islamic Videos

islamic Videos ISLAMIC VIDEOS

یار میرے نے تحفہ کلیا ، کابل دی کستوری 💕 جد میں کھولاں ہُلے آون ، جد میں تولاں پوری
24/05/2026

یار میرے نے تحفہ کلیا ، کابل دی کستوری 💕
جد میں کھولاں ہُلے آون ، جد میں تولاں پوری

"سبحان اللہ! قصور حکومت کا ہے"ہمارے معاشرے میں "نیکی" ایک ایسا لبادہ ہے جسے ہر شخص نے اپنی سہولت کے مطابق اوڑھ رکھا ہے۔ ...
16/05/2026

"سبحان اللہ! قصور حکومت کا ہے"

ہمارے معاشرے میں "نیکی" ایک ایسا لبادہ ہے جسے ہر شخص نے اپنی سہولت کے مطابق اوڑھ رکھا ہے۔ یہاں ہر گلی، ہر موڑ پر آپ کو ایسے "مخلص" لوگ ملیں گے جو دن بھر انسانیت کا لہو پیتے ہیں اور شام کو ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ملکی معیشت پر مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں۔

اس معاشرے کے قصائی کے ترازو میں گوشت کم اور پانی زیادہ ہوتا ہے، تاکہ وزن کے ساتھ ساتھ اس کا "ایمان" بھی بھاری رہے۔ سنار کے ہاں سونا اتنا خالص ہوتا ہے کہ اس میں تانبے کی ملاوٹ ڈھونڈنے کے لیے خوردبین کی ضرورت پڑتی ہے۔ دودھ فروش تو اتنے مخیر ہیں کہ بچوں کو صرف دودھ نہیں بلکہ "زہریلے کیمیکلز" کا ایسا کاک ٹیل پلاتے ہیں کہ بچہ عمر بھر کے لیے "فولادی" بن جائے۔

قانون کے رکھوالوں کا حال تو اور بھی نرالا ہے۔ پولیس والا کسی غریب کو دس سال کے لیے جیل بھیج کر اتنی ہی سکون کی نیند سوتا ہے جتنی سکون سے ایک وکیل کسی نامی گرامی قاتل یا ملاوٹ خور کو "باعزت" بری کروا کر اپنی فیس گنتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک انسانی جسم ایک مشین نہیں بلکہ "کیش مشین" ہے، جہاں نزلہ زکام کا علاج بھی ایک بڑے آپریشن کے بغیر ناممکن ہے۔

سرکاری دفاتر میں آفیسر صاحب کی تسبیح تب تک نہیں گھومتی جب تک "فائل کے پہیوں" کو رشوت کا تیل نہ لگایا جائے، اور ٹھیکیدار صاحب ایسی عمارتیں بناتے ہیں جو صرف اللہ کے سہارے کھڑی ہوتی ہیں کیونکہ سیمنٹ تو وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے بچا لیتے ہیں۔ سیاستدان کا تو مشغلہ ہی یہی ہے کہ کسی ایماندار شخص پر جھوٹے الزامات لگا کر اسے جیل پہنچائے تاکہ اس کی اپنی "دکان" چمکتی رہے۔

کھانے پینے کے مراکز "شفا خانوں" کے بجائے "بیمارستان" بن چکے ہیں۔ ہوٹل والے غیر معیاری کھانوں سے اور برگر شوارما والے مردہ جانوروں کے گوشت سے لوگوں کے معدوں میں "انقلاب" لاتے ہیں۔ رہی بات حاجی صاحب کی، تو وہ فلاحی کاموں کے چندے سے اپنے بنگلے کی بنیادیں اتنی مضبوط کرتے ہیں کہ غریبوں کی دعائیں بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔

میڈیسن کمپنیاں اور ڈاکٹرز کا گٹھ جوڑ مریض کی جیب خالی کرنے کا فن خوب جانتا ہے، جبکہ سکول مالکان تعلیم کے بجائے یونیفارم اور کتابوں کے بیوپاری بن چکے ہیں جہاں انڈر میٹرک سٹاف بچوں کو "اعلیٰ تعلیم" کے خواب دکھاتا ہے۔ فیکٹری مالکان مزدوروں کا خون نچوڑ کر اپنی دولت بڑھاتے ہیں اور مکینک صاحب ایک چھوٹے سے پیج کو "انجن کی تبدیلی" بتا کر گاہک کی جیب صاف کر دیتے ہیں۔

لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ یہ تمام "مقدس ہستیاں" رات کو جب بیٹھتی ہیں تو ایک ہی بیانیہ ہوتا ہے:

"بھئی! پاکستان ترقی نہیں کر سکتا، یہاں کی حکومت کو تو سیاست ہی نہیں آتی۔ یہ فوج بیرکوں میں کیوں نہیں رہتی؟ اسے سیاست میں آنے کا کیا شوق ہے؟"

سچ تو یہ ہے کہ جس معاشرے میں قربانی کے بکرے کے سینگ "ایلفی" سے جڑے ہوں، وہاں اخلاقیات کے جنازے ہی اٹھتے ہیں۔ ہم سب اپنی اپنی جگہ "حاجی صاحب" اور "چودھری صاحب" بنے بیٹھے ہیں، مگر ڈھونڈ رہے ہیں کہ ملک کو کوئی "عمر بن عبدالعزیز" مل جائے جو ہماری ان تمام چوریوں کو تحفظ بھی دے اور ملک کو ترقی کی راہ پر بھی ڈال دے۔

تحریر محمد ساجد یعقوب
#قربانی #اسلام

نیکی کا "انتظام" اور تقدس کا سینگچودھری صاحب محلے بھر میں اپنی نمازِ باجماعت اور ماتھے پر پڑے "محراب" (سجدوں کا نشان) کی...
16/05/2026

نیکی کا "انتظام" اور تقدس کا سینگ

چودھری صاحب محلے بھر میں اپنی نمازِ باجماعت اور ماتھے پر پڑے "محراب" (سجدوں کا نشان) کی وجہ سے بڑے نیک نام تھے۔ وہ سرکاری دفتر میں بیٹھ کر تسبیح پھیرتے تو سائلین کو لگتا کہ شاید فرشتہ زمین پر اتر آیا ہے۔ لیکن اس تسبیح کے دانوں کے پیچھے دراصل "فائلوں کے پہیوں" کو تیل لگانے کی قیمت طے ہو رہی ہوتی تھی۔

عیدِ قربان قریب تھی اور گھر میں شور بپا تھا۔ بچوں نے صاف کہہ دیا تھا، "ابا! اس بار قربانی کا جانور محلے کے سیٹھ اسلم کے بکرے سے بڑا ہونا چاہیے، ورنہ ہماری واہ واہ کیسے ہوگی؟" چودھری صاحب نے پہلے تو آسمان کی طرف دیکھ کر ٹھنڈی آہ بھری اور کہا، "بیٹا! اللہ تو نیت دیکھتا ہے، دکھاوا نہیں"۔ مگر دل ہی دل میں وہ بھی سوچ رہے تھے کہ اگر بڑا بکرا نہ آیا تو محلے کے واٹس ایپ گروپ میں تصویریں کیسے ڈالیں گے؟

اتفاق ایسا ہوا کہ ایک بڑے ٹھیکیدار کا ناجائز کام چودھری صاحب کی میز پر آن رکا۔ ٹھیکیدار نے میز کے نیچے سے ایک لفافہ سرکایا—یہ لفافہ اتنا "وزنی" تھا کہ چودھری صاحب کے ایمان کی ساری دیواریں ایک جھٹکے میں گر گئیں۔ انہوں نے بڑی عاجزی سے لفافہ جیب میں ڈالا اور ٹھنڈا سانس بھر کر کہا: "سبحان اللہ! اللہ جب دینا چاہتا ہے تو چھپر پھاڑ کر دیتا ہے۔ میں تو پریشان تھا، پر اللہ نے خود ہی قربانی کا انتظام کر دیا!"

اگلے دن چودھری صاحب منڈی پہنچے۔ وہاں ان کا سامنا حاجی صاحب سے ہوا، جو سفید براق کرتے میں ملبوس، ہاتھ میں تسبیح لیے "سودا سچ کا، برکت رب کی" کا نعرہ لگا رہے تھے۔ حاجی صاحب منڈی کے وہ مشہور بیوپاری تھے جن کا جانور تو مہنگا ہوتا تھا مگر ان کے بقول "عیب سے پاک" ہوتا تھا۔

حاجی صاحب نے ایک قدآور، سفید و براق بکرا دکھایا جس کے بھاری بھرکم سینگ اسے بادشاہ بنا رہے تھے۔ چودھری صاحب کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ سودا طے ہوا۔ حاجی صاحب نے رقم گنتے ہوئے کہا، "چودھری صاحب! یہ رزقِ حلال کی کمائی ہے، اس لیے آپ کو ایسا ہیرا دے رہا ہوں کہ پورا محلہ دیکھتا رہ جائے گا۔" چودھری صاحب نے بھی مسکرا کر جواب دیا، "بے شک حاجی صاحب! اللہ بھی ان کی مدد کرتا ہے جن کی نیت صاف ہو۔"

عید کا دن آیا۔ چودھری صاحب کا بکرا گلی میں بندھا تو واقعی میلے کا سماں بندھ گیا۔ لوگ عش عش کر اٹھے۔ چودھری صاحب فخر سے سینہ چوڑا کیے نمازِ عید پڑھ کر آئے اور قصائی کو حکم دیا، "بسم اللہ کرو!"

جیسے ہی قصائی نے بکرے کو لٹایا اور جانور نے زور سے سر مارا، ایک زوردار 'ٹک' کی آواز آئی۔ چودھری صاحب کے ہوش اڑ گئے جب انہوں نے دیکھا کہ بکرے کا ایک شاندار سینگ جسم سے الگ ہو کر دور جا گرا تھا اور نیچے سے ایک کٹی ہوئی جڑ اور پرانی "ایلفی" (Glue) کے نشانات صاف نظر آ رہے تھے۔

معلوم ہوا کہ حاجی صاحب نے کمالِ ہوشیاری سے ایک ٹوٹے ہوئے سینگ والے عیب دار بکرے پر کسی دوسرے جانور کا سینگ "مصنوعی طریقے" سے چپکا کر اسے "اعلیٰ کوالٹی" بنا کر بیچا تھا۔

چودھری صاحب کا چہرہ فق ہو گیا۔ محلے والے جمع ہو گئے اور چہ میگوئیاں شروع ہوئیں کہ عیب دار جانور کی قربانی تو ہوتی ہی نہیں۔ چودھری صاحب غصے میں دھاڑے، "اس بیوپاری نے میرے ساتھ دھوکہ کیا! اس نے میرے حلال کے پیسوں میں حرام کا عیب شامل کر دیا!"

ادھر دور منڈی کے پاس بیٹھا حاجی صاحب کسی دوسرے گاہک کو چونا لگاتے ہوئے تسبیح پھیر رہا تھا اور کہہ رہا تھا: "اللہ کا شکر ہے، مالک خود ہی گاہک بھیج کر انتظام کر دیتا ہے!"

نتیجہ (Moral):

جب رزقِ حرام سے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کی جائے، تو قدرت اکثر "حاجی صاحب" جیسے ہی مہرے سامنے لاتی ہے تاکہ انسان کو یہ سبق مل سکے کہ خالق کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔ حرام کے پیسوں سے خریدی گئی نام نہاد نیکی، جڑے ہوئے سینگ کی طرح ہوتی ہے—بظاہر خوبصورت، مگر ذرا سی ٹھوکر لگنے پر اصل حقیقت واضح کر دیتی ہے۔

تحریر محمد ساجد یعقوب
#قربانی #اسلام #فراڈ
islamic Videos M Sajid Yaqoob

14/05/2026
ریاض الجنہ۔۔💚💚مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جنت کا ٹکڑا۔۔❤️❤️کیا آپ کو یہاں نفل پڑھنے کی سعادت حاصل ھوئ؟؟❤️💚🤲🕋
11/05/2026

ریاض الجنہ۔۔💚💚
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جنت کا ٹکڑا۔۔❤️❤️
کیا آپ کو یہاں نفل پڑھنے کی سعادت حاصل ھوئ؟؟
❤️💚🤲🕋

Address

Bedian Road
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when islamic Videos posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share