18/07/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ازقلم زینب صفدر
تاریخ 16/7/26
کالم نمبر 540
آج کے دور میں جب ہم زندگی کی بھاگ دوڑ میں اس قدر الجھ چکے ہیں کہ ہمیں اکثر یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ ہمارے دین کی اصل بنیاد کیا ہے ایسے میں امام احمد بن حنبلؒ کا یہ زریں قول ہمیں ایک نئی سمت دکھاتا ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ کا فرمان ہے کہ: "اسلام کا پورا نظام اور اس کی بنیاد تین احادیث پر قائم ہے۔"
یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ یہ ایک ایسا کلیہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان صرف ان تین اصولوں کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لے تو اسے اپنے دین کو سمجھنے اور اسے عملی زندگی میں ڈھالنے کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
آئیے!ان تین عظیم الشان احادیث پر غور کرتے ہیں جو ہمارے دین کی روح ہیں۔
«إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ»
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 1)
"بے شک تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے"
یہ دین کا سب سے پہلا اور اہم ترین اصول ہے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اس کا دارومدار ہماری نیت پر ہے۔ اگر نیت میں دکھاوا، ریاکاری یا دنیاوی مفاد شامل ہو جائے تو بڑے سے بڑا عمل بھی اللہ کے ہاں بے وقعت ہو جاتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں اپنے اندر جھانکنے اور ہر عمل سے پہلے اپنی نیت کو خالص کرنے کا درس دیتی ہے۔
«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ»
(صحیح البخاری: 2697)
جس نے ہمارے اس دین (اسلام) میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس کا حصہ نہیں، تو وہ (اللہ کے ہاں) قابلِ قبول نہیں ہے۔"
بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں بہت سی ایسی چیزیں دین کا حصہ بنا دی گئی ہیں جن کا حقیقت میں دین سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ حدیث ایک واضح تنبیہ ہے کہ اللہ کے دین میں اپنی مرضی سے کوئی اضافہ کرنا یا اس اضافے کو دین سمجھنا مردود ہے
«إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ»
(صحیح البخاری: 52)
یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں (حلال و حرام) کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں
یہ حدیث ہماری عملی زندگی کے لیے ایک میزان ہے۔ اللہ نے حلال اور حرام کو واضح کر دیا ہے لیکن ان کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں۔ ہم میں سے جو لوگ ان مشتبہ چیزوں سے بھی بچتے ہیں وہی اپنے دین اور ایمان کو محفوظ رکھ پاتے ہیں۔ آج کے دور میں جہاں حلال و حرام کی حدود دھندلا رہی ہیں یہ حدیث ہمیں تقویٰ کی راہ دکھاتی ہے۔
مختصر یہ ہے کہ اگر ہم صرف ان تین احادیث کو اپنے شب و روز کا حصہ بنا لیں تو ہماری زندگی میں سکون بھی آئے گا اور دین کی سمجھ بھی پیدا ہوگی۔ یہ احادیث صرف کتابوں کی زینت نہیں بلکہ ہمارے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات ہیں۔
میری آپ سب سے گزارش ہے کہ ان احادیث کو صرف خود ہی نہ پڑھیں بلکہ اپنی اگلی نسلوں اپنے بچوں اور اپنے احباب کو بھی ان سے روشناس کروائیں۔ جب تک ہم خود ان اصولوں پر عمل پیرا نہیں ہوں گے تب تک ہم دین کی اصل روح کو نہیں سمجھ پائیں گے۔ آئیے آج عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی کو ان تین نبوی اصولوں کے مطابق ڈھالیں گے۔