Care Beauty Cosmetics

Care Beauty Cosmetics work of beauty

30/04/2026

Ya setup for sale ha Jis ko chye rabta kr lo

24/09/2024

عورت جتنی بھی عزت دار ہو اگر اس کا پالا گھٹیا مرد سے پڑ جائے تو وہ ضرور زلیل وخوار ہوتی ہے💯🙂

21/09/2024

اگر آپ کسی کے ان بکس میں آکر گندے فوٹو گندی وڈیو اور گندی بات کرکے دکھ دے کر خوشی محسوس کرتے ہیں تو آپ نفسیاتی بے غیرت ہیں__!!!

14/07/2024

مرد اپنا جسم کسی بھی عورت کے ساتھ ایڈجسٹ کر سکتا ہے بیشک وہ عورت اسے پسند ہو یا نا ہو لیکن اس معاملے میں عورت کی طبیت بہت حساس ہوتی ہے وہ اپنا جسم کبھی بھی نا پسندیدہ مرد کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کر پاتی مجبوری میں سمجھوتہ کرنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا اگر اس کی مجبوری نا ہو تو وہ کسی بھی نا پسندیدہ مرد کو اپنے قریب بھی نا بھٹکنے دے،
ہم جسم کی بات کرتے ہوۓ اکثر شرماتے ہیں لیکن جسم کے بغیر ہر محبّت سمجھوتہ ہوتی ہے اور سمجھوتہ کسی بھی صورت میں اذیت ناک ہوتا ہے جو عورت مرد کے ساتھ سمجھوتہ کرتی ہے وہ ہمیشہ اذیت میں ہی رہتی ہے جبکہ فطرت اور قدرت سمجھوتے کے سخت خلاف ہے اللہ‎ کبھی نہیں چاہتا کہ اس کے بندے پر کوئی جبر کے ساتھ مسلط کیا جاۓ،
یہاں پگڑیوں کے واسطہ دینے والے اپنی بے جان پگڑی کا تو بڑا احساس کرتے ہیں لیکن جیتے جاگتے انسان کو اپنی انا کی بھٹی میں جھونکنے سے پہلے اس کی آخری خواہش تک نہیں پوچھتے ایسا تو جانوروں میں بھی نہیں ہوتا جیسا یہاں انسانوں کے ساتھ سلوک ہوتا ہے،
جب ایک بیٹی کہتی ہے کہ مجھے یہ مرد پسند نہیں تو کیوں اس بیٹی کے ساتھ جبر کیا جاتا ہے چلو بیٹی کہ ساتھ تو آپ جبر کرتے ہی ہیں لیکن جس کے گھر بیٹی کو بھیجتے ہیں اس بندے کا کیا قصور ہوتا ہے جس کو آپ کے جبر کی سزا ساری زندگی بھگتنی پڑتی ہے جس کو آپ کی ہی بیٹی منہ نہیں لگاتی ہے جسم پر حق دیتی ہے تو دل میں جگہ نہیں دے پاتی دل میں جگہ دیتی ہے تو جسم کو زندہ لاش بنا کر پیش کرتی ہے بیٹی کے ساتھ ہی جبر نہیں ہوتا داماد کے ساتھ بھی جبر ہوتا ہے،
ہم سوچتے ہیں وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہو جاۓ گا لیکن ان بیچاروں کی زندگی جہنم سے بھی بدتر ہو جاتی ہے وہ بیچارے پھر بھی آپ والدین کی عزت کے لیے خاموشی سے ایک دوسرے کو برداشت کرتے رہتے ہیں لیکن والدین کو اپنی پگڑی کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آتا۔۔۔!

13/07/2024

میں حیران پریشان ہوں آج کل کے کچھ لڑکوں کی سوچ پر گرل فرینڈ بن جائیں دوست بن جائیں واٹسایپ نمبر دیں تصویر سینڈ کر دیں نہیں تم لوگوں کا دماغ خراب ہے جو الٹی سیدھی بکواس کرتے ہو حد میں رہنا کیوں نہیں سِکھتے ؟؟؟ کوئی عورت facebook استعمال کر رہی ہے تو ضروری نہیں کے اُسکا کردار خراب ہے خدارا کچھ انسانیت سیکھیں، اگر کوئی sad post کر دے تو اسکا یہ مطلب نہی ہے اسے 10 boyfriends نے ایک ساتھ دھوکا دے دیا ہے۔ ہر بات کے دو پہلو ہوتے ہیں لیکن چھوٹی سوچ والے ہمیشہ ہی negative پہلو دیکھتے ہیں ۔ انسان کی زندگی میں ہزار مسائل ہوتے ہیں ہر بندے کو پیار میں ہی دھوکہ نہی ملا ہوتا اس پوسٹ سے جسکو تکلیف ہو مجھے انفرینڈکرسکتاہے

10/07/2024

کل رات ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے زندگی کی کئی پہلوؤں کو چھو لیا۔ قریب شام کے7 بجےہونگے، موبائل کی گھنٹی بجی۔ فون اٹھایا تو ادھر سے رونے کی آواز۔۔۔
میں نے چپ کرایا اور پوچھا کہ بھابی جی آخر ہوا کیا؟؟
ادھر سے آواز آئی آپ کہاں ہیں؟ اور کتنی دیر میں آ سکتے ہیں؟
میں نے کہا آپ پریشانی بتائیں اور بھائی صاحب کہاں ہیں؟ اور ماں جی کدھر ہیں؟ آخر ہوا کیا ہے؟
لیکن ادھر سے صرف ایک ہی رٹ کہ آپ فوراً آجائیے۔
میں اسے مطمئن کرتے ہوئے کہا کہ ایک گھنٹہ لگے گا پہنچنے میں۔ جیسے تیسے گھبراہٹ میں پہنچا۔

دیکھا کہ بھائی صاحب، (جو ہمارے جج دوست ہیں) سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔
بھابی جی رونا چیخنا کر رہی ہیں۔ 12 سال کا بیٹا بھی پریشان ہے اور 9 سال کی بیٹی بھی کچھ کہہ نہیں پا رہی ہے۔

میں نے بھائی صاحب سے پوچھا کہ آخر کیا بات ہے؟
بھائی صاحب کچھ جواب نہیں دے رہے تھے۔

پھر بھابی جی نے کہا؛ یہ دیکھیے طلاق کے کاغذات۔

کورٹ سے تیار کرا کر لائے ہیں۔ مجھے طلاق دینا چاہتے ہیں۔
میں نے پوچھا "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟ اتنی اچھی فیملی ہے، دو بچے ہیں۔ سب کچھ سیٹلڈ ھے۔ پہلی نظر میں مجھے لگا کے یہ مذاق ہے۔

لیکن میں نے بچوں سے پوچھا دادی کدھر ھے؟ تو بچوں نے بتایا: پاپا انہیں 3 دن پہلے نوئیڈا کے "اولڈ ایج ہوم" میں شفٹ کر آئے ہیں۔

میں نے نوکر سے کہا: مجھے اور بھائی صاحب کو چائے پلاؤ
کچھ دیر میں چائے آئی. بھائی صاحب کو میں نے بہت کوشش کی چائے پلانے کی۔ مگر انہوں نے نہیں پیا اور کچھ ہی دیر میں وہ معصوم بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ اور بولے میں نے 3 دنوں سے کچھ بھی نہیں کھایا ہے۔ میں اپنی 61 سال کی ماں کو کچھ لوگوں کے حوالے کر کے آیا ھوں۔

پچھلے سال سے میرے گھر میں ماں کے لیے اتنی مصیبتیں ہوگئیں کہ بیوی نے قسم کھا لی کہ "میں ماں جی کا دھیان نہیں رکھ سکتی"
نہ تو یہ ان سے بات کرتی تھی اور نہ میرے بچے ان سے بات کرتے تھے۔

روز میرے کورٹ سے آنے کے بعد ماں بہت روتی تھی۔
نوکر تک بھی ان سے خراب طرح سے پیش آتے تھے اور اپنی من مانی کرتے تھے۔

ماں نے 10 دن پہلے بول دیا: تو مجھے اولڈ ایج ھوم میں ڈال دے۔ میں نے بہت کوشش کی پوری فیملی کو سمجھانے کی، لیکن کسی نے ماں سے سیدھے منہ بات تک نہیں کی۔
جب میں دو سال کا تھا تب ابو انتقال کرگئے تھے۔ ماں نے دوسروں کے گھروں میں کام کر کے مجھے پڑھایا۔ اس قابل بنایا کے میں آج ایک جج ھوں۔
لوگ بتاتے ہیں کہ ماں دوسروں کے گھر کام کرتے وقت کبھی بھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑتی تھی۔ اس ماں کو میں آج اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آیا ہوں۔ میں اپنی ماں کی ایک ایک دکھ کو یاد کرکے تڑپ رہا ہوں جو انھوں نے صرف میرے لئے اٹھائے تھے۔ مجھے آج بھی یاد ھے جب میں میٹرک کے امتحان دینے والا تھا۔ ماں میرے ساتھ رات رات بھر بیٹھی رہتی تھی۔ ایک بار جب میں اسکول سے گھر آیا تو ماں کو بہت زبردست بخار میں مبتلا پایا۔ پورا جسم گرم اور تپ رہا تھا۔ میں نے ماں سے کہا تجھےتیز بخار ہے۔ تب ماں ہنستے ہوئے بولی ابھی کھانا بنا کر آئی ہوں اس لئے گرم ہے۔

لوگوں سے ادھار مانگ کر مجھے یونیورسٹی سے *ایل ایل بی* تک پڑھایا۔

مجھے ٹیوشن تک نہیں پڑھانےدیتی تھی۔ کہیں میرا وقت برباد نہ ہو جائے۔
کہتے کہتے اور زیادہ زور سے رونے لگے اور کہنے لگے۔ جب ایسی ماں کے ہم نہیں ھو سکے تو اپنے بیوی اور بچوں کے کیا ہوں گے۔
ہم جن کے جسم کے ٹکڑے ہیں، آج ہم ان کو ایسے لوگوں کے حوالے کر آئے جو ان کی عادت، انکی بیماری، انکے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ہیں۔ جب میں ایسی ماں کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تو میں کسی اور کے لئے بھلا کیا کر سکتا ہوں۔

آذادی اگر اتنی پیاری ھے اور ماں اتنی بوجھ ہے تو، میں پوری آزادی دینا چاہتا ہوں۔

جب میں بغیر باپ کے پل گیا تو یہ بچے بھی پل جاینگے۔ اسی لیے میں طلاق دینا چاہتا ہوں۔
ساری پراپرٹی میں ان لوگوں کے حوالے کرکے اس اولڈ ایج ھوم میں رہوں گا۔ وہاں کم سے کم ماں کے ساتھ رہ تو سکتا ہوں۔
اور اگر اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود ماں، اولڈ ایج ہوم میں رہنے کے لئے مجبور ہے تو ایک دن مجھے بھی آخر جانا ہی پڑے گا۔

ماں کے ساتھ رہتے رہتے عادت بھی ھو جائےگی۔ ماں کی طرح تکلیف تو نہیں ہوگی۔
جتنا بولتے اس سے بھی زیادہ رو رہے تھے۔ اسی درمیان رات کے 12:30 ھوگئے۔ میں نے بھابی جی اور بچوں کے چہروں کو دیکھا۔
ان کے چہرے پچھتاوے کے جذبات سے بھرے ہوئے تھے۔

میں نے ڈرائیور سے کہا؛ ابھی ہم لوگ اولڈ ایج ہوم چلیں گے۔ بھابی جی، بچے اور ہم سارے لوگ اولڈ ایج ہوم پہنچے ،
بہت زیادہ درخواست کرنے پر گیٹ کھلا۔
بھائی صاحب نے گیٹ کیپر کے پیر پکڑ لیے۔ بولے میری ماں ہے۔ میں اسے لینے آیا ہوں۔
چوکیدار نے پوچھا "کیا کرتے ہو صاحب"؟
بھائی صاحب نے کہا۔ میں ایک جج ہوں۔

اس چوکیدار نے کہا "جہاں سارے ثبوت سامنے ہیں۔ تب تو آپ اپنی ماں کے ساتھ انصاف نہیں کر پائے۔ اوروں کے ساتھ کیا انصاف کرتے ہوں گے صاحب؟

اتنا کہہ کر ہم لوگوں کو وہیں روک کر وہ اندر چلا گیا۔
اندر سے ایک عورت آئی جو وارڈن تھی۔ اس نے بڑے زہریلے لفظ میں کہا۔ 2 بجے رات کو آپ لوگ لے جاکے کہیں اسے مار دیں تو میں اللہ کو کیا جواب دوں گی؟

میں نے وارڈن سے کہا "بہن آپ یقین کیجئے یہ لوگ بہت پچھتاوے میں جی رہے ہیں"

آخر میں کسی طرح انکے کمرے میں لے گئی. کمرے کا جو نظارہ تھا اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ صرف ایک فوٹو جس میں پوری فیملی ہے، وہ بھی ماں کے بغل میں جیسے بچے کو سلا رکھا ھے۔

مجھے دیکھی تو اسے لگا کہیں بات نہ کھل جائے۔
لیکن جب میں نے کہا کہ ھم لوگ آپ کو لینے آئے ھیں۔ تو پوری فیملی ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگی۔ آس پاس کے کمروں میں اور بھی بزرگ تھے۔ سب لوگ جاگ کر باہر تک ہی آگئے۔ انکی بھی آنکھیں نم تھیں۔

کچھ وقت کے بعد چلنے کی تیاری ھوئی۔ پورے اولڈ ہوم کے لوگ باہر تک آئے۔ کسی طرح ہم لوگ اولڈ ایج ہوم کے لوگوں کو چھوڑ پائے۔ سب لوگ اس امید سے دیکھ رہے تھے، شاید انہیں بھی کوئی لینے آئے۔
راستے بھر بچے اور بھابی جی تو چپ چاپ رہے۔ مگر ماں اور بھائی صاحب پرانی باتیں یاد کرکے رو رہے تھے۔ گھر آتے آتے قریب 3:45 ھو گئے۔

بھابی جی بھی اپنی خوشی کی چابی کہاں ہے یہ سمجھ گئی تھیں۔

میں بھی چل دیا لیکن راستے بھر وہ ساری باتیں اور نظارے آنکھوں میں گھومتے رھے۔

*ماں صرف ماں ھے*
*اسکو مرنے سے پہلے نہ ماریں۔
ماں ہماری طاقت ہے۔ اسے کمزور نہیں ھونے دیں۔ اگر وہ کمزور ہو گئی تو ثقافت کی ریڑھ کمزور ھو جاۓگی ۔ اور بنا ریڑھ کا معاشرہ کیسا ھوتا ھے۔ یہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ھے۔

اگر آپ کے آس پاس یا رشتہ دار میں اسطرح کا کوئی مسئلہ ھو تو انھیں یہ ضرور پڑھوایں اور اچھی طرح سمجھایں، کچھ بھی کرے لیکن ھمیں جنم دینے والی ماں کو بے گھر ، بے سہارا نہیں ہونے دیں۔ اگر ماں کی آنکھ سے آنسو گر گئے تو یہ قرض کئی صدیوں تک رہے گا۔

یقین مانیں سب ھوگا تمہارے پاس لیکن سکون نہیں ھوگا۔
سکون صرف ماں کے آنچل میں ھوتا ھے۔ اس آنچل کو بکھرنے مت دینا۔

اس دل کو چھو لینے والی داستان کو خود بھی پڑھیں۔ اور اپنے بچوں کو بھی پڑھائیں تاکہ اس سے عبرت حاصل کر سکیں۔

24/06/2024

میں ان دنوں ذہنی طور پر بہت زیادہ تھک چکی ہوں۔میں سب کچھ چھوڑ کر کہیں بہت دور چلے جانا چاہتی ہوں۔لیکن پھر خاموش ہو جاتی ہوں ۔کسی سے بھی بات نہیں کرنا چاہتی اسلیے نہیں کے مجھے کسی سے ہمدردی ہے صرف اسلیے کے پھر میں کبھی اپنے ماں باپ کو نہیں دیکھ پاؤں گی۔ وہ نہ کبھی مجھے نظر ائیں گے۔مجھے اپنی ہی ذات سے بیزاری ہونے لگی ہے۔میں گھنٹوں باتیں کرنے والی لڑکی اب کئ پہروں تک خاموش رہتی ہوں۔ میری روح بہت ذیادہ اذیت کا شکار ہے۔میں اگر رونا بھی چاہوں تو رو نہیں پاتی۔ مجھے راتوں کو سکون سے نیند نہیں آتی ۔ میں خود کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں کے جو ہو رہا ہے سب ٹھیک ہے صرف میں غلط ہوں۔۔ نہ جانے مجھے کیا ہو گیا ہے میں اس دنیا سے تھک چکی ہوں میں بس اب خدا کے پاس جانا چاہتی ہوں۔

میں اس جہاں میں جانا چاہتی ہوں
جہاں سے لوٹ کر کوئ واپس نہیں آتا 😥

20/06/2024

اخوت کہ دفتر سے کوئی ہے تو مجھ سے رابطہ کریں مجھے کچھ ڈیٹیل پوچھنی ہے

19/06/2024

دونوں بانہیں میری گردن میں .اب حائل کر
پاؤں پر پاؤں رکھ .... بن بولے مجھے قائل کر

12/05/2024

ہوسکتا ہے ہم تنہائی سے مر جائے 💔
ہوسکتا ہے انا گوارہ نہ کرے کسی سے بات کرنے کی.😶

Address

Lahore
COSMETICS

Telephone

+923000422802

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Care Beauty Cosmetics posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Care Beauty Cosmetics:

Share