16/05/2026
"سبحان اللہ! قصور حکومت کا ہے"
ہمارے معاشرے میں "نیکی" ایک ایسا لبادہ ہے جسے ہر شخص نے اپنی سہولت کے مطابق اوڑھ رکھا ہے۔ یہاں ہر گلی، ہر موڑ پر آپ کو ایسے "مخلص" لوگ ملیں گے جو دن بھر انسانیت کا لہو پیتے ہیں اور شام کو ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ملکی معیشت پر مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں۔
اس معاشرے کے قصائی کے ترازو میں گوشت کم اور پانی زیادہ ہوتا ہے، تاکہ وزن کے ساتھ ساتھ اس کا "ایمان" بھی بھاری رہے۔ سنار کے ہاں سونا اتنا خالص ہوتا ہے کہ اس میں تانبے کی ملاوٹ ڈھونڈنے کے لیے خوردبین کی ضرورت پڑتی ہے۔ دودھ فروش تو اتنے مخیر ہیں کہ بچوں کو صرف دودھ نہیں بلکہ "زہریلے کیمیکلز" کا ایسا کاک ٹیل پلاتے ہیں کہ بچہ عمر بھر کے لیے "فولادی" بن جائے۔
قانون کے رکھوالوں کا حال تو اور بھی نرالا ہے۔ پولیس والا کسی غریب کو دس سال کے لیے جیل بھیج کر اتنی ہی سکون کی نیند سوتا ہے جتنی سکون سے ایک وکیل کسی نامی گرامی قاتل یا ملاوٹ خور کو "باعزت" بری کروا کر اپنی فیس گنتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک انسانی جسم ایک مشین نہیں بلکہ "کیش مشین" ہے، جہاں نزلہ زکام کا علاج بھی ایک بڑے آپریشن کے بغیر ناممکن ہے۔
سرکاری دفاتر میں آفیسر صاحب کی تسبیح تب تک نہیں گھومتی جب تک "فائل کے پہیوں" کو رشوت کا تیل نہ لگایا جائے، اور ٹھیکیدار صاحب ایسی عمارتیں بناتے ہیں جو صرف اللہ کے سہارے کھڑی ہوتی ہیں کیونکہ سیمنٹ تو وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے بچا لیتے ہیں۔ سیاستدان کا تو مشغلہ ہی یہی ہے کہ کسی ایماندار شخص پر جھوٹے الزامات لگا کر اسے جیل پہنچائے تاکہ اس کی اپنی "دکان" چمکتی رہے۔
کھانے پینے کے مراکز "شفا خانوں" کے بجائے "بیمارستان" بن چکے ہیں۔ ہوٹل والے غیر معیاری کھانوں سے اور برگر شوارما والے مردہ جانوروں کے گوشت سے لوگوں کے معدوں میں "انقلاب" لاتے ہیں۔ رہی بات حاجی صاحب کی، تو وہ فلاحی کاموں کے چندے سے اپنے بنگلے کی بنیادیں اتنی مضبوط کرتے ہیں کہ غریبوں کی دعائیں بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔
میڈیسن کمپنیاں اور ڈاکٹرز کا گٹھ جوڑ مریض کی جیب خالی کرنے کا فن خوب جانتا ہے، جبکہ سکول مالکان تعلیم کے بجائے یونیفارم اور کتابوں کے بیوپاری بن چکے ہیں جہاں انڈر میٹرک سٹاف بچوں کو "اعلیٰ تعلیم" کے خواب دکھاتا ہے۔ فیکٹری مالکان مزدوروں کا خون نچوڑ کر اپنی دولت بڑھاتے ہیں اور مکینک صاحب ایک چھوٹے سے پیج کو "انجن کی تبدیلی" بتا کر گاہک کی جیب صاف کر دیتے ہیں۔
لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ یہ تمام "مقدس ہستیاں" رات کو جب بیٹھتی ہیں تو ایک ہی بیانیہ ہوتا ہے:
"بھئی! پاکستان ترقی نہیں کر سکتا، یہاں کی حکومت کو تو سیاست ہی نہیں آتی۔ یہ فوج بیرکوں میں کیوں نہیں رہتی؟ اسے سیاست میں آنے کا کیا شوق ہے؟"
سچ تو یہ ہے کہ جس معاشرے میں قربانی کے بکرے کے سینگ "ایلفی" سے جڑے ہوں، وہاں اخلاقیات کے جنازے ہی اٹھتے ہیں۔ ہم سب اپنی اپنی جگہ "حاجی صاحب" اور "چودھری صاحب" بنے بیٹھے ہیں، مگر ڈھونڈ رہے ہیں کہ ملک کو کوئی "عمر بن عبدالعزیز" مل جائے جو ہماری ان تمام چوریوں کو تحفظ بھی دے اور ملک کو ترقی کی راہ پر بھی ڈال دے۔
تحریر محمد ساجد یعقوب
#قربانی #اسلام