14/07/2025
زندگی میں عرو ج و زوال معمول ہے اور مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی بہوسلطانہ بیگم اپنے شوہر کے انتقال کے بعد سڑک کنارے چائے کا کھوکھا لگانے پر مجبور ہوگئی تھیں لیکن پھر سڑک بننے کی وجہ سے وہ جگہ بھی چھوڑنا پڑی، یہ کہانی انہوں نے خود اپنی ایک ویڈیو میں بتائی ۔
سلطانہ بیگم کا کہناتھاکہ 1980ءشوہر کا انتقال ہو ا تو 6 بچوں کےساتھ بہت پریشان تھی، پیٹ بھرنے کے لیے کچھ نہیں تھا، گھر بیٹھے بہت مزدوری کی ، روٹیاں بنا کردیں، آٹا دال چاول بنایا، چوڑی بنانا شروع کی،لیکن آمدن اتنی نہیں تھی کہ گزارا ہوسکے،پھر فٹ پاتھ پر چائے کی دکان (کھوکھا)لگالی لیکن جگہ پرقانونی حق نہیں تھا، سڑک نکلی تو سرکاری جگہ چھوڑنا پڑی، کپڑے کے کاروبار کا سوچا، اس میں بھی نقصان ہوگیا،موتی پرونےکا کام کیا، بچوں کے لیے سب کچھ کیا،اس طرح سے زندگی گزاردی۔
ان کا مزید کہناتھاکہ اماں بریڈ دیتی تو بچوں کو کہتی کہ پانی میں بھگو کر کھالیں اور پانی پی لیں، کئی بار اپنے گھر اور پنشن میں اضافے کے لیے سرکار کود رخواست کی، غداروں کو بہت کچھ ملا لیکن وفاد ار کے خاندان کو صرف اڑھائی سو روپے پنشن ملی ، پھر 400 روپے ہوگئی جو 29سال لی ۔ پھر 2010سے6 ہزار پنشن ہوگئی، کرائے کے مکان میں رہ کر، بیماری کی حالت میں اس رقم سے گزارا نہیں ہوسکتا، افسوس کی بات ہے، ہماراخاندان بہت اعلیٰ ہے لیکن نصیب شاید اعلیٰ نہیں تھا۔
Source: Daily Pakistan