20/11/2020
#جنات کا اثر اور اصل حقیقت اور گھر بیٹھے علاج #
*السلام علیکم ورحمةاللہ برکاتہ*
اس دھرتی پر قدرت کاملہ نے بہت ساری مخلوقات کو پیدا فرمایا ہے انسان کے علاوہ جنات بھی اسی دنیا کا حصہ ہیں
بڑے بڑے قوی ہیکل دیو بھی اسی کائنات میں موجود ہیں
لیکن قدرت نے انسان کو ان سب پر فوقیت بخشی اور اسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا اور اس دنیا میں سب سے طاقتور ترین مخلوق انسان کو بنایا ہے یہ جنات سے کئ گنا زیادہ طاقتور ہے اسکا علم اسکی قوت اتنی زیادہ ہےکہ وہ کام جو جنات نہیں کرسکتے وہ کام یہ حضرت انسان پلک جھپکنے میں کر دکھاتا ہے
*واقعہ*
حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں جب ملکہ بلقیس کا تخت لانے کو کہا گیا تو ایک بہت طاقتور جن نے کہا کہ میں دربار کے برخاست ہونے تک وہ لےکر آجاؤنگا.
وہیں پر ایک شخص جنکا نام آصف بن برخیا بتایا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ میں پلک جھپکنے سے قبل ملکہ بلقیس کا تخت یہاں لے آؤنگا
اور دیکھتے ہی دیکھتے پلک جھپکنے سے پہلے وہ تخت وہاں موجود تھا
ان کے بارے قرآن کہتا ہےکہ وہ کتاب کا علم جانتا تھا
اللہ کے اسماء مبارکہ جو اسم اعظم میں سے ہیں ان کا عامل تھا اور اسنے انہی ناموں سے اللہ کو پکارا اور وہ تخت وہاں حاضر ہوگیا
یہ ہے حضرت انسان کی وہ چھپی ہوئی صلاحیت جس سے نہ آشنا ہیں
یقین کامل تو ایمان کامل کی یہ کھلی مثال ہے
دوسری طرف میں ایک بات سوچتا ہوں کہ یہ انسان جنات کو تسخیر کے اعمال کرتا دکھائی دیتا ہے کچھ دعوی بھی کردیتے ہیں کہ میرے قبضے میں جنات و مؤکلات ہیں
اور کچھ انسان اسی دوڑ دھوپ میں لگے نظر آتے ہیں کچھ جنات کو قابو کرنے کے وظائف میں مشغول ہیں
کیا ایک طاقتور ترین تیز تر مخلوق کا کسی اپنے سے کمزور کا سہارا تلاش کرنا اور اسکے لئے اپنا وقت ضائع کرنا مناسب عمل ہے?
جنات و شیاطین کی اوقات یہیں سے ظاہر ہوجاتی ہےکہ جب مسلمان کچھ کھانے یا پینے لگتا ہے اور بسم اللہ پڑھتا ہے تو جنات یا شیاطین اس کھانے کے قریب نہیں آسکتے تو کیا ہم اس بات کے پھر بھی اسیر ہوکر رہیں کہ جنات ہم سے طاقتور ہیں?
معاذاللہ بہت سے افراد نماز وظائف کے پابند ہونے کے باوجود کہتے ہیں ہمارے اوپر جنات کا سایہ ہے اور کچھ بابوں کے پیچھے بھاگتے ہیں کہ ہمیں بچالو
ایسا صرف اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ہمارے دماغ و اعصاب میں خوف موجود ہوتا ہے
اور ہم جنات کی بجاۓ خود اپنے خوف کے اسیر بنے رہتے ہیں ایسے لوگ زندگی بھر اس کا شکار رہتے ہیں اور جب مرجاتےہیں تو گھر والے اور محلے والے بھی کہہ دیتے ہیں کہ اسے جنات نے توڑ کر رکھ دیا
جنات قدرت کی ایک مخلوق ہے اور یہ انسان سے ڈرتے ہیں لیکن ہم اسے خود اپنے خواس پر حاوی کرلیتے ہیں
اسکا حل کیا ہوسکتا ہے کچھ طبی نقطہ نگاہ سے Psychology پہلو تلاش کریں?
اور کچھ دماغ و اعصاب کے دریچے کھولیں تاکہ یہ بات کھل کر سامنے آۓ
دماغ کی فزیالوجی کو کھولو اور دیکھو کہ اس خوف کا تعلق کس حصے سے ہے اگر اس پر کام کیاجاۓ تو کئ رازوں کی پنڈوکلی کھل جاۓگی
تصور بھی ایک طاقت ہے اسکا انکار بھی ممکن نہیں
فرض کریں ایک شخص کو میں کچھ وظائف بتاتا ھوں چاہے وہ میرے بطور آمائش خود ساختہ ہی کیوں نہ ہوں جیسے👇
کالی بلی کالا دیش کالی گھنٹی باجے مندر,
مندر کےاندر دو چار بندر
ہیں تو یہ میری خود ساختہ بکواسات 😂
لیکن کوئی مجھ جیسے بابے کو پکڑ کر کہتا ہے بابا جی کچھ اپنی بساط سے ہمیں سکھا دو
میں اسے یہی الفاظ سکھاتا ہوں اور ساتھ کہہ دیتا ہوں خیال کرنا دوران پڑھائی بہت ڈراؤنی شکلیں نظر آتی ہیں بعض اوقات یہ مارتی بھی ہیں اور بندہ ڈر جاۓ تو یا پاگل ہوجاتا ہے یا مر جاتا ہے 😩
اگر وہ اتفاق سے پڑھائی شروع کردیتا ہے اور دوچار دن بعد دوران پڑھائی اسے کوئی ویسے ہی جھٹکا لگ گیا تو بندہ گیا 😂
گویا خوف میں نے پہلےہی اسکے ذہن میں ٹپکادیا
آج ان شاءاللہ دماغ کے اس حصےکو کھولتے ہیں جہاں یہ خوف اپنی پناہ گاہ بناتا ہے
جنات کی تخلیق خالق کائنات نے آگ اور انسان کی تخلیق خاک سے فرمائی
اس کائنات میں آگ جتنی بھی چیزوں کو جلا سکتی جلا کر راکھ بھسم کی صورت میں خاک ہی بنا دیتی ہے مگر ہزاروں سال سال تپتی دوھوپ نے زمین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکی
اسی طرح روز مرہ ہم اپنے آس پاس مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ جلتی آگ کبھی زمین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی سوائے معمولی رنگی تغیر کے
بلکہ جلتے آگ پر مٹی ڈالی جائے تو آگ اپنے وجود کو بھی برقرار نہیں رکھ سکتی
آگے آپ خود سوچیں کہ جنات انسان پر کیسے حاوی ہو سکتے ہیں ۔
بلکہ یہ عامل حضرات اصل میں جنات کو قابو نہیں کرتے بلکہ ازخود اپنے آپ کو جنات کے حوالے کر دیتے ہیں
یہ صرف ایک خوف ہے جو بچپن سے ہمارے ذہنوں میں ودیعت ھوا
جیسے ہم نے اپنے گھروں میں دادا ,دادی یا نانی نانا سے جناتی کہانیاں سن رکھی ہیں یا ہمارا معاشرہ ہی اسکا شکار ہے
جیسے ایک بچہ گھر میں بہت شرارتی ہے ہم ڈرانے یا شرارتوں سے بعض رکھنے کیلئے اسے ڈراتے ہیں بھوت آیا
یا جیسے بچہ روتا ہو اور ہم کہیں چپ ہوجا ورنہجن اٹھا کر لےجاۓگا
یہ وہ چیزیں ہیں جن سے ہمارے دماغ پیدائشی طور پر متاثر ہوجاتے ہیں
یہی چیز دماغ میں اپنا بسیرا کرلیتی ہے پھر انکو قبض سے دماغ بھاری ہوگا تو یہ کہینگے کہ جن چڑھ گیاہے
خوف انسانوں کے علاوہ پرندوں اور حیوانوں میں بھی پایا جاتاہے یہ قدرتی چیز ہے جیسے ہم کسی پرندے کو پکڑنے بھاگیں تو اپنی جگہ سے اڑ کر بھاگتا ہے اور ہاتھ نہیں آتا
گویا اسے دماغی طور پر ایک خوف ہے جیسے یہ مجھے پکڑےگا تو مار ڈالےگا
جبکہ ہمارے پالتو جانور یا پرندے جیسے طوطا, کبوتر ,باز اور اسی طرح دیگر جانور اب چونکہ انکی پرورش اور رہن سہن ہمارے ساتھ ہی ہوتا ہے اسلئے وہ بےخوف ہوتےہیں طوطا ہمارے ہاتھ پر آکر بیٹھ جاتا ہے جب ہم اسے اشارہ کرتے ہیں یا انگلی اسکی طرف کرتے ہیں جبکہ ایک جنگل میں رہنےوالا طوطا آپ کو اسطرح کرتے دیکھ کر فوری طور پر اڑ جاۓگا
ایک بات اور بیان کردوں کہ جناتی اثرات کا ہونا یا جادو کا اثر انداز ہونا ہم اسکا انکار نہیں کرسکتے شریعت ہمیں اسکا واضح ثبوت دےرہی ہے
لیکن شریعت مطاہرہ ہمیں اسکے بارے بھی آگاہ کر رہی ہے کہ جنات انسان سے ڈرتے تھے جہاں انسان کا بسیرا ہوجاتا وہاں سے یہ لوگ بھاگ جایا کرتے تھے
پھر یہ ہم پر حاوی کس طرح ہونے لگے?
اسکا ثبوت بھی شریعت سے ملتا ہے کہ جب انسان نے جنگلات میں سوتے وقت جنات کو پکارا کہ اس مقام کے سردار جناتو ہماری رات کو حفاظت کرنا
یہی وہ پہلو ہے جس سے جنات نے ہماری کمزوری کو پکڑا اور حاوی ہوگیا
دراصل جنات انسانوں سے ڈرا کرتے تھے جیسے کہ انسان جنوں سے بلکہ اس سے بھی زیادہ یہاں تک کہ جس جنگل بیابان میں انسان جا پہنچتا تھا وہاں سے جنات بھاگ کھڑے ہوتے تھے لیکن جب سے اہل شرک نے خود ان سے پناہ مانگنی شروع کی اور کہنے لگے کہ اس وادی کے سردار جن کی پناہ میں ہم آتے ہیں اس سے کہ ہمیں ہماری اولاد و مال کو کوئی ضرر نہ پہنچے، اب جنوں نے سمجھا کہ یہ تو خود ہم سے ڈرتے ہیں تو ان کی جرات بڑھ گئی اور اب طرح طرح سے ڈرانا ستانا اور چھیڑنا انہوں نے شروع کیا، وہ گناہ، خوف، طغیانی اور سرکشی میں اور بڑھ گئے۔
کردم بن ابوسائب انصاری کہتے ہیں میں اپنے والد کے ہمراہ مدینہ سے کسی کام کے لیے باہر نکلا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہو چکی تھی اور مکہ شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت پیغمبر ظاہر ہو چکے تھے رات کے وقت ہم ایک چرواہے کے پاس جنگل میں ٹھہر گئے آدھی رات کے وقت ایک بھیڑیا آیا اور بکری اٹھا کر لے بھاگا، چرواہا اس کے پیچھے دوڑا اور پکار کر کہنے لگا ”اے اس جنگل کے آباد رکھنے والے تیری پناہ میں آیا ہوا ایک شخص لٹ گیا“، ساتھ ہی ایک آواز آئی حالانکہ کوئی شخص نظر نہ آتا تھا کہ اے بھیڑیئے اس بکری کو چھوڑ دے، تھوڑی دیر میں ہم نے دیکھا کہ وہی بکری بھاگی بھاگی آئی اور ریوڑ میں مل گئی اسے زخم بھی نہیں لگا تھا یہی بیان اس آیت میں ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ میں اتری کہ ” بعض لوگ جنات کی پناہ مانگا کرتے تھے “۔ [طبرانی کبیر:191/19،قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]
ممکن ہے کہ یہ بھیڑیا بن کر آنے والا بھی جن ہی ہو اور بکری کے بچے کو پکڑ کر لے گیا ہو اور چرواہے کی اس دہائی پر چھوڑ دیا ہو تاکہ چرواہے کو اور پھر اس کی بات سن کر اوروں کو اس بات کا یقین کامل ہو جائے کہ جنات کی پناہ میں آ جانے سے نقصانات سے محفوظ رہتے ہیں اور پھر اس عقیدے کے باعث وہ اور گمراہ ہوں اور اللہ کے دین سے خارج ہو جائیں۔
شیطان کو شر یہاں تک کام کرتا ہے کہ جب نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم جماعت سے نماز کیلئے سب کو صف بندی کا حکم دیتے تو فرماتے کہ کندھےسے کندھا جوڑکر کھڑےہوں اگر درمیان میں خلا رہا تو شیطان داخل ہوکر وسوسے ڈالےگا
ہم اسکا انکار نہیں کرینگے کہ جنات و شیاطین کا شر کام نہیں کرتاورنہ
اعوذ بااللہ من الشیطان الرجیم
پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کی شیطان مردود کے شر سے
گویا اس بات کا ثبوت ہےکہ شیطان کا شر بہت خطرناک ہے
اعوذباللہ من الشیطان الرجیم
اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شیطان کا شر اتنا طاقتور ہےکہ اسکےشر سے پناہ صرف کی مدد طلب کرنے میں ہے
بیماری اور جنات کی حقیقت
*تبخیر*
یعنی وہ بیماری جو کھانا کھانے کے بعد جب معدے میں حرارت کی کیفیت ہوتی ہے تو خلوۓ معدہ سے بخارات دماغ کی جانب چڑھتے ہیں اسے تبخیر معدہ کہا جاتا ہے جسکا دائرہ امعاء تک جاتا ہےیہی تبخیر معدہ سے بننےوالی گیسز (کاربن) جب دماغی پردوں سے ٹکراتی ہے تو انہیں شدید متاثر کرتی ہے یہی تبخیر اگر اعصابی تحریک میں ہوگی تو ایسا تبخیری بہت جلد موت, جادو, جنات کے خوف میں مبتلہ ہوجاتا ہے
اور جب رطوبات متعفن ہوکر یہ عضلاتی ہوجائیں تو پھر اللہ کی پناہ
یہاں ایک کلیہ یاد رکھیں کہ جب بلغم جلتی ہے تو سودا میں تبدیل ہوجاتی ہے
تبحیری کی یہ تبدیلی وسوسے, تہمات ,وہم, جنات سوتے میں ڈر جانا, اچانک ہڑ بڑا کر اٹھ جانا ایسے مریض سےاللہ کی پناہ
گھر بھر کو گالیاں, معالج کی ماں بہن ایک کرے گا پھر جادو کے چکر میں پڑ کر یا جناتی اثر مان کر بابوں سے رجوع کرےگا آخر ان بابوں کی بھی ایسی تیسی پھیر دیتا ہے
اور یہ بابے بھی کم نہیں یہ خود زبردست تبخیری ہوتےہیں انکے پیٹ بڑھ جاتے ہیں کاربن دماغ پر چڑھتا ہے تو اپنے آپ کو ھوا میں آڑتا محسوس کرتے ہیں
بھونڈی بھونڈی اشکال انکو دکھائی دیتی ہیں أنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے یہ خود شکل سے خوفناک دکھائی دیتے ہیں کمزور عقائد والے سمجھتے ہیں شاید بابا جلالی جی سرکار ہیں اس لئے شکل ہی بھیڑی ہے🤣
جنات کو قدرت نے آگ سے بنایا ہے اور دیکھیں یہ آگ سے ہی ڈرتا ہے جیسے انسان ماٹی کا ایک پتلا ہے لیکن اسے کسی کچی مٹی کا ڈھیلا اٹھا کر ڈرایا جاۓ تو یہ اس سے بھی ڈر کر دوڑ لگادےگا کہ کہیں میرا سر ہی نہ پھٹ جاۓ
اسی طرح جنات کا وجود آگ سے تمیر ضرور ہوا ہے لیکن آگ سے ہی ڈرتا ہے
جنات اپنا مسکن ہمیشہ ٹھنڈ میں بناتے ہیں جیسے پانی والی جگہیں یا ٹھنڈ والی جگہیں
لیٹرین میں شیطان قسم کے جنات جو گندی جگہوں میں رہتے ہیں یہ بھی ٹھنڈ میں ہی رہائش پزیر ہوتےہیں
یاد رکھیں جب بندے کے معدے میں بننے والا تعفن رطوبات یا سودا جوکہ تاثیر کے اعتبار سے ٹھنڈ ہی ہے ایسی ٹھنڈک بھرے جسم و معدہ و امعاء جہاں قبض سے بدبو پھیلی ہو وہاں یہ اپنا شر مچادیتے ہیں جسکی وجہ سے دماغ میں ہلچل پیدا ہوجاتی ہے
ایسے میں ہمارےعضلاتی غدی, غدی عضلاتی مرکبات اس جادو و جنات کے اخراج میں زبردست ثابت ہوتے ہیں