گھر کا بنا لاہوری اچار

گھر کا بنا لاہوری اچار Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from گھر کا بنا لاہوری اچار, Lahore.

دھیرے دھیرے ہم بیٹیاں امی جیسی ہونے لگتی ہیں۔ امان کی طرح چلنا، اٹھنا بیٹھنا، بات کرنا۔ بچوں سے پیار کے وہی طریقے، ڈانٹ ...
25/09/2026

دھیرے دھیرے ہم بیٹیاں امی جیسی ہونے لگتی ہیں۔ امان کی طرح چلنا، اٹھنا بیٹھنا، بات کرنا۔ بچوں سے پیار کے وہی طریقے، ڈانٹ کا وہی انداز۔ ویسی ہی کوکنگ۔ وہی گھر کے کاموں میں رفتار بتدریج کم ہو جانا۔

وہ جو امی کا جوتا بہت بارپہن کر دیکھا تھا، بالآخر پورا آ جاتا ہے۔ ان کے کپڑے ہمیشہ کھلے، بڑے ہوا کرتے تھے، کسی دن اچانک پورے آنے لگتے ہیں۔ اب کی بار تو سہیلیوں سے ملنے جاتے میں امی ہی کا جوڑا پہن گئی۔

گود میں رکھے بھرے بھرے اپنے ہاتھوں پر نظر پڑے تو یوں گمان ہوتا ہے امی کے ہاتھ ہیں۔ پاؤں بھی امی کے پاؤں جیسے ہونے لگے ہیں۔ تھوڑا وزن بڑھتا جاتا ہے، تھوڑی سی اور میں امی جیسی نرم نرم سی ہوتی جاتی ہوں۔ جب گلاسز لگا کر پہلی بار آئینہ دیکھا، مجھے لمحہ بھر کو امی دکھائی دی تھیں۔

ہم اوپر سے لے کر اندر تک امی جیسی بن جاتی ہیں۔
ہم امی بن جاتی ہیں۔۔

جب ہم چھوٹے تھے، امی تب بھی امی تھیں نا۔ کتنی بار ہم چپکے سے ان کی کسی بات پر دل مسوس کر رہ جاتے۔ کہیں جانے کی اجازت نہ ملی، نمبر کم آنے پر ڈانٹ پڑ گئی۔ گھڑی کی سوئی گھومی اور ہم خود امی بنے تو خود کو انہی چیزوں پر بچے کو گھورتا پایا جن پر کبھی امی ہمیں گھورا کرتی تھیں۔

اب کچھ سمجھ آنے لگی ہے کہ امی کی سٹرگلز کیا تھیں۔ بہت کچھ ریلیٹ ایبل ہو گیاہے۔ ان کی پریشانیاں، ان کے خدشات، ان کی الجھنیں۔۔ خود امی بننے کے بعد سمجھ آتی ہیں انکی قربانیاں، ان کی کوششیں، ان کی محنت۔۔ شکر کہ تمام سال امی موجود رہیں۔ ہم پر نظر رکھتی، ہمارا احساس کرتی، ہماری غلطی پر ہمیں سرزنش کرتی۔ ہمیں کھرا کھوٹا سمجھاتی امی۔۔

اور یونہی ایک دن آئینے کے سامنے سے گزرتے خود پر نگاہ پڑتی ہے تو ارے۔۔ امی؟ آئینے میں امی کے عکس کی جھلک ہے۔ ہماری پوری شخصیت میں امی جھلکتی ہیں۔

ہم بس کچھ مہینے امی کے اندر رہے تھے،
لیکن امی تمام عمر ہمارے اندر رہتی ہیں۔

اور یونہی اچانک کہیں سے جھانکا کرتی ہیں، ہماری آنکھوں میں، باتوں میں، کاموں میں ❤️

نیر تاباں
تصویر بشکریہ گوگل

بچوں کی تربیت: کرنے کے چند ضروری کام گلے لگانا:کہیں ایک ریسرچ میں پڑھا تھا کہ انسان کو دن میں کم از کم آٹھ بار hug کی ضر...
24/09/2026

بچوں کی تربیت: کرنے کے چند ضروری کام
گلے لگانا:
کہیں ایک ریسرچ میں پڑھا تھا کہ انسان کو دن میں کم از کم آٹھ بار hug کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی تو چلیں چھوڑیئے لیکن اپنے بچوں کی اس ضرورت کا خیال کریں۔ میرے جیسی ماں کو ہر پونے گھنٹے کا الارم لگانا پڑتا ہے تا کہ کام میں لگ کر بھول نہ جاؤں۔ لمس سے ایک محبت، ایک گرماہٹ کا احساس دل میں جاگتا ہے، تحفظ کا احساس ہوتا ہے، بچے میں self esteem بڑھتی ہے۔ ایک اور ریسرچ کے مطابق hug اتنا لمبا ضرور ہو کہ آپ آرام سے دس تک گنتی گن سکیں۔ یہ بھی خیال رہے کہ دو زانو ہو کر بچے کے لیول پر آ کر اسکو گلے لگائیں تا کہ وہ بھی آپ کے گلے میں بازو ڈال کر آپ کو hug back کر سکے۔
آئی کانٹیکٹ:
آئی کانٹیکٹ کسی بھی رشتے میں‌ ازحد ضروری ہے اور سکرین کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ہمیں خود تو برا لگتا ہے کہ شوہر ٹی وی کی طرف دیکھتے دیکھتے ہی جواب دیتے ہیں، ہم نظرانداز ہو رہے ہیں، لیکن وہی ہم ہانڈی میں چمچہ ہلاتے ہوئے بچوں سے بات کر رہے ہوتے ہیں، دور سے ہی سوال جواب چل رہے ہوتے ہیں۔ سارا دن تو ممکن نہیں لیکن اصول بنا لیں کہ رات کے کھانے پر ہر طرح کی سکرین آف ہو، یا سونے سے پہلے کچھ دیر آئی کانٹیکٹ کر کے دن بھر کی روداد شیئر کی جائے اور پھر بچوں سے بھی پوچھا جائے کہ کیسا دن گزرا۔
بوسہ لینا:
چھوٹے بچوں کو تو ہم بار بار گود میں اٹھاتے ہیں، بار بار پیار کرتے ہیں لیکن جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا جاتا ہے، ایک فاصلہ غیر محسوس طریقے سے حائل ہوتا جاتا ہے۔ اب کئی کئی دن اسکو بوسہ نہیں دیا جاتا۔ بظاہر نہ آپ کو کوئی تشنگی محسوس ہوتی ہے اور نہ انہیں لیکن کہیں نہ کہیں ایک کمی سی رہ جاتی ہے۔ یہ کمی نہ رہنے دیں! بچے کو جب گلے لگائیں تو ماتھے پر پیار سے بوسہ دے دیں۔ اسے اچھا لگے گا۔ آپکو بھی اچھا لگے گا!
محبت کسی بھی رشتے میں ہو، اظہار اور تجدیدِ اظہار مانگتی ہے۔ کتنی ہی بار ہم یہ شکوہ اپنے شوہر سے کرتے ہیں کہ آپ بدل گئے ہیں۔ اب آپ ویسے پیار نہیں کرتے جیسے شادی کے شروع میں کرتے تھے۔ زبان سے نہ کہیں تو بھی دل میں محسوس کرتے ہیں۔ لیکن بعینہ وہی سب بچوں کے ساتھ بھی کرتے ہیں۔ چھوٹے بچے کو چوم چوم کر اسکو تنگ کر دیتے ہیں، اور بڑے بچوں کے لئے ہمیں یاد ہی نہیں رہتا کہ محبت انکی بھی ضرورت ہے۔ اظہار کیوں نہیں کرتے؟ کیوں نہیں بتاتے اپنی اولاد کو کہ وہ ہماری زندگی کا محور ہے؟ ہماری خوشی اسکی مسکراہٹ سے مشروط ہے۔ اسکے چہرے پر ذرا سی پریشانی ہماری جان نکال دیتی ہے۔ وہ ہمیں ہر ایک سے زیادہ عزیز ہے۔ جب hug کریں تو دس تک گنتی گننے کی بجائے اسوقت انہیں ایک آدھا جملہ پیار سے بول دیں۔ پھر آئی کانٹیکٹ کر کے ماتھے پر بوسہ دیں اور پندرہ سیکنڈ میں آپکے تینوں "کام" ہو جائیں گے۔ :)
جو لوگ اپنے بچوں کو جھپی نہیں ڈالتے، بوسہ دینے کی عادت نہیں، وہ ایک سے شروع کریں۔ جھجک آئے تو بھی کوشش کریں اور آہستہ آہستہ ڈوز بڑھاتے جائیں۔ آپکو فرق خود ہی محسوس ہو گا۔ محبت کا یہ اظہار روزانہ کی بنیاد پر اسلئے بھی اتنااتنا اہم ہے کہ محبت ہم سبھی کی بنیادی ضرورت ہے۔ جب گھر سے نہیں ملتی تو کہیں اور ڈھونڈنی پڑتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ہماری اولاد کو گھر سے ہی اتنا پیار اور اعتماد ملے، انہیں محبت کے لئے کسی اور کی طرف نہ دیکھنا پڑے۔ آپکو نہیں معلوم کہ گھر سے باہر کی دنیا کا کوئی شخص انہیں محبت دے گا تو واپسی میں کیا ڈیمانڈ کرے گا۔ محتاط رہیں۔ وقت کی نزاکت کا خیال رکھیں۔
۔۔۔
تحریر: نیر تاباں
تصویر بشکریہ گوگل

24/09/2026

خالہ بتا رہی تھیں کہ جس علاقے میں وہ نئے گھر میں شفٹ ہوئے ہیں، وہاں قریب ہی ایک کھلی جگہ پر خانہ بدوشوں کا بسیرا ہے۔ انہوں نے جھونپڑیاں لگا رکھی ہیں۔ انہی میں سے ایک جھونپڑی میں رہنے والی خاتون سے خالہ کی دعا سلام ہو گئی، کیونکہ اس کا شوہر لکڑی کا کاریگر ہے اور ایک دو بار خالہ کے گھر کام بھی کر چکا ہے۔

ایک دن اس خانہ بدوش عورت کو پانی والے پائپ کی ضرورت پڑی۔ اس نے خالہ سے عاریتاً پائپ مانگا، تو خالہ نے فوراً دے دیا۔ پھر جب کبھی انہیں ضرورت ہوتی، وہ آ جاتے، پائپ لے جاتے اور استعمال کے بعد واپس کر جاتے۔

ایک روز خالو نے خالہ سے کہا:
"یہ لوگ جہاں پائپ لگاتے ہیں وہاں بہت کیچڑ اور گوبر ہے۔ پائپ خراب ہو جائے گا یا پھٹ جائے گا، بہتر ہے اب دوبارہ نہ دینا۔"

اگلی بار جب وہ عورت پائپ لینے آئی تو خالہ نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ "آج ہمیں خود ضرورت ہے، ہم نے گھر دھونا ہے۔" بیچاری عورت اور اس کے شوہر نے بہت منت بھرے لہجے میں کہا کہ "ہم ابھی استعمال کر کے واپس دے جائیں گے"، لیکن خالہ نے اس دن انہیں پائپ نہیں دیا۔

اسی دن ظہر کی نماز کے بعد خالہ قرآن پاک پڑھنے بیٹھیں۔ ترجمے کے ساتھ تلاوت کرتے ہوئے جب سورۃ الماعون سامنے آئی اور یہ آیات نظر سے گزریں:

> "تو ہلاکت ہے اُن نمازیوں کے لیے، جو اپنی نماز کی پرواہ نہیں کرتے، جو دکھاوے کے لیے عبادت کرتے ہیں، اور جو استعمال کی معمولی چیزیں بھی دوسروں کو برتنے کے لیے نہیں دیتے۔" (سورۃ الماعون 4-7)

خالہ بتاتی ہیں کہ ان آیات پر نظر پڑتے ہی وہ مزید آگے نہ بڑھ سکیں اور شدید افسوس اور شرمندگی ہوئی اور خالو سے سے کہنے لگیں کہ ہم کیسے بندے ہیں اللہ کے کہ ہم کچھ باتیں اس کی مان لیتے ہیں اور کچھ باتوں میں نافرمانی کر جاتے ہیں
خالو ان سے کہنے لگے
"قرآن بند کرو اور سب سے پہلے وہ پائپ ان کے گھر دے آؤ۔ اور اب ان سے واپس مت لینا تاکہ انہیں بار بار مانگنے کی شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔ میں تمہیں پیسے دوں گا، بازار سے نیا پائپ لے آنا۔"
خالہ اسی وقت گئی وہ پائپ لے کہ ان کے گھر گئیں

خالہ ویسے بھی خاندان میں اپنی سخاوت اور فیاضی کی وجہ سے مشہور ہیں۔ یہاں تک کہ جب حالات مالی طور پر اچھے نہیں تھے، تب بھی وہ کسی کو اپنے در سے خالی واپس نہ کرتیں۔ آج اللہ نے انہیں اور زیادہ عطا کیا ہے اور وہ اب بھی دوسروں کی مدد کرنے کی عادی ہیں۔ لیکن انسان ہونے کے ناطے کبھی نہ کبھی ہم سے ایسی خطائیں ہو ہی جاتی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی خطاؤں کا احساس ہو جائے اور ہم واقعی اللہ کے حکم پہ اتنا غور و خوض شروع کر دیں

ہم اکثر دوسروں کو استعمال کی چیزیں دینے کو معمولی سمجھ کر ٹال دیتے ہیں، یا اپنی اشیاء کو محفوظ رکھنے کو زیادہ اہم جانتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی کی ضرورت کے وقت اسے چیز دینا اتنا ہی ضروری ہے جتنا نماز پڑھنا۔ تبھی اللہ تعالیٰ نے اس موضوع پر ایک پوری سورت اتاری اور اس کا نام رکھا الماعون، جس کا مطلب ہی ہے "دوسروں کو ضرورت کی چھوٹی چھوٹی چیزیں عارضی طور پر استعمال کے لیے دینا"۔
ایک وقت تھا کہ جب پورے محلے میں کسی ایک کے گھر بھی اچھا ڈنر سیٹ ہوتا تھا تو وہ اہل محلہ کے مہمانوں کے لیے استعمال ہوتا تھا
اب وہ نہ زمانے رہے نہ وہ لوگ اور نہ ویسی سوچ ۔
#مـــــــاریــــᷧـــᷜـــᷧـــᷦــــہ
With Thanks from the wall of Respected Maria Zaka

23/09/2026

ہمارا انفرادی و اجتماعی عروج و زوال،:-

اقبال رح نے فرمایا تھا
گر تو می‌خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بہ قرآں زیستن
ترجمہ
اگر تم مسلمان کی زندگی گزارنا چاہتے ہو، تو قرآن کریم کے بغیر زندگی گزارنا ممکن نہیں۔

اقبال رح اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ مسلمان کی زندگی کا دارومدار، عروج و زوال صرف اور صرف قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل کرنے پر ہے۔ مسلمانوں کا انفرادی و اجتماعی زوال اور پستی تبھی شروع ہوتی ہے جب وہ قرآن کی تعلیمات سے دور ہو جاتے ہیں۔ سورۃ الفرقان آیت نمبر 30 میں یہی بات بیان کی گئی ہے؛

وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَا رَبِّ اِنَّ قَوْمِى اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا (30)
"اور رسول (ﷺ) کہیں گے: اے میرے پروردگار! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا (متروک بنا دیا تھا)۔"

مسلمان انفرادی اور اجتماعی طور پر اگر اپنی اصلاح کرنا، کردار سازی، امن، سکون، ترقی، عظمت اور عروج پانا چاہتے ہیں، تو انہیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو قرآن کے مطابق ڈھالنا ہوگا جیسا ہمارے آقا کریم رحمت اللعالمین خاتم النبیین ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کر کے دکھایا۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم - الحمد للہ رب العالمین -اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ بِقَدَرِ حُسْنِہِ وَجَمَال...
23/09/2026

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم - الحمد للہ رب العالمین -
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ بِقَدَرِ حُسْنِہِ وَجَمَالِہِ وَکَمَالِہ ۔
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔*****۔۔۔۔۔۔۔ چکن ٹماٹو کری ۔۔۔۔۔۔۔*****۔۔۔۔۔۔۔
اجزاء بمطابق شاہد محمود / گھر کا بنا لاہوری اچار specification:-
1- مرغی کا گوشت آدھا کلو
2- ٹماٹر آدھا کلو
3- پیاز ایک عدد باریک باریک کاٹ لیجئے
4- لہسن کی تریاں / جوئے چار عدد
5- ہرا دھنیا باریک باریک کٹا ہوا دو کھانے کے چمچ
6- سبز مرچیں دو عدد یا حسب پسند باریک کاٹ لیجئے
7- پسی ہوئی کالی مرچ آدھا چائے کا چمچ یا حسب ذائقہ
8- نمک آدھا چائے کا چمچ یا حسب ذائقہ
9- اجوائن چوتھائی چائے کا چمچ پیس لیجئے
10- ہمارے سے منگوایا ہوا خالص دیسی گھی دو کھانے کے چمچ
ترکیب بمطابق شاہد / گھر کا بنا لاہوری اچار specification:-
چکن کو پانی سے اچھی طرح دھو کر چھلنی میں رکھ کر خشک کر لیجئے- اب کانٹے کی مدد سے چکن تھائی دونوں طرف سے آرام آرام سے گود لیجئے- اب پسی ہوئی اجوائن، کالی مرچ اور نمک چکن پیسز کے دونوں اطراف اچھی طرح لگا دیجئے- ٹماٹر دھو کر بلینڈر میں آدھے کپ پانی کے ساتھ خوب اچھی طرح بلینڈ کر لیجئے- گھی گرم کر کے پیاز اور لہسن ڈال کر گولڈن ہونے تک فرائی کر لیں- اب بلینڈ کئے ہوئے ٹماٹر اور ہری مرچیں ڈال کر بھونیں، ٹماٹر ابلنے لگیں تو چکن ڈال کر اچھی طرح بھون کر پندرہ منٹ کے لئے دم دے دیجئے- دم کھول کر دیکھیں اگر ٹماٹروں کی گریوی پتلی ہے تو تھوڑی سی بھنائی کر کہ سرونگ ڈش میں نکال کر ہرے دھنئے سے گارنش کر لیجئے۔ روٹی، نان اور ابلے ہوئے سفید چاولوں کے ساتھ خوب لطف اٹھائیں- میرے حصے کا چکن ٹماٹو پڑوس کے کسی مستحق گھرانے میں بھجوا دیجئے گا ہو سکتا ہے مجھ ناچیز،حقیر پر تقصیر، گناہ گار کی مغفرت کا سامان بھی ہو جائے- جزاک اللہ - سلامت رہیں، شاد و آباد رہیں آمین ثم آمین یا رب العالمین-

دعا گو ' طالب دعا شاہد محمود / گھر کا بنا لاہوری اچار
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تصویر بشکریہ گوگل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ ۔ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَـٰلَمِينَالسَّلاَمُ عَلَيْكُمُ وَرَحْمَةُ اللّهِ وَ...
23/09/2026

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ ۔ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَـٰلَمِينَ

السَّلاَمُ عَلَيْكُمُ وَرَحْمَةُ اللّهِ وَبَرَكَاتُه
۔ *دعا*
یا اللّٰه کریم! رحمت نازل فرما حضرت محمدؐ ﷺ پر جو تمام نبیوں کے خاتم اور سب رسولوں کے سرتاج ہیں، اور آپ ﷺ کے اہل بیتؑ پر جو طیب و طاہر ہیں اور آپ ﷺ کے اصحاب اور آپ ﷺ کی تمام امت پر۔

اے میرے معبود! میں تیرے سامنے اس شخص کی مانند ہوں جس نے اپنی جان کے بارے میں اپنے نفس پر ظلم کیا، اور اپنی عمر کو ضائع کر دیا، یہاں تک کہ اس کی مہلت ختم ہونے کو آ پہنچی اور اس کی امیدیں منقطع ہونے لگیں۔
اے میرے معبود! میں نے تیرے حضور اپنے گناہوں کا اعتراف کیا ہے، پس مجھے معاف فرما۔ میں نے اپنی کوتاہیوں کا اقرار کیا ہے، پس مجھ پر رحم فرما۔ میں نے اپنے نفس کے ظلم کا اعتراف کیا ہے، پس اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے۔
یا اللّٰه کریم! اگر تو مجھے بخش دے تو یہ تیری رحمت ہی سے ہو گا، اور اگر تو مجھے عذاب دے تو یہ میرے اعمال کا نتیجہ ہو گا۔ پس اپنے فضل سے مجھ پر احسان فرما اور اپنی رحمت سے مجھے نجات عطا کر۔
یا اللّٰه کریم! میں تیرے سامنے اپنے نفس کی کمزوری، اپنی طاقت کی کمی اور اپنے گناہوں کی کثرت کا اعتراف کرتا ہوں۔ میرے پاس نہ کوئی ایسا عمل ہے جس پر بھروسہ کر سکوں اور نہ کوئی ایسی طاقت ہے جس کے ذریعے تیری ناراضی سے بچ سکوں، سوائے اس کے کہ تو اپنے فضل و کرم سے میری مدد فرمائے۔
یا اللّٰه کریم! حضرت محمد ﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما، اور میرے گناہوں کو بخش دے، میری لغزشوں سے درگزر فرما، میری توبہ قبول کر، اور مجھے اپنی اطاعت کی توفیق عطا فرما۔
یا اللّٰه کریم! مجھے اپنے عذاب سے امان عطا فرما، اپنی رحمت میں جگہ دے، اپنی بخشش سے مجھے نواز، اور اپنے فضل و کرم سے میرے انجام کو نیک فرما۔
یا اللّٰه کریم! میری امید کو اپنے سوا کسی سے وابستہ نہ ہونے دے، میرے دل کو اپنے ذکر سے زندہ رکھ، اور مجھے اس راستے پر قائم رکھ جو تیری رضا تک پہنچاتا ہے۔
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے! حضرت محمدؐ ﷺ اور ان کی پاکیزہ آلؑ پر رحمت نازل فرما، میری دعا قبول فرما، میری توبہ قبول کر، میرے گناہوں سے درگزر فرما، اور مجھے اپنی رحمت سے محروم نہ فرما۔
آمین ثمہ آمین یا رب العالمین۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ بِقَدَرِ حُسْنِہِ وَجَمَالِہِ وَکَمَالِہ ۔

دعا گو، طالب دعا شاہد محمود

22/09/2026

کوئی بھی کام شروع کرنے سے ہم لوگ تساہل برتتے ہیں، ڈرے رہتے ہیں، یہ نہ ہو جائے، وہ نہ ہو جائے ، لوگ کیا کہیں گے، پتا نہیں کامیاب ہوں گا یا نہیں وغیرہ وغیرہ تو یہ مختلف خوف ہماری توانائی کھا جاتے ہیں۔ وہی توانائی اگر ہم اپنے خواب پورا کرنے کے لئے تعمیری کاموں میں لگائیں تو حالات بہتر ہو جائیں۔
معجزے تب رونما ہونا شروع ہوتے ہیں جب ہم اپنے خوابوں کو اتنی ہی توانائی دیتے ہیں جتنی اپنے خوف کو دیتے ہیں۔

عضلاتی غدی یعنی خشکی گرمی کی علامات اور کچن فارمیسی سے علاج  پیٹ میں گیس کا رکنا ، اپھارہ ، ہاتھ پاؤں کی جلن، دل کی دھڑک...
22/09/2026

عضلاتی غدی یعنی خشکی گرمی کی علامات اور کچن فارمیسی سے علاج
پیٹ میں گیس کا رکنا ، اپھارہ ، ہاتھ پاؤں کی جلن، دل کی دھڑکن کا بہت تیز ہو جانا، سینے کے درمیان میں دباؤ محسوس ہونا۔ جلد غصہ آنا، چڑچڑا پن، اگر غیر شادی شدہ ہیں تو اح**ام کی زیادتی اور جسم کے دائیں سائیڈ پر کھچاؤ کی علامات ۔۔
اجوائن دیسی۔ 5 گرام
زیرہ سفید۔ 5 گرام
اور ادرک تازہ 5 گرام
دو کپ پانی میں پکائیں ۔ایک کہ رہ جائے تو تھوڑی چینی ڈال کر رات کو سونے سے ایک گھنٹہ قبل پئیں ۔۔
, گرم تر مزاج کا حامل یہ قہوہ جگر اور غدود میں مشینی تحریک پیدا کرتا ہے قلب و عضلات میں تحلیل پیدا کر کے ان کی سوزش کو رفع کرتا ہے مادی طور پر خلط صفراء پیدا کر کے خارج کرتا ہے۔
بھینس کا گوشت ، چائے ، تیز مصالحہ جات ، میدہ سے بنی اشیاء جیسے بیکری آئٹمز
سے پر ہیز کریں ۔
نوٹ ۔
ہائی بلڈ پریشر کے مستقل مریض اس میں الائیچی سبز تین عدد کا اضافی کریں
حکیم مظفر علی زیدی

پیاز کا اچار۔۔۔۔🧅 🥣 🍛                 چند روز پہلے جب Zaara Mazhar نے ڈھیر سارے اچار بنا کر ساری سگھڑ خواتین کو دانتوں م...
22/09/2026

پیاز کا اچار۔۔۔۔🧅 🥣 🍛

چند روز پہلے جب Zaara Mazhar نے ڈھیر سارے اچار بنا کر ساری سگھڑ خواتین کو دانتوں میں انگلی دابنے پہ مجبور کر دیا تب ھمیں فورا اپنی پیاز کی ٹوکری میں پڑی ہوئی چھوٹی چھوٹی معصوم پیاز یاد آ گئیں اور ھم نے اسی پوسٹ پر جھٹ زارا سے پوچھا کہ پیاز کا اچار کیسے بناتے ہیں۔۔۔ ھمیں تو یوں ہی لگا کے زارا سوال سن کر کسی کتاب کی ورق گردانی کرتے ھوئے یا ہنڈیا میں چمچہ چلاتے ہوئے ترنت اپنی پٹاری کھولی اور ہاتھ کے ہاتھ ترکیب ھمیں تھما دی ۔۔۔
" پیاز چھیل کر نمک لگا کے رکھ دیجیئے پیاز کا پانی چھان کر پنکھے میں خشک ھونے دیجیئے پھر ایک جار میں ڈال کر نمک اور ایک چٹکی کلونجی ڈال کے سفید سرکے سے جار بھر دیجیئے۔۔۔"
ھیں۔۔۔۔ یہ اتنا آسان ہے ۔۔۔ !!
پھر تو ھم نے بھی خوشی خوشی فورا ہی عمل کر ڈالا
اتنا کھٹا مذیدار اچار دیکھنے میں بھی خوبصورت اور کھانے میں بھی نہایت ذائقہ دار ۔۔۔ ھمارے ھر کھانے کا مزا دوبالا کر رھا ھے۔۔
جزاک اللہ زارا۔۔۔ خوش رھیئے اور دعائیں سمیٹتی رھیئے ۔۔۔❤️

شاذیہ ظفر
14/2021

رلی : محبت کی عظیم نشانیوہ جمعرات کا دن تھا جب ایک بھکارن نے ہمارے دروازے پر صدا دی۔ میری اہلیہ نے اُسے اندر بلایا اور م...
22/09/2026

رلی : محبت کی عظیم نشانی
وہ جمعرات کا دن تھا جب ایک بھکارن نے ہمارے دروازے پر صدا دی۔ میری اہلیہ نے اُسے اندر بلایا اور مالٹے کا رس پیش کیا۔ وہ غریب حیران و ششدر کبھی رس اور کبھی میری اہلیہ کو تکنے لگی۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ دھتکارنے کے بجائے اس کی توقیر ہو رہی ہے۔ اس نے بے یقینی کی کیفیت میں گلاس تھام لیا کہ کہیں یہ رس چھین نہ لیا جائے۔ وہ بھکارن سندھی، سرائیکی اور بلوچی کے سوا کوئی زبان نہ جانتی تھی جب کہ اہلیہ ان تینوں زبانوں سے نابلد تھیں۔ لیکن دونوں ایک مشترکہ زبان بخوبی جانتی تھیں اور وہ… محبت تھی، خلوص تھا جو مسکراتے ہونٹوں اور ہنستی آنکھوں سے بھی عیاں ہو جاتا ہے۔ یہ دونوں خواتین جانے کن الفاظ میں محو گفتگو ہو گئیں، یہ آغاز تھا پیار کے رشتے کی استواری کا! نام تو اس کا زرناز تھا مگر اپنے نام سے وابستہ خصوصیات کے برعکس وہ غربت کی انتہائی پست سطح پر زندگی بسر کر رہی تھی۔ دنیا میں کوئی بھی اس کا ایسا ہمدم نہ تھا جس پر وہ ناز کر سکتی۔ ڈھاڈر کے قریب علاقہ سنی کی رہنے والی تھی جہاں سردیوں میں کھیتوں میں مزدوری کر کے گزر اوقات کیا کرتی۔ موسم گرما میں جھلسا دینے والی دھوپ کی شدت سے بچنے کی خاطر وہ ہر سال گائوں والوں کے ساتھ کوئٹہ آ جاتی۔ انہی کے ساتھ شہر کے کسی خالی قطعہ زمین پر عارضی جھونپڑی ڈال کر رہا کرتی۔ زرناز جمعرات کے علاوہ ایک دو دن بعد آنے لگی۔ پھر آہستہ آہستہ باقاعدگی کے ساتھ روزانہ چکر لگاتی۔ ہم لوگوں کو بھی اس کا انتظار رہنے لگا۔ وہ بہت کم الفاظ میں بہت کچھ کہہ دیا کرتی۔ ہمارے بچوں کے لیے اس کے دل میں نانی دادی جیسی شفقت کا جذبہ موجزن رہتا۔ پہلے پہل تو گھر کے برآمدے میں فرش پر اپنی پوٹلی کا تکیہ بنائے وہ سائے میں لیٹا کرتی۔ بعد میں اہلیہ نے ایک کمرے میں مستقل ٹھکانا وقت گزاری کے لیے فراہم کر دیا۔ وہ صبح کا ناشتا، دوپہر کا کھانا کھانے اور سہ پہر چائے پینے کے بعد اپنی جھونپڑی میں لوٹ جایا کرتی۔ برسوں موسموں کی شدت کی ماری جب کمرے میں قالین پر لیٹے کشن کا سرہانا لیے، پنکھے کے نیچے جلد گہری نیند کی آغوش میں پہنچ جاتی اور خراٹے لینے لگتی تو ہم اس کی آسودگی کی کیفیت سے بہت محظوظ ہوتے۔ وہ رضا کارانہ طور پر اہلیہ کے سر کی مالش کرتی اور پائوں وغیرہ دبا دیتی۔ بدلے میں اہلیہ اسے اتنے پیسے دیتی کہ اسے در در بھیک مانگنے کی حاجت نہ رہتی۔ یوں اُس کا احساس گداگری جاتا رہا اور وہ ہمارے کنبے کا ایک فرد ہی بن گئی۔ زرناز کے میلے بدن سے محبت اور خلوص کی خوشبو آیا کرتی۔ گو اس کا دھوپ جلا چہرہ جھریوں سے بھرا ہوا تھا۔ برسوں کی مشقت اور محنت کے باعث ہاتھوں کی رگیں پھول گئی تھیں۔ لیکن پیوند لگے، مرجھائے رنگوں کے لباس فاخرہ میں بھی زرناز ہمیں اخلاص اور شفقت کا مرمریں حسین پیکر لگتی۔ سردیوں کے آغاز پر اسے ڈھاڈر مراجعت کرنا تھی۔ الوداعی ملاقات پر وہ بہت آزردہ ہوئی۔ رخصت ہوتے وقت اس نے سر سے چادر سرکائی، آسمان کی طرف نگاہ کیے اپنے دونوں ہاتھ دعا کی صورت اٹھائے اور جانے اپنی زبان میں ہمارے لیے کیا کیا کچھ مانگا۔ ہمیں سمجھ نہ آیا مگر جس سے وہ مُلتجی تھی، وہ اس کی زبان بخوبی سمجھ گیا ہو گا کہ وہ دلوں کے بھید بھی جانتا ہے۔ بہار کی آمد کے ساتھ ہمیں زرناز کا بھی انتظار رہنے لگا۔ وہ بھی بہار بن کر آتی اور خوشیوں کے پھول کھلاتی، خلوص کی خوشبو بکھیرتی۔ انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور وہ آ گئی۔ ہمارے بچے کھلکھلا اٹھے۔ ایک دم گھر میں خوشی اور رونق کی لہر دوڑ گئی، جیسے کوئی لڑکی سسرال سے اپنے میکے آئی ہو۔ وہ اپنے ساتھ گٹھڑی میں کچھ سبزیاں تحفتاً لائی۔ سبز دھنیا، ٹماٹر، بینگن، آلو گوبھی وغیرہ۔ یہ سب چیزیں تو بازار سے بھی قیمتاً مل جاتی ہیں مگر جس پیار اور خلوص سے وہ یہ تحفے لائی تھی، وہ تو بازار میں کسی مول نہیں مل سکتا۔ اس نے دیگر تحفوں کے بعد آخر میں سب سے قیمتی تحفہ نکالا جو پلاسٹک کے لفافے میں بند تھا۔ یہ قیمتی خوبصورت تحفہ رنگین دھاگوں سے کاڑھا ہوا، چھوٹے چھوٹے شیشوں سے مزین، جھلملاتا ہوا قمیص کا گلا میری بیٹی کے لیے تھا جو اُس نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا۔ میں نے زرناز کے ناتواں، ابھرتی رگوں والے ہاتھوںاور اُس کی دھنسی ہوئی آنکھوں پر نظر ڈالی‘پھر بلوچی کشیدہ کاری کے اعلیٰ شاہکار کو دیکھا۔ اس نے بہت محنت و لگن سے باریک سوزن کاری سے دھاگوں کے ابھرویں نقش و نگار کی حسین تخلیق کی تھی۔ میں نے ان بھدی انگلیوں کا جائزہ لیا جن میں نجانے کتنی مرتبہ اس تخلیقی عمل کے دوران سوئیاں چبھی ہوں گی۔ اب تو چبھن کی تکلیف کے وقت اس کے منہ سے سی بھی نہیں نکلتی ہو گی کہ انگلیاں ایسے گھائو برداشت کرنے کی بچپن ہی سے عادی ہو گئی تھیں۔ میں جذباتی ہو گیا اور فرط احترام و عقیدت سے زرناز کے مرمریں محنت کش ہاتھوں کو چوم لیا۔ وہ حیرت زدہ بوکھلاہٹ سے مسکراتی ہوئی تشکرانہ انداز میں مجھے تکنے لگی… شاید زندگی میں پہلی بار کسی نے اس کی تخلیق کو ایسے احترام سے پذیرائی دی تھی۔ زرناز کی آمد کا سلسلہ ہر سال معمول بن گیا۔ وہ ہماری بہت سی محبت سمیٹ کر جاتی اور واپسی پر ہمارے لیے اپنی کوئی نہ کوئی حسین تخلیق لے کر لوٹتی۔ اس بار وہ آئی تو اپنے ساتھ گراں ترین تحفہ… ایک ’’رلّی‘‘ لائی جو نجانے کس طرح، محنت مزدوری سے فارغ ہو کر، راتوں کو چراغ کی مدھم روشنی میں تیار ہوئی تھی۔ اس کے ایک ایک ٹانکے میں ہم لوگوں کے لیے پیار اور خلوص پرویا گیا تھا۔ رلّی کپڑے کی ایک چادر ہے جیسے کھیس! اسے آپ اوڑھ سکتے اور بچھا بھی لیتے ہیں۔ یہ کپڑے کے رنگین اور پھولدار چھوٹے چھوٹے ٹکڑوںکو سوزن کاری کے ذریعے باہم جوڑ کر کمال مہارت سے علم جیومیٹری کے اصول و قواعد کے مطابق مثلثوں، چوکوروں، مستطیلوں یا مماثل اشکال کی صورت دینے کے بعد دیدہ زیب ڈیزائنوں میں ڈھالی جاتی ہے۔ یہ ایک ماہر ریاضی دان یا ماہر اشکال ہی کا کام ہے۔ یہ ان پڑھ بلوچ خواتین کیونکر اس ہنر اور علم کی حامل ہوتی ہیں؟ یہ کاریگری، صناعی، یہ محنت مشقت یقینا ان کی جبلت میں شامل ہے۔ یہ تو اس مہر گڑھ تہذیب کا تسلسل ہے جو ہزاروں برس پر محیط ہے۔ ہم نقل مکانی کر کے اسلام آباد آ گئے، لیکن ہمارا دل، ہماری زرناز کوئٹہ ہی میں رہ گئی۔ مگر خلوص و محبت کی رلّی آج بھی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے۔ سنا ہے وہ سادہ دل، پیکر وفا خاتون ہمارے آنے کے بعد، گھر کے دیوار و در سے لپٹ لپٹ کر روتی رہی۔ پیار کا بے لوث رشتہ بھی عجیب ہے… وہ زبان، قومیت اور وطنیت کے بندھنوں سے آزاد ہوتا ہے۔

تحریر: قاضی فضل الرحمٰن بشکریہ اردو ڈائجسٹ ستمبر 2014

With Thanks to Respected Mr. Sanaullah Khan Ahsan.

Address

Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when گھر کا بنا لاہوری اچار posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share