18/07/2026
ایمرجنسی کے دروازے صرف زخمی جسم نہیں دیکھتے، وہ ٹوٹتے ہوئے دل بھی دیکھتے ہیں۔
آج جو قصہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، وہ شاید صرف میرا قصہ نہیں۔ شاید ہر تیسرے، چوتھے ڈاکٹر کی کہانی ہے۔ بلکہ ہر اُس نوجوان کی داستان ہے جو برسوں کی محنت کے بعد زندگی کے اُس مقام پر پہنچتا ہے جہاں وہ اپنے والدین کے خواب پورے کرنا چاہتا ہے، مگر قسمت اُس کے لیے کچھ اور لکھ چکی ہوتی ہے۔
ہم اپنی جوانی کتابوں، امتحانوں، ڈیوٹیوں اور اسپتالوں میں گزار دیتے ہیں۔ جب پچیس، تیس سال کی عمر میں جا کر ہم اس قابل ہوتے ہیں کہ اپنے والدین کے لیے آسانیاں پیدا کریں، ان کی خدمت کریں، ان کے چہروں پر فخر اور خوشی دیکھیں... تب اکثر اُن میں سے ایک، یا دونوں، اس دنیا سے جا چکے ہوتے ہیں۔
یہ وہ خلا ہے جو کبھی نہیں بھرتا۔
میرے والد صاحب کی ہمیشہ ایک خواہش تھی۔ وہ فرمایا کرتے تھے:
تمہارے نام کے ساتھ حافظ بھی لکھا جائے اور ڈاکٹر بھی۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے حافظِ قرآن بھی بنایا اور ڈاکٹر بھی۔ مگر جب ہاؤس جاب مکمل ہوئی، زندگی کا اصل سفر شروع ہونے والا تھا، تب میرے والد صاحب اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
آج الحمدللہ جنرل سرجری کی ٹریننگ اپنے اختتامی مراحل میں ہے۔ لوگ عزت دیتے ہیں، دعائیں دیتے ہیں، مریض اعتماد کرتے ہیں۔ مگر دل میں ایک حسرت آج بھی زندہ ہے...
کاش! آج میرے والد زندہ ہوتے۔
کاش! وہ یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھتے۔
کل ایمرجنسی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے برسوں پرانا درد پھر سے تازہ کر دیا۔
ایک سادہ سے بزرگ موٹر سائیکل پر جا رہے تھے۔ راستے میں ریڑھی کا بانس ان کے پیٹ میں لگا۔ چوٹ معمولی محسوس ہوئی، اس لیے گھر چلے گئے۔ دو دن درد برداشت کرتے رہے۔
ان کا ڈاکٹر بیٹا ہاؤس جاب کر رہا تھا۔ اس نے فون پر اصرار کیا کہ الٹراساؤنڈ کروائیں۔
رپورٹ دیکھی تو بیٹے کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔
انہیں فوری ہمارے اسپتال لایا گیا۔
سی ٹی اسکین میں معلوم ہوا کہ آنتوں کو خون پہنچانے والی بڑی شریانیں زخمی ہیں اور پیٹ کے اندر شدید نقصان ہو چکا ہے۔
فیصلہ ہوا کہ فوری آپریشن کیا جائے۔
مگر جب پیٹ کھولا گیا تو منظر رپورٹ سے بھی زیادہ خوفناک تھا۔
لبلبہ (Pancreas) بری طرح گل چکا تھا، اردگرد کے ٹشوز تباہ ہو چکے تھے۔ جو بچایا جا سکتا تھا، بچایا گیا، جو نکالنا ضروری تھا، نکالا گیا، اور مریض کو آئی سی یو منتقل کر دیا گیا۔
آپریشن کے بعد میں اُس کے بیٹے کے پاس بیٹھا۔
اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔
وہ آہستہ سے بولا:
سر! میں چھتیس گھنٹے کی ڈیوٹی کر کے سیدھا یہاں پہنچا ہوں۔ میں نے اپنی زندگی میں ہر مریض کو پوری توجہ دی ہے، صرف اس نیت سے کہ اگر کل میرے والدین کسی اسپتال میں مریض بن کر آئیں تو انہیں بھی کوئی ایسا ہی ڈاکٹر ملے، جیسا میں دوسروں کے لیے بننے کی کوشش کرتا ہوں۔
یہ الفاظ سن کر چند لمحوں کے لیے میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ پوری رات ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ مریض کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی دونوں ڈاکٹر ہیں۔ نہ کسی نے سفارش کروائی، نہ کسی سے فون کرایا، نہ کسی قسم کا دباؤ ڈالا۔ وہ ایک عام مریض کی طرح علاج کرواتے رہے۔
پھر وہ لمحہ آیا جب ہمیں اُس بیٹے کو اپنے والد کی اصل حالت بتانی پڑی۔
ہم نے اسے سمجھایا کہ چوٹ بہت شدید ہے، لبلبہ بری طرح متاثر ہے، آئندہ دن بہت مشکل ہو سکتے ہیں۔
سوچیے...
ایک ایسا بیٹا جس نے ابھی زندگی شروع ہی کی ہو۔
جس نے ابھی والد کے لیے سکون کے دن لانے ہوں۔
جس نے ابھی ان کا سہارا بننا ہو۔
اور اچانک اسے بتایا جائے کہ شاید اس کے والد اب زیادہ عرصہ اس کے ساتھ نہ رہ سکیں۔
اس لمحے پر انسان ڈاکٹر نہیں رہتا...
صرف ایک بیٹا رہ جاتا ہے۔
لوگ اکثر کہتے ہیں کہ ڈاکٹر اپنے والدین کو وقت نہیں دیتے۔
شاید یہ بات کسی حد تک درست بھی ہو۔
لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہی ڈاکٹر کسی اور کے والدین کو بچانے کے لیے چھتیس، چھتیس گھنٹے جاگ رہا ہوتا ہے۔
ایمرجنسی صرف خون، آپریشن اور دواؤں کا نام نہیں۔
یہاں ہر بستر کے ساتھ ایک خاندان جڑا ہوتا ہے۔
ہر مریض کے پیچھے کسی کی پوری دنیا کھڑی ہوتی ہے۔
اور ہر ڈاکٹر کے دل میں بھی ایک ایسا درد ہوتا ہے، جسے وہ سفید کوٹ کے اندر خاموشی سے چھپا لیتا ہے۔
اگر آج آپ کے والدین آپ کے ساتھ ہیں تو ان کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی قدر کریں، ان کی دعائیں سمیٹ لیں۔
کیونکہ زندگی کی سب سے بڑی کامیابی عہدے، شہرت یا دولت نہیں...
سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ جن لوگوں نے آپ کے لیے خواب دیکھے، وہ آپ کی کامیابی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔.
.