30/08/2025
پنجاب سیلاب: 'پانی نے کچھ نہیں چھوڑا'
پاکستان کے مشرقی پنجاب صوبے میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے 1,400 سے زائد دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ستلج، چناب اور راوی جیسے بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جس کی وجہ شدید بارشیں اور بھارت کی طرف سے ڈیموں سے پانی چھوڑنا ہے۔
سیالکوٹ کے قریب کمنوالہ گاؤں کی ایمان سلیم نے بتایا کہ ان کے گھر میں پانی ان کے سینے تک پہنچ گیا تھا۔ انہوں نے کہا، "پانی نے کچھ نہیں چھوڑا۔" ان کے والد، سید محمد نے کہا کہ یہ ان کی زندگی میں پہلی بار ہے کہ اتنا زیادہ سیلاب آیا ہے۔
بیماریوں کا خطرہ اور تباہی
سیلاب کے باعث بیماریوں کے پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہیضہ اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ سانپ کے کاٹنے کے خطرے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
پنجاب کے علاقوں میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سیالکوٹ کے قریب دریا میں پانی کی سطح بڑھنے کے بعد کئی گھروں کا سامان تباہ ہو گیا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث لوگوں کے لیے اپنے گھروں کی مرمت اور سامان کی واپسی تقریباً ناممکن ہو گئی ہے۔
متاثرین کو خوراک کی کمی کا سامنا
سیالکوٹ کے آس پاس کے کئی دیہاتوں میں سیلاب متاثرین کو بغیر کسی مدد کے چھوڑ دیا گیا ہے۔ شبانہ زبیر، جو پانچ بچوں کی ماں ہیں، نے بتایا کہ ان کے پاس تین دن سے کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں تھی۔ ان کا آٹا، چاول اور چنے سب خراب ہو چکے ہیں۔
کچھ علاقوں میں امدادی کارروائیاں نجی تنظیموں اور volunteer groups کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔ شیرزن نامی ایک تنظیم, ایک ٹریکٹر پر پکا ہوا کھانا، دودھ اور پانی بانٹ رہے ہیں۔ ان کے ورکر وجہات مرزا نے کہا، "ہمارے پاس کوئی
دوسرا نہیں ہے۔ حکومت کے پاس اس سے نمٹنے کے لیے مکمل سہولیات نہیں ہیں
موسمیاتی تبدیلی اور ناقص نظام
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ اس کی کاربن کا اخراج عالمی اخراج کا 0.1% سے بھی کم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال کی مون سون بارشیں غیر معمولی اور تباہ کن ہیں۔
سیالکوٹ کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شہر کا drainage system
بھی اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ ہے۔ سیالکوٹ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے سابق چیف ایگزیکٹیو خاور انور خواجہ نے کہا کہ مقامی حکومت کی طرف سے
drains کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ نظام گل سڑ چکا ہے۔
سیلاب کے متاثرین کے لیے آپ کیا کر سکتے ہیں؟
اپنی رائے کمنٹس میں بتائیں۔