14/06/2022
*کُمہار مَٹّی سے کُچھ بنا رہا تھا،*
کہ اُس کی بیوی نے پاس آ کر پُوچھا، کیا کر رہے ہو؟
👈کمہار بولا حُقَّہ (چِلَم) بنا رہا ہُوں، آج کل بہت بِک رہی ہے، کمائی اچھی ہو جائے گی.
👈بیوی نے جواب دیا کہ زِندگی کا مقصد صِرف کمائی کا ذریعہ ہی تَو نہیں، کُچھ اور بھی ہے،
*تُم میری مانو!*
👈آج صُراحی (گھڑا) بناؤ، گرمی ہے، وہ بھی خُوب بِکے گی، مگر! ساتھ ساتھ لوگوں کی پیاس بُجھانے کے کام بھی آئے گی
👈کمہار نے کُچھ سوچا، اور مَٹّی کو نئے رُوپ میں ڈھالنا شروع کیا، تَو اچانک مَٹّی نے پُوچھا، یہ کیا کر رہے ہو، میرا رُوپ بدل دیا، کیوں؟
👈کمہار نے جواب دیا، میری سوچ بدل گئی ہے، پہلے تُمہارے پَیٹ میں آگ بھر رہا تھا، اب پانی بھرے گا، اور مَخلُوقِ خُدا نفع حاصل کرے گی.
👈مٹی بولی، تُمہاری تَو صِرف سوچ بدلی ہے، میری تَو زِندگی بدل گئی ھے،
*مَیں تکلیف سے نِکل کر آسانی میں آگئی ہوں،*
👈آپ سوچ بدلئے زِندگی خُود بَخُود بدل جائے گی•
*مٹی کے بندے*