19/04/2026
ایک تھا توقیر…
تحریر شازیہ رؤف
یہ کہانی صرف ایک شخص کی نہیں… یہ ہم سب کی ہے۔
میرے ایک عزیز تھے، توقیر… جو تقریباً نو سال پہلے لاپتہ ہو گئے۔ ماں کی وفات کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے اور یہ ڈپریشن اتنی شدت اختیار کر گیا کہ ذہنی بیماری میں بدل گیا۔ اور ایک دن وہ بغیر کچھ بتائے گھر سے کہیں چلے گئے۔
شروع میں گھر والوں نے ہر ممکن کوشش کی۔ پولیس سے بھی رابطہ کیا۔ در در کی خاک چھانی، ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک بے بس باپ اپنے بیٹے کی تصویر ہاتھ میں لیے بازاروں، ویران جگہوں، پلوں کے نیچے سوئے ہوئے لوگوں، حتیٰ کہ سڑک کنارے کھڑے مزدوروں کی قطاروں میں بھی اپنے بیٹے کو ڈھونڈتا رہا… مگر ہر کوشش بے سود۔
وقت گزرتا گیا۔ تھک ہار کر گھر والوں نے اسے اللہ کی رضا سمجھ کر صبر کا گھونٹ بھر لیا، اور زندگی اپنے راستے چل پڑی۔ اس اثنا میں خاندان راولپنڈی سے میرپور منتقل ہو گیا۔
اور پھر… ایک دن اچانک۔
توقیر کی بہن کو ایک کال موصول ہوتی ہے۔ ساتھ ایک تصویر بھیجی جاتی ہے، شناخت کے لیے۔
وہ تصویر کراچی کے ایدھی ہسپتال کے سرد خانے میں موجود ایک لاوارث لاش کی تھی۔
پوچھنے پر معلوم ہوا کہ توقیر کئی سال تک ایدھی کے مختلف مراکز میں رہا۔ کبھی پنڈی، کبھی ملتان، اور پھر کراچی۔ جہاں وہ پچھلے کئی سالوں سے تھا، اور آخرکار وہیں اس کی زندگی ختم ہو گئی۔
توقیر کی موت کے بعد "پاسبان" والوں نے اس کے فنگر پرنٹس لیے۔ نادرا کا بائیومیٹرک سسٹم استعمال ہوا، پولیس اور متعلقہ ادارے متحرک ہوئے… اور یوں نو سال بعد توقیر کی شناخت مکمل ہوئی۔
سوچیے…
نو سال بعد ایک انسان “اپنے گھر” پہنچتا ہے… مگر تابوت میں۔
یہ سن کر دل کو ایک عجیب سی تسلی بھی ملی کہ ہمارے پاس ایسا جدید نظام موجود ہے جو لاوارث انسانوں کو پہچان کر ان کے وارثین تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن یہ سوال دل چیرتا ہے کہ انکی زندگی میں کیوں نہیں… موت کے بعد کیوں؟
پاسبان والوں سے جب پوچھا گیا کہ یہ سب پہلے کیوں نہیں کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ ہم صرف ڈیڈ باڈیز کے فنگر پرنٹس لے کر ان کے وارثین کی تلاش کرتے ہیں۔
یا خدا… ہم آخر کس بے حسی کے دور میں جی رہے ہیں؟
اگر یہی شناختی نظام، یہی ڈیٹا، یہی ادارہ جاتی رابطہ اُس وقت فعال ہوتا جب وہ سانس لے رہا تھا…
تو شاید آج وہ گھر میں ہوتا۔
اپنے باپ کے سامنے بیٹھا ہوتا۔
اور یہ کہانی کسی اور انداز میں لکھی جاتی۔
یہ صرف توقیر کی کہانی نہیں…
یہ اُن ہزاروں لوگوں کی کہانی ہے جو آج بھی لاوارث ہیں… بے نام، بے شناخت، بے گھر۔
اور اُن کے گھر والے آج بھی دروازہ دیکھتے ہیں… شاید کسی دن کوئی خبر آ جائے۔
کیا ہم صرف مرنے کے بعد شناخت دینے والا معاشرہ ہیں؟
ایدھی فاؤنڈیشن اپنی حد سے بڑھ کر انسانیت کا فرض نبھا رہی ہے۔ بہت سے توقیر جو ہماری بے حسی کی وجہ سے آج بے توقیر ہو کر ایدھی کے سرد خانوں میں پڑے ہیں۔ ایدھی نہ سنبھالے تو ہماری سڑکیں، نالے اور گلیاں ان کی سڑن شدہ لاشوں سے بھری پڑی ہوں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ریاست کہاں ہے؟
یہ صرف ایدھی کی ذمہ داری نہیں ہو سکتی۔ ایک فلاحی ادارہ اپنی طاقت سے بڑھ کر کام کر رہا ہے، مگر ایک مکمل ریاستی نظام کے ہوتے ہوئے یہ بوجھ چند ہاتھوں پر کیوں ہے؟
کیا ریاستی سرپرستی میں نادرا، پولیس، ہسپتال اور سوشل ویلفیئر کا ایک مربوط نظام نہیں بنایا جا سکتا تاکہ ان لاوارثوں کے فنگر پرنٹس لے کر انہیں ان کے پیاروں تک زندگی میں ہی پہنچایا جا سکے؟ اگر اتنا بھی نہیں تو پھر ایسے نظام کو بھی ایدھی کے کسی
سرد خانے میں رکھے ایک تابوت میں ہونا چاہیے۔
👉 یہ صرف ایک کہانی نہیں… ایک آواز ہے۔اسے آگے پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
Shazia Rauf