Clinical Psychologist Nadia Malik

Clinical Psychologist Nadia Malik Clinical Psychologist | ABA Therapist shaping behaviors,creating brighter futures

ذیابیطس (Diabetes) ایک بیماری ہے جس میں خون میں شوگر (گلوکوز) کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے کیونکہ جسم انسولین کم بناتا ہے ی...
14/06/2026

ذیابیطس (Diabetes) ایک بیماری ہے جس میں خون میں شوگر (گلوکوز) کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے کیونکہ جسم انسولین کم بناتا ہے یا صحیح استعمال نہیں کر پاتا۔ ذیابیطس کی علامات بہت زیادہ پیاس لگنا بار بار پیشاب آنا (خاص طور پر رات کو) زیادہ بھوک لگنا وزن کم ہونا کمزوری یا تھکن نظر دھندلی ہونا زخم دیر سے بھرنا جلد، مسوڑھوں یا پیشاب کی بار بار انفیکشن ہاتھ پاؤں میں سن ہونا یا جھنجھناہٹ جلد خشک ہونا ذیابیطس کا انتظام (Management) 1. غذا میٹھے مشروبات اور زیادہ چینی کم کریں سبزیاں، دالیں، مناسب پروٹین اور متوازن غذا لیں کھانا وقت پر کھائیں بہت زیادہ تلی ہوئی چیزیں کم کریں 2. ورزش روزانہ تقریباً 30 منٹ چہل قدمی یا ورزش کریں ہفتے میں کم از کم 5 دن جسمانی سرگرمی رکھیں 3. وزن کنٹرول اگر وزن زیادہ ہو تو اسے کم کرنا شوگر کنٹرول میں مدد دیتا ہے 4. دوائیں ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق دوائیں لیں بعض مریضوں کو گولیاں اور بعض کو انسولین درکار ہوتی ہے دوا خود سے بند نہ کریں 5. باقاعدہ چیک اپ خون کی شوگر چیک کریں HbA1c ٹیسٹ کروائیں آنکھوں، گردوں اور پاؤں کا معائنہ کرواتے رہیں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں اگر: بہت زیادہ کمزوری ہو سانس تیز چل رہی ہو الٹی ہو رہی ہو بے ہوشی یا شدید الجھن ہو ۔

📘 Professional Training: Writing Journal in CBTBy My Therapist Psychological Services🧠 Learn how to use Writing Journals...
13/06/2026

📘 Professional Training: Writing Journal in CBT
By My Therapist Psychological Services

🧠 Learn how to use Writing Journals as a therapeutic CBT tool to support emotional regulation, thought restructuring, and self-awareness.

What You Will Learn:
✔ Introduction to CBT Journaling
✔ Thought Record Sheets & Reflection Techniques
✔ Identifying Negative Automatic Thoughts
✔ Emotion–Thought–Behavior Connection
✔ Guided Journal Exercises for Clients
✔ Practical Case-Based Activities
✔ Journal Design for Different Age Groups
✔ Ethical Considerations & Progress Tracking

👩‍⚕️ Suitable For:
• Psychology Students
• Therapists & Counselors
• ABA Professionals
• Mental Health Practitioners
• Individuals interested in self-development

🎓 Certificate Included
📝 Training Materials Provided
💻 Online Session Available

Transform writing into a structured therapeutic intervention through CBT.

Register Now – Limited Seats Available
Psychology Workshops,jobs and conferences in Pakistan Pakistan Society for Advancement of Psychology

13/06/2026
12/06/2026

Depression: “ہر خاموشی سکون کی علامت نہیں ہوتی”آج ہم ایک حساس مگر بہت اہم موضوع پر بات کریں گے: depression یا ذہنی دباؤ۔ اکثر ہم اسے صرف رونے یا شدید اداسی کے طور پر سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہری ہے۔ ایک مثال کے ذریعے سمجھتے ہیں کہ یہ کیفیت کس طرح عام زندگی کے معمولات کو بدل سکتی ہے۔فرض کریں ایک 24 سالہ لڑکی، سارہ، جو پہلے دوستوں کے ساتھ خوشی خوشی وقت گزارتی تھی، گھر کے کاموں میں دلچسپی لیتی تھی، اور مستقبل کے روشن خواب دیکھتی تھی۔ چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں زندگی کا لطف لیتی تھی۔ مگر اچانک اس کی دنیا آہستہ آہستہ بدلنے لگی۔وہ اب لوگوں سے دور ہونے لگی، میسجز کا جواب دینا کم کر دیا، اور جو کام پہلے اسے خوشی دیتے تھے، وہ اب بوجھ لگنے لگے۔ جب گھر والے پوچھتے، “کیا ہوا؟” تو جواب ملتا، “کچھ نہیں، بس دل نہیں کر رہا۔” شروع میں سب نے سمجھا کہ شاید وہ تھکی ہوئی ہے یا بس کچھ دنوں کی بات ہے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرا، سارہ کے لیے صبح اٹھنا بھی مشکل ہو گیا اور وہ صرف اداس نہیں، بلکہ اندر سے خالی محسوس کرنے لگی۔یہی depression کی ایک عام مگر کم پہچانی جانے والی صورت ہے۔ یہ ہمیشہ رونے یا دکھ میں ڈوبے رہنے کی شکل میں نہیں آتا۔ کبھی کبھی یہ ایسے محسوس ہوتا ہے:ہمیشہ تھکن یا کمزوریلوگوں سے دوریپسندیدہ کاموں میں دلچسپی کا ختم ہوناخود کو ناکام یا بے معنی محسوس کرناتوجہ مرکوز کرنے اور فیصلے لینے میں مشکلنیند اور بھوک میں تبدیلییہ جاننا ضروری ہے کہ depression کمزوری Depression: “ہر ایمان کی کمی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان کو صرف نصیحت کی نہیں، بلکہ سمجھ، محبت اور بعض اوقات پروفیشنل مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر آپ کے کسی قریبی دوست یا خاندان کے فرد میں یہ علامات نظر آئیں، تو براہ کرم جلد بازی میں یہ نہ کہیں کہ “اتنا کیا ہو گیا؟” کیونکہ ہو سکتا ہے وہ اپنی پوری طاقت لگا چکا ہو، بس دکھ نہیں سنا پا رہا ہو۔ یاد رکھیے، جو سب سے زیادہ مسکراتا ہے، وہی کبھی کبھی اندر سے سب سے زیادہ تھکا ہوتا ہے۔اگر آپ یا آپ کے جاننے والے کسی طرح کی ذہنی تکلیف محسوس کر رہے ہیں، تو مدد لینا شرمندگی کی بات نہیں، بلکہ ہمت کی علامت ہے۔ PSYCHOLOGICAL SERVICES ایسے لوگوں کے لیے ہیں جو سمجھنا چاہتے ہیں، سپورٹ کرنا چاہتے ہیں، اور بہتر کل کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔زندگی میں سکون پانا کوئی بساط نہیں

ہر بچہ ایک جیسا نہیں سیکھتا…کبھی کم نمبر، سست لکھائی یا بار بار غلطیاں صرف “لاپرواہی” نہیں ہوتیں۔کچھ بچوں کو سیکھنے میں ...
11/06/2026

ہر بچہ ایک جیسا نہیں سیکھتا…

کبھی کم نمبر، سست لکھائی یا بار بار غلطیاں صرف “لاپرواہی” نہیں ہوتیں۔

کچھ بچوں کو سیکھنے میں حقیقی مشکلات (Learning Difficulties) ہو سکتی ہیں، جیسے:

📖 Dyslexia
پڑھنے، الفاظ پہچاننے یا spelling میں مشکل

✍️ Dysgraphia
لکھنے، handwriting اور خیالات کو تحریر میں لانے میں مشکل

➕ Dyscalculia
ریاضی، نمبرز اور calculations سمجھنے میں مشکل

🎯 ADHD
توجہ برقرار رکھنے، impulsivity اور hyperactivity میں مشکل

🧩 Dyspraxia
Movement، coordination اور روزمرہ skills میں مشکل

👂 Auditory Processing Difficulties
سننے کے باوجود instructions process کرنے میں مشکل

مثال:
اگر بچہ بار بار کہے
“مجھے آتا ہے مگر مجھ سے نہیں ہو رہا”
تو شاید اسے ڈانٹ نہیں، سمجھنے کی ضرورت ہو۔

یاد رکھیں:
Learning difficulty ذہانت کی کمی نہیں ہوتی۔
صحیح support، مناسب teaching strategies اور بروقت assessment بچوں کو بہتر سیکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

ہر بچہ سیکھ سکتا ہے…
بس ہر بچے کا سیکھنے کا طریقہ مختلف ہو سکتا ہے 💙

MY THERAPIST PSYCHOLOGICAL SERVICES :::

ڈیمنشیا (Dementia)  کیا یہ صرف بھولنے کی بیماری ہے؟اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ بھول جانا عام بات ہے، لیکن ج...
09/06/2026

ڈیمنشیا (Dementia)
کیا یہ صرف بھولنے کی بیماری ہے؟

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ بھول جانا عام بات ہے، لیکن جب بھولنے کی عادت روزمرہ زندگی، فیصلوں اور تعلقات کو متاثر کرنے لگے تو یہ Dementia کی علامت ہو سکتی ہے۔

ڈیمنشیا کوئی ایک بیماری نہیں، بلکہ علامات کا ایک مجموعہ ہے جو یادداشت (Memory)، سوچنے، سمجھنے اور روزمرہ کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔

عام علامات:
• بار بار ایک ہی سوال پوچھنا
• باتیں جلد بھول جانا
• لوگوں، جگہوں یا تاریخوں کو یاد رکھنے میں مشکل
• روزمرہ کاموں میں الجھن محسوس کرنا
• گفتگو کے دوران الفاظ بھول جانا
• یا شخصیت میں تبدیلی
• چیزیں رکھ کر بھول جانا
• راستے یا جگہوں میں الجھن محسوس کرنا

روزمرہ مثال:
ایک بزرگ جو پہلے خود بینک جاتے تھے، خریداری کرتے تھے اور گھر سنبھالتے تھے، اب راستہ بھولنے لگتے ہیں، ایک ہی بات بار بار پوچھتے ہیں یا کھانا کھا کر بھی پوچھتے ہیں:
“آج کھانا کب بنے گا؟”
دادی یا نانی کبھی اپنے پوتے پوتیوں کے نام بھول جائیں، مگر پرانی باتیں تفصیل سے یاد ہوں یہ بعض صورتوں میں changes کی علامت ہو سکتی ہے۔

اہم بات:
ہر بھولنا Dementia نہیں ہوتا۔
Stress، Depression، Anxiety، نیند کی کمی، وٹامن کی کمی یا دیگر طبی مسائل بھی یادداشت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
خاندان کے لیے چند اہم باتیں:

• بار بار بحث یا تصحیح کرنے سے گریز کریں
• اگر وہ ایک ہی سوال دوبارہ پوچھیں تو نرمی سے جواب دیں
• انہیں فیصلہ سازی میں مناسب حد تک شامل رکھیں
• گھر کا ماحول مانوس اور پرسکون رکھیں
• روزمرہ routine برقرار رکھیں
• Safety کو ترجیح دیں (چولہا، ادویات، راستے وغیرہ)

کیا Dementia کا علاج ممکن ہے؟

کچھ اقسام میں progression کو manage کیا جا سکتا ہے، اور بروقت assessment، medication، cognitive support اور family education زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

یاد رکھیں:
ڈیمنشیا میں انسان صرف چیزیں نہیں بھولتا بعض اوقات وہ اپنی آزادی، اعتماد اور معمولات سے بھی دور ہونے لگتا ہے۔

ایسے وقت میں خاندان کی سمجھ، صبر اور عزت سب سے اہم مدد بن جاتی ہے۔

MY THERAPIST PSYCHOLOGICAL SERVICES

08/06/2026

learning to be fearless

پاکستان جیسے معاشرے میں والدین بچوں کے لیے بڑی قربانیاں دیتے ہیں، مگر بعض اوقات ان کے رویّے بچوں کی شخصیت اور جذباتی نشو...
06/06/2026

پاکستان جیسے معاشرے میں والدین بچوں کے لیے بڑی قربانیاں دیتے ہیں، مگر بعض اوقات ان کے رویّے بچوں کی شخصیت اور جذباتی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ بہت زیادہ کنٹرول کرنے والے والدین یا بچوں کے جذبات کو نظر انداز کرنے والے والدین 'Toxic Parenting' کی مثالیں ہیں، جو بچے کی خود اعتمادی کو متاثر کرتے ہیں۔ کچھ والدین اپنے خوابوں کو بچوں کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے بچے کامیابی کے باوجود خوشی محسوس نہیں کر پاتے۔ ہمارے والدین بھی سیکھتے ہیں اور دباؤ سے گزرتے ہیں، اس لیے ہر سخت والدین کو 'Toxic' قرار دینا درست نہیں ہے۔ صحت مند والدین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بچے کو سنیں، حدود قائم کریں، اور انہیں اپنی شناخت بنانے کا موقع دیں، تاکہ وہ جذباتی طور پر بھی مضبوط ہو سکیں۔

کیا ہم اپنے بچوں کو صرف کامیاب بنانا چاہتے ہیں… یا جذباتی طور پر بھی مضبوط؟

بائی پولر ڈس آرڈر — “صرف موڈ بدلنا نہیں، بلکہ جذبات میں نمایاں اتار چڑھاؤ”کبھی بہت زیادہ توانائی، بہت زیادہ باتیں، کم نی...
05/06/2026

بائی پولر ڈس آرڈر — “صرف موڈ بدلنا نہیں، بلکہ جذبات میں نمایاں اتار چڑھاؤ”

کبھی بہت زیادہ توانائی، بہت زیادہ باتیں، کم نیند…
اور کبھی شدید اداسی، تھکن اور دلچسپی میں کمی — اگر یہ تبدیلیاں بار بار اور زندگی کو متاثر کرنے لگیں تو یہ Bipolar Disorder کی علامات ہو سکتی ہیں۔

بائی پولر ڈس آرڈر ایک ذہنی صحت سے متعلق کیفیت ہے جس میں انسان کے موڈ، توانائی، سرگرمی اور روزمرہ کام کرنے کی صلاحیت میں واضح تبدیلی آ سکتی ہے۔

عام علامات:

Manic / Elevated Mood (موڈ بہت زیادہ بلند ہونا)
• غیر معمولی خوشی یا جوش
• بہت زیادہ بولنا
• کم نیند کے باوجود زیادہ توانائی
• جلد بازی میں فیصلے کرنا
• بہت زیادہ منصوبے بنانا

Depressive Phase (اداسی کا مرحلہ)
• مسلسل اداسی
• تھکن اور توانائی میں کمی
• دلچسپی ختم ہونا
• توجہ میں مشکل
• مایوسی یا بے مقصدی محسوس کرنا

مثال:
کچھ دن انسان بہت زیادہ فعال، پُرجوش اور پُراعتماد محسوس کرے، پھر کچھ عرصے بعد شدید اداسی، تنہائی یا روزمرہ کاموں میں مشکل محسوس ہونے لگے۔

اہم بات:
بائی پولر ڈس آرڈر صرف “موڈ سوئنگ” نہیں ہے اور نہ ہی یہ شخصیت کی کمزوری کی علامت ہے۔

مدد کیسے ممکن ہے؟
• بروقت Assessment
• Psychotherapy
• Psychoeducation
• Psychiatric Consultation
• Sleep اور Routine Management

صحیح تشخیص اور مسلسل سپورٹ کے ساتھ بہت سے افراد ایک متوازن اور کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں۔

03/06/2026

ADHD — “وہ سن رہا ہوتا ہے… مگر ہمیشہ عمل نہیں کر پاتا”

اکثر والدین کہتے ہیں:
“اسے سب سمجھ آتا ہے پھر بھی کام نہیں کرتا”
“ہر وقت حرکت میں رہتا ہے”
“ایک منٹ بھی نہیں بیٹھتا”

لیکن بعض اوقات یہ صرف شرارت یا لاپرواہی نہیں ہوتی۔

ADHD (Attention Deficit Hyperactivity Disorder) ایک Neurodevelopmental condition ہے جس میں بچے کے لیے attention, self-control اور behavior regulation مشکل ہو سکتے ہیں۔

ADHD والے بچے اکثر:
• بات سن لیتے ہیں مگر follow کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں
• ایک کام شروع کر کے دوسرا شروع کر دیتے ہیں
• انتظار کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں
• جلد react کرتے ہیں اور بعد میں سوچتے ہیں
• روزمرہ کاموں میں بار بار reminders چاہتے ہیں

مثال:
آپ بچے سے کہتے ہیں:
“اپنا بیگ رکھو، کپڑے تبدیل کرو اور کھانا کھاؤ”

بچہ بیگ رکھتا ہے، راستے میں کھلونا دیکھتا ہے، کھیلنے لگ جاتا ہے، اور باقی ہدایات بھول جاتا ہے۔

یہ ہمیشہ نافرمانی نہیں ہوتی — کئی بار اس کے دماغ کو information organize کرنے میں مشکل ہو رہی ہوتی ہے۔

ADHD صرف پڑھائی کو متاثر نہیں کرتا:
• Self-esteem
• Friendships
• Family relationships
• Emotional regulation
بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

والدین اور اساتذہ کیا کر سکتے ہیں؟
• مختصر اور واضح ہدایات دیں
• Visual schedules استعمال کریں
• ایک وقت میں ایک task دیں
• کوشش کو بھی سراہیں، صرف نتیجہ نہیں
• Movement اور sensory breaks شامل کریں
• Consistency برقرار رکھیں

ADHD والے بچے اکثر “جانتے زیادہ ہیں، کر کم پاتے ہیں” — اس لیے انہیں بار بار تنقید نہیں، بلکہ structure اور support کی ضرورت ہوتی ہے۔

صحیح رہنمائی، مناسب intervention اور گھر و اسکول کے تعاون سے ADHD والے بچے اپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کرنا سیکھ سکتے ہیں۔

Address

Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 20:00
Tuesday 09:00 - 20:00
Wednesday 09:00 - 20:00
Thursday 09:00 - 20:00
Friday 09:00 - 20:00
Saturday 09:00 - 20:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Clinical Psychologist Nadia Malik posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share