ہے، لیکن اللہ انسان کو شفا دیتا ہے۔

میں نے سارہ کی فائل پر ہاتھ رکھا، قرآنی کارڈ اٹھایا اسے دیکھا، اور اندھیرے میں بولا۔

"اے اللہ" میں نے سرگوشی کی، میری آواز ٹوٹ گئی۔ "میرے ہاتھ اس کے لیے کافی نہیں ہیں۔ میں یہاں صرف ایک مکینک ہوں۔ کل صبح، تمہیں اندر آنا پڑے گا۔ تمہیں مجھے اپنے ہاتھ دینا ہوں گے اور تمہیں میرے دماغ میں عقل ڈالنی ہوگی۔ تمہیں سرجن بننا ہے۔"

اگلی صبح، آپریٹنگ روم منجمد تھا۔ ہوا تناؤ کے ساتھ گھنی تھی۔ نرسیں خاموشی سے چلی گئیں۔ اینستھیسیولوجسٹ میری آنکھوں سے آنکھیں نہیں ملا پا رھا ھو گا۔ ہر کوئی جانتا تھا کہ ہم ممکنہ طور پر ایک قتل عام میں جا رہے ہیں۔

ہم نے کھولا۔

یہ اسکینوں سے بھی بدتر تھا۔ بڑی سانپ نما ٹیومر کے اندر شریانیں غصے سے دھڑک رہی تھیں۔ ایک غلط سانس، ایک مائکروسکوپک تھرتھراہٹ، اور یہ ٹیومر کے بے قابو خون کے ساتھ پھٹ جائے گا اور دماغی خلیہ سے متعلق سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
میں مائیکرو کینچی کے استعمال تک پہنچ گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا۔ "موت کی وادی" کے دہانے تک جانے والا لمحہ۔

اور پھر، یہ ہوا.

کمرے میں خاموشی سی لگ رہی تھی۔ نہ صرف خاموشی، بلکہ مکمل ویکیوم سکوت۔ مانیٹر کی بیپ پس منظر میں مدھم پڑ گئی۔ ایک عجیب سی گرمی میرے کندھوں پر دھل رہی تھی، میرے بازوؤں کے نیچے اور میری انگلیوں میں بہتی تھی۔ یہ ایڈرینالین نہیں تھی۔ میں ایڈرینالائن کو جانتا ہوں — یہ دھندلا اور تیز ہے۔ یہ تھا... سکون مطلق، بھاری سکون۔

میرے ہاتھ ہلنے لگے۔

میں واضح بتانا چاہتا ہوں: میں انہیں نہیں ہلا رہا تھا۔ میں ان کی حرکت دیکھ رہا تھا۔

میں نے مشقیں کیں جو میں نے کبھی نہیں کی تھیں۔ میری انگلیاں اس رفتار اور درستگی کے ساتھ رقص کرتی ہیں جو میرے پاس کبھی نہیں تھی۔ میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے برین اسٹیم سے ٹیومر ٹشو ملی میٹرز کے فاصلے سے الگ کر رہا تھا۔ میں نے کلپس کو اندھی جگہوں پر رکھا جنہیں میں مکمل طور پر دیکھ بھی نہیں سکتا تھا، ایک ایسی طرف سے ہدایت کی گئی جگہ پر جو میری انتخاب شدہ نہیں تھی۔

"بلڈ پریشر مستحکم ہے،" اینستھیزیولوجسٹ نے چونک کر سرگوشی کی۔

میں نے جواب نہیں دیا۔ میں نہیں کر سکا۔ میں ایک ٹرانس میں تھا. ایسا لگا جیسے کوئی میرے پیچھے سیدھا کھڑا ہے، میری کہنیوں کی رہنمائی کر رہا ہے، میری کلائیوں کو مستحکم کر رہا ہے۔ میں نے اپنی موجودگی کو اتنا مضبوط، اتنا کمانڈنگ محسوس کیا کہ ایک لمحے کے لیے میں نے سوچا کہ ایک اور ڈاکٹر واقعی میز پر آ گیا ہے۔

سات گھنٹے بعد، میں نے آخری آلہ ٹرے میں ڈال دیا۔

"ٹیومر ختم ہو گیا ہے،" اور اسسٹنٹ کی آنکھوں میں دیکھے بغیر اسے کہا۔ "اسے بند کرو۔"

کمرہ گونج اٹھا۔ نرسیں رو رہی تھیں میرے اسسٹنٹ بے اعتباری سے مانیٹروں کو گھور رہے تھے۔

میں نے اپنا گاؤن اتارا اور اسکرب سنک کی طرف نکل گیا۔ میں نے آئینے میں دیکھا۔ عام طور پر، اس طرح کی سرجری کے بعد، میں تھک جاتا ہوں، پسینے میں بھیگ جاتا ہوں، میری کمر میں درد ہوتا ہے۔
میں خشک تھا۔ میں پرسکون تھا۔ میں بالکل نہیں تھکا تھا۔

میں نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا۔ انہوں نے آج ایک ماں کو بچایا تھا۔ انہوں نے ایک چھوٹی بچی کو یتیم ہونے سے بچایا تھا۔ لیکن مجھے حقیقت معلوم تھی۔

میں اپنے دفتر واپس چلا گیا، قرآن کا چھوٹا کارڈ اٹھایا اور اپنی جیب میں ڈالا۔

میں نے ایک ہفتے بعد ڈسچارج پیپرز پر دستخط کر دیئے۔ سارہ اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل گئی۔ اس نے میرا شکریہ ادا کیا، اس کے چہرے پر آنسو بہہ رہے تھے، مجھے ہیرو کہہ کر پکارا۔

میں نے مسکرا کر سر ہلایا۔ "میں نے یہ اکیلے نہیں کیا، سارہ،" میں نے اسے بتایا۔

اس نے سوچا کہ میری مراد میرے اسسٹنٹس کی ٹیم سے ہے۔
لیکن میں جانتا تھا کہ اس دن لیڈ سرجن کون تھا۔

Copied....

"انسانیت کا سب سے بڑا خادم — عبدالستار ایدھیؒ"                                                          آج ہسپتال میں ڈی...
10/07/2026

"انسانیت کا سب سے بڑا خادم — عبدالستار ایدھیؒ"
آج ہسپتال میں ڈیوٹی کرنے کے بعد جب آفیسر میس میں لنچ کرنے کے لیے بیٹھا ہی تھا کہ اک دم میری نظر سامنے لگی LCD screen پر پڑی جس پر اچانک عبد الستار ایدھی کا نام سنا اور میں وہیں بیٹھ گیا اور ساری خبر غور سے دیکھی تو پتہ چلا کہ
آج عظیم انسان دوست، دردِ دل رکھنے والے، بے سہارا انسانوں کے حقیقی مسیحا، عبدالستار ایدھیؒ کی دسویں برسی ہے۔ یہ دن ہمیں ایک ایسی عظیم شخصیت کی یاد دلاتا ہے جس نے اپنی پوری زندگی رنگ، نسل، مذہب اور زبان کی ہر تفریق سے بالاتر ہو کر صرف انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔

عبدالستار ایدھیؒ نے ثابت کیا کہ انسان کی اصل عظمت دولت، شہرت یا منصب میں نہیں بلکہ دوسروں کے دکھ درد بانٹنے میں ہے۔ انہوں نے یتیم بچوں کو گھر دیا، لاوارث لاشوں کو عزت کے ساتھ دفنایا، بیماروں کو علاج فراہم کیا، بے گھر افراد کو سہارا دیا، ایمبولینس سروس کو ایک عظیم فلاحی نظام میں تبدیل کیا اور لاکھوں ضرورت مندوں کے لیے امید کی کرن بن گئے۔

سادگی، اخلاص، دیانت اور بے لوث خدمت ان کی پہچان تھی۔ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں انسان دوستی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر نیت خالص ہو تو ایک فرد بھی پوری قوم کی تقدیر بدلنے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

آج ان کی دسویں برسی پر ہم انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عبدالستار ایدھیؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ہمیں بھی انسانیت کی خدمت، محبت، ہمدردی اور ایثار کے اسی جذبے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

"لوگ زندگی گزارتے ہیں، مگر کچھ لوگ اپنی خدمت سے ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں۔ عبدالستار ایدھیؒ انہی عظیم انسانوں میں سے ایک تھے۔"

اللہ تعالیٰ عبدالستار ایدھیؒ پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائ
゚viralシ

کچھ دن بے حد بھاری ہوتے ہیں، صبر یعقوب جیسے مصائب یوسف جیسے ، امید ابراہیم جیسے ، اور خواہش موسی جیسے ۔ لیکن پتہ ہے امید...
08/07/2026

کچھ دن بے حد بھاری ہوتے ہیں، صبر یعقوب جیسے مصائب یوسف جیسے ، امید ابراہیم جیسے ، اور خواہش موسی جیسے ۔ لیکن پتہ ہے امید اور صبر کے ساتھ کیا ہوا! یعقوب کو یوسف مل جاتے ہیں، یوسف کو مصر میں اقتدار مل جاتا ہے !

ابراہیم کو اسماعیل عطا کر دیا جاتا ہے اور موسیٰ کو پہاڑ پر اللہ مل جاتا ہے

08/07/2026

Someone is judging you right now.

Someone else is totally inspired by you.
Neither are paying your bills.
So just do what you want.❣️

07/07/2026




بیوی کے انتقال کے دن حامد
صاحب کی عمر صرف پینتالیس برس تھی۔
تعزیت کے لیے آنے والے ہر شخص نے ایک ہی مشورہ دیا۔
"حامد، ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے؟ دوسری شادی کر لو۔"
وہ ہر بار مسکرا دیتے، پھر اپنے
بارہ سالہ بیٹے عمار کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے، "
اللہ نے مجھے اس کی صورت میں میری بیوی کی آخری امانت دے دی ہے۔ اب میری باقی زندگی اسی امانت کی حفاظت ہے۔"

اس کے بعد انہوں نے واقعی اپنی زندگی بیٹے کے نام کر دی۔ کاروبار بڑھتا گیا، مگر ان کی دنیا سمٹ کر صرف ایک لڑکے کی مسکراہٹ رہ گئی۔ اپنی خواہشیں، اپنی تنہائیاں، اپنی راتیں... سب انہوں نے خاموشی سے دفن کر دیں۔

وقت نے پلٹا کھایا۔

عمار جوان ہوا، اعلیٰ تعلیم حاصل کی، اور ایک دن باپ نے سارا کاروبار اس کے حوالے کر دیا۔

"اب تم سنبھالو۔ میں تھک گیا ہوں۔"

لیکن تھکن جسم کی نہیں تھی... رشتے کی تھی، جسے وہ خود اپنے ہاتھوں آہستہ آہستہ پیچھے ہٹا رہے تھے۔

پھر عمار کی شادی ہو گئی۔

گھر میں نئی ہنسی آئی، نئے پردے لگے، فرنیچر بدلا، برتن بدلے، حتیٰ کہ باورچی خانے کی ترتیب بھی بدل گئی۔

اور حامد صاحب؟

وہ بھی بدل گئے۔

اب وہ کبھی دفتر میں بیٹھے رہتے، کبھی کسی پرانے دوست کی دکان پر چائے پیتے، اور شام ڈھلے صرف سونے کے لیے گھر لوٹتے۔ اپنے ہی گھر میں وہ ایسے چلتے جیسے کسی اور کے مکان میں مہمان ہوں۔

ایک دوپہر سب ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے تھے۔

حامد صاحب نے روٹی کا آخری نوالہ توڑتے ہوئے نرمی سے کہا،

"بیٹا... اگر ذرا سا دہی ہو تو دے دو۔"

باورچی خانے سے بہو کی آواز آئی،

"آج گھر میں دہی نہیں ہے، ابا جی۔"

"اچھا..." انہوں نے پانی کا گھونٹ لیا اور خاموشی سے اٹھ گئے۔

کسی نے ان کے چہرے پر نظر نہیں ڈالی۔

وہ حسبِ معمول واک کے لیے نکل گئے۔

ان کے جاتے ہی بہو نے فریج کھولا، ٹھنڈی دہی کی پیالی نکالی اور عمار کے سامنے رکھ دی۔

"گرمی بہت ہے، دہی کے بغیر تمہارا کھانا مکمل نہیں ہوتا۔"

عمار نے پیالی کی طرف دیکھا۔

پھر دروازے کی طرف، جہاں سے ابھی ابھی اس کے باپ کی آہستہ آہستہ دور ہوتی چپلوں کی آواز گم ہوئی تھی۔

اس نے ایک لمحے کو بیوی کی آنکھوں میں دیکھا۔

پھر خاموشی سے دہی کھا لی۔

اس نے کوئی جھگڑا نہیں کیا۔

کوئی نصیحت نہیں کی۔

صرف اس دن کے بعد اس کے اندر کچھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔

چند روز گزرے۔

ایک صبح اس نے والد سے کہا،

"ابا، آج دس بجے تیار رہیے گا۔ ہمیں کچہری جانا ہے۔"

"کیوں؟"

"آپ کی شادی ہے۔"

حامد صاحب کے ہاتھ سے اخبار پھسل گیا۔

"پاگل ہو گئے ہو؟ اس عمر میں؟ مجھے کسی شادی کی ضرورت نہیں۔ میں نے تو ساری زندگی تمہارے لیے گزاری ہے۔"

عمار نے پہلی بار باپ کی آنکھوں میں ویسے دیکھا جیسے ایک مرد دوسرے مرد کی قربانی کو پہچانتا ہے۔

"ابا... میں آپ کے لیے ماں نہیں لا رہا، نہ اپنی بیوی کے لیے ساس۔"

وہ رکا، پھر دھیرے سے بولا،

"میں صرف آپ کے لیے ایک پیالی دہی کا بندوبست کر رہا ہوں۔"

کمرے میں ایسی خاموشی اتری کہ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک بھی شرمندہ محسوس ہونے لگی۔

عمار نے جیب سے گھر کی چابی نکالی اور میز پر رکھ دی۔

"آج شام میں اور میری بیوی کرائے کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں منتقل ہو جائیں گے۔ کل سے میں آپ کے دفتر میں صرف ایک ملازم کی حیثیت سے آؤں گا، تنخواہ لوں گا... تاکہ جس گھر کی ہر چیز آپ نے ہمیں دے دی، وہاں رہنے والوں کو ایک پیالی دہی کی قیمت سمجھ آ جائے۔"

باورچی خانے میں کھڑی بہو کے ہاتھ سے شیشے کا گلاس چھوٹ کر فرش پر بکھر گیا۔

ٹوٹنے کی آواز معمولی تھی، مگر اس کے اندر برسوں سے جمی ہوئی خود غرضی میں ایک دراڑ پڑ چکی تھی۔

وہ لرزتے قدموں سے باہر آئی۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ فریج سے دہی کی وہی پیالی نکالی، جسے چند لمحے پہلے اس نے صرف اپنے شوہر کے لیے محفوظ رکھا تھا، اور خاموشی سے حامد صاحب کے سامنے رکھ دی۔

پھر ان کے قدموں میں بیٹھ گئی۔

"ابا جی... مجھے معاف کر دیجیے۔ آج سمجھ آئی ہے کہ میں نے آپ سے دہی نہیں، آپ کا حق چھینا تھا۔"

حامد صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، مگر ان کی آنکھوں میں ایسی نمی تھی جو صرف بڑھاپے کی تنہائی جانتی ہے۔
انہوں نے دھیرے سے کہا،
"بیٹی... بھوک روٹی نہ ملنے سے نہیں لگتی... بھوک اس دن لگتی ہے جب اپنے ہی گھر میں انسان کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اضافی ہے۔

عمار نے آگے بڑھ کر باپ کے ہاتھ تھام لیے۔
اس روز نہ کوئی عدالت گیا، نہ کوئی نکاح ہوا، نہ کوئی گھر بکھرا۔
صرف ایک دسترخوان پر بیٹھے تین لوگوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھنا سیکھ لیا۔
اور اس دن کے بعد اس گھر میں دہی کبھی ختم نہیں ہوئی.
رشتے روٹی سے نہیں نباے جاتتے، عزت سے نباہے جاتے ہیں؛ اور جس گھر میں بزرگ کی عزت کم ہو جائے، وہاں نعمتیں چاہے جتنی بھی ہوں، برکت خاموشی سے دروازہ چھوڑ جاتی ہے۔

02/07/2026

When Dr. Israr Ahmed said, .'
دکھاوا چاہے جتنا بھی اچھا ہو، اللہ تمہیں تمہاری نیت سے ہی جانے گا۔"
It healed something in me.💖

خاموش غازی پوریعمر  جلووں  میں بسر ہو یہ ضروری  تو نہیں ہر  شب غم کی سحر  ہو یہ  ضروری  تو نہیں چشم  ساقی  سے  پیو  یا  ...
01/07/2026

خاموش غازی پوری

عمر جلووں میں بسر ہو یہ ضروری تو نہیں
ہر شب غم کی سحر ہو یہ ضروری تو نہیں

چشم ساقی سے پیو یا لب ساغر سے پیو
بے خودی آٹھوں پہر ہو یہ ضروری تو نہیں

نیند تو درد کے بستر پہ بھی آ سکتی ھے
ان کی آغوش میں سر ہو یہ ضروری تو نہیں

شیخ کرتا تو ھے مسجد میں خدا کو سجدے
اس کے سجدوں میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیں

سب کی نظروں میں ہو ساقی یہ ضروری ھے مگر
سب پہ ساقی کی نظر ہو یہ ضروری تو نہیں

مے کشی کے لئیے خاموش بھری محفل میں
صرف خیام کا گھر ہو یہ ضروری تو نہیں

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mann ki Baat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed Health & Beauty Business?

Share